معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



262
3308
روافض یہ سارے ہی گندے ہیں واللہ
غلاموں پہ تیرے یہ بھونکے ہیں واللہ
رضا سن کے سارے ہی بھاگے ہیں واللہ
ابوبکر و فاروق تیرے ہیں واللہ
ترے در کے پیارے وہ کہلانے والے
20 رجب المرجب 1445

0
شاعری اِک ربط ہے
پر جو اُن کو خبط ہے
اُس نے مشکل کر دیا
کب سے کیا جو ضبط ہے

0
8
سرکار ﷺ وجہِ تخلیقِ کائنات
محمد ﷺ نہ ہوتے تو کُنْ بھی نہ ہوتا
کسی کو خدا کا پتا ہی نہ ہوتا
مقدس کوئی شہر مکہ نہ ہوتا
کسی دل کی دھڑکن مدینہ نہ ہوتا
یہ بیت المقدس بھی قبلہ نہ ہوتا

0
3
صرف تو اے خدا میرا معبود ہے
صرف کعبہ ترا میرا مسجود ہے
تو نے پیدا کیا بندگی کے لئے
زندگی کا یہی ایک مقصود ہے
زندگی میں مرا کوئی قول و عمل
گر نہ ہو تیری خاطر تو بے سود ہے

0
3
معراج سے ملا ہمیں تحفہ نماز کا
انسان پر کرم ہے یہ بندہ نواز کا
قربِ خدا کا بہتریں رستہ نماز ہے
زینہ فلک تلک ہے یہ ہر سرفراز کا

0
3
آسمان و زمیں آج ہوتے نہیں مصطفے گر زمانے میں آتے نہیں
ہم خدا تک پہنچ ہی نہ پاتے کبھی پیارے آقا جو رستہ بتاتے نہیں
روتے روتے ہوۓ حشر کے دن سبھی مصطفے سے کہیں گے یقیناً یہی
ہم تو ہوتے دہکتی ہوئی آگ میں آپ جو آج بخشش کراتے نہیں
یا خدا بس مری آرزو ہے یہی شہر طیبہ میں اب حاضری ہو مری
ہجر طیبہ ستانے لگی ہے مجھے آپ کیوں مجھ کو طیبہ بلاتے نہیں

9
تمنا یوں مچلتی ہے کہ دنیا بھول جاتے ہیں
پھر اک دن یوں بھی ہوتا ہے تمنا بھول جاتے ہیں
یہ اپنی ڈالیوں سے ٹوٹ کر بکھرے ہوئے کچھ پھول
دیارِ غیر میں اک دن مہکنا بھول جاتے ہیں
نہیں ہے یاد تک ان کو اب ان گودوں کی حدت بھی
کہ جن میں بیٹھ کر بچے یہ دنیا بھول جاتے ہیں

0
3
دائرے میں اک سفر تھا، انتہا کچھ بھی نہیں
عمر بھر چلتے رہے اور فاصلہ کچھ بھی نہیں
ایسے ظاہر کر رہا تھا وہ ہوا کچھ بھی نہیں
شہر سارا جانتا تھا، اب بچا کچھ بھی نہیں
نور کے ہیں سلسلے یہ چار سو ٹہرے ہوئے
عالمِ ارض و سما اس کے سوا کچھ بھی نہیں

0
2
مری بیکار عادت ہے رو زانہ بھول جاتا ہوں
کہیں پر کچھ اگر رکھ دوں اٹھانا بھول جاتا ہوں
بھلا دوں گا یہ عادت میں ہزاروں بار سوچا ہے
یہ عادت بھول جانے کی بھلانا بھول جاتا ہوں
تمہارا نام مستی میں کہیں پر میں اگر لکھ دوں
کسی الزام سے پہلے مٹانا بھول جاتا ہوں

