معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6544
بندۂ حق، رسولِ حق، تجھ پہ اتر گئی کتاب
تیری حیات سر بسر امتِ حق کا ہے نصاب
رتبۂ عبدہٗ ملا، اس سے بڑا شرف کہاں
رب کے حضور رات بھر، آنکھ میں اشکِ بے حساب
غارِ حرا کی خلوتیں، دشتِ عرب کی گرمیاں
جن سے اٹھا جہان میں فکر و نظر کا انقلاب

0
صبر کرو
دھوپ کڑی، راہ کٹھن، پاؤں تھکے، سانس رکی
یار گئے، ساتھ چھٹا، آنکھ بھری، شام ڈھلی
دیر سہی، رب کی رضا، ہوگی سحر، صبح نئی
صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو، صبر کرو
ابر گھرا، چاند چھپا، تیز ہوا، دیپ بجھا

0
کرم ہوگا، وہی خالق نگہباں، حوصلہ رکھنا
وہی ہر درد کا، ہر غم کا درماں، حوصلہ رکھنا
اگر منجدھار میں کشتی ہو، طوفانوں سے مت ڈرنا
ٹلے گا اک نہ اک دن تو یہ طوفاں، حوصلہ رکھنا
اگر تنکا اڑا لے جائیں تیز آندھی کے جھونکے بھی
کھلیں گے پھول، مہکے گا گلستاں، حوصلہ رکھنا

0
ہے جنت سے علا روزہ نبی کا
زمیں ساری جہاں سارا نبی کا
بیاں کیسے کروں رتبہ نبی کا
نہ ہے ثانی نہ ہے سایہ نبی کا
خدا سے وہ دعا کرنا نبی کا
ہمارے واسطے رونا نبی کا

0
خدا ہے نگہباں، رکھو حوصلہ
وہی غم کا درماں، رکھو حوصلہ
بھنور میں اگر ناؤ ڈولے تو کیا
ٹلے گا یہ طوفاں، رکھو حوصلہ
اگر آندھیوں نے اجاڑا چمن
کھلے گا گلستاں، رکھو حوصلہ

0
2
یہ گھر بھرا ہے مگر کوئی آشنا بھی نہیں
کھلے ہیں در مگر اندر کوئی صدا بھی نہیں
وہ میرے گھر میں رہا ایک عمر لیکن پھر
گیا تو ایسا کہ جیسے کبھی رہا بھی نہیں
وہ ایک شخص مری یاد میں تو زندہ ہے
مگر یہ سچ ہے کہ اب اس سے رابطہ بھی نہیں

0
5
تمہارا دل جو سمجھائے تو کہنا
وہی دل تم کو بھٹکائے تو کہنا
یہ شہرت بھی بہت روشن لگے گی
نظر اپنا بھی نہ آئے تو کہنا
وہ کرسی آج بھی خالی پڑی ہے
کسی کو یاد نہ آئے تو کہنا

0
8
ہم کو ہم سے ذرا بچائے کون
اپنا چہرہ ہمیں دکھائے کون
ایک دیوار درمیان تو ہے
اینٹ پہلی مگر ہٹائے کون
ہم نے خود ہی چراغ پھونک دیا
اب اندھیرے سے گھر بچائے کون

0
6
چَاچُو کی UNGA میں ”وَلوَلَہ انگیز“ تَقْرِیر!!!
——
اِسے تو یِہ اِدْراک تک بھی نَہِیں تھا
کہ کیا کر رہا اور کَہاں کر رہا تھا
یِہ جِن شُعْبَدوں کی وجہ سے ہے رُسوا
وہی شُعْبَدے کَل وَہاں کر رہا تھا

0
5
سیرتِ خیر الوری قرآن ہے
مدحِ محبوبِ خدا ایمان ہے
آپ ہیں دونوں جہاں کے تاجدار
عرش سے یہ فرش تک اعلان ہے
آپ کا ہر اک عمل ہے اک کرم
خلق پر کتنا بڑا احسان ہے

0
4
الہی شام سے پہلے وہ دل پگھل جائے
وگرنہ دن ڈھلے شاید یہ جاں نکل جائے
۔
نہ روح بے خبری میں مکاں بدل جائے
کہیں نہ نیند ہی میں میری جاں نکل جائے
۔

0
9
ہم کئی بار خود اپنے سے مکر جاتے ہیں
آئنے سامنے آئیں تو بھی ڈر جاتے ہیں
ہم نے خط پھاڑ کے دریا میں بہائے پھر بھی
کچھ ورق ذہن کے اندر ہی ٹھہر جاتے ہیں
ایک مدت سے وہی شخص نہیں ہے لیکن
اس کے موسم مرے کمرے سے گزر جاتے ہیں

0
6
عزت کے احترام کے قابل نہیں ہے وہ
اعلیٰ کسی مقام کے قابل نہیں ہے
عزت وفا خلوص نہیں جس کی فکر میں
تو پھر دعا سلام کے قابل نہیں ہے وہ

0
4
ایک ہی چھت کے تلے آباد سب
اپنے اپنے حال میں برباد سب
ایک سچ بولا تو محفل چھٹ گئی
جھوٹ پر ہوتے رہے دلشاد سب
اپنے اپنے خوف کے پیچھے چھپے
دیکھنے میں تھے بہت آزاد سب

0
9
وہ پَسِ دِیوارِ زِنداں رَہ کے بھی جِن بَن چُکا!!!
—
آپ مانیں یا نَہ مانیں آج کا سَچ ہے یَہی
دو ٹَکے کے بھی نَہِیں ہیں اَونے پَونے ہو چُکے
وہ پَسِ دِیوارِ زِنداں رَہ کے بھی جِنّ بَن چُکا
اور اُس کے سَب مُخالِف بَونے بَونے ہو چُکے

0
3
خواب اشکوں کی روانی میں مر جاتے ہیں
ہم جیسے لا مکانی میں مر جاتے ہیں
جن کے لہو میں شامل ہو غربت کا دکھ
ان کے بچے جوانی میں مر جاتے ہیں
ہم پر اتنی مہرباں ہے قسمت کہ اگر
آگ سے نکلیں تو پانی میں مر جاتے ہیں

0
8
مری تنہائی مجھ سے آشنا تھی
مری محفل مگر مجھ سے جدا تھی
وہ جس کو اپنی کمزوری میں سمجھا
وہی شاید مری آخر بقا تھی
مجھے جس شخص سے شکوہ بہت تھا
مری اپنی بھی اس میں کچھ خطا تھی

0
6
عَجب ہے بزم تِری کا نظام مستانے
کہیں پہ رند ہیں بیٹھے کہیں پہ دیوانے
کسی نے ہوش گنوائے کسی نے پیمانے
پڑی ہے جس پہ نظر بس وہی اثر جانے
تری نظر ہے کہ شعلہ ہے شمعِ وحدت کا
کہ پھونک ڈالے ہیں جس نے دُوئی کے بت خانے

0
10
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6544
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

46
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8036