معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6545
بات پوری تو ہو گئی اس سے
بات جو تھی وہ رہ گئی جیسے

0
اپنے اپنے مطلب والے، کیسے کیسے سیانے لوگ
درد ہمارا کیا سمجھیں گے، دنیا کے یہ بیگانے لوگ
ہم سے پوچھا حالِ دل تو، ہم نے ہنس کر ٹال دیا
آئے تھے ہم پہ ہنسنے والے، کچھ جانے پہچانے لوگ
اُس کی گلی سے لوٹ کر آئے دل کو اور اُداس کیے
مجھ کو دیکھ کے ہنسنے والے پوچھ رہے تھے فسانے لوگ

0
6
اس سے دور بیٹھے جب، ساتھ کیا نہیں مانگا؟
اب جو صلح کر لی تو مشورہ نہیں مانگا
پاسداری عفّت کی آپ کی مقدّم ہے
قرب ہم نے چاہا پر جا بجا نہیں مانگا
کس قدر ہے فرسودہ طور یہ عداوت کا
فاصلہ نہیں چھوڑا، رابطہ نہیں مانگا

0
2
ہم پر شعور باب اتارے گئے تو ہیں
گیسو غزل کے تھوڑے سنوارے گئے تو ہیں
کھینچا ہے کہکشاؤں نے اپنی طرف ہمیں
لگتے ہیں ہاتھ کتنے ستارے، گئے تو ہیں
جاری تھی جنگ ضد کی خداؤں کے درمیاں
بے وجہ لوگ بیچ میں مارے گئے تو ہیں

0
5
الگ رکھا گیا ہم کو، الگ بنایا گیا
کسی حسین انگوٹھی کا نگ بنایا گیا
جھلس کے دور سے رہنے لگے ہیں لوگ سبھی
ہمیں ادب کے لیے جب سے پگ بنایا گیا
عطا جو مجھ کو کیا حق نے، کیا گھٹائیں گے؟
غرض کے سب یہ پجاری ہیں، سگ بنایا گیا

0
4
گیت۔
کون کسے پیار کرے مجھ کو کہو آج ذرا
غور کرو، فکر کرو، تم بھی تو سرتاج ذرا
جاگ اٹھا درد بڑا رات مجھے جانتے ہو
لوگ پڑے سوتے رہے آئی کسے لاج ذرا؟
گُنگا بنا بیٹھ نہیں جانوں تجھے بانکا بڑا

0
5
کیف اترا تھا کوئی اور نکھر آئے نقوش
میں نے چاہے تھے محبت کے شجر، سائے، نقوش
بانسری درد بھری چھیڑی ہے چرواہے نے
کاش ایسا ہو کوئی دل سے مٹا جائے نقوش
مسکراتے ہوئے چہرے میں کئی غم تھے نہاں
جھانک کر دیکھا تو پھر میں نے وہاں پائے نقوش

0
4
شہباز شریف وزیرِ اعظم پاکستان!!!
——
سادگی کا دے کے بھاشن قوم کو
چَاچُو جی خُود لے اُڑے سالِم جَہاز
پَس ہُوا ثابت یِہ بَندہ کون ہے
اِک ڈرامہ گِیر ہے اور رَنگ باز

0
9
ذکر مصطفیٰ کا سرِ بام ہے
لگے ہر زباں پر یہ ہی نام ہے
ثنائے نبی میں مگن ہے یہ دل
یہ ہی فکر میری یہ ہی کام ہے
ہے مدحت نبی کی جہاں میں رواں
یہ فیضِ جلی دہر میں عام ہے

1
6
کچھ خوف ہے نہ رنج و الم، خیریت سے ہوں
سرکار کا ہے مجھ پہ کرم، خیریت سے ہوں
جب سے ملی ہے نعمتِ عشقِ نبی مجھے
دل اس کا بن گیا ہے حرم، خیریت سے ہوں
داخل ہوا ہے عشقِ نبی دل میں جس گھڑی
خارج ہوئے ہیں سارے صنم، خیریت سے ہوں

6
سب سے ملتے رہے، خفا سے رہے
اپنے ہی آپ سے جدا سے رہے
عمر بھر ہم جواب لکھتے رہے
کچھ سوالات ابتدا سے رہے
ہم نے رشتے بہت بچائے مگر
عمر بھر خود سے ہی خفا سے رہے

0
7
ہر صبح
اسی کپ میں چائے آتی ہے۔
کھڑکی کے پاس وہی میز،
دھوپ کا وہی چھوٹا سا ٹکڑا،
اور میری انگلیاں
کپ کی گرم دیوار کے گرد

0
3
آج اس کا تخت بھی اور تاج بھی ہے پاش پاش
ہو گیا دنیا پہ یوں اس بت کدے کا بھید فاش
بادشاہت کے صنم خانے کا یہ دستور ہے
آپ ہی معبود گھڑتا ہے یہاں کا بت تراش
کل جو تھا معبود، وہ ہے آج ٹھکرایا ہوا
بندگی ان کی ہے سودا، ہے خدائی بھی معاش

0
4
بس رہا ہوں میں تری یادوں کے ویرانے میں
اب نہیں کوئی صنم دل کے صنم خانے میں
میں تو بیٹھا ہوں اِدھر پینے کو میخانے میں
اور اُدھر شوقِ جنوں کتنا ہے پروانے میں
کیا کروں گا میں تری بزم میں جا کے آخر
میں تو اپنے میں ہی شامل ہوں نہ بیگانے میں

0
6
سینے میں آرزوؤں کے کتنے مزار دیکھ
بجھتے ہوئے چراغ ہیں، اجڑا دیار دیکھ
مردہ ہے آرزو تو ہے مردہ یہ زندگی
ہر آرزو کے دم سے ہے یہ کاروبار دیکھ
مٹی میں دب کے دانہ جو پھوٹا تو پیڑ ہے
دفنائی آرزو میں بھی آتی بہار دیکھ

0
5
بندۂ حق، رسولِ حق، تجھ پہ اتر گئی کتاب
تیری حیات سر بسر امتِ حق کا ہے نصاب
رتبۂ عبدہٗ ملا، اس سے بڑا شرف کہاں
رب کے حضور رات بھر، آنکھ میں اشکِ بے حساب
غارِ حرا کی خلوتیں، دشتِ عرب کی گرمیاں
جن سے اٹھا جہان میں فکر و نظر کا انقلاب

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6545
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

46
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8037