چوٹ دل پر پڑی زخم رستے رہے
لاکھ روکا مگر اشک بہتے رہے
کاش تھمنے کا لیتے کہیں نام غم
جان و دل میں وہ ہر پل دہکتے رہے
آنکھ چندھیا گئی روشنی میں ادھر
گھپ اندھیرے میں ہم بھی بھٹکتے رہے
اپنی پلکوں پہ ہر دم چراغاں رہا
دیپ غم کے سدا جلتے بجھتے رہے
اک ترا نام دل کی دعاؤں میں تھا
اور ترے نام آنسو سلگتے رہے
اپنے لب پر رہی مسکراہٹ کبھی
دھڑکنوں میں مگر غم مچلتے رہے
ہاں اویس الحسن بام و در جان کے
درد کے پھول سے سب مہکتے رہے

0
16