معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6207
بھولے بسرے سبھی وعدوں کا اعادہ کر کے
دیکھ لیتے ہیں محبت کو زیادہ کر کے
مخمل و اطلس و کمخواب سے اعضاء والے
ہم بھی ٹھہریں گے تجھے اپنا لبادہ کر کے
کہہ دیا ہے تو ملیں گے تمہیں روزِ محشر
ہم کوئی تم ہیں ؟ مکر جائیں گے وعدہ کر کے؟

0
ربط ایسا اس کے میرے درمیاں بنتا گیا
وہ جو خود اک راز تھا وہ رازداں بنتا گیا
میری جانب دیکھتا ہی تھا نہ وہ پہلے پہل
پھر وہ مائل ہو گیا اور مہرباں بنتا گیا
پہلے اپنی گفتگو سے دل میں اس نے گھر کیا
ہو کے محرم جان کا وہ جانِ جاں بنتا گیا

0
بہ اذنِ ربِ شریعت کشید کرتا ہوں
کسی کے ہونٹوں سے امرت کشید کرتا ہوں
میں ایک تام طلسمی بدن سے روزانہ
نیا مزہ ، نئی لذت کشید کرتا ہوں
عداوتوں کے شجر پر لگے ہوئے گُل سے
نہ پوچھ کیسے محبت کشید کرتا ہوں

0
دل سے مٹا دیا تھا جو سارا لکھا ہوا
محسوس ہو رہا ہے دوبارہ لکھا ہوا
چشمِ مثالِ دشت میں قندیل جل اُٹھی
دیکھا کہیں جو نام تمھارا لکھا ہوا
اُس نے لکھا ہے آج اُسے جان ہے عزیز
ہم نے جسے ہے جان سے پیارا لکھا ہوا

0
شراب مست ہے ، مخمور جام ہو گیا ہے
نصیح رندوں کا جب سے امام ہو گیا ہے
ترا بدن بھی دھواں ہو گیا تو حیرت کیا
یہ معجزہ تو محبت میں عام ہو گیا ہے
نسیمِ صبح نے زُلفوں سے چھیڑ خانی کی
نصیب گُل کو ترا ابتسام ہو گیا ہے

0
براے چشم جو ابرک فقط محبت ہو
خیال و دید کی ٹھنڈک فقط محبت ہو
خداے کل کی مشیت سے عین ممکن ہے
کہ آسماں سے زمیں تک فقط محبت ہو
اک ایسا شہر بسانے کی آرزو ہے مجھے
جہاں پہ لوگوں کا مسلک فقط محبت ہو

0
دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیا
ہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیا
تھوڑی جگہ ملی جو کسی کاخِ حُسن میں
دل ساری جائیداد کے چکر میں پڑ گیا
یکسانیت چھلکنے لگی اُس کے شعر سے
جو شخص انفراد کے چکر میں پڑ گیا

0
اُس کی آنکھوں میں چھپی تصویر کو پڑھتے ہوئے
رو پڑا میں آج اک تحریر کو پڑھتے ہوئے
اک اذیت کا جہانِ بے کراں کُھلتا گیا
آپ کی مسکان کی تفسیر کو پڑھتے ہوئے
تب سمجھ آیا کسے کہتے ہیں مرگِ آگہی
جب نہیں دھڑکا مرا دل میر کو پڑھتے ہوئے

0
رمق الم کی جو شامل مری خوشی میں بھی ہے
نمو کا راز مری آنکھ کی نمی میں بھی ہے
میں آنکھ بھر کے اُسے دیکھ کیوں نہیں سکتا
نظر بھی ٹھیک ہے میری، وہ روشنی میں بھی ہے
موازنہ نہیں بنتا ہے بلبل و گُل سے
وہ حُسن صوت میں مفردہے، دل کشی میں بھی ہے

0
وجہِ صبحِ نو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
اب ستارے ہو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
پھیلتا ہی جا رہا ہے سرد موسم کا غلاف
ضبط اپنا کھو رہے ہیں میں ، محبت اور دل
تم، سکوں اور نیند تینوں ہو گئے جب سے خفا
تب سے پیہم رو رہے ہیں میں ، محبت اور دل

