معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
سورجوں میں شعاعیں باقی ہیں
حشر تک کی سزائیں باقی ہیں
زندگی بھی ستا رہی ہے مجھے
دے دو جو بد دعائیں باقی ہیں
ظلم سہنے کی خو پرانی ہے
کر لو جتنی جفائیں باقی ہیں

0
اک خبر منٹوں میں بے پردہ ہوئی
کتنی چھوٹی آج کی دنیا ہوئی
تیرگیٔ شب سے یوں نا گھبرایے
تیرگی سے روشنی پیدا ہوئی
عشقِ ابراہیم سے ہر دور میں
آتشِ نمرود شرمندہ ہوئی

1
اس جہاں کے سب گلوں میں تو مثالِ رنگ و بو ہے
تیرے دم سے ہی تو قائم اس چمن کی آبرو ہے
تو نہیں ہو جس میں شامل وہ بھی کوئی زندگی ہے
میرا مجھ میں کیا ہے باقی اب جو ہے بس تو ہی تو ہے
ہاتھوں کے یہ تیری کنگن پاؤں کی یہ تیری پایل
صنفِ نازک تیرا چہرہ میرے ہر دم روبرو ہے

0
16
پہلے رہتا تھا سارے شہر میں جو
میں کہیں خاص اب نہیں رہتا

0
6
دنیا چاند پہ پہنچی ہے بس
ہم نے چاند سے بات بھی کی ہے

0
7
میرے ہر رنگ میں رنگ اپنا دِکھانا مُرشِد
لاج ہر حال میں پھر میری بَچانا مُرشِد
دل میں پاتا ہوں مرے یار تری جلوہ گری
دل مرا آپ کا یونہی ہو ٹِھکانا مُرشِد
آپ کو جان کے آئی ہے یَقینی مجھ میں
آگیا كام یه دیوانه بنانا مُرشِد

6
انھیں کے خواب دیکھوں مشغلہ میرا ہے نِس دِن کا
پتا معلوم ہے مجھ کو نہ ہی نام و نشاں جِن کا
برا کیا نام ہو ہم سے کسی دنیا میں خائن کا
انھیں مطلوب ہے ضامن ہمارے فعلِ ضامِن کا
بنائی جب گئی عورت شریکِ زندگی اس کی
تو ہو کیوں حور سے ناطہ بھلا اک مردِ مومِن کا

0
6
مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے

1
3
لے جا نسیمِ طیبہ میرا سلام ہے
دیتا پیام تم کو یہ اُن کا غلام ہے
مشکل ترین ہجر میں لمحات کا گزر
پورے ادب سے عرض یہ کرنا پیام ہے
دربارِ مصطفیٰ ہے یہ ہوش و حواس رکھ
ہے دیکھنا غلاموں میں آتا جو نام ہے

0
4
نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو

0
1
6
نسیمِ صبح نے چھیڑا گلوں کا سلسلہ پھر سے
کھلا ہر شاخ پر رنگِ وفا کا مرحلہ پھر سے
فضائے دشت میں مہکی ہوئی مٹی نے یہ پوچھا
کہاں سے لوٹ آیا ہے دلوں کا قافلہ پھر سے
ابھی شبنم نے پتّوں پر لکھی تھی صبح کی تحریر
ابھی سورج نے بوسیدہ کیا ہر حوصلہ پھر سے

0
25
ہاتھ جو آتا کبھی، پھر سے مچلنے جاتے
دامنِ یزداں سے یہ خواب لپٹنے جاتے
جامۂ صد چاک ہمیں وجہِ تفاخُر تو نہ تھا
شہر میں تھا ہی مگر کون کہ ملنے جاتے
دشتِ تنہائی میں خود سے بھی جو ملنا چاہا
ہم بھی ایسے تھے کہ رستے سے بدلنے جاتے

0
5
میں تم کو بھی یوں محبت میں ڈھال سکتا ہوں
خیالِ دل میں نیا رنگ اُبھار سکتا ہوں
اگر تمہارا اشارہ ذرا سا مل جائے
میں خشک شاخ پہ موسم اُتار سکتا ہوں
وفا کے حرف مری روح میں اتر جائیں
وفاؤں کو نئے رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں

0
5
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7945
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
417