معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6491
سیدھا سیدھا راستہ ہے احمدِ مختارؐ کا
بے تکلّف زندگی ہے، راستہ ہے پیار کا
مُسکرا کے گھر ہی سارا، دے دیا صدیقؓ نے
پہنے کپڑے ٹاٹ کے، کیا حوصلہ ہے یارؓ کا
سادگی میں بندگی ہے، بندگی میں سادگی
سادہ سادہ سلسلہ ہے وَصْل اور دیدار کا

0
4
مکاں سے آگے ہے لا مکاں بھی
زماں سے آگے ہے لا زماں بھی
سبھی سے آگے مگر خدا ہے
وہی جو ہے خالقِ جہاں بھی

0
1
تضمین نمبر 16
تضمین:- گُزْرے جِس رَاہ سے وہ سَیِّدِ وَالا ہو کر
کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
--------------------------------------
آئے کِس شَان سے وہ رُوحِ مُعَرَّا ہوکر
چَمْکے ہر دور میں وہ شَمْسِ مُجَلّٰی ہو کر

0
5
ضرور اُن کے مقا بل آندھیاں رکھ دی گئی ہوں گی
بھنور کی گود میں جو کشتیاں رکھ دی گئی ہوں گی
سمجھ کر جن کو منزل کا نشاں سب چل پڑے ہوں گے
سجا کر راہ میں گمراہیاں رکھ دی گئی ہوں گی
سمندرسے کہیں شعلوں کے فوّارے اُبلتے ہیں
دبا کر آب میں چنگاریاں رکھ دی گئی ہوں گی

0
4
درودِ نبی میں جو دل شاد ہے
وہ زندہ ہے وللہ وہ آباد ہے
نبی کی غلامی میں ہے چاشنی
محبت نبی پہلے بنیاد ہے
خدایا ہو محبوب سنت نبی
جو بردہ ہے اُن کا وہ آزاد ہے

1
6
جو غور کر سنا، سنی آواز تھی کوئی
جیسے سنا رہا ہو ہنسی آخری کوئی
​مدت ہوئی ہے داستاں گوئی کیے ہوئے
تجدیدِ عہدِ عشق کرے اب کبھی کوئی
​کیا خوبیاں بیان کروں اس کی ناصحا
دیوی ہے رات کی یا ہے دن کی پری کوئی

0
4
حادث کو کیا خبر کہ اُسی میں قِدم رہے
رکھتا ہے جو خبر، وُہی پیرِ مَنم رہے
بزمِ سَرائے یار میں میرا بَھرم رہے
ہر پل ثَنائے یار میں میرا قَلم رہے
میں نے سَجائی آنکھ میں تصویر آپ کی
دیکھوں جدھر بھی آپ کی صُورت بَہم رہے

0
30
یار کی تصویر بھی دل گیر ہونی چاہیے
آخر اتنی آہ میں تاثیر ہونی چاہیے
۔
تم جو ہر اک بات پر اک لفظ کہتے ہو کہ ہونہہ
اس کی بھی آخر کوئی تفسیر ہونی چاہیے
۔

0
12
منائے حسیں کا وہ میلاد ہے
جو دل یادِ دلبر سے آباد ہے
ہمیشہ یوں کہتے ہیں اہلِ نظر
زمانہ نبی سے ہی دلشاد ہے
اُنہیں نامِ احمد خدا نے دیا
ملائک کو یہ نام بھی یاد ہے

1
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6491
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8017