| اس نے دیوار اٹھائی ہے اٹھی رہنے دو |
| اب تعلق میں پڑا فرق سبھی رہنے دو |
| وہ جو اک ٹیس اٹھا کرتی ہے دل میں اکثر |
| دل یہ کہتا ہے علاج اس کا ابھی رہنے دو |
| گر لحاظ ان کو نہیں شرم و حیا داری کا |
| قدر کچھ ہے کہ نہیں تم تو ابھی رہنے دو |
| اب نہ ہم ان کو منانے کبھی جائیں گے اویس |
| اب تعلق میں پڑا فرق سبھی رہنے دو |
معلومات