معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6429
ان کے وہ خد و خال، ہمیں بھولتے نہیں
وہ پیکرِ جمال، ہمیں بھولتے نہیں
ان پر گماں گزرتا تھا ہم کو گلاب کا
لب تھے مہکتے، لعل ہمیں بھولتے نہیں
پگڈنڈیوں پہ گاؤں کی، بیتے جو ان کے ساتھ
قربت کے ماہ و سال، ہمیں بھولتے نہیں

0
2
وہ اخبار میں جو خبر دیکھتے ہیں
ہم ان پر اسی کا اثر دیکھتے ہیں
سیاست نے میرا وطن لوٹ کھایا
بقایا کو بھی بد نظر دیکھتے ہیں
گھماتے ہیں آنکھیں وہ چشمے کے پیچھے
کدھر دیکھنا ہو کدھر دیکھتے ہیں

0
1
بولتے ہیں وہ جھوٹ بھی اس دانائی سے
جھوٹ ہی بہتر لگتا ہے سچائی سے
زخم دِیے ہیں روح پہ اس نے بدلے میں
نفع اٹھایا جس نے مری اچھائی سے
کیسے دوست ہیں پیٹھ میں خنجر مار کے بھی
کہتے ہیں ناراض نہ ہونا بھائی سے

0
اک لفظ کو دل سے کہنے میں سو زخم اٹھانے پڑتے ہیں
اک شعر غزل کا لکھنے میں سو درد جگانے پڑتے ہیں
آخر میں جو بھی شعر نکلتا ہے دل کی گہرائی سے
اس شعر کے پیچھے کتنے ہی افسانے چھپانے پڑتے ہیں
اک شخص کی خاطر اکثر کیا کیا کچھ سہنا بھی پڑتا ہے
کچھ رشتے نبھانے کی خاطر کچھ خواب گنوانے پڑتے ہیں

0
1
عشق میں ہر ایک اذیت کو بھی سہنا پڑتا ہے
درد جب حد سے بڑھے تو لب سے کہنا پڑتا ہے
دل میں گھٹنا پڑتا ہے آنکھوں سے بہنا پڑتا ہے
چند لمحے جینے کو صدیوں کو سہنا پڑتا ہے
© شاعر: ساگر حیدر عباسی

0
1
میں جفائے عشق میں مبتلا مری جاں پہ غم کا غبار ہے
میں ورق ورق ہوں پھٹا ہوا مرا حرف حرف بے زار ہے
مری بے زبانی کا راز کیا، مرے دل سے پوچھ کہ کیا ہوا
کہ سکوتِ لب کے لباس میں مری بے کسی کا مزار ہے
مجھے زخم اپنے عزیز ہیں کوئی آ کے مجھ سے نہ چھین لے
یہی درد میرا متاعِ کُل یہی سوز میری بہار ہے

0
2
لبوں پہ ذکرِ رسالت ﷺ رہے، تو کافی ہے
دلوں میں عشق و محبت رہے، تو کافی ہے
نبی ﷺ کی سنتِ طاہر پہ ہو عمل میرا
نصیب میں یہ سعادت رہے، تو کافی ہے
مدینے والے ﷺ کا دامن نہ چھوٹنے پائے
نبی کی آل سے الفت رہے، تو کافی ہے

0
4
بنیاد میں لہو ہے وطن کے جوانوں کا
طوفان بھی ہلا نہیں سکتا کبھی اسے
ٹکرانے کا خیال جو رکھتا ہے دیس سے
مٹ جائے گا مٹا نہیں سکتا کبھی اسے
میاؔں حمزہ

0
2
مدینہ ہے جنت بھلایا نہ جائے
فراقِ مدینہ چھپایا نہ جائے
یہ روضہ نبی کا یہ جالی سنہری
ہے ما فوق، لفظوں میں لایا نہ جائے
نہیں اتنے آساں جو دوری کے پل ہیں
جو گزری ہے دل پر دکھایا نہ جائے

0
1
سُوئے سُبحان بُلانے کے لئے آپؐ آئے
ہم کو رَحماں سے مِلانے کے لئے آپؐ آئے
مُنعکس آپؐ کی صُورت میں ہُوا وَجْہُ اللہ
حُسنِ جانان دِکھانے کے لئے آپؐ آئے
آیا قُرآں تو زُباں گُل ہوئی شیطانوں کی
ہم کو قُرآن سِکھانے کے لئے آپؐ آئے

0
7
صَدارَتی ایوارڈز بَرائے حُسْنِ کارْ کَرْدَگی!!!
——
حَق دار کون ٹَھْہرا، پاپڑ تھے کِس نے بیلے
ہے چار دِن یِہ دُنیا، ہیں چار دِن یِہ میلے
جِس کو تو مِل گیا ہے وہ تو مَنائے مَوجیں
جِس کو نَہِیں مِلا وہ آواز دے کے لے لے

0
2
ہوا کے دوش پہ جو دُکھ ہیں اس دیار کے ہیں
یہ سارے زخم تو آشفتہ روزگار کے ہیں
بکھر گئی ہے یہاں روشنی بھی مفلس کی
یہ جگمگاتے دیے طاقِ اقتدار کے ہیں
مکان سب کے لیے ہیں مگر زمین نہیں
یہ کھیل سارے یہیں کے، یہیں کے کار کے ہیں

0
5
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے

0
6
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں ہم لازم یہ ستوں ہے

0
3
کوئی رازِ ہنر کھنگالتا ہوں
میں حرفوں کے کھنڈر کھنگالتا ہوں
نگاہیں عرش پر کیا ڈھونڈتی ہیں
دعائے بے اثر کھنگالتا ہوں
مری آوارگی یہ پوچھتی ہے
یہ کیا میں در بدر کھنگالتا ہوں

2
عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے
ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے
یہ دھرتی مان ہے اپنا یہی پہچان ہے اپنی
اِسے آباد رکھنا ہے اِسے تطہیر کرنا ہے
تمہارا نام لکھنا ہے در و دیوار پر اپنے
ہمیں افسانہ اُلفت کا کوئی تحریر کرنا ہے

2
چاند تارے بنا رہا ہوں مَیں
یوں سیاہی مٹا رہا ہوں مَیں
اپنے بچوں کے واسطے روشن
گھر کا رستہ سجا رہا ہوں مَیں
پیاس علم و ہنر کی مٹ جائے
نئے مکتب بنا رہا ہوں مَیں

2
مُجھ کو چھوڑیں مَیں تو ہُوں ہی نا شُکرا
غَور کریں تو بات سَمجھ میں آتی ہے
آپ یِہ دیکھیں ہَر یَومِ آزادی پَر
اَپنی آبادی تو بَڑھ ہی جاتی ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6429
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

23
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7982