معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6539
ہو نگاہِ لطف و کرم سدا ترا آدمی ہے لٹا ہوا
رہے آبرو مرے رہنما یہ ابھی ہے راہ بھلا ہوا
مرے دل میں آ کے سما زرا اسے مثلِ عرش بنا زرا
ترا جلوہ جلوہِ حق ہوا ترا نور نورِ خدا ہوا

0
3
دشمن حقیقی کون ہے پہچان جائیں ہم
کرتا ہے وار کیسے میاں جان جائیں ہم
اپنے کیے گناہ کی ہاں مغفرت کے بعد
بھیجے گئے زمین پے ہم تربیت کے بعد
قرآن کہہ رہا ہے اتارا گیا ہمیں
شاعر ہیں ایک کہتے ہیں پھینکا گیا ہمیں

0
2
کسی منزل پہ رک جاؤ تو پھر رستہ نہیں رہتا
سفر باقی رہے تو آدمی تنہا نہیں رہتا
کوئی لہجہ اگر مشہور ہو جائے تو بھی اکثر
اسی آواز میں پھر آدمی اپنا نہیں رہتا
کسی منصب پہ بیٹھو تو ذرا یہ یاد بھی رکھنا
بدن کرسی پہ رہتا ہے، مگر رشتہ نہیں رہتا

0
5
ہمارے دَرمیاں حائل جو پَردہ چاک ہو جائے
تو اُس جانِب چُھپا کیا ہے یِہ سَب اِدراک ہو جائے
اُسے تو پِھر دُعاؤں کی کوئی حاجت نَہِیں رَہتی
وہ جِس پر مہرباں میرا شَہِ لولاک ہو جائے
مُجھے اَیسا لَگے میں بھی مَدینے ہو کے آیا ہُوں
یِہ دِل اِن سَب گُناہوں سے اگر جو پاک ہو جائے

0
5
دین حق ہے کیا ازہر گر پتہ نہیں ہوتا
پھر تو کچھ بھی کہنے میں مسئلہ نہیں ہوتا
دھرم سارے اچھے ہیں ہم بھی شوق سے کہتے
گر جہان میں طرز مصطفی نہیں ہوتا

0
5
گلیاں ہیں مدینے کی مرا دل ہے مسافر
اب یاں سے کہاں جاؤں یہ مشکل ہےمسافر
لو لاک لما درسِ تقدس میں پڑھا ہے
اس راز سے پر آج بھی غافل ہے مسافر
ممکن ہی نہیں ہے کہ بھٹک جائے کسی سمت
در شہرِ مدثر و مزمل ہے مسافر

0
7
ہم عشق کا اک دیپ جلانے میں لگے ہیں
کچھ لوگ وہاں طوفاں اٹھانے میں لگے ہیں
برباد کیا، راکھ اڑی، شہر جلے سب
اب آگ کے شعلوں کو چھپانے میں لگے ہیں
انصاف کی مٹی کو تو خود روند دیا ہے
اور عدل کا اک سوانگ رچانے میں لگے ہیں

0
3
قرآں کفایت اللہ نے اب شروع کیا ہے
ہے شکر رب کا دل نے اس سے رجوع کیا ہے
وہ پیر کا بھی دن تو کتنا حسین دن ہے
رب کے کلام کی دل نے جستجو کیا ہے
اللہْ حافظِ قرآں تو بنا دے اس کو
تیرے کلام سے خود کو سرخرو کیا ہے

0
6
ایک لمحہ آج مٹھی سے رہا ہو جائے گا
پھر ہمارا وقت شاید لاپتا ہو جائے گا
دل میں رہنے دو ابھی اس درد کو بے نام سا
نام دے دو گے تو شاید مسئلہ ہو جائے گا
یہ جو اک خواہش ابھی دیوار کے پیچھے چھپی
در کھلا تو پورا گھر اک حادثہ ہو جائے گا

0
5
بند دریچے مرے خوابوں میں ہی کھلتے کیوں ہیں
ان سے ہر رات نئے سائے نکلتے کیوں ہیں
ہم نے مٹی میں کئی نام چھپا رکھے تھے
بارش آتی ہے تو یہ حرف نکلتے کیوں ہیں
ہم نے آواز کو دیوار میں چنوا تو دیا
رات ہوتے ہی وہی لفظ مچلتے کیوں ہیں

0
7
ایک دروازہ مرے وہم و یقیں پر رکھ دو
ایک رستہ کسی ان دیکھی زمیں پر رکھ دو
میں نے اک عمر سنبھالا ہے شکستوں کا حساب
اب یہ دفتر بھی کہیں دور وہیں پر رکھ دو
کچھ تعلق بھی دلیلوں سے پرے ہوتے ہیں
ایک کھڑکی سی مگر اپنے یقیں پر رکھ دو

0
3
سرِ اوجِ فلک پر ہیں حبیبِ کبریا آئے
حضورِ حق میں جانِ جاں نبی بدرِ دجیٰ آئے
مَلک جبریل امبر میں مقامِ سدرہ پر ٹھہرے
حرم نوری میں یزداں کے حبیبی مصطفیٰ آئے
خدا نے خاص بندے کو دیے تحفے گراں نادر
لئے چابی ارم کی بھی کریمِ دو سریٰ آئے

0
2
وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا
فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا

0
4
سَرکاری جَہاز؛ ذاتی ترین یاترا: عُذْرِ گُناہ بَد تَر گُناہ!!!
——
واں ہُجُومِ نَغْمَہ ہائے سازِ عِشْرَت ہے جَناب
وہ سَدا ہی کَہتے رَہتے ہیں کہ پِھر کیا ہو گیا
جی تو کرتا ہے کہ ہَم اِس سادگی پَر مَر مِٹیں
جُرْم کر کے بھی وہ کَہتے ہیں کہ پِھر کیا ہو گیا

0
2
دل کو کیسے گِلے لگائے ہیں
رنج اس نے عجب اٹھائے ہیں
تھی محبت تو ہم تمہارے تھے
اور اب فاصلے بڑھائے ہیں
ہم کو زینت بنا کے محفل کی
اور اب راستے بھلائے ہیں

0
9
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6539
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8028