معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



403
6334
تُم نے جَب بھی مارے اَپنے مارے ہیں!!!
——
پاکستان میں بسنے والے سَب شَہْری
بَس کَہنے کو ہی آنکھوں کے تارے ہیں
دُنیا میں یِہ صِرف تُمھارا طُرَّہ ہے
تُم نے جَب بھی مارے اَپنے مارے ہیں

0
ختم تم پر زبان دانی ہے
کون تم سا مہا گیانی ہے
زندگی تو فقط جوانی ہے
اور جو کچھ ہے بس کہانی ہے
بات کتنی یہ بے معانی ہے
روح باقی ہے جسم فانی ہے

0
حوصلوں کو ساتھ رکھ بات سن کوشش تو کر
راز سے پردہ اٹھا تب ہی آیے گا نظر
عارضی ہیں شہرتوں کے تماشے تو سبھی
ایک جھٹکے میں اترنا ہے سب خوں کا اثر
تیری سانسوں نے بجھایے ہیں تیرے سب دیے
کیوں رکھے الزام ان ظلمتوں کا اور کے سر

0
3
ایسا نہیں ہے کوئی کہ آ کر ٹھہر گیا
جو بھی یہاں پہ آیا ہے کر کے سفر گیا
منزل قریب آنے پہ اچھا لگا مگر
منزل قریب آئی تو لطف سفر گیا
کردار اس کا آج بھی زندہ ہے دوستوں
اس شخص کو گئے تو زمانہ گزر گیا

0
8
ملنے ملانے کا جو سلیقہ بدل لیا
اور گفتگو کا سب سے طریقہ بدل لیا
بھٹکے نہ پاس کوئی سقیفائی اس لئے
اس ہی لئے تو ہم نے محلہ بدل لیا
جھوٹوں کی کر رہے ہیں سراسر جو پیروی
رنگ و نسل کے ساتھ عمامہ بدل لیا

0
2
میت سے فاطمہؑ کی جو لپٹے رہے حسینؑ
اماں کی بند آنکھوں پہ روتے رہے حسینؑ
اماں سے کہہ دیں بابا کہ اٹھ جائیں ایک بار
خاموش کیوں ہیں باتیں کریں ہوتا ہوں نثار
فریاد میری سن لو یہ کہتے رہے حسینؑ
اک بار مجھ کو ہاتھوں سے کھانا کھلا دو ماں

0
1
آنکھیں بہن کی ڈھونڈتی ہیں ہو کہاں حسینؑ
زینب غریب کرتی ہے رو کر فغاں حسینؑ
تیروں سے جسم ہے بھرا گرتے ہو زین سے
گرتے ہو زین سے
تیرے بدن میں گاڑی گئیں برچھیاں حسینؑ
پامال تجھ کو کر دیا گھوڑوں کی ٹاپوں سے

0
2
اکبرؑ جواں کی لاش پہ مادر کے ہیں یہ بین
ڈوبا ہے خوں میں مارا گیا میرا نورِ عین
اٹھو اے بیٹا دیتی صدائیں ہیں تجھ کو ماں
شانہ ہلا کے بیٹے کا کہتی ہے رو رو ماں
اے لال کچھ تو بولو ملے دل کو میرے چین
اے لال تو ہے بابا کا اور میرا لاڈلہ

0
2
چہلم منانے بھائی کا زینبؑ جو آئی ہے
ظلم و ستم کی داستاں رو رو سنائی ہے
شمرِ لعیں کے وار پہ اماں کی تھی صدا
نہ مار میرے بچے کو میری کمائی ہے
جس پہ تھا سر تمھارا وہ نیزہ تھا خوں میں تر
آنکھوں میں میرے خون کی سرخی وہ چھائی ہے

0
1
دل کو سنبھالو رب کے یہ مظہرؑ کی عید ہے
عیدِ غدیر خالقِ اکبر کی عید ہے
تھامے ہوئے جو دیکھا نبیؐ کو علیؑ کا ہاتھ
کم ظرف مر رہے تھے کہ بہتر کی عید ہے
مخبر تھے جتنے اور دلوں میں چھپا تھا بغض
منہ کو بنا کہ کہتے ہیں حیدرؑ کی عید ہے

