معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6554
ایک ایک کر کے سب ہی مجھے چھوڑتے گئے
سیلابِ غم کو میری طرف موڑتے گئے
کتنے عجیب لوگ تھے معمولی بات پر
برسوں پرانی دوستی کو توڑتے گئے

0
آنکھ ہر غم کو بیاں کرتی ہے
رازِ دل کو بھی عیاں کرتی ہے

0
جو کبھی  تھا مثلِ گلشن ، وہ ہوا ہے راغ کیسے ؟
گلِ عشق پر اے سامیؔ ! یہ لگا ہے داغ کیسے ؟
وہ جو شمعِ آرزو تھی دلِ شیفتہ میں روشن 
سرِ راہِ کوئے جاناں وہ بجھا چراغ کیسے ؟

0
1
جمال یار کا جلوہ مرے خدا دیکھوں
دل فسردہ کی مقبول یہ دعا دیکھوں
گھٹا ستم کی چھٹے امن کی فضا دیکھوں
اندھیری رات کٹے صبح جانفزا دیکھوں
دلوں کو زخم لگانا تو کوئی بات نہیں
شکستہ دل کو کبھی جوڑ کر دکھا، دیکھوں

0
2
دلوں کے طاق پہ کوئی دیا جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے
نگاہِ شوق سے ذرا پردہ اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
بھٹک رہے ہیں جو راہی غموں کی وادی میں
انہیں یقیں کا کوئی راستہ دکھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
ہوائے تیز میں لرزاں ہے آج شمعِ حیات
اسے حوادثِ دوراں سے بچاؤ، بڑا اندھیرا ہے

0
6
نہیں تھا اپنے گماں میں بھی ایسا ویسا وقت
کہ گزرا نقل مکانی میں جیسا جیسا وقت
۔
خدا کرے ترے دل کو لگے نہ اس کی ہوا
خدا کرے کہ تو دیکھے نہیں مجھ ایسا وقت
۔

0
5
دل توڑنے والے تو، بے حد ہیں زمانے میں
غمخوار نہیں ملتا، رشتوں کے خزانے میں
میٹھی سی زباں والے، سب زہر لیے اندر
ہنس ہنس کے ہیں سینے پر، خنجر ہی چلانے میں
باتیں تو صداقت کی، دعوے تو امانت کے
لمحے میں بدل جاتے ، سچ کو ہی دبانے میں

31
یاد کے پردے سے صورت نہیں ہلتی جس کی
وہی ظالم ہے کہ ہم سے نہیں نبھتی جس کی
اب وہ ہر صورتِ خوش رنگ میں آتا ہے نظر
گو کسی اور سے صورت نہیں ملتی جس کی
قیمتِ درد ہمہ وقت بڑھے جاتی ہے
یہی دولت ہے کہ قیمت نہیں گرتی جس کی

0
4
لب پہ آہیں ہیں، دل اشکوں بھرا پایا ہے
عشق کی راہ میں جینے کا مزہ پایا ہے
اشک پلکوں پہ تری یادوں کو سجانے لگے ہیں
زخمِ دل میں بھی ترا عکس چھپا پایا ہے
چاندنی رات میں دل کو بڑا تنہا پایا
خود کو ہر سو تری الفت سے بھرا پایا ہے

0
2
صدائے وقت کو مولا تو معتبر کر دے
کہ جس کے سامنے باطل بھی سر کو خم کردے
نہ جانے اور وہ کتنے خدا بنا ڈالیں
خدا گروں کے بھی کچھ اختیار کم کردے
لگائی جائے نہ ہونٹوں پہ ایسی پابندی
کہ سازِ نطق کو محرومِ زیر و بم کردے

7
طریقِ بیعت، اصولِ صحبت، الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کہ شیخ و رندوں کی فکر و نیت، الگ الگ ہے جدا جدا ہے
یہاں پہ فن اور ہنر کی قیمت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
قلم کا جادو زباں کی طاقت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کسی کے دامن میں اشکِ غم ہیں کسی کے دامن میں خوب گوہر
ہر آدمی کی ازل سے قسمت الگ الگ ہے جدا جدا ہے

0
2
کس سے جا کر میں کروں اپنی یہ فریاد، بتا
کیوں ستاتی ہے مجھے آ کے تری یاد، بتا
تری الفت کی تمنا تو کوئی جرم نہ تھا
کیوں ترے عشق میں دل ہو گیا برباد، بتا
تیری ہر بات ہوا کرتی تھی پتھر کی لکیر
کتنی مضبوط تھی الفت کی وہ بنیاد، بتا

0
4
جہانِ حسن جو خلق میں حسیں ہیں
خدا کے پیمبر ہیں صادق امیں ہیں
یہ ہادی یہ رہبر ضیائے دو عالم
منور درخشاں ہیں نورِ مبیں ہیں
نبی مصطفیٰ شانِ کونین ہادی
زماں اُن سے دوراں دلِ عالمیں ہیں

0
1
6
زندگی میں ہم سفر ایسا چنو جو پاس ہو
بن کہے ہر بات سمجھے، اور دل کو راس ہو
لفظ معنی کھو نہ دیں، اپنی وضاحت میں کہیں
ہاں ضروری ہے کہ اس کو روح کا احساس ہو
شادؔ! ورنہ ذات کا بس ترجمہ رہ جائے گا
عمر ساری رائیگاں ہو، زندگی بن باس ہو

0
8
الوداعِ سیاہ شب ہے اے دوست
صبح کا اہتمام ہے اے دوست
ہوش کے پاؤں لڑکھڑاتے ہیں
اور جنوں تیز گام ہے اے دوست
اب کے انجام دیکھنا کیا ہو
پھر نظر سوئےبام ہے اے دوست

14
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6554
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

52
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8050