| درد کی دھوپ میں یادوں کا شجر مل جائے |
| اب تو رہنے کو کوئی پیارا سا گھر مل جائے |
| شوقِ آوارگی لے آیا کہاں مقتل میں |
| ہم تو نکلے تھے کہیں اپنا ہی گھر مل جائے |
| کتنے طوفان چھپے بیٹھے ہیں خاموشی میں |
| کون جانے کہ کہاں چشمِ گلِ تر مل جائے |
| ہم نے تو خود کو لٹا کر بھی یہی چاہا تھا |
| تیری بستی کی فقط راہ گزر مل جائے |
| منزلیں خاک ہوئی جاتی ہیں پاؤں کے تلے |
| اے خدا اب تو کوئی سچا سا رہبر مل جائے |
| بس یہی اپنی دعا ہے کہ ترے بندے کو |
| جب چلے پل پہ تو جبریل کا پر مل جائے |
| کب ملے گی اسے منزل یہ خبر دے کوئی |
| ہائے اویسؔ اگر خاک بسر مل جائے |
معلومات