0
فلک پہ چاک گُھما کر اُسے بنایا گیا
حدِ کمال پہ جا کر اُسے بنایا گیا
زمانے بھر کے چنیدہ گلاب گوندھے گئے
پھر اُن میں دودھ ملا کر اُسے بنایا گیا
کہ تا وہ رشک کرے اپنی بے مثالی پر
مثال اُس کی چھپا کر اُسے بنایا گیا

0
درِ دل سال خوردہ چوبی ہے
علم طوفان کو بخوبی ہے
پہلے ہوتا تھا اس جگہ صحرا
میری کشتی جہاں پہ ڈوبی ہے
درمیاں شرق و غرب سی دوری
میں شمالی ہوں ، وہ جنوبی ہے

0
نا سمجھ دل نہ محبت کی نشانی سمجھا
بیٹھ کر پاس اسے اپنی زبانی سمجھا
زخم سر سبز تھے پر اس کو دکھائی نہ دیے
نظم تازہ تھی مگر دوست پرانی سمجھا
غمِ جاں آنکھ میں آ بیٹھا ہے نم کی صورت
اس نے کس واسطے کی نقل مکانی ، سمجھا؟

0
کہتے ہیں جسے ہم گلِ احمر، نہیں دیکھا
افسوس! کبھی تم نے پشاور نہیں دیکھا
سیکھا ہے اسے دیکھ کے ہنسنا مرے لب نے
جس نے مری جانب کبھی ہنس کر نہیں دیکھا
جو تیرے تغافل نے لگایا ہے جگر پر
اس زخم کو ہوتے ہوئے بہتر نہیں دیکھا

0
خوش ہوں کہ رائیگاں مرے منتر نہیں گئے
بادِ صبا کے لب تمہیں چھُو کر نہیں گئے
خوش بخت! جس کے بخت میں لکھا گیا تمہیں
بچے تمہارے شکر ہے اُس پر نہیں گئے
اب کیوں دِلا سخاوتِ یاراں سے ہے گلہ
مشکیزگانِ چشم ترے بھر نہیں گئے؟

0
قلم لیے گئے ، کاسے تھما دیے گئے ہیں
ہم ایسے تھے نہیں جیسے بنا دیے گئے ہیں
جو ہاتھ ہم سے ہوا ہے ، نہیں کسی سے ہوا
ہمارے عیب و ہنر تک چھپا دیے گئے ہیں
فقط لفافے پڑے رہ گئے درازوں میں
خطوط جتنے تھے سارے جلا دیے گئے ہیں

0
بہ جائے دل ہے کسی شوخ کا نشانہ دماغ
قبول دل نہیں کرتا اسے مرا، نہ دماغ
وہ کھلکھلائے تو لازم ہے مسکرائیں ہم
خموش بیٹھ اداسی ، ہمارا کھا نہ دماغ
سمجھ سکا نہیں میری کتھا جِمِینائی
مشیں کے پاس مرے جیسا دل نہ تھا، نہ دماغ

0
پہلے نئی جگہ پہ ذرا ڈر لگا مجھے
پھر کچھ دنوں میں دشتِ گماں گھر لگا مجھے
آئینہ دیکھ کر مجھے وحشت نہیں ہوئی
زخمِ تمنا پہلے سے بہتر لگا مجھے
دیکھا کبھی نہیں ہے جسے میں نے آج تک
وہ شخص میرے پاس ہے اکثر لگا مجھے

0
جہاز سمجھے گئے بے مثال کا ملبہ
پڑا ہے بیچ سمندر زوال کا ملبہ
کہا بھی تھا کہ نہ کر باغبان کوتاہی
سمیٹ اپنے گل پائمال کا ملبہ
مرے جواب کی برداشت کر سکا نہیں ضرب
ہٹاؤ بزم سے اپنے سوال کا ملبہ

0
نغمات جودِ شاہ کے ہر آن گائیں ہم
پڑھتے ہوئے دروو مدینے کو جائیں ہم
بدلے میں پائیں مژدۂِ خلدِ بریں حضور
محشر میں اپنی آپ کو نعتیں سنائیں ہم
گل مسکراہٹوں کے چنیں باغِ سبز سے
گلدستے آنسووں کے لیے در پہ آئیں ہم

0
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6207
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
235
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7906