معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



404
6343
درِ خدا پر علیؑ ہی ہونگے
رخِ پیمبرؑ علیؑ ہی ہونگے
رجب کی تیرہ سِوائے منکر
‏‎سبھی کے لب پر علیؑ ہی ہونگے
دلیل اس کی حدیثِ قدسی
وہ نورِ پیکر علیؑ ہی ہونگے

0
1
خدا کہتا ہے جبریلِؑ امیں سے
نبیؐ جا کر ملیں میرے مکیں سے
یہ بیتِ کبریا نے کھل کھلا کر
کہا آئے علیؑ عرشِ بریں سے
ملک اس درجہ آئے دید کو پھر
فلک ملنے لگا جھک کر زمیں سے

0
2
خدا کے دین کی تنویر زینبؑ
دیارِ کن کی ہیں تقدیر زینبؑ
نظامِ کبریا جس نے بچایا
وہ شاہِ دیںؑ کی ہیں ہمشیر زینبؑ
ہے برگ و گل کے لب پر یہی نغمہ
علی کی بولتی تصویر زینبؑ

0
1
نسیمِ حق نے یہ نغمہ پڑھا ہے
غدیرِ خم کا میخانہ سجا ہے
ولا کا جام تھامے بولے سلماں
الگ سب سے الگ اسکا نشہ ہے
مقصر پی کے گرتا ہے زمیں پے
یہ کم پینے کی بھی دیکھو وجہ ہے

0
1
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

404
6343
فوجِ صفین سے بھاگو کی صدا آئی ہے
تیغِ عباسؑ جو ان سب کی قضا لائی ہے
ہلکی سی غازیؑ نے گھوڑے پہ جو انگڑائی لی
اور زِرہ ٹوٹ کے پھر خاک پہ اس دم تھی گِری
تیغ بھی جوش میں لینے لگی انگڑائی ہے
منھ کو ڈھانپے ہوئے چلتے رہے دشمن کی طرف

0
1
لفظِ کُن کے راز سے جو کوئی منکر ہو گیا
اس عمل سے لازمی وہ دیکھو کافر ہوگیا
لوریوں میں جسنے ماں سے نام حیدرؑ کا سنا
بچپنے سے باطنی وہ شخص طاہر ہوگیا
جعفرِ صادقؑ کے مکتب سے ہُوا جو فیضیاب
دو جہاں کے علم میں وہ بندہ ماہر ہوگیا

0
2
دل میں خدا کے نور کی نعمت سدا رہے
اس کی عبادت سے مجھے رغبت سدا رہے
ہر کام ہو رسول کی سنت کے رنگ میں
دل میں رسول پاک کی الفت سدا رہے
قرآن سے ہو روشنی دل کے نگر میں بھی
لب پر خدا کے ذکر کی لذت سدا رہے

4
یاد ماضی بن کے اب یاروں کے میلے رہ گئے
زندگی کی بھیڑ میں ہم تو اکیلے رہ گئے
یاد آتی ہے وہ ثاقب کی کڑاہی آج بھی
گھومتے دل کی گلی میں آج ٹھیلے رہ گئے
یہ نگاہیں دوستوں کو دیکھتی تھیں رات دن
آنسوؤں کے اب مگر آنکھوں میں ریلے رہ گئے

0
11
جب گزرتے ہیں دل کو مسلتے ہوئے
وہ نہیں دیکھتے مڑ کے چلتے ہوئے
جب کہا "اک ذرا سا رکو تو سہی"
دیکھیے ان کے تیور بدلتے ہوئے
ہم گرے تو کئی بار رستے میں، پر
تجربہ ہی تو پایا سنبھلتے ہوئے

0
5
تُم نے جَب بھی مارے اَپنے مارے ہیں!!!
——
پاکستان میں بسنے والے سَب شَہْری
بَس کَہنے کو ہی آنکھوں کے تارے ہیں
دُنیا میں یِہ صِرف تُمھارا طُرَّہ ہے
تُم نے جَب بھی مارے اَپنے مارے ہیں

0
3
ختم تم پر زبان دانی ہے
کون تم سا مہا گیانی ہے
زندگی تو فقط جوانی ہے
اور جو کچھ ہے بس کہانی ہے
بات کتنی یہ بے معانی ہے
روح باقی ہے جسم فانی ہے

0
2
حوصلوں کو ساتھ رکھ بات سن کوشش تو کر
راز سے پردہ اٹھا تب ہی آیے گا نظر
عارضی ہیں شہرتوں کے تماشے تو سبھی
ایک جھٹکے میں اترنا ہے سب خوں کا اثر
تیری سانسوں نے بجھایے ہیں تیرے سب دیے
کیوں رکھے الزام ان ظلمتوں کا اور کے سر

0
5
ایسا نہیں ہے کوئی کہ آ کر ٹھہر گیا
جو بھی یہاں پہ آیا ہے کر کے سفر گیا
منزل قریب آنے پہ اچھا لگا مگر
منزل قریب آئی تو لطف سفر گیا
کردار اس کا آج بھی زندہ ہے دوستوں
اس شخص کو گئے تو زمانہ گزر گیا

0
10
ملنے ملانے کا جو سلیقہ بدل لیا
اور گفتگو کا سب سے طریقہ بدل لیا
بھٹکے نہ پاس کوئی سقیفائی اس لئے
اس ہی لئے تو ہم نے محلہ بدل لیا
جھوٹوں کی کر رہے ہیں سراسر جو پیروی
رنگ و نسل کے ساتھ عمامہ بدل لیا

0
3
میت سے فاطمہؑ کی جو لپٹے رہے حسینؑ
اماں کی بند آنکھوں پہ روتے رہے حسینؑ
اماں سے کہہ دیں بابا کہ اٹھ جائیں ایک بار
خاموش کیوں ہیں باتیں کریں ہوتا ہوں نثار
فریاد میری سن لو یہ کہتے رہے حسینؑ
اک بار مجھ کو ہاتھوں سے کھانا کھلا دو ماں

0
1
آنکھیں بہن کی ڈھونڈتی ہیں ہو کہاں حسینؑ
زینب غریب کرتی ہے رو کر فغاں حسینؑ
تیروں سے جسم ہے بھرا گرتے ہو زین سے
گرتے ہو زین سے
تیرے بدن میں گاڑی گئیں برچھیاں حسینؑ
پامال تجھ کو کر دیا گھوڑوں کی ٹاپوں سے

0
2
اکبرؑ جواں کی لاش پہ مادر کے ہیں یہ بین
ڈوبا ہے خوں میں مارا گیا میرا نورِ عین
اٹھو اے بیٹا دیتی صدائیں ہیں تجھ کو ماں
شانہ ہلا کے بیٹے کا کہتی ہے رو رو ماں
اے لال کچھ تو بولو ملے دل کو میرے چین
اے لال تو ہے بابا کا اور میرا لاڈلہ

0
3
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

18
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7971