معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6536
میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
​کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے

0
2
کچھ ایسے زخم بھی دل میں چھپائے جاتے ہیں
جو مسکراتے ہوئے بھی دکھائے جاتے ہیں
یہ کس مقام پہ لے آئی سادگی ہم کو
کہ جھوٹ سچ کی طرح اب سنائے جاتے ہیں
کسی کے دل میں اترنا تو اور بات ہوئی
یہاں تو رشتے فقط آزمائے جاتے ہیں

0
1
فتنوں کا دور دیکھو کیسا یہ آ رہا ہے
انساں کو راہِ حق سے کتنا ہٹا رہا ہے
بازار میں حیا کا، اب ذکر بھی نہیں ہے
بے پردگی کا عالم ہر گھر کو کھا رہا ہے
فیشن کا بھی جنوں ایسا طاری ہو گیا ہے
جو عصمتوں کے آنچل کو ہی گرا رہا ہے

0
1
کس نے دیکھا ہے خُدا، چشمِ محمدؐ کے سِوا
دید ممکن ہی نہیں، صورَتِ احمدؐ کے سِوا
رَب ہے محبوب نبیؐ کا، نبیؐ محبوبِ خدا
کیا کہوں ایسی مُحبت کو میں اَنْحد کے سِوا
ذاتِ غائب کا ہیں مظہر شَہِ لَولاکَ لَما
کیا تھی منشائے اِلٰہی اِسی مقصد کے سِوا

0
7
دل فیصلہ سنائے تو دربار چپ رہیں
آنکھیں گواہ ہوں تو طرفدار چپ رہیں
اس نے کہا کہ عشق میں آزادی شرط ہے
زنجیر لے کے آئے طلب گار چپ رہیں
ہم نے شکست کھا کے بھی شکوہ نہیں کیا
فتحوں کا ذکر آئے تو سردار چپ رہیں

0
ہم پہ ایسا بھی تو ہوتا ہے اثر یادوں کا
آنکھ لگنے نہیں دیتا کبھی ڈر یادوں کا
۔
جب سے مرجھانے لگا ہے یہ شجر یادوں کا
ڈھونڈتا ہوں میں نیا اب کوئی گھر یادوں کا
۔

0
2
10
مُشکِل کی اِس گَھڑی میں عَوام کو تَنْہا نَہِیں چھوڑیں گے۔چاچُو!!!
——
تُم کو اَب اِس عُمْر میں کون یِہ سَمجھائے؟
جِتنی بات ہو اُتنی کرنا کافی ہے
قَوْم کو مُشکِل میں بھی تُم نَہِیں چھوڑو گے
کیونکہ تَنْہا کا تو لَفْظ اِضافی ہے

0
1
زمین و آسماں پر ہے حکومت غوث اعظم کی
ملی ہے اذنِ حق سے یہ امامت غوث اعظم کی
جھکائے سر کھڑے ہیں اولیاءِ دہر محفل میں
سبھی ولیوں کے سر پر ہے ولایت غوث اعظم کی
جو آیا چوری کرنے اس کو مسند پر بٹھا ڈالا
عجب دیکھی زمانے نے عدالت غوث اعظم کی

0
1
سجے ہیں جو گلشن ولادت ہے اُن کی
ملے یہ نظارے عنایت ہے اُن کی
فضائے دہر میں حسیں نور پھیلا
ملائک نے پائی بشارت ہے اُن کی
گرے منہ کے بل ہیں یہ طاغوت سارے
جگیں دیپ نوری علامت ہے اُن کی

0
5
پھوُل بننے سے ہمیشہ توُ گُریزاں ہو جا
اِک پرندے کی طرح محوِ گُلِستاں ہو جا
پر نئے آنے دے پرواز ہو تاکہ دِلکش
اِک نیا توُ بھی زمانے میں دبستاں ہو جا
ظُلمتوں سے تو کِنارا ہی ہے بہتر حیدر
بن کے شُعلہ توُ بھی سوُرج سا درخشاں ہو جا

0
3
اک نُور اُٹھا خیرہ کرے عرش کو، فرش بھی سجنے والا ہے
تیرا ذِکر تو خالقِ برحق، ازل سے ابد تک رہنے والا ہے
رحمت ہی بنی ہے ہر سو اب، وہ اُمّی لقب والا آقاؐ
جلوۂ مہ و خورشید لیے، اِس دِل پہ اُترنے والا ہے
والضحیٰ کا روشن چہرہ ہے، طٰہٰ کا سہرا چمکایا
محبوبِ خدا تشریف لائے ہیں، باطل مٹنے والا ہے

0
4
حسنِ دلربا دیکھو
چشمِ سرمہ سا دیکھو
لگ گئی ہے اس کے ہاتھ
شوخیِ حنا دیکھو
اس کے رخ کا صدقہ ہے
چاند کی ضیا دیکھو

0
1
رحمتوں کے ہیں وہ دریا، شفقتوں کے ہیں وہ ساگر
کون پا سکتا ہے اب تو، شانِ مصطفیٰؐ کے عنصر
مہر و مہ بھی ہیں حقیقت، ان کے فیض ہی کے پیاسے
نور ان کا ہی تو پھیلا، کائنات کے اب اندر
ذکرِ پاکِ مصطفیٰؐ سے، دل کو ملتی ہے تسکین
یاد ان کی بن گئی ہے، زادِ راہِ روزِ محشر

0
5
حسنِ جاں ربا کا خوف
ایک حشر ادا کا خوف
الفت آزما کا خوف
ہے یہی بلا کا خوف
زندگی کے جیسا ہے
بے خطا سزا کا خوف

0
11
ہر شخص چاہتا ہے دنیا میں خود نمائی
کرتے ہیں جس کی خاطر کچھ لوگ خود ستائی
اپنی خودی کا جوہر ظاہر کرو کچھ ایسے
جیسے کوئی چمکتا ہیرا دے خود دکھائی

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6536
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8024