| مجھے دیکھتی ہیں تمہاری یہ آنکھیں تو لگتا ہے مجھ کو کہیں ایسا کیونکر |
| کہ جیسے بدن میں سوا اس نظر کے بچا کچھ نہ ہو تو کروں کیا میں دلبر |
| نظر آسماں پر چمکتے ہوئے سب ستاروں کو دیکھے تو دل میرا سوچے |
| مگر کھو گیا اک مرا چین ہی کیوں جسے ڈھونڈتا ہوں ہر اک شام اکثر |
| ترے میکدے کا ہے چرچا جہاں میں کہ کوئی بھی پیاسا نہیں آ کے جاتا |
| مرا دل بھی پیاسا ہے یومِ ازل سے پلا دے تو ساقی اسے بھر کے ساغر |
| عجب زندگی ہے عجب راز اس کے کہیں گھونٹ سے بھی بجھے پیاس سب کی |
| مگر سر پٹختا ہے ساحل پہ ہر دم نجانے یوں کب سے یہ پیاسا سمندر |
| اگر تمُ کہو تو تمہیں میں بتا دوں ہر اک بھید غم سے رہائی کا لوگو |
| اگر زندگی کا مزہ چاہتے ہو تو ہوگا میسر محبت میں مر کر |
معلومات