معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



416
6604
ہم سفر بھی، راہ بھی، منزل بھی تم ہو
حال، ماضی اور مستقبل بھی تم ہو
دھوپ بھی تم ہی، تمہی ہو سائباں بھی
تم ہی دھڑکن، تم ہی سانس اور دل بھی تم ہو

0
3
کسی کو حال بتایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی کو پاس بلایا نہیں ہے تیرے بعد
وہ کرسی آج بھی رکھی ہے میز کے نزدیک
کسی کو اس پہ بٹھایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی نے ہاتھ بڑھایا تو یہ خبر بھی ہوئی
ہر ایک شخص پرایا نہیں ہے تیرے بعد

0
2
پوچھتے ہیں جو مجھ سے سخنور ہو کیوں
دل کے اندر یہ بہتا سمندر ہو کیوں
جب نگاہوں میں آباد ہو تم ہی تم
سامنے دوسرا اور منظر ہو کیوں
پیار کی راہ میں دشمنی کیوں بھلا
اک ذرا سی خطا پر یہ محشر ہو کیوں

0
5
آپﷺ کا نور ہے آپﷺ کے شہر میں
آپﷺ کے نور سے نور ہے دہر میں
آپﷺ ہیں خالقِ کُل کے نورِ ازل
آپﷺ سے روشنی ہے بَر و بحر میں
آپﷺ کے قلب میں نورِ قرآن ہے
آپﷺ پر نور اُترا شبِ قدر میں

0
13
کبھی بے وجہ کوئی بات ہنساتی ہے مجھے
کبھی بے نام سی خاموشی رلاتی ہے مجھے
مرے بچوں کی پرانی سی وہ تصویر ابھی
ان کے بچپن کا زمانہ دکھاتی ہے مجھے
چائے کے دو کپ ابھی میز پہ رکھے ہیں مگر
ایک خالی سی جگہ روز ستاتی ہے مجھے

0
4
ایک معروف ریستوراں کے آگے
کار روکی تو ایک دم جیسے
خوشبوؤں اور رنگوں کا
ایک سیلاب سا امڈ آیا
ریستوران میں حشر برپا ہے
اور باہر الگ ہجوم سا ہے

0
16
نیشنل بینک کے صدر کی 95 کروڑ ماہانہ تَنْخواہ و دِیگر ہوشرُبا مَراعات!!!
——
اِس کو یِہ سَب دینے والوں سے پُوچھیں
اِتنا بَھاری پیکج یِہ کِیُوں لیتا ہے؟
جو اِس کو یِہ بَھاری پیکج دیتے ہیں
اِس کے بَدلے یہ اُن کو کیا دیتا ہے؟

0
5
لَبوں پَر ہَر گھَڑی اَپْنی دُعا کی داسْتاں رَکھْنا
مُصِیبَت میں یَہی کام آئے گی، یہ تُم گُماں رَکھْنا 
اَنا کی دُھوپ میں رِشْتے ہَمیشَہ سُوکھ جاتے ہیں
مَحَبَّت کا مَگَر تُم سَر پَہ اپنے سائباں رَکھْنا 
اَگَر رَسْتے میں رُک جاؤ، کَبھی تھَکْنے لَگو جو تُم
مِرے کاندھے پَہ سَر اَپْنا، مِری جاں مِہْرَباں رَکھْنا 

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

416
6604
بے سبب ہنسنے کا بھی تہوار ہونا چاہئے
زندگی میں کچھ نہ کچھ بے کار ہونا چاہئے
چائے ٹھنڈی ہو گئی، قصہ ابھی باقی ہے دوست
گفتگو میں بھی ذرا خمار ہونا چاہئے
اتنی جلدی کس لیے ہر بات پوری کیجیے
کچھ نہ کچھ کل کے لیے ادھار ہونا چاہئے

0
4
من کی بستی کو بسانے میں بہت دیر لگی
اپنی ہی ذات میں آنے میں بہت دیر لگی
میری آنکھوں پہ جو پٹی تھی لگائی اس نے
اسی پٹی کو ہٹانے میں بہت دیر لگی
میری نظروں میں سمائے تھے جو منظر سارے
ان نظاروں کو بھلانے میں بہت دیر لگی

0
4
بہت سے لوگ ملے، کوئی ہم سبو نہ ملا
ہجومِ شہر میں اک شخص بھی نکو نہ ملا
ہزار چہرے ملے زندگی کی راہوں میں
مگر کسی میں ترا عکس ہو بہو نہ ملا
وہ عمر بھر مرے نزدیک بیٹھتا بھی رہا
مگر وہ شخص کبھی مجھ سے روبرو نہ ملا

0
7
کسی کی یاد میں خود سے بکھر گئے ہیں لوگ
عجیب بات ہے، پھر بھی سنور گئے ہیں لوگ
جو اپنے ساتھ بھی کچھ دیر رہ نہیں پائے
وہ دوسروں کی نظر سے اتر گئے ہیں لوگ
تمام عمر جنہیں راستوں سے رغبت تھی
ذرا سی دھوپ پڑی تو ٹھہر گئے ہیں لوگ

0
8
چار چیزیں وضو میں سنو فرض ہے
بیٹھ جائے ذہن میں یہی غرض ہے
چہرہ اور ہاتھ دھونا ہے پھر مسحِ سر
دھونا پاؤں کو پھر بس یہی عرض ہے

0
4
ہم نے سچ کی اس قدر قیمت چکائی ہے کہ بس
پھر اسی سچ سے نظر ایسی چرائی ہے کہ بس
علم کی محفل میں سب دانائی کے دعوے کیے
اک سوال آیا تو سب نے چپ لگائی ہے کہ بس
حق کی خاطر بولنے کا حوصلہ رکھتے تھے ہم
وقت آیا تو زباں یوں لڑکھڑائی ہے کہ بس

0
9
گھٹن کے دور میں تازہ سحر لایا
خبر میرے لیے جب خوش خبر لایا
بہت مدت کے بعد اک خوبصورت شخص
دلِ ویران میں زیر و زبر لایا
خزاں رت میں بھی اپنے لمس کے صدقے
وہ شاخِ آرزو پر پھر ثمر لایا

0
1
جل رہا تھا طاق میں، وہ دیا کہاں گیا؟
خواب تھا گلوں بھرا، اے خدا کہاں گیا؟
روشنی کی منتظر رات جاگتی رہی
قافلہ تو ساتھ ہے، راستہ کہاں گیا؟
آنکھ میں رہا تھا جو، عکس ہم سے کھو گیا
ڈھونڈھتے رہے سدا آئینہ کہاں گیا؟؟

0
4
خوابِ غفلت سے جگا دے ساقی
دل کو جینے کی ادا دے ساقی
دل پہ برسوں سے اندھیرا چھایا
کوئی روزن تو بنا دے ساقی
سچ جو ہونٹوں پہ ٹھہر جاتا ہے
اس کو آواز بنا دے ساقی

0
4
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

57
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8073