معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6131
کبھی تو خواب کی تعبیر کا ہنر نکلے
اگر صدف ہوں تو مجھ سے کبھی گہر نکلے
تلاشِ ذات میں نکلا ہوں اپنے اندر سے
دعا کرو کہ یہ میرا سفر ثمر نکلے
ہزاروں آئینے رستوں میں رکھ دیے اس نے
پتا چلے تو سہی رند در بدر نکلے

0
1
درد کی دھوپ میں یادوں کا شجر مل جائے
اب تو رہنے کو کوئی پیارا سا گھر مل جائے
شوقِ آوارگی لے آیا کہاں مقتل میں
ہم تو نکلے تھے کہیں اپنا ہی گھر مل جائے
کتنے طوفان چھپے بیٹھے ہیں خاموشی میں
کون جانے کہ کہاں چشمِ گلِ تر مل جائے

0
1
خاک میں مل گئے الفت کے گلستاں جاناں
اب کہاں وہ ترے وعدے، ترے پیماں جاناں
تیری صورت کو ترستی ہیں مری آنکھیں تو
کاش ہوتے کبھی تم بھی یہاں مہماں جاناں
وقت کی گرد نے دھندلا دیئے یادوں کے نقوش
بجھ گئے پیار کے روشن تھے جو امکاں جاناں

0
4
دلِِ ویراں میں کوئی خواب سجایا جائے
پھر کسی یاد کو چپکے سے بلایا جائے
شہرِ ظلمات میں تنہا کوئی گھومے کب تک
دیپ یادوں کا سرِ عام جلایا جائے
ریت پر لکھے ہوئے نام مٹائے نہ گئے
کاش اس دشت میں اک بار تو آیا جائے

0
3
مقامِ عشق پہ ٹھہری ہے کائنات نئی
ذرا قریب سے سن جو ہوئی ہے بات نئی
وہ شورِ حشر جو برپا تھا گرد و پیش مرے
اسے جو چپ لگی، نکلی ہے ایک بات نئی
میں لفظ لکھتا گیا سب حقیقتوں کی طرح
ہر ایک حرف سے کھلتی ہے کائنات نئی

0
3
یکتا خلق میں اُن کو مولا نے خود بنایا
کوئی سنا نہ اُن سا کوئی کہیں نہ پایا
مخلوقِ کبریا میں سایہ نہیں نبی کا
خلقِ خدا پہ لیکن رکھا نبی نے سایہ
نامِ حبیب سرور پونجی گراں ہے یارو
دولت ہے یادِ جاناں ذکرِ نبی ہے مایہ

0
1
3
کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے
میرے سرکار جیسے بدل سے گئے
ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر
ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے
دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا
دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے

0
2
محبت کی کئی تفسیریں لکھی گئیں،
مگر آخری تفسیر میں
کاتبِ تقدیر نے
حاشیے پر
فقط ایک لفظ لکھا —
“ماں”

0
4
دو ٹوٹے پھوٹے لوگوں نے
ملتے ہی پہلا کام کیا
اک شدت سے وہ ٹکرائے
اور کرچی کرچی بکھر گئے
پھر عمر گذاری ساتھ مگر
پر آج تلک نہ جُڑ پائے

0
3
کبھی سمجھا ہی نہیں وہ مری تنہائی کو
ناپتا کیسے مرے درد کی گہرائی کو
شام ہونے کو ہے منزل کا نشاں تک بھی نہیں
اور راہ میں کوئی نہیں حوصلہ افزائی کو

0
2
چِین میں دو کَرَپْٹ جَرنیلوں کو سزائے مَوت!!!
——
طاقَت سے پَھیلْتی ہے پَھیلْے جَہاں کَرپشَن
کَب سے ہے یِہ سَمُنْدَر تو بے کَراں ہمارا
رو رو کے کَر رَہے ہیں ہَم تو دُعائیں مَولا
چِینی ہوں ہم وَطَن ہو چِینیسْتاں ہمارا

0
3
مرے دل کے درد کا فیصلہ نہیں ہو سکا
وہی حال ہے کہ جو پھر بھلا نہیں ہو سکا
جسے مانتا رہا تھا کبھی میں بھی مقتدا
وہی شخص میرے لیے دعا نہیں ہو سکا
وہ جو خواب تھا مری بستیوں کی امان کا
کسی دھوپ میں بھی وہ اب ہرا نہیں ہو سکا

0
7
بقا کے واسطے دنیا سے لڑنا پڑتا ہے
بے حد خموشی سے جیتے جی مرنا پڑتا ہے
حلال رزق کی خاطر جمال روز ہمیں
حلال خود بھی بے دردی سے ہونا پڑتا ہے

0
3
جو میرے دل میں ہوئی تمہاری ہی نغمہ کاری تو میں تمہارا
ہوئی جو جذبوں میں شامل اب کے یہ خاکساری تو میں تمہارا
قبول ہے جو تمہاری آنکھوں میں قید ہونا ہے مجھ کو جاناں
رہی جو مجھ تک ہی حد تمہاری یہ پردہ داری تو میں تمہارا
کلام چھوڑو، پیام چھوڑو، عمل کی راہوں پہ آ گیا ہوں
اٹھا لی میں نے جو سر پہ اب کے یہ ذمہ داری تو میں تمہارا

0
4
عورت کے لیے کور ہے یا گور
اب جلسوں میں بھی مچاتی ہیں شور

0
3
عجب کھیل ہے داستانِ محبت
ستم ہے ستم کو سہے جا رہے ہیں
کنارے کو پانا جو ممکن ہے پھر بھی
یوں موجوں میں ایسے بہے جا رہے ہیں
محبت، محبت، ہماری محبت
سدا ہو امر یہ کہے جا رہے ہیں

0
7
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7854
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6131
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
25