معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



416
6626
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

198
8091
مغرب میں مشکلات ہیں ایمان کے لیے
رستے بہت کھٹن ہیں مسلمان کے لیے
آسان زندگی ہے جو پیسے کی وجہ سے
کافی نہیں وہ جنتی سامان کے لیے

0
اٹھا کر بوجھ باطل کا کہاں تک تم کو چلنا ہے
اگر رستہ بدلنا ہے تو پہلے خود بدلنا ہے
اگر کینہ، حسد کا بوجھ کاندھوں پر اٹھاؤ گے
بتاؤ اس گرانی میں سفر کیسے سنبھلنا ہے
لگا رکھے ہیں چہرے پر عجب جھوٹے کئی چہرے
یہ جھوٹا روپ آخر کار اک دن تو بدلنا ہے

0
1
لاکھوں پیروکار ہیں اس کے نیٹ پر
دیکھتے ہیں روز جو اس کو سیٹ پر
یہ دکھاتا ہے کبھی کرتب جسم سے
اور کبھی اڑتا ہے یہ جمبو جیٹ پر

0
1
عشق و جنوں بھری داستاں یاد آگئی
رہتی کبھی تھی وردِ زباں یاد آگئی
ماضی کا اک دریچہ ءِ جورو جفا کھلا
صبحِ بہار شامِ خزاں یاد آ گئی
دیکھا فلک پہ چودھویں کا چاند تو ہمیں
اک ماہتاب جانِ جہاں یاد آگئی

0
اپنے قبیلے کا چنو سردار سوچ کر
سر پر کسی کے رکھتے ہیں دستار سوچ کر
وزرا کے واسطے ہیں خزانوں کے منہ کھلے
سرکار دے عوام کو زنگار سوچ کر
ہم نے کیا ہے پیار کا اظہار آپ سے
ٹھکرائیے گا پیار کو سو بار سوچ کر

2
میں ہوں چکوری چاند عربؐ کی، طیبہ والے چاند نگر کی
ملک عجم میں پھرتی ہوں، آس پُجاؤ اِس بے گھر کی
بِرہا کی ماری مَیں بے چاری، تکتی جاؤں راہ قَمر کی
تکتے تکتے رَین ہے گُزری، تک تک ہاری تاب نظر کی
وِرہ کی اَگنی دل کو بُھونے، بُجھتی ناہی پی پی خُونے
دیکھ ہجر فراق کے شُعلے، حیرت میں ہے آگ سَقر کی

0
5
الجھی تھی نظر ان سے بہلانے کو کیا کہئے
پیمانہ ہے گردش میں پیمانے کو کیا کہئے
یوں نظروں سے کھنچ جانا، یوں دل میں اتر جانا
اس دل کی طراوت کو، افسانے کو کیا کہئے!
تھا جرمِ محبت بھی، اعزازِ کرم بھی تھا
اس پیار کے عالم کو پروانے کو کیا کہئے!

0
4
کس کس کے لیے اب کوئی روئے دلِ ناکام
ماتم کدہ بن کر ہی رہا بزم کا انجام
شاخوں سے ہری رُت کے مسافر ہوئے رخصت
کلیوں کا جھکا سر ہے، لٹی رونقِ ایام
دہلیز پہ رک سی گئی کیوں دیدۂ نمناک
پردیس سے آتا نہیں اب کوئی بھی پیغام

0
9
کتنے چہرے ہیں نقابوں میں یاں انسانوں کے
کتنے سودے ہیں یہاں روز ہی ایمانوں کے
جن کو برسوں سے سمجھتے رہے ہم اپنا سا
وقت آیا تو وہی ساتھ تھے بیگانوں کے
اس نے چپ چاپ مرا ہاتھ جو تھاما اک دن
تب کھلے مجھ پہ معانی سبھی پیمانوں کے

0
6
بے لَوث مخلوق دی پیار تے خدمت، ایّہو راہ ہئی رب نُوں جاندا
ہے خُلق عظیم دی اِس وچ رنگت، ایّہو راہ ہئی رب نُوں جاندا
سب دے دُکھڑے رب ہے سُن دا، مخلوق دے لئی خادم چُن دا
خادم پاون رب دی اُلفت، ایّہو راہ ہئی رب نُوں جاندا
مخدومی نالوں وَدھ کے عظمت، خدمت اندر راحت برکت
خدمت وچ ہے اَنحد رحمت، ایّہو راہ ہئی رب نُوں جاندا

0
13
آپﷺ ختمِ رسل آپﷺ سلطانِ دیں
آپﷺ سے ہی ہے رونقِ عرش و زمیں
آپﷺ ہی کے لیے ہے یہ ارض و سما
آپﷺ۔ پہ ہو کروڑوں درود و سلام
آپﷺ تاج-دار رسولوں کے ہیں
آپﷺ سے ہی یہ رنگ پھولوں کے ہیں

0
5
آپﷺ ختمِ رسل آپﷺ سلطانِ دیں
آپﷺ سے ہی ہے رونقِ عرش و زمیں
آپﷺ ہی کے لیے ہے یہ ارض و سما
آپﷺ۔ پہ ہو کروڑوں درود و سلام
آپﷺ تاج-دار رسولوں کے ہیں
آپﷺ سے ہی یہ رنگ پھولوں کے ہیں

0
5
ہر سمت جہاں بھر میں صرف ان کی بڑائی ہے
ان ہی کے لیے رب نے کائنات بنائی ہے
خود رب نے پکارا ہے یٰسین کبھی طٰہٰ
خود رب نے یوں آقا کی کیا شان بڑھائی ہے
جاتے ہیں مدینے میں جو لوگ زیارت کو
ان لوگوں نے کیا واللّٰہ قسمت پائی ہے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

416
6626
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

59