ہائے نیرنگیاں زمانے کی
کیا سناؤں میں اس فسانے کی
ایک غم تھا جو اب نہیں باقی
بات باقی نہیں سنانے کی
زندگی ہر گھڑی تماشا ہے
ہوگئی بھول دل لگانے کی
خرچ کتنا کرو گے تم مجھ کو
پونجی باقی ہے کیا دوانے کی
وقت کے ہاتھ میں مقدر ہے
کیا شکایت کریں نچانے کی
اب تو معمول ہے ستم ان کا
اب تو عادت ہے بھول جانے کی
ہم اویس الحسن کے حامی ہیں
چوٹ دل کی نہیں بتانے کی

0
24