معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5812
تجھے حال دل کا سُنائیں کیا کیا
کہ گزری ہیں اس پر بلائیں کیا کیا
کراہیں یہ آہیں بلائیں کیا کیا
مسلسل ملی ہیں سزائیں کیا کیا
نظر آ رہی ہیں خطائیں کیا کیا
بتادو مجھے  چھوڑ جائیں کیا کیا

0
3
چہرا نہیں ملتا  شناسا اب کوئی
اچھا نہیں لگتا تقاضا اب کوئی
دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں
ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی
شاید کبھی وہ لوٹ آئے بھول کر
یوں دے رہا ہے اک دلاسا اب کوئی

0
5
رَمَضانُ الْمُبارَک!!!
——
سارا دِین فَقَط باتوں تَک ہے صاحِب
وہ بھی تِیس دِنوں راتوں تک ہے صاحِب
اِک اِبْلِیس بے چارَہ قَید میں ہے وَرنَہ
دِیگَر کی لُٹ مار تو اَنْتَھک ہے صاحِب

0
3
چند ملاقاتیں تھیں—
گنتی کی، مختصر، جیسے کسی دعا کے بعد کا آمین۔
مگر ان ہی لمحوں میں
اس نے میرے دنوں کی ترتیب بدل دی۔
میں اس کے سامنے کبھی کھل کر مسکرا نہ سکا۔
لفظ ہونٹوں تک آئے،

6
وہ آدمی نہیں تھا،
وہ برف تھا۔
چلتا تھا، بولتا تھا، مسکراتا بھی تھا—
مگر اندر کہیں کوئی موسم نہیں بدلتا تھا۔
کہتے ہیں انسان آگ سے بنتا ہے،
خواہش کی آگ، محبت کی آگ، نفرت کی آگ—

0
5
ہنگامۂ نشاطِ روح آخر کیا شے ہے؟
گریہ کیا ہے—کمزوری یا شعور کی انتہا؟
آٹھ پہر کی یہ اداسی کیسی رفاقت ہے جو سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے؟
سانسوں کا یہ خاموش رشتہ کس سے ہے—جسم سے، یا کسی ان دیکھے خلا سے؟
یہ اشک، یہ آنکھیں، یہ برہمی سا انداز—
لہجے میں کوئی دستک نہیں، پیروں میں کوئی آہٹ نہیں،

0
5
کرم کی نظر ہو حبیبِ خدا
حبیبی کریمی سجن جانِ ما
گناہوں سے بھوجل ہے داماں ہوا
ہو درماں دکھوں کا سخی دلربا
میں بیمارِ حجرِ نبی ہو شہا
مدینے میں آؤں ملے پھر شفا

1
7
وہ فتنہ ہے، فتنہ ہی اس کی ادا
وہ جھوٹی خوشی کا ہے اک سلسلہ
لبوں پر وہ لاتا ہے میٹھی ہنسی
مگر دل میں بھرتا ہے کینہ ذرا
کبھی فقر و فاقے کا ڈر وہ دلائے
کبھی بخل کو کہتا ہے تو دوا

0
2
سنتے سناتے غیر کی بابت چلے گئے
یوں قصّہ خوانِ عہدِ رفاقت چلے گئے
اُٹھتی نظر کو جیت ہی پیشِ نظر رہی
لے کر نگاہِ مات سے رخصت چلے گئے
اعزاز ہائے قلبِ حزیں روندتے ہوئے
مَہْوِ نشاطِ وصفِ رقابت چلے گئے

0
198
وہ باطل کے لشکر کا سلطان ہے
کہ جھوٹ اب تو اس دور کی جان ہے
تکبر کی راہوں پہ چلنا سکھائے
کہے "میں" ہی قدرت کا فرمان ہے
عداوت کی آگ اس کے دم سے لگی
محبت سے وہ کتنا انجان ہے

0
3
بڑی چال باز اس کی پہچان ہے
وہ بہروپیا سا نگہبان ہے
کبھی نیکیوں کا تکبر، انا
کبھی کہتا تُو ہی تو انسان ہے
دکھائے وہ سبز اور سہانے سے باغ
کہے مفلسوں سے کہ سامان ہے

0
2
آتا ہے مہینوں کا، سلطان مبارک ہو
نازل ہوا ہے جس میں، قرآن مبارک ہو
خود پر کھلے گا خود کا، برہان مبارک ہو
یعنی بنے گا آدمی، انسان مبارک ہو
رب کی عطا سے پائیں گے شان مبارک ہو
رمضان مبارک ہو، رمضان مبارک ہو

0
3
تری رحمتوں کا طلب گار ہوں میں
کرم کر دے مولا، گنہگار ہوں میں
ترے در پہ دامن پھیلائے کھڑا ہوں
خطا بخش دے، بس خطاکار ہوں میں
نہ دولت نہ شہرت نہ دنیا کی چاہت
فقط نعت لکھنے سے سرشار ہوں میں

0
8
ہر طرف ہے خزاں کی ویرانی
اور دل میں گماں کی سنگینی
پھر اسی طرح عمر جاتی رہی
پھر وہی آشیاں کی سنگینی
ہر بشر کے گلے سڑے پیمان
گر ہیں کچھ تو زباں کی سنگینی

3
حریفِ دار بھی ظالم پہ وار دینا تھا
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا

5
ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں

0
3
مُلْک سُدھارنے سے پہلے مَرنے والا نَہِیں۔ زرداری!!!
——
تُم اور کوئی کام؟ ہے بَڑ دیوانے کی
یہ بھی کوئی کَرنے والی باتیں ہیں؟
مَوت سے پہلے سب کُچھ ٹِھیک کرو گے تُم؟
خاک کرو گے؟ یہ سَب خالی باتیں ہیں

0
3
تھم جاؤ رک جاؤ مجھے تھوڑا سنبھلنے دو
گر درد کی آگ میں جل رہا ہوں تو جلنے دو
یہ تڑپنا اور یہ آہیں بھرنا فضول ہے اب
سنو اے میرے پاگل میرے دیوانے دل
جو تمہاری تمنا تھی جو تمہاری آرزو تھی
وہ نہیں ہوا تو اے دیوانے دل کیا کروں میں

0
12
خدا جن پہ نازاں مدینے میں ہیں
زمانے کے سلطاں مدینے میں ہیں
جو سدرہ سے آگے گئے عرش پر
مکمل یہ انساں مدینے میں ہیں
عُلیٰ نوریوں سے دنیٰ کے مقیم
ازل کے یہ تاباں مدینے میں ہیں

2
10
ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں
ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے داماں میں چھپاؤں
رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیسے
ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں
چاک دامن پہ کہاں فخر کیا ہے میں نے
شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں

0
3
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
4
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774