| دل فسردہ تھا بہت دیر رلاتا ہی رہا |
| خواب در خواب ترا درد جگاتا ہی رہا |
| بول سکنے کی سکت دل کو نہیں تھی لیکن |
| تجھ کو لپکی ہوئی بانہوں سے بلاتا ہی رہا |
| گو تعلق تو بڑی دیر سے ٹوٹا دل بھی |
| راستہ پاؤں سے لپٹا تھا چلاتا ہی رہا |
| بات تھی پھول نہ کھلنے کی وفاداری کی |
| عشق گلشن کو تبھی اشک پلاتا ہی رہا |
| ایک طوفان تھا پردے میں خبر تک نہ ہوئی |
| دل لکیروں کو لکیروں سے ملاتا ہی رہا |
معلومات