| *کب یہ معلوم تھا رستے میں بچھڑ جائیں گے* |
| *خواب آنکھوں میں بساتے ہی اجڑ جائیں گے* |
| *تجھ کو ہم ٹوٹ کے چاہیں گے نہیں تھا معلوم* |
| *وہ بھی اتنے کہ کبھی خود سے بھی لڑ جائیں گے* |
| *عشق جادو کی طرح سر پہ چڑھا جاتا ہے* |
| *ایسا لگتا ہے کہیں خود سے بچھڑ جائیں گے* |
| *قریۂ چشم میں وہ جن کو مکیں رکھا تھا!* |
| *کیا خبر تھی کہ وہی خواب اجڑ جائیں گے* |
| *راہ دشوار سہی پھر بھی خبر تھی کس کو* |
| *ہر قدم آبلے اس عشق میں پڑ جائیں گے* |
| *خوش نظر آپ سہی پھر بھی سنبھالیں خود کو* |
| *دیکھنا نین سے پھر نین بھی لڑ جائیں گے* |
معلومات