معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6417
مدینے کی جو یاد آئی تو چہرے پر نکھار آیا
رسولِ مجتبیٰ کے ذکر سے دل کو قرار آیا
مرے لب پر درودِ پاک کی جس دم سجی شبنم
کرم میرے خدا کا میری جانب بار بار آیا
تصور میں مدینے کے گلی کوچوں کو جب دیکھا
مری بے چین آنکھوں کو قرارِ جاں نثار آیا

1
10
لَب آزاد تھے گَرچہ ہَم آزاد نَہ تھے
دیسی سے پَرْدیسی چھورے بِہْتَر تھے
اُن میں کُچھ تو شَرْم و حَیا بھی ہوتی تھی
اِن کالوں سے تو وہ گورے بِہْتَر تھے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
1
سنو عشق تو کوئی پیشہ نہیں ہے
وہ کیا عشق گر ساتھ تیشہ نہیں ہے
جھلک خون دے آنسوؤں میں تو سمجھو
کہ ہے عشق صافی تماشہ نہیں ہے
بظاہر نظر آئے تنہا بھی عاشق
اکیلا کبھی بھی وہ حاشا نہیں ہے

0
1
چشمِ نمناک دعائوں میں اثر لائے گی
صبحِ آزادی رہائی کی خبر لائے گی
رات آنکھوں میں کٹی پھر بھی سویرا نہ ہوا
ہم نے سمجھا تھا کہ بیداری سحر لائے گی
سبز پنجاب کے سینے پہ پڑی سرخ لکیر
اور محبوس کرے گی یا کہ پر لائے گی؟

0
2
بلندی پر ہے وہ رتبہ مجدد الف ثانی کا
ولایت چومتی روضہ مجدد الف ثانی کا
شریعت کا علم اونچا کیا مجدد الف ثانی نے
بچایا دین کا طبقہ مجدد الف ثانی کا
مٹا کر ظلمتِ باطل جلایا دیپ ایماں کا
ہے اب بھی معترف دنیا مجدد الف ثانی کا

0
1
ہر صُورت وچ سُبحان ڈِٹھا، سُبحان اللہ، سُبحان اللہ
ہر رُوحی رُوح رَحمان ڈِٹھا، سُبحان اللہ، سُبحان اللہ
۞
آپے حُسن تے آپے عشق پیا، آپے آہو آپے مُشک پیا
آپے مجنوں آپ جانان پیا، سُبحان اللہ، سُبحان اللہ
۞

0
6
کتنا حسیں نبی کا یہ آستان ہے
روشن ضمیر جس سے روحِ جہان ہے
ملا ہے گھونسلہ جو شہرِ حبیب میں
برتر حسیں محل سے یہ آشیان ہے
الطاف بٹ رہے ہیں بابِ رسول پر
مظہر جو فیض کا ہے وہ مہر بان ہے

0
2
مرے خواب آنکھوں میں مر گئے مری نیند زیرِ عتاب ہے
جسے کھیل سمجھا ہے تو نے وہ ، مری زندگی کی کتاب ہے
نہ شرابِ غم میں خمار ہے، نہ شرابِ وصل میں ہے مزہ
مری تشنگی کا سبب فقط تری چشمِ مست کا خواب ہے
وہ جو حرفِ شوق تھا لب پہ کل، وہی آج حرفِ گریز ہے
مری خامشی میں چھپا ہوا کسی عہدِ رفتہ کا باب ہے

0
8
حسرتوں کو کیوں بھلا ہر بار ہم رسوا کریں
کب تلک تنہا شجر کی چھاؤں میں بیٹھا کریں
کتنی شامیں ہم گزاریں انتظارِ یار میں
بن ترے اک پل بھی ہم نا چین پائیں کیا کریں
لوگ کہتے ہیں ہمیشہ سچ بتائیں آئینے
ہم جو دیکھیں آئینے، کیوں تم کو دکھلایا کریں

0
2
یہ خیالِ یار ہی میرا فسانہ ہو گیا
ذکرِ جاناں رات دن من کا ترانہ ہو گیا
آن پہنچا جو حزیں بھی گلیوں میں سرکار کی
پھر مدینے میں اسی کا آب و دانہ ہو گیا
عشقِ احمد جان لیں جو زندگی کا راز ہے
جس کو یہ دولت ملی ہے وہ یگانہ ہو گیا

3
دل کو یادوں سے تری کچھ یوں بہلا لیتے ہیں
شبِ تنہائی میں محفل دل سجا لیتے ہیں
درد جب حد سے گزر جائے تو تنہائی میں
اشک پلکوں کی تہوں میں ہی چھپا لیتے ہیں
تیری تصویر سے کرتے ہیں کئی باتیں ہم
یوں ترے ہجر کا کچھ قرض چکا لیتے ہیں

0
3
لَب پَہ ذِکْرِ اَحْمَدِ مُخْتَار کی تَکْرَار ہے
دِل میں یادِ سَیِّدِ اَبْرَار کی بَہَار ہے
مصطفی کا نام ہی جس کا ترانہ ہو گیا
خلد میں جاۓ گا جو سَرْکار کا حب دار ہے
دونوں عالَم میں ہماری رَہْنُمائی کے لیے
نَازِشِ کَوْنَین کا کِرْدَار اور، گُفْتَار ہے

0
4
مولوی ہے وطن کے پاؤں کا چھالا
مولوی ہے وطن کی آنکھ کا جالا
بیچ کر دین یہ زر کا ہے رکھوالا
نام حق کا لیا پیٹ اپنا ہی پالا
لب پہ تقویٰ پہ دل کوزہ ہوس کا ہے
واعظِ شہر کا ہے اب یہی حوالہ

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6417
بِجلی، گیس، نَہ پانی ہے!!!
——
بِجلی، گیس، نَہ پانی ہے
ہَر شے آنی جانی ہے
بِل ہی اِتنے آتے ہیں
نانی یاد تو آنی ہے

0
3
لمحات گُزریں قُرب میں; دِن کے یا رات کے
اَسرار کھُلنے لگتے ہیں سب کائنات کے
شارح دُکاں پہ تیری ہیں جو آتے سب کے سب
بِکتا نہیں ہے مال بنا اِلتفات کے
تو حید بھی ہے اور ہے بُتوں سے بھی دِل لگی
ڈھونڈھوں میں ہر طرف سے حوالے نجات کے

0
2
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

22
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7978