معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



405
6383
اشک آنکھوں سے جو بہتے ہیں انھیں بہنے دو
قتل کر کے تو نہ ہمدرد بنو، رہنے دو
روٹی کپڑا یا مکاں ہم کو بھلا کیا دو گے
تم وہ بھوکے ہو جو مُردوں کے کفن نوچو گے
قوم کو پہلے ہی تم مار چکے ہو ظالم
مان لو عہدِ وفا ہار چکے ہو ظالم

0
2
دیکھ کر تم کو تو بدنام مسلماں ہوں گے
اپنے اخلاق کرو سارے جہاں سے اچھے
متحد غیر ہیں امت کے خلاف ایک طرف
اور دشمن ہے ادھر کاٹتا اپنوں کے گلے
کچھ نہ سوچا کہ بدن پر ہے بہت اجلا لباس
بول کس طرح دھلیں گے یہ لہو کے دھبے

0
1
غمِ الفت کے سانچے میں نہ یوں ڈھلتے تو اچھا تھا
چراغِ دل جلا کر ہم نہ یوں جلتے تو اچھا تھا
بڑی مدت سے آنکھوں نے کوئی سپنا نہیں دیکھا
نئے کچھ خواب آنکھوں میں اگر پلتے تو اچھا تھا
بہاریں جب بھی آئی ہیں اسی غم نے ستایا ہے
دلِ بنجر میں بھی کچھ گل نئے کھلتے تو اچھا تھا

0
6
نصیب چمکے عتیقؔ، تیرے لبوں پہ ذکرِ حبیب آیا
میں لکھتے لکھتے نبی کی نعتیں، خدا کے بے حد قریب آیا
قبول ہوں گی دعائیں ساری خدا سے مانگو نبی کا صدقہ
میں ان کا صدقہ ہی دے رہا ہوں پیامِ ربِّ المجیب آیا

0
2
اس امتحاں سے پہلے، وہم و گماں سے پہلے
میں رونقِ زمیں تھا، اس آسماں سے پہلے
یاں ہر سو تو ہی تو تھا، ارض و سماں سے پہلے
کردار بھی یہیں تھا، اس داستاں سے پہلے
اک شور ہو رہا ہے، اک ناگہاں سے پہلے
یعنی کہ کچھ تو طے ہے، دورِ زماں سے پہلے

106
ان کی چوکھٹ پہ جو تشنہ کام آگیا
اس کی قسمت میں رحمت کا جام آگیا
تیری رحمت نے جب سے نوازا مجھے
میرے لب پر درود و سلام آگیا
تیری نسبت نے بخشی مجھے وہ عطا
میری قسمت میں خیرِ تمام آگیا

0
3
مرے دل میں کوئی الجھن نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب مسکن نہیں ہے
ترے بن زندگی میں رنگ کیا ہو
کوئی خوشبو، کوئی بچپن نہیں ہے
تجھے دیکھا تو دل کو چین آیا
وگرنہ دل میں کوئی فن نہیں ہے

0
1
وہ جو پکنک پہ کڑاہی تھی اڑائی ہم نے
ساتھ یاروں کے وہ مل کر تھی بنائی ہم نے
نہ نمک مرچ، نہ تھا ذائقہ اس میں کوئی
پھر بھی رغبت سے مگر بیٹھ کے کھائی ہم نے
گوشت کچا تھا مگر دوست بڑے پکے تھے
آگ یاروں کی رفاقت سے جلائی ہم نے

0
4
نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو

2
16
ایک اور رِیفْرَینْڈم؟؟؟ خُدا خَیر کرے!!!
——
اللہ جانے کیوں پَر اَیسا لَگتا ہے
قَوْم سے رائے لینے کا اِمْکان ہے پِھر
لَگتا ہے پِھر سے بے وُقُوف بَنائیں گے
قَوْم کو دھوکَہ دینے کا اِمْکان ہے پِھر

0
2
نالے خموش دل کے لبِ غم سیے بغیر
پھیلی ہے کائنات میں لو بھی دیے بغیر
خاموش الفتوں کا یہ انجام دیکھیے
پروانہ جل گیا ہے صدا بھی کیے بغیر
کچھ اس طرح سے ہم نے گزاری ہے زندگی
اک عمر کٹ گئی ہے ہماری جیے بغیر

0
3
ہیں نورِ ذاتِ یزداں چادر بشر کی ہے
تصویر خود بتائے کس کے ہنر کی ہے
عالم ہیں کن فکاں کے شاہد بھی آپ ہیں
باندی سدا فصاحت انہی کے در کی ہے
آقا قرارِ جاں ہیں دلدارِ کبریا
روشن نبی سے قسمت سارے دہر کی ہے

1
7
مِیرے دِل میں شَہِ بَطحا تِری تَوقِیر رَہے
آپ کے نام سے رَوشَن مِری تَقدِیر رَہے
ذِکرِ سَرکار سے آباد رَہے دِل کا چَمَن
گلشنِ دل میں سدا علم کی تَنوِیر رَہے
قَیدِ دُنیا سے نِکَل جاؤں عَقِیدَت میں تِری
مِری گَردَن میں تِرے عِشق کی زَنجِیر رَہے

1
11
سرد موسم ہے، دھندلکا سا ہے
دل میں ان کا خیال مہکا ہے
ان کی آمد کے اہتمام میں آج
گھر کے آنگن میں چاند اترا ہے
دور تک روشنی ہے راہوں میں
منتظر وقت بھی تو ٹھہرا ہے

0
3
مری قیمت کہاں اب تک تری دنیا نے جانی ہے
مرے ہر زخم میں پنہاں وفاؤں کی نشانی ہے
جو حرفِ درد لکھے تھے جو آنسو لفظ بن بیٹھے
وہی فردا کے انسانوں کے دل کی ترجمانی ہے
میں خاموشی میں پلتا تھا مگر خاموش کب تھا میں
مرے لفظوں میں پنہاں یہ مرے دل کی کہانی ہے

0
3
چھوڑ غفلت کام کچھ اچھا ارے نادان کر
اک سفر در پیش ہے اسکا بھلا سامان کر
روک پائیں گے نہ ہرگز اجنبی جنگل اسے
لوٹ آئے گا پرندہ پھر شجر پہچان کر
کون کتنا ساتھ دے گا یہ بھی تو پھر جان لے
برف کا اک گھر بنا سورج کو پھر مہمان کر

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

405
6383
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

21
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7974