نجانے کیا سبب ہے اب مری جو آنکھ روتی ہے
سبب کوئی نہیں ظاہر مگر آنسو پروتی ہے
بتاؤں کیا کہ یاد اس کی فسوں کیسا جگاتی ہے
کبھی لپکے تو چپکے سے ٹپک کر وہ بھگوتی ہے
کبھی اک زخم بنتا ہے کسی کا ساتھ ہونا بھی
مگر جب وہ بچھڑ جائے بہت تکلیف ہوتی ہے
سلگتا دن بھی جب گزرے رفو کرنے میں زخموں کو
تو پھر کیوں رات روتی ہے یہ دنیا جب کہ سوتی ہے
کوئی سسکی ابھرتی ہے تلاطم خیز موجوں سے
وجودِ زندگی کو جب شبِ ہجراں ڈبوتی ہے

0
29