معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6513
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6513
حریصِ گل ہے نہ مرہونِ رنگِ منظر ہے
خود اپنے زخم کی خوشبو سے دل معطر ہے
اب اعتماد وفا لےکے ہم کہاں جائیں
جس آستین کو دیکھو اسی میں خنجر ہے
شکار ہوں میں غفلت شعار لوگوں کا
یہ دکھ تو میرے گزشتہ دکھوں سے بڑھ کر ہے

1
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پاؤں کے چھالے نہ گن

0
2
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پاؤں کے چھالے نہ گن

0
3
کھا گیا ہے وقت جانے کن حسینوں کا جمال
آئینے حیران طاقوں پر کھڑے ہیں آج تک

0
2
ہم نے جس وقت کو مٹھی میں جکڑنا چاہا
ریت بن کر وہی ہاتھوں سے پھسلتا ہی گیا

0
4
اک تماشا ہے سرِ بزمِ جہاں، اور کیا
ہم کھلونے ہیں فقط گردشِ دوراں کے لیے

0
4
مت پکارو زور سے لے لے کے دیوانے کا نام
وہ نہیں صحرا سے لے گا لوٹ کر آنے کا نام
شمع تجھ کو کام ہے جلنے جلانے سے فقط
پر جلایا جس کو پوچھا تک نہ پروانے کا نام
جب تلک ٹوٹے نہ یہ توبہ نہ ٹوٹے گی مری
رکھ دیا ہے میں نے " توبہ " اپنے پیمانے کا نام

0
5
نام کندہ ہیں درختوں پہ ہمارے اب تک
اور خوش رنگ ہرے سارے کے سارے اب تک
تو سمجھتا ہے کہیں مر چکے سارے اب تک
دیکھ زندہ ہیں ترے ہجر کے مارے اب تک
ہر شبِ وصل ہی تیرا مجھے تِشنہ رکھنا
یاد آتے ہیں محبت کے خسارے اب تک

0
2
​یاد ہے بچپن کی وہ معصوم سی چاہت مجھے
شادؔ دے جاتی ہے اب تک درد کی راحت مجھے

0
6
غزل
حسن سے جب دُو بہ دُو ہونے لگی
زندگی کی جستجو ہونے لگی
التفاتِ یار کے ادراک پر
ہر نظر جام و سُبو ہونے لگی
گرچہ برَسوں سے نہیں تھا رابطہ

0
39
ہم نہ تھے دیپ، تری رہ میں جلے ہیں لیکن
تجھ کو لگتا ہے کہ اغیار بھلے ہیں لیکن
ہم کہ سورج تھے فلک پر تھا ٹھکانہ اپنا
اب تری زلف کی شاموں میں ڈھلے ہیں لیکن
یاد آئے گی مہک لمس کی، تنہائی میں
چھوڑ کر اس کو بہت دور چلے ہیں لیکن

0
6
اپنے باطن میں گر جھانک کر دیکھیے
کتنا بے بس ہے خاکی بشر دیکھیے
جب تکبر کو سَر سے اُتاریں گے ہم
اچھا لگنے لگے گا نگر دیکھیے
پھُول کھِلنے لگے ہر طرف اَمن کے
یہ ہے میری دُعا کا اثر دیکھیے

4
قَبْروں پَہ جا کے دیکھو بے سُدھ پَڑے ہُوئے ہیں
جو بھی تُمھارے جیسے کَرْتُوت کر چُکے ہیں
تُم ناگُزِیر ہو نَہ وہ ناگُزِیر تھے جو
کَل تَک خُدا بنے تھے اور آج مَر چُکے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
کاش یہ حسرت نکل جائے کسی دن عشق میں
شادؔ بھی تجھ کو پکارے ناز سے اے جانِ جاں

0
6
عشق میں اے شادؔ ہرگز زور چلتا ہی نہیں
یار گر مانگے جدائی، مسکرا کر مان لو

0
11
ہماری آنکھ بھی یوسف سا چاہے معجزہ، سمجھے
مگر کوئی نہیں ملتا جو اپنا مسئلہ سمجھے
چھپا رکھی ہے خاموشی کے پیچھے جو صدا سمجھے
کبھی تو یار ظاہر سے حقیقت کو سوا سمجھے
ہمیں تم اک نظر تکتے نہیں، اوروں پہ لطفِ عام
کہو تم ہی وفا سمجھے کہ دل اس کو جفا سمجھے؟

1
14
کریں ہم عشق کا قصہ بیاں، گر تم اجازت دو
کریں رازِ محبت کو عیاں، گر تم اجازت دو
تِری آنکھوں میں اتری ہے جو خاموشی کی گہرائی
پڑھیں وہ بات جو دل میں نہاں، گر تم اجازت دو
بھلا کر ساری دنیا کو، تِری پلکوں کے سائے میں
بسائیں ہم الگ اپنا جہاں، گر تم اجازت دو

0
7
خدا نبی کا دیا سہارا، تو ہر جگہ یہ سہارا بس ہے
سعادتوں کی یہ انتہا ہے، خدا یہ تیرا بشارا بس ہے
خدا کے محبوب نوری پیکر، خدا کا بندہ، میں بندہ احقر
کرم کا ان کے کہاں میں قابل، کرم کا مجھ کو اُتارا بس ہے
نہ ان کے جیسا حبیب کوئی، خدا سے اتنا قریب کوئی
تَوَجَّہ اُن کی میں چاہوں کیسے، مجھے تو ادنیٰ اشارا بس ہے

6
​صورتوں کے چاہنے والے بدلتے ہیں سدا
شادؔ قیدی روح کے آزاد ہوتے ہی نہیں

0
9
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8018