معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6170
یہ حادثہ بھی مری بے بسی نے دیکھا ہے
کہ مجھ سے چھن گیا وہ جس کو میں نے جیتا ہے
امیدِ وصل نے لوٹا ہے عمر بھر ہم کو
سرابِ ہجر کو ہم نے خدا سا پوجا ہے
مری انا کا تماشا بنانے والے سن!
میں نے تو خود کو ہی اب قسط وار کھوجا ہے

0
5
جہاں کا یہ دل جو درِ مصطفیٰ ہے
منور اسی سے دہر کی فضا ہے
محبانِ سرور رہیں شاد اس جا
کہ مقصودِ عشاق یہ ہی جگہ ہے
سوالی سخی کے ہیں مسرور ہر جا
غلامانِ دلبر پہ راضی خدا ہے

0
3
لبوں سے چاہو تو کچھ بھی کہہ دو نظر تمہاری تو سچ کہے گی
نظر سے آکر نظر ملے گی تو بات آگے صنم بڑھے گی
دہک رہی ہے ترے بھی دل میں جو آگ مجھ کو جلا رہی ہے
تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں یہ آگ تم کو بھی لے جلے گی
کسے پڑی ہے کہ کیا کہے گا ہماری ٹھوکر میں ہے زمانہ
جو دل کہے گا وہی کریں گے یہاں کسی کی نہیں چلے گی

0
11
پڑے ہیں سوئے چمن کے داعی
خموش ہیں انجمن کے داعی
وہ اب جو ہجرت نصیب ٹھہرے
وہ سب کے سب تھے وطن کے داعی
کدھر ہیں جانیں لٹانے والے
کہاں ہیں سرو و سمن کے داعی

0
5
مٹ جائے گی کلفت دل سے، اِن بیتابی کے برسوں کی
پھر پیاس بجھے گی آنکھوں کی، اور پیاسے دید کے ترسوں کی
تم ہمت ہار کے مت بیٹھو، اے راہِ وفا کے مت وا لو!
بس تھوڑی سی ہی دوری ہے، اب کل کی یا پھر پرسوں کی
کیوں ہجر کی کالی راتوں سے گھبراتے ہو تم اے یارو!
آغوش میں آنے والی ہے، وہ صبحِ منور برسوں کی

0
7
یہ دنیا ایک میلہ ہے، یہاں سے سب کو جانا ہے
خوشی ہو یا کوئی غم ہو، اسے ہنس کر نبھانا ہے
سفر ہے زندگی کا یہ، سمیٹو تم دعا سب سے
یہی نیکی کا جذبہ ہی تمہارا اک خزانہ ہے
کبھی طوفانِ غم گھیرا کریں جب چار سو تم کو
خدا کے سامنے رونا سکوں کا اک بہانہ ہے

0
11
خاکِ راہِ شہرِ جاناں، دل کا ارماں ہو گئی
پھر وہی مٹی گلے کا، طوقِ ہجراں ہو گئی
شور تھا مٹی میں ملنا، ایک دن سب کو یہاں
وہ مگر نتھنوں کے رستے، داخلِ جاں ہو گئی
رقص کرتی تھی جو ہر سو اک بگولے کی طرح
سانس کی نالی میں آ کر، وہ غزل خواں ہو گئی

0
7
محبت کے چراغوں کو ستم سے کیوں بجھاتے ہو
درِ مقتل پہ کیوں بھائی کو اپنے تم بلاتے ہو
کتابِ حق تو کہتی ہے کہ ہے انسان اشرف ہے
یوں انسانی سروں کو کیوں سرِ نیزہ سجاتے ہو
جہاں تعلیمِ حق یہ تھی کہ الفت عام ہو جائے
وہیں اب نفرتوں کی خارداریں کیوں لگاتے ہو

0
6
عجب دستور دیکھا ہے یہاں آنے یا جانے کا
کسی کو ہوش ہی کب ہے کسی کا سوگ کرنے کا
ہمارے بعد بھی یہ شہر ویسا ہی رہے گا اب
کسی کے پاس فرصت ہے بھلا آنسو بہانے کا
جنازہ اٹھ گیا اور بھیڑ اپنے کام پر لوٹی
نہ تکیہ موت کا ہے اور نہ پروا ہے زمانے کا

