معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6561
وہ اپنی ذات سے ہر دم جدائی مانگتا کیوں ہے
جو خود سے بھاگتا ہے، آشنائی مانگتا کیوں ہے؟
یہاں ہر شخص اپنے آپ کو آزاد کہتا ہے
مگر اپنی ہی خواہش سے رہائی مانگتا کیوں ہے؟
جسے معلوم ہے کوئی کسی کا ہو نہیں سکتا
وہ ہر اک اجنبی سے دل ربائی مانگتا کیوں ہے؟

0
5
علم کا حسیں گلشن، ہے اشاعت القرآن
فکر و فن کا اک خرمن، ہے اشاعت القرآن
درسِ دیں کی محفل ہے، ذکرِ حق کی منزل ہے
کیا ہی خوب اور احسن ، ہے اشاعت القرآن
سنتوں کا مظہر ہے، علم کا سمندر ہے
اہلِ علم کا مسکن، ہے اشاعت القرآن

6
اَپنے رَبّ کو چَلو یاد کَر لیں
اُس کے ناموں کے اَوْراد کَر لیں
جِتنے جُھوٹے صَنَم ہیں بَنائے
خُود کو اِن سَب سے آزاد کَر لیں
رَبّ کو بھاتی ہے سِیرَت کی خُوبی
راسْتی مَن میں آباد کَر لیں

0
2
کیا ہوگا کل یہاں پہ کسی کو خبر نہیں
محفوظ ظلمتوں سے کسی کا بھی گھر نہیں
خوف و حراس ایسامسلط ہے شہر پر
ان دیکھی قوتوں پہ کسی کی نظر نہیں
س م د (تخلص شاعر)
کراچی

5
کسی بھی عہد کی تاریخ تم اگر لکھنا
ہمارا حال کھنڈر ہے اسے کھنڈر لکھنا
مشینی دور ہے اس میں فراغتیں کم ہیں
کوئی بھی داستاں لکھنا تو مختصر لکھنا
ہنوز جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ لکھو
زمانہ خود ہی سکھا دے گا بے خطر لکھنا

0
3
مجھے اُس کا اتنا ملال ہے، مرے پاس جو کبھی تھا نہیں
کہ ہو رنج کی بھلا کیا خبر، مجھے درد اتنا رہا نہیں
یہ سفر تو مجھ سے بعید ہے، نہ ہی رہنما، نہ ہی آشنا
میں پلٹ کے گھر بھی نہ جا سکوں، مجھے ایسے چھوڑ کے جا نہیں
وہ جو مجھ پہ پورا نہ کھل سکا، وہ جو مجھ سے دور ہی جا بسا
سبھی شعر اس کے ہی نام تھے، کِیا کیا غضب کہ سنا نہیں

0
3
میں تم کو چاہتا ہوں اور کافی چاہتا ہوں
نہ بولوں گا کبھی، اس کی معافی چاہتا ہوں
سبب مَیں تو نہیں گر زندگی دشوار ٹھہری
کہا کس نے خطاؤں کی تلافی چاہتا ہوں
کروں معیار پر ہرگز نہ کوئی سودے بازی
کہ زلفِ عنبریں، پلکیں غلافی چاہتا ہوں

0
3
تارا! شہاب تم کو بنایا ہمیں نے تھا
یہ صحنِ ماہتاب سجایا ہمیں نے تھا
کر کے خطا گنوایا تھا لذّت کا اک جہاں
پھر اپنا آپ ڈھونڈ کے لایا ہمیں نے تھا
گزرے ہیں اس کے پار تو ثابت ہؤا ہے یہ
سدرا میں پیڑ بیرِیں لگایا ہمیں نے تھا

0
4
​سچ کی آوازیں لگا کر زرد رُو اب جی چکا ہوں
ظلم کی تاریک شب میں ہر ہلاہل پی چکا ہوں
​چیخنے سے جب نہ بدلا اس سڑے مردار کا رنگ
کاٹ کر احساس کی گردن لب اپنے سی چکا ہوں

0
4
میں ایک روز ستاروں کو گن کے لوٹا تھا
زمین والوں نے پوچھا کہ ہاتھ کیا آیا

0
1
میں نبی کی نعت لکھوں پڑھوں، یہی مشغلہ شب و روز ہو
میرے دل میں الفت مصطفٰی کا یہ سلسلہ شب و روز ہو
میرے رنج و غم کی یہی دوا، میرے ہر الم کی یہی شفا
میرے دل میں نعتِ رسول کا یہی ولولہ شب و روز ہو
وہ خیال گنبدِ سبز کا، جو نگاہِ شوق میں ہے بسا
مجھے دید روضۂ پاک کا، یہی حوصلہ شب و روز ہو

0
3
پِدَرِ بِلاوَل و پِسرِ زَرداری!!!
——
اِک زمانے میں اور تھی پی پی
اَب اِسے کیا بَنا چُکے ہو تُم
جِیئے بُھٹّو سے آج بالآخِر
جِیئے بوٹو پَہ آ چُکے ہو تُم

0
3
ایمرجنسی کے بَعْد!!!
——
سَب دَلِدَّر دُور ہوں گے دیکھنا
اَب سَدا خُوشیاں رَہیں گی ہَر طرف
اَب وَطَن ہے ایک فِرْدَوسِ بَرِیں
دُودھ کی نَہریں بَہیں گی ہَر طرف

0
2
میں اُس کے سامنے اتنا شریف بن بیٹھا
کہ اپنی بات بھی کہنے میں بے ادب سا لگا

0
4
غزل
عجب ہنر سے دِلوں کو ملا کے رکھتی ہے
بہشت عالیہ گھر کو بنا کے رکھتی ہے
اگرچہ پیار پہ اصرار تو نہیں اس کو
نفیس پلکوں پہ کاجل بنا کے رکھتی ہے
گلاب حُسنِ تبَسم پہ رَشک کرتے ہیں

0
6
کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا
جو بات لب پہ نہ آئے اُسے خموشی سے
ہُوا کے دوش پہ لکھ کر بہا دیا کرنا

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6561
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

53
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8055