اب نہیں خود کو بھی معلوم کدھر جاؤں گا
لوگ جاتے ہیں جدھر میں بھی ادھر جاؤں گا
سب نے ملفوف کئے اپنے لبادے لیکن
خاک ہو کر ترے کوچے کی سنور جاؤں گا
خود کو تقدیر کے لکھے کا مسافر جانا
جب ہوا ان کا اشارہ تو اتر جاؤں گا
اب سمجھ ان کو نہیں آتی کدھر جائیں وہ
وہ سمجھتے تھے ڈراوے سے میں ڈر جاؤں گا
دل پہ کیسی خدا جانے وہ قیامت گزری
رو کے کہتا ہے کبھی اپنے نہ گھر جاؤں گا

0
12