معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6531
غزل
خستہ خامے کو میں تلوار بنا سکتا ہوں
وہ پیادہ ہوں کہ سالار بنا سکتا ہوں
قیصرِ وقت کے ایوانوں کو لرزاں کر دے
چند لفظوں سے وہ للکار بنا سکتا ہوں
مَن میں خوابیدہ اُمنگوں کو اُجاگر کر کے

0
4
گو چھین ہی لی تم نے تقدیر ہماری ہے
تعمیر بھی کہتی تھی تعمیر ہماری ہے
دونوں ہی طرف والے حق جس پہ جتاتے ہیں
یہ کہ دے کوئی ان سے جاگیر ہماری ہے
رب نے جنہیں دولت دی خوشحالی عطا کر دی
وہ لوگ سمجھتے ہیں تدبیر ہماری ہے

0
6
نہ جانے کون سا موسم تھا گھر سے جانے تک
میں اور تھا مرے واپس پلٹ کے آنے تک
میں اپنے باپ کی خاموشیاں سمجھ نہ سکا
ابھی تو بچے ہیں، سمجھیں گے میرے جانے تک
میں اپنے عکس سے برسوں خفا رہا ایسے
کہ آئینہ بھی تھکا مجھ کو پھر منانے تک

0
7
زندگی مجھ کو کیا ملی ہوئی ہے
بے خطا اک سزا ملی ہوئی ہے
یونہی فضلِ خدا نہیں مجھ پر
یہ کسی کی دعا ملی ہوئی ہے
رنگ اپنا الگ ہے دنیا سے
ہمیں فطرت جدا ملی ہوئی ہے

0
3
​ہماری ہر اک بے بسی کا سبب تم
ہمارے دلِ زار پر اک غضب تم
​نہ شکوہ زباں پر، نہ آنکھوں میں آنسو
سکھاتے ہو جینے کا کیسا ادب تم
​بکھر کر بھی تجھ سے جدائی نہ چاہی
رہے بے بسی میں بھی دل کی طلب تم

0
5
بے بسوں کو آزمانا یہ کہاں انصاف ہے
غم کے ماروں کو ستانا یہ کہاں انصاف ہے
بے سبب اڑتے پرندوں کو پھنسانا جال میں
پر کتر کر پھر اڑانا یہ کہاں انصاف ہے
ظالموں کی جوتیاں سر پر سجا کے شوق سے
بے بسی کے گیت گانا یہ کہاں انصاف ہے

0
2
بڑی مصطفیٰ کی حسیں یاد ہے
خوشی کے ہیں ڈنکے یہ میلاد ہے
حبیبِ خدا کا ذکر ہے عُلیٰ
سدا جس سے دارین دل شاد ہے
جو ذکرِ نبی وردِ کونین ہے
یہی نبضِ ہستی میں فریاد ہے

1
7
کبھی تو ایسی سحر روشنی سے تر بہ تر آئے
یم بہ یم جس کی کِرَن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے تیرا سورج آئے

0
6
اے مولا مدینہ مجھے پھر دکھانا
ملے شہرِ جاناں میں اک آشیانہ
عطا ہو کہ دیکھوں وہ دلکش نظارہ
سجا ہے جو دل میں حسیں آستانہ
مدینے میں آؤں ملیں راہیں آساں
مدینہ ہے ارماں اے شاہِ زمانہ

2
بحر گیلا نہ خشک بَر ہو گا
جب بھی دامن تمہارا تَر ہو گا
ہم نے اپنا ہی خوں معاف کیا
اس سے بڑھ کر بھی درگزر ہو گا؟
کوئی آخر تلک نہیں سمجھے
داؤ بس وہ ہی کارگر ہو گا

0
10
"جتنے اِس عالَمِ اِمکاں میں پیمبر آئے"
شاہِ اِمکاںؐ کی مُحبت سے مُنور آئے
بزمِ اِمکاں میں حقیقت کی شناسائی کو
بزمِ واجب سے نبوت کے سکندر آئے
قوسِ اِمکاں میں یہ امکاں بھی نہیں ہے یکسر
ذاتِ عاقبؐ کا جہاں میں کوئی ہمسر آئے

0
19
عجب راز تھا رات کی تیرگی میں
اندھیرا ہوا تو نظر مجھ کو آیا

0
14
سلام ہے سلام ہے، بلال کو سلام ہے
کِیا بڑا ہی کام ہے، بلال کو سلام ہے
ہزار تھے جتن یہاں، مگر تھا حوصلہ جَواں
لگن بھی اِس کی تام ہے، بلال کو سلام ہے
نہ مُشکِلُوں کا کوئی ڈر، قلَم کِیا ہے اُن کا سَر
یہ تیغِ بے نیام ہے، بلال کو سلام ہے

0
6
سحر ابھر کر کبھی تو شامِ الم سے آئے
یم بہ یم جس کی کرن دل میں اترتی جائے
خود ہی کشتی کو ڈبویا ہے کنارے کے قریب
ناخداؤں سے یہ بستی بھی بچا نا پائے
جن کی آنکھوں میں پڑے سوتے ہیں گونگے سپنے
کاش ان کو بھی جگانے ترا سورج آئے

0
4
شدت غم سے دل نڈھال رہا
ہر گھڑی بس ترا خیال ریا
تو مجھے چھوڑ کر چلا بھی گیا
میں مگر طالب وصال رہا
حسن دیکھا بہت زمانے میں
سامنے بس ترا جمال رہا

0
5
شرر ذخیرہ بارود تک پہنچنے کو ہے
اب آگ خانۂ نمرود تک پہنچنے کو ہے
ہے جس پہ لکّھا ہوا لا الٰہ الا اللہ
وہ ہاتھ گردنِ مردود تک پہنچنے کو ہے
جو رِستا رہتا ہے ناسورِ جسمِ فردا سے
وہ زہر لمحۂ موجود تک پہنچنے کو ہے

0
6
ہاتھ اپنا تھام کر ہاتھوں میں اپنے رو پڑا
فکر مت کر شادؔ، تنہا میں ترے ہی ساتھ ہوں

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6531
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

43
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8021