اک فسانہ بنا لیا خود کو
غم ٹھکانہ بنا لیا خود کو
اب کوئی چاکِ دل سلے کیوں کر
جب نشانہ بنا لیا خود کو
عمر بھر خود سے روٹھنے والے!
کیوں دوانہ بنا لیا خود کو
اک نئی داستاں ملی دل کو
جب پرانا بنا لیا خود کو
اب زمانے کی کچھ ضرورت ہے؟
جب زمانہ بنا لیا خود کو
بات بے بات ہنستے رہتے ہیں
اک بہانہ بنا لیا خود کو
اب زمانے سے کیا گلہ ہو اویسؔ
جب زمانہ بنا لیا خود کو

0
2