معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6536
زمین و آسماں پر ہے حکومت غوث اعظم کی
ملی ہے اذنِ حق سے یہ امامت غوث اعظم کی
جھکائے سر کھڑے ہیں اولیاءِ دہر محفل میں
سبھی ولیوں کے سر پر ہے ولایت غوث اعظم کی
جو آیا چوری کرنے اس کو مسند پر بٹھا ڈالا
عجب دیکھی زمانے نے عدالت غوث اعظم کی

0
سجے ہیں جو گلشن ولادت ہے اُن کی
ملے یہ نظارے عنایت ہے اُن کی
فضائے دہر میں حسیں نور پھیلا
ملائک نے پائی بشارت ہے اُن کی
گرے منہ کے بل ہیں یہ طاغوت سارے
جگیں دیپ نوری علامت ہے اُن کی

0
پھوُل بننے سے ہمیشہ توُ گُریزاں ہو جا
اِک پرندے کی طرح محوِ گُلِستاں ہو جا
پر نئے آنے دے پرواز ہو تاکہ دِلکش
اِک نیا توُ بھی زمانے میں دبستاں ہو جا
ظُلمتوں سے تو کِنارا ہی ہے بہتر حیدر
بن کے شُعلہ توُ بھی سوُرج سا درخشاں ہو جا

0
1
اک نُور اُٹھا خیرہ کرے عرش کو، فرش بھی سجنے والا ہے
تیرا ذِکر تو خالقِ برحق، ازل سے ابد تک رہنے والا ہے
رحمت ہی بنی ہے ہر سو اب، وہ اُمّی لقب والا آقاؐ
جلوۂ مہ و خورشید لیے، اِس دِل پہ اُترنے والا ہے
والضحیٰ کا روشن چہرہ ہے، طٰہٰ کا سہرا چمکایا
محبوبِ خدا تشریف لائے ہیں، باطل مٹنے والا ہے

0
2
حسنِ دلربا دیکھو
چشمِ سرمہ سا دیکھو
لگ گئی ہے اس کے ہاتھ
شوخیِ حنا دیکھو
اس کے رخ کا صدقہ ہے
چاند کی ضیا دیکھو

0
1
رحمتوں کے ہیں وہ دریا، شفقتوں کے ہیں وہ ساگر
کون پا سکتا ہے اب تو، شانِ مصطفیٰؐ کے عنصر
مہر و مہ بھی ہیں حقیقت، ان کے فیض ہی کے پیاسے
نور ان کا ہی تو پھیلا، کائنات کے اب اندر
ذکرِ پاکِ مصطفیٰؐ سے، دل کو ملتی ہے تسکین
یاد ان کی بن گئی ہے، زادِ راہِ روزِ محشر

0
2
حسنِ جاں ربا کا خوف
ایک حشر ادا کا خوف
الفت آزما کا خوف
ہے یہی بلا کا خوف
زندگی کے جیسا ہے
بے خطا سزا کا خوف

0
10
ہر شخص چاہتا ہے دنیا میں خود نمائی
کرتے ہیں جس کی خاطر کچھ لوگ خود ستائی
اپنی خودی کا جوہر ظاہر کرو کچھ ایسے
جیسے کوئی چمکتا ہیرا دے خود دکھائی

0
2
چراغِ محبت جلایا ہے دل میں
حسیں نامِ احمد سجایا ہے دل میں
محبت ہے اُن سے چھپائیں گے کیسے
ذکر مصطفیٰ کا بٹھایا ہے دل میں
ہے روشن سویرا یہ وادیء جنت
مدینے سے موسم جو آیا ہے دل میں

0
1
3
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے
ماسٹر اصحاب کے ارمان رخصت ہو گئے
باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر
زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر
آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے

0
4
اے مولا کرم کر تو رحمٰن ہے
تو قادر تو خالق تو سلطان ہے
حسیں تیری قدرت کئی رنگ ہیں
خرد والے جس سے گراں دنگ ہیں
ہیں مخلوق تیری جہان و مکاں
بدلنا دنوں کا برائے زماں

0
1
مری قسمت میں لکھتا ہوں ترا ہر وصف محکم سا
تری تذکیر کر دے گی مجھے پاکانِ منعم سا
نمازیں آج کعبہ میں علی الاعلاں ادا ہوں گی
کہ آیا ہے سرِ میداں جری فاروقِ اعظم سا
نبوت بھی اگر ملتی جہاں میں مصطفیٰ ﷺ کے بعد
تو ملنا تھا نبی ہم کو مرے فاروقِ اعظم سا

0
2
ہم پر رہے خدا سدا سایہ حسین کا
کھائیں تمام عمر ہی صدقہ حسین کا
گردابِ غم ہمیں لئے پھرتی تھی کو بہ کو
فضلِ خدا سے مل گیا سایا حسین کا
وہ معترض ہے ناری کیا اس کی آبرو
جس کو نہ وصف ایک بھی بھایا حسین کا

0
1
ہم پر رہے خدا سدا سایہ حسین کا
کھائیں تمام عمر ہی صدقہ حسین کا
گردابِ غم ہمیں لئے پھرتی تھی کو بہ کو
فضلِ خدا سے مل گیا سایا حسین کا
وہ معترض ہے ناری کیا اس کی آبرو
جس کو نہ وصف ایک بھی بھایا حسین کا

0
1
کوچۂ عشق میں طلاب کہاں آتے ہیں
بے سر و ساماں بے اسباب کہاں آتے ہیں
لمحہ لمحہ ہی رہے خوفِ جدائی سر پر
عشق میں دور بھی نایاب کہاں آتے ہیں
وہ جہاں اور تھا ہوتی تھی رفاقت دل سے
اب برے وقت میں احباب کہاں آتے ہیں

0
2
مجھ کو چمن میں آئیں نظر دو سہیلیاں
الجھی ہوئی ہیں ذہن میں اب تک پہیلیاں
ایسا لگا کہ شاخ پہ دو پھول ہیں کھلے
وہ نرگسِ بہار تھیں یا تھیں گلابیاں
اک شوخ سی لگے ہے تو اک ہے حیا بھری
پہنچی ہوئی عروج کو ان کی جوانیاں

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6536
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8024