معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6531
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے
ماسٹر اصحاب کے ارمان رخصت ہو گئے
باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر
زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر
آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے
دارِ فانی چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے

0
1
اے مولا کرم کر تو رحمٰن ہے
تو قادر تو خالق تو سلطان ہے
حسیں تیری قدرت کئی رنگ ہیں
خرد والے جس سے گراں دنگ ہیں
ہیں مخلوق تیری جہان و مکاں
بدلنا دنوں کا برائے زماں

0
ہر شخص چاہتا ہے دنیا میں خود نمائی
کرتے ہیں جس کی خاطر کچھ لوگ خود ستائی
اپنی خودی کا گوہر ظاہر کرو کچھ ایسے
جیسے کوئی چمکتا ہیرا دے خود دکھائی

0
1
مری قسمت میں لکھتا ہوں ترا ہر وصف محکم سا
تری تذکیر کر دے گی مجھے پاکانِ منعم سا
نمازیں آج کعبہ میں علی الاعلاں ادا ہوں گی
کہ آیا ہے سرِ میداں جری فاروقِ اعظم سا
نبوت بھی اگر ملتی جہاں میں مصطفیٰ ﷺ کے بعد
تو ملنا تھا نبی ہم کو مرے فاروقِ اعظم سا

0
1
ہم پر رہے خدا سدا سایہ حسین کا
کھائیں تمام عمر ہی صدقہ حسین کا
گردابِ غم ہمیں لئے پھرتی تھی کو بہ کو
فضلِ خدا سے مل گیا سایا حسین کا
وہ معترض ہے ناری کیا اس کی آبرو
جس کو نہ وصف ایک بھی بھایا حسین کا

0
ہم پر رہے خدا سدا سایہ حسین کا
کھائیں تمام عمر ہی صدقہ حسین کا
گردابِ غم ہمیں لئے پھرتی تھی کو بہ کو
فضلِ خدا سے مل گیا سایا حسین کا
وہ معترض ہے ناری کیا اس کی آبرو
جس کو نہ وصف ایک بھی بھایا حسین کا

0
کوچۂ عشق میں طلاب کہاں آتے ہیں
بے سر و ساماں بے اسباب کہاں آتے ہیں
لمحہ لمحہ ہی رہے خوفِ جدائی سر پر
عشق میں دور بھی نایاب کہاں آتے ہیں
وہ جہاں اور تھا ہوتی تھی رفاقت دل سے
اب برے وقت میں احباب کہاں آتے ہیں

0
1
مجھ کو چمن میں آئیں نظر دو سہیلیاں
الجھی ہوئی ہیں ذہن میں اب تک پہیلیاں
ایسا لگا کہ شاخ پہ دو پھول ہیں کھلے
وہ نرگسِ بہار تھیں یا تھیں گلابیاں
اک شوخ سی لگے ہے تو اک ہے حیا بھری
پہنچی ہوئی عروج کو ان کی جوانیاں

0
1
عکسِ جاناں کھینچ کر ہم کو گلستاں لے چلا
بن کے مشعل راہ کی وہ ضو افشاں لے چلا
ہو گیا ہے کام دل کا پھر بھی قاتل خوش نہیں
طعنۂ جاں دے کے وہ کر کے ہراساں لے چلا
یاس کا پہرہ ہے اب تو وصل کا امکاں نہیں
لے چلا ان کو جو اس کے تھے نہ خواہاں لے چلا

0
1
مخلوق اولیں ہیں وہ بے مثال ہیں
نمکین حسن والے روشن جمال ہیں
تشبیہ کس سے دیجے آقا کے نور کو
شمس و قمر سے روشن آقا کے گال ہیں
اسباب کیا لکھوں میں ان کے ورود کے
ہر خلق کے لیے وہ راحت کمال ہیں

0
1
محبوبۂ حضور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
صدیق کا بھی نور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
صدیقہ طیبہ ہیں عفیفہ ہیں طاہرہ
ہر عیب سے ہی دور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
جبریل پاک کہتے ہیں آ کر انہیں سلام
مقبولِ در شکور ہیں جو عائشہ ہیں وہ

0
1
سبھی ہوا مرا گریہ قبول ہو نہ سکا
کرم بھی جیسے عطا ہے اصول ہو نہ سکا
میں عمر بھر تری رحمت کا منتظر ہی رہا
تری جناب سے جس کا نزول ہو نہ سکا
ترے خیال میں گو ہوش کھوئے بیٹھے ہیں
کبھی بھی غلبۂ نوم و ذہول ہو نہ سکا

0
9
گھر کے آنگن میں کوئی پیڑ ہرا ہے کہ نہیں
کھڑکیاں بھی ہیں مگر تازہ ہوا ہے کہ نہیں
سوچ پلکوں پہ کئی رنگ ابھر آئے ہیں
کوئی چہرہ پسِ آئینہ چھپا ہے کہ نہیں
شور گلیوں سے مسلسل جو یہاں اٹھتا ہے
مشترک اس میں مری آہ بکا ہے کہ نہیں

0
3
مِرے اشکِ تر نہ تھمے کبھی، ہمہ دم ستم مِرے حال پر
وہ صنم مرا کہ ستم روا، نہ ہوا کرم مِرے حال پر
​غمِ عاشقی میں جفا ملی، نہ سکوں ملا نہ دوا ملی
غمِ جاوداں کہ لکھا گیا، ہوا یوں رقم مِرے حال پر
​سرِ بزمِ غم شبِ بے بسی، نہ سحر ہوئی نہ دیا جلا
مری التجا نہ سنی کبھی، وہ بنا صنم مِرے حال پر

0
4
نورِ حق سے ساری خلقت اس طرح سے ضوفشاں ہے
ہر مکاں میں جلوۂ حق، ہر طرف اک لا مکاں ہے
اہلِ صورت تک رہے ہیں رنگِ فانی دہرِ دوں کا
دیدۂ دل جانتا ہے عشقِ حق ہی جاوداں ہے
​قطرہ گر گم ہو ندی میں بحرِ قلزم بن کے ابھرے
مٹ کے رہنا خود سے اپنی زندگی کا رازداں ہے

0
2
وہ جانِؐ جہاں کا مَکاں، اللہ اللہ
ملی مُجھ کو جس میں اَماں، اللہ اللہ
اُنہی پر ہے قُرباں مِری نقدِ جاں بھی
ہے قُربان جن پر جَہاں، اللہ اللہ
مِرے دل کا کعبہ ہے منبر نبیؐ کا
ہے محراب نُوری کَماں، اللہ اللہ

0
28
زمانے سے دل لگایا، مجھ سے لگا ذرا
وفاؤں کو میری بھی کبھی آزما ذرا
ترا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا کہیں
تو کر کے بھروسہ مجھ پہ، رشتہ نبھا ذرا
میں بجھنے کبھی نہ دوں گا تیرا چراغِ دل
تو راہِ وفا میں دیپ کوئی جلا ذرا

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6531
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

44
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8023