معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6545
انقلابی ہے جگر اور مرا تیور مضبوط
سوچ میں پنہاں ہے اخلاص کا عنصر مضبوط
ٹھوکروں نے ہی سکھایا ہے سنبھل کر چلنا
میرے اندر ہے چھپا عزم کا لشکر مضبوط
جس کی منزل پہ نظر ہو وہ کہاں رکتا ہے
چاہے رستے میں پڑے کتنے ہی پتھر مضبوط

0
2
مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا
زہراب نے اثر نہ کیا تھا، پیے تو تھا
یہ کیا کہ سنگ باری تمہاری طرف سے ہے
دیوانہ پن یہ اپنا تمہارے لیے تو تھا
بوسیدہ ہو چلی تھی بدن کی قبا مگر
دامن کو تارِ صبر و رضا سے سیے تو تھا

0
اے ذاتِ حق، اے نورِ جاں، تیرا کرم میری زباں
ہر شے میں تو جلوہ نما، جلوے ترے ہیں جاوداں
قائم ہے بس تیری بقا، باقی ہے سب فانی یہاں
عشقِ حقیقی رہنما، منزل وہی، وہ کارواں
دل کو ترے در کی طلب، سجدے میں ہے میری جبیں
تیرے سوا کوئی نہیں، تیرے سوا کوئی نہیں

0
دوسری بھی ضروری ہو گی
ایک خواہش جو پوری ہو گی
کوئی تو ارماں جاگے گا جب
موت سے پل کی دوری ہو گی

0
3
تیرے ہی سبب سے تھیں زندگی میں رونقیں
اب تو جو نہیں تو ویرانی ٹلتی ہی نہیں
© ساگر حیدر عباسی

0
2
حاکم وقت کی اک روز کی تقریر ہے یہ
جو دکھائی گئی جنتا کو وہ تصویر ہے یہ
کارنامے سبھی اور ساری کہانی سنیے
حاکم وقت سے خود اس کی زبانی سنیے
میری سرکار کی جب سے یہاں رکھوالی ہے
ہر طرف امن ہے خوشحالی ہی خوشحالی ہے

0
7
غمِ جدائی کے زخم اب سینا چاہتا ہوں
ہو زہر چاہے ہو جام میں پینا چاہتا ہوں
بہت ہوں گے ان حسین آنکھوں پہ مرنے والے
میں تیری آنکھوں میں ڈوب کر جینا چاہتا ہوں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
4
ماں تو الفت کا حسیں عنوان ہے
نہ کرے جو قدر وہ نادان ہے
اُف بھی مت کہنا، وَّلَا تَنْهَرْهُمَا
رب کا کتنا سخت یہ اعلان ہے
خود سکھایا رب نے رَبِّ ارْحَمْهُمَا
کیسی عظمت اور کیا ہی شان ہے

35
نقابوں کے پیچھے نہ نیت چھپے گی
کہاں تک تمھاری حقیقت چھپے گی
اگر بھیڑیے وادیوں میں پھریں گے
تو جنگل میں کیا آدمیت چھپے گی
تبسم لبوں پر سجانے سے یارو
جو دل میں دبی ہے اذیت چھپے گی

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6545
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

47
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8044