معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6547
مِصباحِ دو جَہاں ہے، حَبیبِ خُداؐ کا نام
مِفتاحِ ہر زَماں ہے، حَبیبِ خُداؐ کا نام
اَبتر ہوئے ہیں اُن کے، سَبھی دشمنوں کے نام
زندہ ہے جاوِداں ہے، حَبیبِ خُداؐ کا نام
نُورِ خُدا کی ذاتی تَجلّی اِسی میں ہے
سورج ہے کہکشاں ہے، حَبیبِ خُداؐ کا نام

0
2
بھارتی فوج اپنے میڈیا کو خریدتی اور کَنٹرول کرتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر!!!
——
خَرِیدیں جس سے ہم اپنے صَحافی
ہمارے پاس وہ پیسے نَہِیں ہیں
بَہُت بے شَرْم ہیں بَھارت کے فوجی
خُدا کا شُکر ہم وَیسے نَہِیں ہیں

0
3
زندگی ناقدرئی حالات کی ماری رہی
کور فہموں سے ہراساں عقل بیچاری رہی
ہر قدم رکھنے سے پہلے دیکھ لیتا ہوں زمیں
خوفِ لغزش کے سبب کچھ سست رفتاری رہی
حق کی خاطر جو اٹھایا میں نے حرفِ احتجاج
خامشی اہلِ خرد کی بھی بہت بھاری رہی

4
بیویوں کو تو سکھا ڈالا کہ شوہر ہی ہے رب
مرد کو کیسا خدا ہونا ہے، سمجھایا ہے کب؟

0
2
جمالِ گلشن و رنگِ بہاراں کون دیکھے گا
ترے ہوتے کسی کو جانِ جاں کون دیکھے گا
ترے پہلو میں آ کر ماہِ تاباں کون دیکھے گا
تری جانب سرِ محشر پریشاں لوگ دیکھیں گے
نہ دیکھا تُو نے تو پھر ایسے انساں کون دیکھے گا
یہاں پیرِ مغاں کی آنکھ سے سب کو ملے گی مے

0
7
اے میرے ہمدم سنبھل کے چلنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
ہمیشہ اپنا خیال رکھنا، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
یہ مسکراتے ہیں جتنے چہرے، دلوں میں ان کے وفا نہیں ہے
فریب کھاکے بہک نہ جانا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے
کسی کو اپنا سمجھ کے یہ غم، زباں پے ہرگز کبھی نہ لانا
کہ راز کو راز رہنے دینا ، یہاں کسی کا کوئی نہیں ہے

34
ہر اک انسان کو دنیا سے اک دن تو بچھڑنا ہے
یہ دنیا چھوڑ کر اک روز مٹی میں اترنا ہے
جو پتے آج شاخوں پر بڑے خوش رنگ لگتے ہیں
انہیں بھی وقت کی آندھی میں اک دن تو بکھرنا ہے
© ساگر حیدر عباسی

0
6
نفس کے امتحاں میں جو پاس ہوا
فضل اس پر خدا کا ہے خاص ہوا
نفسِ امارہ کو جس نے قابو کیا
زندگی میں وہی حق شناس ہوا

0
1
ہم نے کب اپنی کوئی بات بھی منوانی ہے
تم سے پوشیدہ کہاں اپنی پریشانی ہے
​جاگنا پڑتا ہے ریوڑ کی حفاظت کے لیے
اتنی آسان کہاں بھیڑوں کی نگہبانی ہے
شہر سو جائے تو دیوار سے پوچھو جا کر
کس کے سائے میں یہاں رات کی ویرانی ہے

0
3
وراثت میں مجھ کو ملا لفظ کاش
قبیلہ ہے یعنی مرا غم تراش
۔
تری عشقِ بے مہر کو ہے تلاش
دلِ کج ادا رہیو ہشیار باش
۔

0
6
میں کافور سارے جو غم مانگتا ہوں
شفاعت شفیعِ امم مانگتا ہوں
حبیبِ خدا پر فدا جان کر دوں
کریما یہ عزمِ اتم مانگتا ہوں
شہے دو سریٰ کا میں ادنیٰ گدا ہوں
ملے دید شاہِ امم مانگتا ہوں

0
2
یا رب! مِری فریاد تُو با اثر کر دے
اس حالِ پریشاں پہ تُو اِک نظر کر دے
یا شادؔ کی تکلیف میں تخفیف عطا کر
یا صبر کی توفیق دے، با ثمر کر دے

0
5
انقلابی ہے جگر اور مرا تیور مضبوط
سوچ میں پنہاں ہے اخلاص کا عنصر مضبوط
ٹھوکروں نے ہی سکھایا ہے سنبھل کر چلنا
میرے اندر ہے چھپا عزم کا لشکر مضبوط
جس کی منزل پہ نظر ہو وہ کہاں رکتا ہے
چاہے رستے میں پڑے کتنے ہی پتھر مضبوط

0
4
مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا
زہراب نے اثر نہ کیا تھا، پیے تو تھا
یہ کیا کہ سنگ باری تمہاری طرف سے ہے
دیوانہ پن یہ اپنا تمہارے لیے تو تھا
بوسیدہ ہو چلی تھی بدن کی قبا مگر
دامن کو تارِ صبر و رضا سے سیے تو تھا

0
4
اے ذاتِ حق، اے نورِ جاں، تیرا کرم میری زباں
ہر شے میں تو جلوہ نما، جلوے ترے ہیں جاوداں
قائم ہے بس تیری بقا، باقی ہے سب فانی یہاں
عشقِ حقیقی رہنما، منزل وہی، وہ کارواں
دل کو ترے در کی طلب، سجدے میں ہے میری جبیں
تیرے سوا کوئی نہیں، تیرے سوا کوئی نہیں

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6547
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

47
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8046