معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6543
صرف صورت نہ ہو میزان، ذرا دیکھ تو لو
کون اندر سے ہے ویران، ذرا دیکھ تو لو
شہر کہتا ہے ترقی نے بدل دی دنیا
پیچھے رہتا ہے جو انسان، ذرا دیکھ تو لو
گھر تو روشن ہیں، دریچوں میں اجالا بھی بہت
یہ اجالا بھی ہے بے جان، ذرا دیکھ تو لو

0
1
ہادی کریم سرور دلدارِ دو سریٰ ہیں
آقا حبیبِ رب ہی سرکار مجتبیٰ ہیں
مقصودِ کن فکاں ہیں کونین کا حسن جو
انوار اُس حسیں کے مبدا حیات کا ہیں
تخلیقِ آدمی سے اول ہے نورِ جاناں
رونق جمالِ ہستی سردارِ انبیا ہیں

0
5
وہ لمحہِ وصال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
اور قلبِ پائمال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
ڈوبا ترے خیال میں ایسا کہ دلربا
مجھ کو ترا خیال بھی اب ڈھونڈنا پڑا
تجھ پر خزانے وقت کے ہم نے بہا دیئے
فردا تو کیا یہ حال بھی اب ڈھونڈنا پڑا

5
جیو مرو تم بلا سے ان کی انہیں ہے مطلب انا سے ان کی
بڑے ہی ظالم ہیں یہ مبشر ڈرو خدارا سزا سے ان کی
فقط چلے گا یاں اذن شاہی تمہاری مرضی نہیں چلے گی
یہاں تو پتا اگر ہلا تو ہلے گا وہ بھی رضا سے ان کی

0
1
دراز کے پچھلے خانے میں
ایک پرانی چابی پڑی تھی۔
چھوٹی سی،
کناروں سے گھسی ہوئی،
زنگ کی باریک تہہ میں لپٹی،
اور سرے کے پاس

0
2
یہ جو نفس میں کشمکش جاری ہے
اِسی میں تو انساں کی بیداری ہے
انا کو جلا کر جو روشن ہوا
حقیقت اُسی نور میں ساری ہے
اگر حق پہ ہو تو ذرا کھل کے بول
ترا لہجہ کیوں اتنا درباری ہے

0
4
عقل نے چاہا مگر دل نے بھلانے نہ دیا
جلوۂ یار کی یادوں کو مٹانے نہ دیا
ہم نے جب چاہا تری سمت کو جائیں ، افسوس!
ہم کو مجبورئ حالات نے جانے نہ دیا
دل تڑپتا رہا جس شخص کی خاطر ، اس نے
اپنی تصویر کو بھی دل سے لگانے نہ دیا

0
7
چون شود اندیشهٔ قومی خراب
کاروانش گم شود در پیچ و تاب
از ضمیرش سوزِ جان‌سوز ار برود
نغمه‌اش گردد خموش و بی‌سرود
مرگِ ملّت از تزلزل در خودی است
پستی‌اش از سستی و از بیخودی است

0
5
سرِ اوجِ فلک پر ہیں حبیبِ کبریا آئے
حضورِ حق میں جانِ جاں نبی بدرِ دجیٰ آئے
مَلک جبریل امبر میں مقامِ سدرہ پر ٹھہرے
حرم نوری میں یزداں کے حبیبی مصطفیٰ آئے
خدا نے خاص بندے کو دیے تحفے گراں نادر
لئے چابی ارم کی بھی کریمِ دو سریٰ آئے

2
9
مقدر ہیں سوئے جگا لیجئے
حسیں نامِ احمد سدا لیجئے
ہے مجلس سجی آج میلاد کی
لگی پاک محفل جگہ لیجئے
خدا بھیجے اُن پر درود و سلام
یہ اپنا وظیفہ بنا لیجئے

1
8
قوم کی جب فکر ہو جائے خراب
کارواں اس کا رہے در پیچ و تاب
دل کے سینے سے اگر یہ سوز جائے
ساز کی ہر اک صدا خاموش پائے
موت ہے ملّت کی گر کھوئے خودی
پستی آتی ہے فقط بے جانگی

0
5
سب کے چہروں پہ لکھی بات سمجھ لیتا ہوں
اپنے اندر کا مگر حرف نہیں پڑھ پاتا

0
5
میں تو پتھر ہوں، پگھلنا نہیں آتا ہے مجھے
وقت کے سانچے میں ڈھلنا نہیں آتا ہے مجھے
میں نے دریا کو کئی رنگ بدلتے دیکھا
اپنا یہ رنگ بدلنا نہیں آتا ہے مجھے
ایک آواز بہت دیر سے اندر ہے مرے
اس کو لفظوں میں اگلنا نہیں آتا ہے مجھے

0
8
جو مجھے نام سے پہچانے، خطا میری ہے
نام کے بعد جو رہ جائے، ادا میری ہے
شہر والوں نے کئی نام دیے ہیں مجھ کو
آئنے میں جو بچی ہے وہ انا میری ہے
وہ جو ہر بار بجھانے پہ بھی جل اٹھتی ہے
ایک معصوم سی وہ ضدِ بقا میری ہے

0
8
تم اپنے دل سے تھوڑی سی رعایت کیوں نہیں کرتے
کسی دن اپنے ہی گھر میں سکونت کیوں نہیں کرتے
وہ آئینہ تمہیں ہر روز تم سے کم دکھاتا ہے
کبھی اس آئنے سے بھی بغاوت کیوں نہیں کرتے
تمہارے گھر میں سب چیزیں جگہ پر ہیں سوائے دل
ذرا اس ابتری کی تم وضاحت کیوں نہیں کرتے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6543
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

46
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8035