اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
قسم اپنے رب کی دعا ہم کریں گے
جفا دل پہ سہہ کر وفا ہم کریں گے
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
ہمیں چھوڑ کر جب نہ پاؤ گے ہم کو
کہیں بھیگے ساحل پہ گاؤ گے ہم کو
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
چراغ اپنے غم کا جلایا کرو گے
تصور میں ہم کو جو لایا کرو گے
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا
محبت امر ہے اسے یاد رکھنا
یہی سوچ کر دل کو تم شاد رکھنا
اگر زندگی میں کہیں موڑ آیا

0
11