معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6218
صدیوں سے ہر زباں پہ ثَنائے حسینؑ ہے
مومن تو ہر زماں میں فِدائے حسینؑ ہے
جنت کے ہر مکاں میں ضِیائے حسینؑ ہے
جنت اُسی کی ہے جو گَدائے حسینؑ ہے
فرمانِ مصطفٰیؐ ہے کہ مُجھ سے حسینؑ ہیں
گویا کہ مصطفٰیؐ میں بِنائے حسینؑ ہے

0
3
روند کر عرشِ جاں مصلحت آ گئی
چھوڑ کر کہکشاں مصلحت آ گئی
بیچ کچھ بھی نہ تھا اور پھر ایک دن
دونوں کے درمیاں مصلحت آ گئی
ہم وہاں ہیں جہاں صلح ممکن نہیں
ہم جہاں تھے وہاں مصلحت آ گئی

0
تاریکیوں میں گھر ہے ماہِ منیر کا
دل ہے چراغِ روشن غم کے اسیر کا
اعزاز پا رہا ہے مرنے کے بعد جو
بے دام بک گیا تھا فن اس حقیر کا
صحرا نورد گھر کو لوٹے بھی ہیں کبھی
کیوں دیکھتے ہو رستہ مجھ راہ گیر کا

0
3
ناکام سے اک عشق میں رجحان باقی رہ گئے
پھر پاس میرے یادوں کے سامان باقی رہ گئے
اک شخص قسمت میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں
پھر بھی اسی کے ملنے کے امکان باقی رہ گئے
ملتی نہیں کوئی رہائی ان غموں سے کیوں مجھے
اب زندگی میں کونسے بحران باقی رہ گئے

0
6
چانے پینے وہی اک شور مچانے آتے
دوست بچھڑے ہوئے پھر ساتھ نبھانے اتے
چھت ٹپکتی ہے مری بارشوں کے موسم میں
ہم بھی رو لیتے اگر یار پرانے آتے
باقی کچھ بھی نہ بچا بیچ ہمارے رشتہ
گر کوئی ہوتا تعلق تو منانے آتے

0
2
متّفق ہم اگر نہیں ہوتے
اتنے شیر و شکر نہیں ہوتے
جاں کی بازی لگانی پڑتی ہے
معرکے یونہی سر نہیں ہوتے
کارواں کب کا لٹ چکا ہوتا
ہم اگر باخبر نہیں ہوتے

2
49
ڈوبتی ہے نبضِ دوراں ، کچھ کرو
شاعرو، دانش ورو، دیدہ ورو
گر نہیں مرہم ، نمک پاشی سہی
یہ تو کچھ مشکل نہیں؟ چارہ گرو
کچھ نہ کچھ نادان مل ہی جائیں گے
روز ہی اک بت تراشو ، آذرو

2
30
یہ کیسی رت ہے کہ زنجیر بولنے لگی ہے
فضا بھی کرب کے اشعار گھولنے لگی ہے
وہ ایک بیٹی جو صحراؤں کی صدا ٹھہری
اسی کے نام سے ایوان کانپنے لگے ہیں
وہ جس کے لب پہ دعا تھی نظر میں روشنی تھی
ستم کی دھوپ اسے بھی نگلنے نکلی ہے

6
گھٹائیں ٹوٹ کر برسی ہیں اب کی بار ساون میں
کسی کی زلف سے مہکی فضائیں آج گلشن میں
چراغِ آرزو روشن تو ہے لیکن دھواں سا ہے
عجب سی تیرگی پھیلی ہوئی ہے دل کے آنگن میں
کبھی خاموشیوں کا شور تنہائی میں اٹھتا ہے
کبھی لگتا ہے کوئی بولتا ہے دل کی دھڑکن میں

0
8
کرنسی نوٹوں پَر نَواز شَرِیف کی تَصْوِیر کی تَجْوِیز!!!
——
دِیدارِ مِیاں صاب کرنسی نوٹاں تے
جانگیاں تے کَچھیاں تے اَتے لَنگوٹاں تے
سَبزیاں تے دالاں تے روٹیاں بوٹیاں تے
پِستیاں تے باداماں تے اَخروٹاں تے