0
2
ظاہرہوئی خدا کی مشیت غدیر میں
طاہر دلوں کی ہوگی عبادت غدیر میں
الحمد ہو کہ سورۂ یا سین ہو کہ ناس
بڑھنے لگی ہے سبکی فضیلت غدیر میں
تقسیم رزق کرتا ہے جو دو جہان کا
ہوتی عیاں ہے آج وہ قدرت غدیر میں

0
1
نعرہ علیؑ ولی کا لگاؤ غدیر ہے
جشنِ ولا میں مومنو آؤ غدیر ہے
گھر میں ہیں آئے سارے علیؑ کے موالی آج
میٹھا سبھی کا منھ بھی کراؤ غدیر ہے
نامِ علیؑ سے جلکے جو ہونے لگے کباب
پڑھ کر تبرہ اسکو جلاؤ غدیر ہے

0
2
فدک کے چوروں کو رہبر بنایا ہے تم نے
سقیفہ والوں کو دل میں بسایا ہے تم نے
یقین جھوٹوں کی باتوں پہ ہے وحی کی طرح
عدوئے زہراؑ کو سچا بتایا ہے تم نے ۔
سنہرے بالوں کی ملکہ جسے بتاتے ہو
ارے وہ گنجی کو سندر دکھایا ہے تم نے

0
2
فلک ہے روتا نبیؑ بھی تمام روتے ہیں
علی نقیؑ پہ گَیارہ امامؑ روتے ہیں
ہوئے ہیں زہرِ دغا سے جگر کے ٹکڑے بھی
یہ کہہ کہ آج بھی قائمؑ مقام روتے ہیں
کلیجہ تھامے اگلنے لگے ہیں خوں مولاؑ
لہو کو دیکھ کے دیوار و بام روتے ہیں

0
2
حسینؑ کی ہے سدا آج بھی میں تنہا ہوں
لہو کو میرے نہ بیچو یہ ہی میں کہتا ہوں
لگاتے قیمتیں شامی تھے میرے سر کی وہاں
عزا کو تم نے بنایا ہے کاروبار یہاں
یہ دیکھ دیکھ کہ میں اب بھی خون روتا ہوں
سجا کے طشت میں بیچا گیا تھا انگلی کو

0
2
کہ گھر میں جیسے ہی اپنے جو جائے گی زینبؑ
جگر کے ٹکڑوں کو ہائے نہ پائے گی زینبؑ
نظر پڑے گی جو بے ساختہ وہ حجروں پر
تڑپ کے بچوں کو اپنے بلائے گی زینبؑ
لباس بچوں کا سینے سے وہ لگا کے حزیں
کہ دے گی بوسے وہ آنسو بہائے گی زینبؑ

0
2
علیؑ کے چاہنے والوں کا ایک نعرہ ہے
خلیفہ تیرے ہیں مولا علیؑ ہمارا ہے
نہ پوچھ ہم سے نبیؑ و علیؑ کے رشتے کو
خدا نے نُور کو دو حصوں میں اتارا ہے
چلا تھا عرش سے کرتا ہوا طواف بھی وہ
خدا نے بھیجا جسے وہ علیؑ ستارہ ہے

0
2
کہا حسینؑ نے دل پر لکھا سکینہؑ ہے
بھلا یہ کیوں نہ ہو نورِ خدا سکینہؑ ہے
حیات ہے یہ مری اور ہے یہ جان مری
نمازِ شب میں جو مانگی دعا سکینہؑ ہے
نگاہیں بیٹی سے ہٹتی نہیں ہیں اُسکا سبب
کہ جس کو ماں کا ہے چہرہ ملا سکینہؑ ہے

0
1
جگر کو تھام کے جب حال دیکھا اکبرؑ کا
اَنی کے ساتھ میں نکلا کلیجہ اکبرؑ کا
انَی جو کھینچی تو خوں آیا چہرے پر شہؑ کے
تڑپ کے رہ گئے دیکھا ہے چہرہ اکبرؑ کا
خدا یہ میری ضعیفی کا تھا سہارا جواں
ستم کے نیزے نے چھیدا ہے سینہ اکبرؑ کا

0
2
سجادؑ کی ہر سانس میں اک درد بسا ہے
نیزے پہ ردا دیکھ کے خوں روتا رہا ہے
بنتِ علیؑ کو مارو صدا سنتے ہی بیمار
کانٹوں بھری وہ راہ پہ مظلوم گرا ہے
پتھر تو کبھی اور بھی مارے گئے درے
عابد کا لہو شام کی گلیوں میں ملا ہے

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

403
6334
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

18
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7971