0
5
بَشِیر بَدْر صاحِب کے جَنازے میں کُل 20 اَفْراد شَرِیک تھے!!!
——
بَعْد اَز مَرْگ شامِلِ غَم ہوں
اِتْنی فُرْصَت کہاں ہے لوگوں کو؟
لوگ مَصْرُوفِ کار ہوتے ہیں
اَب فَراغَت کہاں ہے لوگوں کو؟

1
9
سکوتِ شام میں گہری وہ بات ہو گئی ہے
سفر میں ایسی کٹھن اب کے رات ہو گئی ہے
عجیب رنگ جو بدلا ہے اب کے موسم نے
اسی سے ملنا تو اب کیا وہ بات ہو گئی ہے
پلٹ کے دیکھوں تو رستے دکھائی دیتے نہیں
وہ جس کے نام کی اب یاد ساتھ ہو گئی ہے

0
6
یہ در ہے درِ مصطفیٰ دوستو
مخیر یہاں کی فضا دوستو
عطاؤں سے دامن بھرے دیکھ لیں
ہیں سلطاں نبی کے گدا دوستو
ہیں زائر جو حاضر سخی کے لئے
سجی اُن کے لب پر ثنا دوستو

0
4
بہت قادر ہوں شامت کا میں مارا
سواۓ صبر کے پر کیا ہے چارہ
غصیلا ہے بہت وہ ماہ پارہ
چڑھا رہتا سدا ہے اس کا پارا
کوئی ہمدم نہیں کوئی سہارا
کوئی ساحل نہیں کوئی کنارہ

0
4
نفع کی فکر میں کھوئے ہو، تمہارا کیا ہے
جس نے پایا ہی نہیں، اُس کو خسارہ کیا ہے
ایک امید پہ قائم ہے یہ دنیا ورنہ
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا کیا ہے
دھڑکنیں تیز ہوئیں جب بھی قریب آئے ہو
میں تو سمجھا ہی نہیں، دل کا اشارہ کیا ہے

0
12
کرسی کے خواب آتے ہیں بس تکنے آپ کو
آتے ہیں جھوٹے وعدے ہی بس رٹنے آپ کو
مہنگائی کا عذاب سہیں ہم عوام بس
مر جائیں دو گھڑی جو پڑیں سہنے آپ کو
کھا کر حرام مال ہے کاٹی تمام عمر
نکلیں گے سانپ قبر میں سے ڈسنے آپ کو

0
6
دل کو یہ زعم رہا آنکھ سے آنسو نہ گرے
زیر لب ایک تبسم نے کئی راز کہے
ہیبتِ حسن کا غلبہ ہے سبھی پر ایسا
کس کی ہمت ہے کرے پیش یہاں شکوے گلے
ہم کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے
ظلم جتنے بھی ہوئے، ہم نے مروت میں سہے

0
7
Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
68
ملو تم اب وفاؤں سے، صدائیں کام آئیں گی
جدائی کے اندھیروں میں ضیائیں کام آئیں گی
نہ کر اب فخر اتنا ان بدلتے وقت کے سُر پر
بگڑ جائے گی جب تالیں، دعائیں کام آئیں گی
جہاں میں کشتیاں اپنی ڈبو دیتے ہیں خود راہی
نہ ساحل کام آئے گا نہ لہریں کام آئیں گی

0
14
ترے خیال نے پھر دل کو بے حساب کیا
وہ میری ہجر بھری راتوں کو گلاب کیا
ہر ایک سانس میں خوشبو تری بکھرنے لگی
تری نگاہ نے موسم کو کامیاب کیا
میں اپنے زخم لیے پھر رہا تھا شہروں میں
تری صدا نے مجھے صاحبِ کتاب کیا

0
4
خیالِ یار کو تصویرِ جاں بنانے لگے
ہم اپنے لفظ سے اک دنیا اب سجانے لگے
میں "وصل" لکھوں تو وہ بے قرار ہو جائے
میں "قرب" لکھوں تو وہ قریب آنے لگے
وہ میرے سامنے بیٹھا رہے تصور میں
میں "دیکھنا" لکھوں، وہ نظریں تک ملانے لگے

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7887
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6170