| اب نہیں خود کو بھی معلوم کدھر جاؤں گا |
| لوگ جاتے ہیں جدھر میں بھی ادھر جاؤں گا |
| سب نے ملفوف کئے اپنے لبادے لیکن |
| خاک ہو کر ترے کوچے کی سنور جاؤں گا |
| خود کو تقدیر کے لکھے کا مسافر جانا |
| جب ہوا ان کا اشارہ تو اتر جاؤں گا |
| اب سمجھ ان کو نہیں آتی کدھر جائیں وہ |
| وہ سمجھتے تھے ڈراوے سے میں ڈر جاؤں گا |
| دل پہ کیسی خدا جانے وہ قیامت گزری |
| رو کے کہتا ہے کبھی اپنے نہ گھر جاؤں گا |
معلومات