گدا ہوں میں ان کی گلی کا گدا ہوں
ازل سے میں ان کے ہی در پر جھکا ہوں
شفاعت کی دولت کا طالب ہوں مفلس
جبیں رکھ کے قدموں میں ان کے پڑا ہوں
مری التجاؤں کا ملجیٰ وہی ہیں
وضو کرکے اشکوں سے حاضر ہوا ہوں
مری جھولی خالی ہے بھر دو خدارا
مرے ہاتھ کیا میں سراپا دعا ہوں
میں ان کی گلی کا ازل سے ہوں نوکر
انہی کے کرم سے جو در پر کھڑا ہوں

0
10