5
دیکھو تو رب کے بعد محمدﷺ کا نام ہے
کس قدر اونچا رب نے بنایا مقام ہے
ہر آن آپﷺ کا ہی مرے لب پہ نام ہے
ہر اک زباں پہ جاری درود و سلام ہے
کوئی نہ مثل آپﷺ کا ہے کائنات میں
سارے جہاں میں آپ ہی خَیرُ الْاَنام ہے

0
5
جب دل بڑے سب کے چھوٹے ناں تھے
تب گھر تو چھوٹے تھے سُونے ناں تھے

0
3
دل میں رہتے تو ٹھیک تھا لیکن، تم تو اب دماغ میں رہتے ہو
کرکے بےچین مجھ سے کہتے ہو، کیوں میاں اضطراب میں رہتے ہو
در بدر ہم بھٹکتے پھرتے ہیں، تیری چاہت میں، تیری الفت میں
کرکے برباد مجھ کو کہتے ہو، کیسے خانہ خراب سے رہتے ہو

0
14
دل میں رہتے تو ٹھیک تھا لیکن
تم تو اب دماغ میں رہتے ہو

0
17
بارشوں کا موسم ہے
چاہتوں کا موسم ہے
رات بھر جگا ہوں میں
سازشوں کا موسم ہے
ساتھ اس کا چاہوں میں
قربتوں کا موسم ہے

0
5
تیری ہی جستجو میں بھٹکتا ہوں رات دن
تیرے لیے ہی حمد میں لکھتا ہوں رات دن
اے ربِ ذوالجلال تو مجھ پر بھی کر کرم
میں ظلم اس زماں کے جو سہتا ہوں رات دن
ہر سمت ظلمتیں ہیں یاں دشوار زیست ہے
پھر بھی میں اس دیار میں جیتا ہوں رات دن

0
3
اک عمر تلک یہ گماں پالے نہیں جاتے
اب مجھ سے مرے خواب سنبھالے نہیں جاتے
دل میں تو کِیا ہے مرے تاریکیوں نے گھر
ان آنکھوں سے لیکن یہ اجالے نہیں جاتے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

158
6085
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا ایصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

34
3156
ایک زمانے میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ وہ بادشاہ نہایت ذہین و فطین تھا اور تمام بادشاہوں کی طرح حسن کا دلدادہ تھا۔ لیکن ملک کے تمام حسن کو اپنی جاگیر سمجھتا تھا۔ لہٰذا رعایا کی شادی بیاہ کے سخت خلاف تھا۔ اس نے اسمبلی میں قانون پاس کروایا، جس کو وکیلوں کی طرف سے بھی بھرپور سپورٹ ملی، کہ آج کے بعد اس ملک میں کوئی شادی نہیں ہو گی۔ اسی زمانے کا سب سے بڑا پادری، نام جس کا ولنٹائن تھا، وہ ”دل پھینک“ تخلص کرتا تھا۔ بادشاہ کے پاس جا کر مجرا بجا لایا۔ جس سے بادشاہ کا دل باغ باغ ہو گیا۔ پادری نے فرمایا، ”اے ظل الٰہی، یہ کیا غضب کر دیا۔ ہماری تو روزی پر گویا آپ نے لات ہی مار دی۔“ بادشاہ نے کہا، ”کیسے بھلا؟“ پادری گویا ہوا،”وہ ایسے کہ نکاح کے کاروبار سے تو ہمارا جہاں آباد تھا۔ دو عربی کے بول پڑھوا کر ہمیں کچھ انعام و اکرام مل جاتا تھا“۔ بادشاہ نے کہا، ”بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ انعام و اکرام سے ہم تمہیں نوازتے ہیں۔“ اس پر بادشاہ نے پادری کو انعام و اکرام سے نواز کرخانقاہ کا راستہ دکھایا۔ ”یہاں سے سیدھا جاؤ، دائیں طرف مڑ لو۔ باقی راستہ چوبدار سے معلوم کر لو۔ یا پھر گوگل میپس کو استعمال میں لاؤ۔ ی

3
330