معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6240
تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو
میں تمہیں گر منانا بھول گیا
یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ
میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا
کس زمانے سے آیا ہے تو بتا
میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا

3
وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا
تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا
گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی
جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا
کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی
میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا

0
4
اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے
قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے
زندگی ماں کے بنا ایسی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے

0
1
ہاں! (جَہاز) خَرِیدَا ہے بھئی۔ مَریَم اورنگزیب!!!
——
ڈِھیٹ پَنا اور اِس دَرْجَہ؟ کیا ہی کَہنے
یُوں بھی یِہ اَنْداز بَڑا بوسِیدَہ ہے
آپ کے تو اَیْوان میں تیوَر ایسے تھے
جیسے آپ نے پَلّے ہی سے خَرِیدَا ہے

0
3
حَریمِ ناز کے پردے اُٹھائے جاتے ہیں
زَہے نصیب کہ ہم بھی بُلائے جاتے ہیں
کتاب عشق میں لکھا ہے حُسن والوں نے
نگاہِ شوق کو جلوے دِکھائے جاتے ہیں
وہ کہہ رہے ہیں کہ رہنا ذرا سنبھل کر تم
حجاب تیری نظر سے ہٹائے جاتے ہیں

0
7
میں ہنستا ہوں محفل میں سب کے لیے
مرے دل میں اک آہِ شب گیر ہے
بھلا کوئی سمجھے نہ ساگر مجھے
مرا درد ہی میری تحریر ہے

0
4
سَر پہ رکھا تھا جو اِک ہاتھ دُعا بن کے رہا
ماں کا ہر لفظ مِرے دِل میں ضیا بن کے رہا
جب بھی مایوس ہوا ٹوٹ کے بِکھرا مَیں کبھی
ذکرِ مادر مِرے سینے کی شفا بن کے رہا
آج بھی جب کبھی ماتھے پہ ہوا چھُو جائے
یوں لگے ہاتھ مری ماں کا دُعا بن کے رہا

0
6
ترے پیار میں وہ اثر ہی کہاں
ترے درد میں ایک تاثیر ہے
مرے دل کی ویران بستی میں اب
تری یاد ہی ایک تنویر ہے
جو بھی زخم تو نے دیے تھے مجھے
وہی میری ہستی کی تقدیر ہے

0
6
"پہاڑوں کی فطرت میں دوستی ہے "
‎ وہ وادیاں
‎وہ کہساروں کے سینے سے پھوٹتے چشمے
‎وہ بل کھاتی راہیں
‎وہ دل میں اترتے نظارے۔۔۔۔

0
21
نہ ہوتی خوف کی پَرْچھائِیں ان روشن ستاروں پر
نہ آتی آنچ ان جھیلوں، پہاڑوں، سبزہ زاروں پر
مہکتی وادیاں، یہ چاند چہرے اور رخِ گلشن
نہ روتے بیٹھ کر بارود کے جلتے مزاروں پر
پرندے گیت گاتے، تتلیاں بھی رقص میں رہتیں
نہ پڑتی راکھ انسانوں کے دلکش کوہساروں پر

0
5
کہرام سا اک بپا ہوا ہے
ہر ایک کا دل بھرا ہوا ہے
ہیں بلبل و عندلیب نالاں
اور چاک ہے قمری کا گریباں
ہر پھول چمن میں ماتمی ہے
اک ٹہنی سے گل جدا ہوا ہے

0
1
گھر کے آنگن میں لگا بیٹھا ہوں
پیڑ کانٹوں کا اُگا بیٹھا ہوں
درد ہی درد مرے دل میں ہے
عشق میں دھوکہ جو کھا بیٹھا ہوں
دل کے زخموں کو چھپا بیٹھا ہوں
خود ہی خود کو میں بھلا بیٹھا ہوں

0
5
کسی رشتے میں بھی ویسی محبت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کے دل میں ہوتی ہے وہ شدت ہی نہیں ہوتی
جہاں میں ماں سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں ہوتی
خدا کی اس عطا جیسی عنایت ہی نہیں ہوتی
دعا کی چھاؤں مل جائے تو ہر آفت بھی ٹل جائے
کسی بھی سائباں میں وہ حفاظت ہی نہیں ہوتی

0
3
جانے والے کو بھولنا بہتر
ورنہ جینا سزا ہو جاتا ہے
یوں کسی کو نہ چاہ، اے ساگر
پل میں انساں خدا ہو جاتا ہے

0
4
تری یاد دل میں چراغِ سحر ہے
مری ہر دعا کا یہی اک ثمر ہے
غمِ ہجر دل پر عجب سا اثر ہے
مری زندگی اب تو دردِ جگر ہے
مرے دل میں اب بھی وہی اک نظر ہے
جو برسوں سے دل کا حسیں ہم سفر ہے

0
4
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
4
دلوں میں روشنی رکھنا یہی ایمان کافی ہے
سفر کتنا ترا دشوار ہو سامان کافی ہے
دعا لب پر رہے ہر دم یہی احسان کافی ہے
اگر نیت ہو سچی تو یہی پیمان کافی ہے
اندھیروں سے نہ گھبرا اک ذرا سی شمع جلنے دے
قدم بڑھتے ہی جائیں گے یہی امکان کافی ہے

6
خزاں کے بعد بھی دیکھو، چمن آباد رہتا ہے
اگر دل میں امیدوں کا کوئی گلزار رہتا ہے

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6240
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
370
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7928