اب تو دل کا بھی کچھ گلہ کم ہے
بات اتنی سی ہے وفا کم ہے
ہم کو پھر بھی خیال ہے ان کا
جن کا ہم سے ہی رابطہ کم ہے
ان کو دیکھا تو یہ سمجھ آیا
آنکھ سے دل کا فاصلہ کم ہے
اپنی چادر سمیٹ کر بیٹھو
لوگ کہتے ہیں اب جگہ کم ہے
ہر طرف شور ہے جفاؤں کا
کیا سبب ہے کہ اب وفا کم ہے
پہلے ہم ہی نظر میں تھے پر اب
ربط باہم کا سلسلہ کم ہے
کیا اویس الحسن سنائیں ہم
کیف محفل کا کچھ ذرا کم ہے

0
17