| ادب آداب سے پہلے سلامِ عشق جا کہنا |
| کراچی جانے والو تم مری خاطر دعا کہنا |
| عنایت ہے خدا کی جو ملی ہے آپ سی ہستی |
| بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے آپ سا، کہنا |
| معافی کی مری عرضی جب ان کو پیش کرنا تو |
| بہت نادم ہے شرمندہ بڑا ہے پر خطا، کہنا |
| عطائیں اس قدر ہیں میں گنوں تو گن نہیں سکتا |
| یہ مجھ عاصی پہ ہے ان کے کرم کی انتہا کہنا |
| زمانے کے طبیبوں نے جسے بس لاودا جانا |
| تری چشمِ کرم سے اس نے پائی ہے شفا کہنا |
| بہت چاہا تھا کچھ کہنا مگر کچھ بھی نہ کہہ پایا |
| سمجھ لیں گے وہ خود ہی سب نہ کچھ بھی مدعا، کہنا |
| وہ محرم دل کے ہیں انجم ہے روشن حال سب میرا |
| مرا بس نام لے لینا نہ کچھ بھی ماسوا کہنا |
معلومات