معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6539
وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا
فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا

0
3
سَرکاری جَہاز؛ ذاتی ترین یاترا: عُذْرِ گُناہ بَد تَر گُناہ!!!
——
واں ہُجُومِ نَغْمَہ ہائے سازِ عِشْرَت ہے جَناب
وہ سَدا ہی کَہتے رَہتے ہیں کہ پِھر کیا ہو گیا
جی تو کرتا ہے کہ ہَم اِس سادگی پَر مَر مِٹیں
جُرْم کر کے بھی وہ کَہتے ہیں کہ پِھر کیا ہو گیا

0
1
دل کو کیسے گِلے لگائے ہیں
رنج اس نے عجب اٹھائے ہیں
تھی محبت تو ہم تمہارے تھے
اور اب فاصلے بڑھائے ہیں
ہم کو زینت بنا کے محفل کی
اور اب راستے بھلائے ہیں

0
9
مُلتان کی یادیں کیا کہنے، لوگوں کی قطاریں کیا کہنے
ہیں خوب نظارے نیو وَک میں، نیو وَک کی بہاریں کیا کہنے
عُشّاق کا ایک سمندر ہے، عرفات مِنیٰ کا منظر ہے
سوئے ہیں کُچھ تو خیموں میں، کتنوں کا زمیں پر بستر ہے
یُوکے ہے پاکستان نہیں، یہ کام کوئی آسان نہیں
اللہ کی رِضا مقصد ہے فقط، اور دِل میں کوئی ارمان نہیں

0
6
یوں سادھے چپ جو ہر پل بکھر رہا ہوں میں
سمجھ رہی ہے یہ دنیا سدھر رہا ہوں میں
دیارِ غیر کے باسی نے ہے بتایا یہ
اِدھر نہیں تھی جگہ تو اُدھر رہا ہوں میں
ہوں مضمحل اے فلک کچھ مِرا خیال کرو
لگا کے زیست کا غوطہ ابھر رہا ہوں میں

0
9
فروزاں دیارِ عرب کی فضا ہے
حسیں آنے والا شہے انبیا ہے
بڑی رونقیں ہیں دیارِ نبی میں
بڑا آج راضی ہوا کبریا ہے
ہیں روشن جہاں سب کراں سے کراں تک
کہ لعل آمنہ کا رسولِ الہ ہے

0
3
دلبر کے فدائی ہیں مجلس کو سجاتے ہیں
جب ذکرِ مدینہ ہو آنسو بھی بہاتے ہیں
میلاد کی محفل دے گلشن کو گراں رونق
آتے ہیں وہی جن کے سرکار سے ناطے ہیں
جب عشق نبی سرور کرتا ہے دروں روشن
قدموں میں اگر چاہیں دلدار بلاتے ہیں

1
4
سرکارِ دو جہاں کا، دربار ہے نرالا
اقوال ہیں نرالے، کردار ہے نرالا
سیرت مرے نبی کی، قرآن ہے سراپا
لاریب میرے رب کا، اظہار ہے نرالا
زلفوں کی وہ تجلی، رخسار کی وہ رونق
رب کی قسم وہ حسنِ سرکار ہے نرالا

0
27
خواب پلکوں پہ اپنی اجالے ہوئے
زخم دل کے زباں سے نکالے ہوئے
سارے درد و الم کے پرانے نشاں
کر رہے ہیں بیاں دکھ سنبھالے ہوئے
کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں قیمت نہیں
کاٹ لیتے ہیں ہاتھوں کے پالے ہوئے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6539
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8028