| گو بات آج کی ہے مگر ہر زماں کی بات |
| تشریح کائنات کے گہرے ہیں سب نکات |
| ظاہر میں خط کشیدہ حوالوں کا ذکر خوب |
| کیا کیا نہیں ہوئی ہیں سبھی پر توجہات |
| گہرے دبیز راز بھی افشا کیے گئے |
| انساں سمجھ رہا تھا زمانے کو شش جہات |
| ازواج میں حواس کا جوڑا بھی ذکر ہے |
| آنے لگی سمجھ میں زمین و زمن کی بات |
| انساں زمیں پہ ہو کے بھی خاکی نہاد کب |
| جلوہ نما ہیں اس سے عجب ذات کی صفات |
| خواجہ ہیں شمس دیں کے تو نسبت عظیم ہے |
| چمکا ہوا ہے دن تو چمکتی رہے گی رات |
| ان کے حضور سارے مہ و سال گرد ہیں |
| ان کے حضور پائی فقط چودھویں کی رات |
معلومات