| ہائے نیرنگیاں زمانے کی |
| کیا سناؤں میں اس فسانے کی |
| ایک غم تھا جو اب نہیں باقی |
| بات باقی نہیں سنانے کی |
| زندگی ہر گھڑی تماشا ہے |
| ہوگئی بھول دل لگانے کی |
| خرچ کتنا کرو گے تم مجھ کو |
| پونجی باقی ہے کیا دوانے کی |
| وقت کے ہاتھ میں مقدر ہے |
| کیا شکایت کریں نچانے کی |
| اب تو معمول ہے ستم ان کا |
| اب تو عادت ہے بھول جانے کی |
| ہم اویس الحسن کے حامی ہیں |
| چوٹ دل کی نہیں بتانے کی |
معلومات