اس نے دیوار اٹھائی ہے اٹھی رہنے دو
اب تعلق میں پڑا فرق سبھی رہنے دو
وہ جو اک ٹیس اٹھا کرتی ہے دل میں اکثر
دل یہ کہتا ہے علاج اس کا ابھی رہنے دو
گر لحاظ ان کو نہیں شرم و حیا داری کا
قدر کچھ ہے کہ نہیں تم تو ابھی رہنے دو
اب نہ ہم ان کو منانے کبھی جائیں گے اویس
اب تعلق میں پڑا فرق سبھی رہنے دو

24