0
3
جو مٹتا نہیں ہے، فسانہ اسی کا
ہوا دہر میں اب، زمانہ اسی کا
مِٹایا تھا جس نے شہنشاہِ غم کو
وہ خود مٹ گیا، دہر شاہد بنا ہے
مگر ابنِ حیدر کا نقشِ قدم تو
زمانے کے عزم و عمل کی جِلا ہے

0
8
یہ رواں دو جہاں میں خبر آج ہے
جس سے حیراں وہ مہر و قمر آج ہے
سارے افلاک پر بس یہی دھوم ہے
دیکھے منظر جو اہلِ بصر آج ہے
چومے اُن کے قدم عرش نے چاہ سے
اوجِ افلاک خیر البشر آج ہے

6
پہلے آنکھ چرا کر دیکھیں گے مجھ کو
اور پھر اپنے دل میں رکھیں گے مجھ کو
میں نے عقل و خرد ہو کر سمجھا ہی نہیں
یہ ہیں ناداں تو کیا سمجھیں گے مجھ کو
سوچ رہا ہوں مدت سے اس سوچ کے ساتھ
سوچنے والے کیا کیا سوچیں گے مجھ کو

0
6
پوری کروں ضرورتیں آدھی رقم سے میں
کوشش ضرور کرتا ہوں آسیؔ قسم سے میں
اپنی شکستگی کا بتاؤں سبب کسے
امید کے محل سے گرا ہوں دھڑم سے میں
میں آئنے سے ڈر گیا اور مجھ سے آئنہ
مجھ کو دیا دکھائی جونہی ایک دم سے میں

5
پردیس چل دیا کوئی گھر بار چھوڑ کر
جھلسے گا جسم سایہ دیوار چھوڑ کر
پردیس کے جنون میں پہنی قبائے قیس
مجنوں بنے تھے خلعت و دستار چھوڑ کر
پردیس کے خرابوں میں کاٹی تمام عمر
صحرا میں بھٹکے دیس کے گلزار چھوڑ کر

6
سب کا ہونا بجا ہے تیری سمت
جانتے ہیں خدا ہے تیری سمت
نہ لگے دل کو بخت کی ٹھوکر
دوڑ کر آ رہا ہے تیری سمت
لفظ رعنائی سن کے رخ سب کا
خود بخود ہو گیا ہے تیری سمت

9
قضا کی آنکھ میں تھا ڈر حسین نے دیکھا
یزیدیوں کا یوں لشکر حسین نے دیکھا
گیا نہ چھوڑ کے ان کو صحابی زاد کوئی
بجھا چراغ جلا کر حسین نے دیکھا
نہ اک نگاہ بھی دیکھا فرات کی جانب
جب اس کے بدلے میں کوثر حسین نے دیکھا

0
6
کس کے فراق نے غم تازہ سدا رکھا
یہ زندگی ہے گویا بجھتا ہوا دیا
ہجرِ نبیؐ سے یہ دل ہے گلستاں بنا
سیلاب آنکھ سے بھی دائم رواں رہا
دن رات یادِ دلبر میری ہے زندگی
یہ اُن کے فیض ہیں جو ذوقِ جنوں ملا

0
1
10
پَنجاب میں مُتَعَدِّد تَرَقِّیاتی مَنصُوبے اَپنے اور اَبُّو کے نام سے مَنسُوب!!!
——
مالِ مُفْت دِلِ بے رَحْم تو سُنتے تھے
پَر اُس کی تَعْبِیر دِکھا دی ہے تُم نے
مُفْت کے پیسوں سے اَپنی اور اَبُّو جانی کی
مَنصُوبوں پَر مُہر لَگا دی ہے تُم نے

0
5
جو بہروپ ساتھی تھے شام و سویرے
چلے کر کے تنہا مجھے یار میرے
انہیں ہوگئی چل کر آنے سے نفرت
وہ جب پھول راہوں پہ ہم نے بکھیرے
نہ جینے دیا چھین لی ساری خوشیاں
ملے زندگی میں بہت سے لٹیرے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6218
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
289
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7913