معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
گرد اٹھتی جا رہی ہے
آنکھ بھی دھندلا رہی ہے
اس کی بھی تشریح تو کر
ریت دریا کھا رہی ہے
میں نے جس چڑیا کو پالا
مجھ سے کیوں گھبرا رہی ہے

0
5
ملحد ہوا ہے کوئی محبت سے اس طرح
جیسے کبھی وہ اسکا پجاری ہی نہیں تھا

0
5
گھنگھرو کب تک بولیں گے؟
پائل کب تک کھنکے گی؟
زلفیں کب لہرائیں گی
چوڑی کب تک چھنکے گی؟
کھن کھن تیری محو کرے
دنیا کب تک بھٹکے گی؟

0
4
عمر بھر مٹی کی خوشبو سے معطر ہم رہے
شہر میں رہ کر بھی اپنے گھر کے اندر ہم رہے
​چاند تاروں کی تمنا میں بھٹکتی تھی نظر
دھوپ کی صورت مگر دھرتی کے سر پر ہم رہے
​رزقِ خاکِ تیرہ سے پھوٹے ہیں جتنے رنگ و بو
ان سبھی رنگوں کا حاصل ایک منظر ہم رہے

0
4
خسارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
ہمارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
۔
نہ موسیٰ یہاں پر نہ ہی خضر ہیں
کنارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
۔

0
3
دیکھے ہیں گلستاں میں بہت خاروں کے جھرمٹ
دل نے بھی سنبھالے ہیں شراروں کے جھرمٹ
ریشم سا بدن اس کا، عجب حسنِ مجسم
حیرت میں اتر آئے کئی تاروں کے جھرمٹ
جس راہ پہ اس شوخ نے رکھا قدمِ ناز
اس راہ پہ کھل اٹھے بہاروں کے جھرمٹ

0
5
غمِ عشق تیرے ستم کا اثر ہے
مجھے اب نہ کوئی کسی کی خبر ہے
یوں پھیلا ہوا زہر تیرا ہے مجھ میں
اگر سانس بھی لوں تو جلتا جگر ہے
ترے عشق نے مجھ کو دی ہے یہ شہرت
مجھے جانتا اب تو یہ شہر بھر ہے

0
5
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اُتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت لکھتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
یہ صدا ہے کسی دن دل میں اُتر جائے گا

0
12
جھوٹ جس شخص کے کردار میں بس جاتا ہے
وقت اس شخص کا معیار گرا دیتا ہے
از ساگر حیدر عباسی

0
9
کونین کی تابانی کا راز مدینہ ہے
جو شہرِ منور ہے ہستی میں نگینہ ہے
کیا خوب سحر اس کی ہے رات بھی نورانی
اس دارِ درخشاں پر انوار کی برکھا ہے
اب دل میں جو حسرت ہے دیدار ہے سرور کا
خوابوں سے اٹھوں کہتا سرکار کو دیکھا ہے

0
2
10
اس نور کی وادی کے ذروں میں اُجالا ہے
برکھا ہے یہاں نوری ہر جلوہ نرالا ہے
کونین درخشاں ہے انوارِ مدینہ سے
اس شہرِ منور پر اک نور سے ہالہ ہے
سلطان بھی دیکھو گے سائل ہیں مدینے میں
جو دان ملے اس جا ہر حال میں اعلیٰ ہے

0
3
قُرآن کلامی ہے تِری شان پہ شاہاؐ
آذان گواہی ہے تِری آن پہ شاہاؐ
منظور اگر نَذرِ دِل و جان ہو میری
احسان یہ ہوگا تِرے قُربان پہ شاہاؐ
رکھتا ہے مُجھے مَست تِرا ذکرِ مُسلسل
مَستی رہے دائم تِرے مَستان پہ شاہاؐ

0
12
معافی شاید مل جائے، مگر آپ کے ٹوٹے ہوئے بھروسے کی بازگشت میرے ضمیر میں ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔

0
11
ہے گزاری جو اذیت میں ہی ساری ہم نے
پھر بھی رکھا ہے ترا عشق ہی جاری ہم نے
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے

0
8
1-صبر ہر دکھ کا انکار نہیں، بلکہ ہر دکھ کے باوجود امید کا اقرار ہے۔
2-جو شخص صبر کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ قسمت کے بدلنے سے پہلے خود کو سنوار لیتا ہے۔
3-صبر صرف انتظار کا نام نہیں، بلکہ انتظار کے دوران کردار کو قائم رکھنے کا نام ہے۔
4-صبر کمزوروں کی مجبوری نہیں، مضبوط لوگوں کا شعوری فیصلہ ہے۔
5-صبر، شکست کو سبق بنا دیتا ہے۔
6-صبر، زخموں کو وقار عطا کرتا ہے۔

0
12
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7944
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
407