سیاہی شب کی اگر جھلملا کے ٹھہری ہے
بہت قریب سحر مسکرا کے ٹھہری ہے
تمہاری زلف پریشاں پہ کیا کہوں جاناں
کہ اک گھٹا سی عجب گنگنا کے ٹھہری ہے
یہ کس مقام سے گزرا ہے قافلہ دل کا
وفا جو ہم پہ غضب تلملا کے ٹھہری ہے
خزاں رسیدہ چمن ہے مگر یقیں لازم
بہار رت جو ابھی لہلہا کے ٹھہری ہے
کسوٹی حق کی وہی معتبر سمجھتا ہوں
جو معتبر شہہ کرب و بلا کے ٹھہری ہے

0
18