معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6491
درودِ نبی میں جو دل شاد ہے
وہ زندہ ہے وللہ وہ آباد ہے
نبی کی غلامی میں ہے چاشنی
محبت نبی پہلے بنیاد ہے
خدایا ہو محبوب سنت نبی
جو بردہ ہے اُن کا وہ آزاد ہے

1
6
مکاں سے آگے لا مکاں ہے
زماں سے آگے لا زماں ہے
سبھی سے آگے بس خدا ہے
وہی جو خالقِ جہاں ہے

0
4
جو غور کر سنا، سنی آواز تھی کوئی
جیسے سنا رہا ہو ہنسی آخری کوئی
​مدت ہوئی ہے داستاں گوئی کیے ہوئے
تجدیدِ عہدِ عشق کرے اب کبھی کوئی
​کیا خوبیاں بیان کروں اس کی ناصحا
دیوی ہے رات کی یا ہے دن کی پری کوئی

0
4
حادث کو کیا خبر کہ اُسی میں قِدم رہے
رکھتا ہے جو خبر، وُہی پیرِ مَنم رہے
بزمِ سَرائے یار میں میرا بَھرم رہے
ہر پل ثَنائے یار میں میرا قَلم رہے
میں نے سَجائی آنکھ میں تصویر آپ کی
دیکھوں جدھر بھی آپ کی صُورت بَہم رہے

0
27
یار کی تصویر بھی دل گیر ہونی چاہیے
آخر اتنی آہ میں تاثیر ہونی چاہیے
۔
تم جو ہر اک بات پر اک لفظ کہتے ہو کہ ہونہہ
اس کی بھی آخر کوئی تفسیر ہونی چاہیے
۔

0
9
منائے حسیں کا وہ میلاد ہے
جو دل یادِ دلبر سے آباد ہے
ہمیشہ یوں کہتے ہیں اہلِ نظر
زمانہ نبی سے ہی دلشاد ہے
اُنہیں نامِ احمد خدا نے دیا
ملائک کو یہ نام بھی یاد ہے

1
6
​رات کے تاریک سائے پھیلتے ہیں چار سُو
خامشی کے زہر سے اب بجھ رہی ہے آرزو
​وقت کی دیوار پر ٹھہری ہوئی ہے اِک تھکن
جیسے صدیوں سے اکیلا جاگتا ہو میرا تن
​میز پر رکھی ہوئی ہے چائے کی پیالی اداس
پی رہا ہوں رات کے اس زہر کو میں بے حواس

0
5
یہاں پہ آ کے تو بس خوار ہو گئے ہم لوگ
اب اس مقام پہ لاچار ہو گئے ہم لوگ
گلہ نہیں کہ زمانے نے راستہ روکا
خود اپنی راہ میں دیوار ہو گئے ہم لوگ
ہمیشہ اشکِ ندامت پیے گئے چپ چاپ
اب تو گریۂ بے اختیار ہو گئے ہم لوگ

0
5
فرصت کے ان لمحوں میں
آج تو ہی بتا کیا یار لکھوں؟
مجھے تم سے ہے کتنا پیار لکھوں؟
ہو محبت کا کیسے اظہار لکھوں؟
تیری ترچھی نگاہوں کے وار لکھوں؟
جو تیر ہے دل کے پار لکھوں؟

0
4
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے

0
4
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
​قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
​حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6491
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8017