معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6450
تضمین: جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث
در شان حضور غوث الاغواث قطب الاقطاب سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث
تری جانب ہی وہ مائل ہے یا غوث
ترے بِن وہ کہاں قابل ہے یا غوث

0
4
ہر مَرَض کی شِفا حضور سے ہے
دردِ دل کی دوا حضور سے ہے
لا مکاں کا نشاں نبی اکرم
لا پتہ کا پتا حضور سے ہے
ذکر سرکار کا سکونِ دل
دل کا عہدِ وفا حضور سے ہے

0
2
جتنے بھی ہیں حق نما یا مصطفیٰ
"آپ سب کے رہنما یا مصطفیٰ"
اولیا کی ہے صدا یا مصطفیٰ
انبیا نے بھی کہا یا مصطفیٰ
جب خدا نے ہی نہیں پیدا کیا
کوئی کیا ہو آپ سا یا مصطفیٰ

0
1
وہ اک دن عید عیدوں کا بنانا یا رسول اللہ
ہمیں دربارِ اقدس میں بلانا یا رسول اللہ
وہ رشکِ عید ہو اک دن سُہانا یا رسول اللہ
بلا کر طَیْبہ میں قسمت جگانا یا رسول اللہ
مدینے میں ہمارا جب ہو آنا یا رسول اللہ
نشانِ پاک قدموں کے دکھانا یا رسول اللہ

3
ہَر سانس کو ذِکرِ شَہِ اَبرار سے جوڑو
دُنیا کی طَلَب چھوڑ کے دِل یار سے جوڑو
دو دِن کی حَیاتِی ہے، گُزَر جائے گی آخِر
اس دِل کو عتیق آپ کے دَربار سے جوڑو

0
3
گناہوں میں ڈوبی امم دیکھتے ہیں
بتوں کے ہی دیر و حرم دیکھتے ہیں
اچانک سے اک زیر و بم دیکھتے ہیں
بیاباں میں ابرِ کرم دیکھتے ہیں
دو عالم پہ رب کی نِعَم دیکھتے ہیں
ولادت شہِ مختَتَم دیکھتے ہیں

0
3
دنیا کے رنگ و بو میں دل نہ اسیر کر
ذکرِ خدا سے اپنی ہر شب منیر کر
دو دن کی زندگی ہے، غافل نہ ہو عتیقؔ
عشقِ رسول میں تو خود کو فقیر کر

0
2
میں دہائی دے دے کر ٹُوٹ ہی گیا آخر
اور تم بھی دھیرے دھیرے سے مر گئے مجھ میں
حادثے! تصور بھی تھا محال جن کا وہ
پیش آ کے خاموشی سے گزر گئے مجھ میں

0
3
تیری انا کے قدموں سے پہلے
میں اپنی ہی نظروں سے گِرا ہوں

0
1
تُو مجھ سے اب جدا ہی بہتر
اِک دوجے سے ہم خفا ہی بہتر
چاہت قربت میں گھٹ نہ جائے
ہم میں کچھ فاصلہ ہی بہتر
دیں کیا ہر بات پر صفائی؟
اِس سے ہم بے وفا ہی بہتر!

0
1
محبت۔۔۔!
وہ شمشان گھاٹ ہے جہاں
انتم سنسکار کے بعد بھی
چتائیں راکھ نہیں ہوتیں
آشائیں خاک نہیں ہوتیں۔۔۔

0
1
پوچھ مت ناتواں دل کو کیا کیا ہُوا
سامنا جب کبھی تجھ سے میرا ہُوا
کوئی آیا ہو گا کھڑکی میں بے حجاب
چاند کو رستہ گھر کا ہے بھُولا ہُوا
وہ ہَوا ہو گیا آگ بھڑکا کے اور
میں اُسی آگ میں تب سے جلتا ہُوا

0
3
یہ معمّہ نہ حل ہو سکا آج تک
مجھ سے کس بات پر وہ خفا، آج تک
وہ محبت تھی یا جرم کوئی مِرا
کاٹ جس کی رہا ہوں سزا آج تک
بعد اُس کے یہ گلشن بھی اُجڑ گیا
لوٹ کے پھر نہ آئی صبا آج تک

0
1
دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
اِک تماشا سرِ بازار بنے بیٹھے ہیں
دیکھتے لوگ تِرے شہر کے یوں ہیں جیسے
ہم کسی راہ کی دیوار بنے بیٹھے ہیں
سمجھیں گے کیا یہ محبت کو ہوس کے مارے
نظروں میں جن کی گنہگار بنے بیٹھے ہیں

0
1
نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
ہم کو زندگی بھر ملتے رہے کچھ ایسے لوگ
ایک دوجے سے مخلص تھے بنا کسی مطلب
سادہ لوح تھے کتنے ہائے وہ پرانے لوگ
اِک فریب میں ساری عمر کاٹ دی اپنی
کھوئے ہم نے کانٹوں کی کھوج میں نگینے لوگ

0
3
میلاد کے مُنکر یہ تو بتا میلاد سے مسئلہ تُجھ کو کیا؟
ہر آن ہے ایک ہی رَٹ تیری ہر آن ہی بدعت کا فتوی
عینک یہ تعصّب کی تُو اُتار دِل سے بھی نفرت کو تُو نِکال
اب غور سے سُن تُو بات مِری اور اِس پر اپنا دِماغ لڑا
ہوتا ہے تلاوت سے آغاز مِلتا ہے قلب کو سوز و گُداز
قرآن میں حکم تلاوت کا تُو اُلٹی منطق میں اُلجھا

0
5
جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم!
دریا ہوئے بنجر، پانی ختم، روانی ختم!
عفریت نگل لے گا یہ وقت کا، تیرا حُسن
کچھ دن ہیں فقط، پھر اُس کے بعد جوانی ختم!
یوں کون سہے گا میرے بعد ستم تیرے؟
جب میں نہ رہا، تب جانی! بات پرانی ختم!

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6450
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

32
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7987