دل فسردہ تھا بہت دیر رلاتا ہی رہا
خواب در خواب ترا درد جگاتا ہی رہا
بول سکنے کی سکت دل کو نہیں تھی لیکن
تجھ کو لپکی ہوئی بانہوں سے بلاتا ہی رہا
گو تعلق تو بڑی دیر سے ٹوٹا دل بھی
راستہ پاؤں سے لپٹا تھا چلاتا ہی رہا
بات تھی پھول نہ کھلنے کی وفاداری کی
عشق گلشن کو تبھی اشک پلاتا ہی رہا
ایک طوفان تھا پردے میں خبر تک نہ ہوئی
دل لکیروں کو لکیروں سے ملاتا ہی رہا

0
15