معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5810
ویسے تو ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا
ایک فقط ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا
وہ اکثر ناراض تو ہو جاتا ہے مگر
باپ کبھی بیٹے سے جدا نہیں ہو سکتا
چاہے کوئی کتنے کرشمے دکھاتا پھرے
پھر بھی میرے رب جیسا نہیں ہو سکتا

0
2
یادوں کے میلے کی رونق اور فراغ ہے اپنا
اس جھرمٹ کے کونے میں اک باغ ہے اپنا
چلتے چلتے اپنا رستہ بھول گئے ہم
کتنا دلکش جیون کا یہ راغ ہے اپنا
منصف کا اعلان کہ ہم سے جرم ہوا ہے
سورج سے بھی روشن تر یہ داغ ہے اپنا

0
1
پاکستان بمُقابلہ بھارت (T-20)!!!
——
کُچھ بھی ہو چاہے، جیتنے کا
اِحْساس تو ہَم نے جیتا ہے
وہ جِیت گئے ہیں تو پِھر کیا
پَر ٹاس تو ہَم نے جیتا ہے

0
3
تم پہ اب بھی اگر یقیں ہوتا
ایک سنگین جرمِ دیں ہوتا
خوب اچھا ہے وہ مرا نہیں ہے
ہوتا تو اہلِ آستیں ہوتا
شہر ہا شہر گھومتا رہتا
میں اگر حاکمِ زمیں ہوتا

0
4
دل ترے دل سے یوں ناکام نکل آتا ہے
سوچ کا سوچ سے ابہام نکل آتا ہے
ہاتھ میں کوئی عجب چیز چھپاتا ہے وہ
اور پھر درد مرے نام نکل آتا ہے
دل کو منظر سا کوئی دِکھتا ہے، منظر میں نجات!
دو قدم چلنے پہ یہ خام نکل آتا ہے

0
3
زندگی سہل ہوتی جینے میں!
دل سا بہروپیا ہے سینے میں
مثل کیا، آرزوۓ لاحاصل
کہ لہو مل گیا پسینے میں
دل نہ کھنگال میرے چارہ گر
آس کا ڈھیر ہے دفینے میں

0
2
اجنبیت ہے کہ خلوت کا غبار
شہر کی آب و ہوا راس نہیں

0
3
شکستگی کو اگر ہم شمار کرتے ہیں
تری طرف سے ملے زخم کان بھرتے ہیں
یہ دل کا ڈوبنا معمول بن گیا جیسے
مری بساط میں ہر روز غم نکھرتے ہیں
تھکا چلا ہوں میں خود کو شعور کی زِد میں
مگر کہ مجھ میں عموما گماں ابھرتے ہیں

0
4
سوچنے پر بھی مدعا نہ ملے
ہے دلیلِ خدا، خدا نہ ملے!
دشت کے ساتھ آسمان بھی ہے
نہیں ممکن کہ آسرا نہ ملے
تُو ملے اور پھر بچھڑ جاۓ
پھر مجھے کوئی دوسرا نہ ملے!

0
4
دل کہ آخر کہیں لگانا ہے
گو یہ تیرے گماں میں لگ جاۓ

0
3
آرزو کی زبان سے بچنا
نہیں ممکن گمان سے بچنا

0
3
وسعتیں لاکھ چشمِ تر کے لیے
اور دیوار ہے نظر کے لیے
کچھ مکمل نہیں ہے آنکھوں میں
ایک خاکہ سا عمر بھر کے لیے!
گھر کے سامان میں تھے نقص بہت
یاد باندھی گئی سفر کے لیے!

0
3
دشت اور سر پہ آسماں میرے
گرد آلود ہیں گماں میرے
آپ اگر شاملِ سفر ہوں کبھی
خاک میں جائیں نقطہ داں میرے
مجھے چبھتی ہے غیر کی الفت
ایک سے ایک امتحاں میرے

0
3
ایسی گھمبیر صورتیں ہیں مری
کہ میں چارہ گروں سے بچتا ہوں

0
5
نقشِ پا اور گرد دوست نہیں
وہم سا شاملِ سفر ہے سو ہے
خبرِ کوچۂِ گماں تو سُن
سبھی کا ہونا مختصر ہے سو ہے
بھار کیسے اٹھائیے خود کا
دل ہی دراصل بے خبر ہے سو ہے

0
2
ہر گام مشکلات مرے ہاتھ میں نہیں
یعنی کہ کائنات مرے ہاتھ میں نہیں
ہر زخم محترم مجھے ہر وہم دلفریب
جس طور ہے حیات مرے ہاتھ میں نہیں
دل کی فسردگی میں ملوث ہے آرزو
جس سے مری نجات مرے ہاتھ میں نہیں

0
1
تیرے پہلو ترے خیال کے ہم!
نہیں ہوۓ کبھی وصال کے ہم
عین معمول سے ہیں روز و شب
ہے ابال اپنا اور وبال کے ہم
وقت کی بات تھی، بدل گیا وقت
رفتہ رفتہ ہوۓ زوال کے ہم

0
3
ایک ہوا سی لے اڑی ایک غبار سا رہ گیا
کوئی تھا جو نہیں رہا، اس کا شمار سا رہ گیا

0
خوب سے خوب تر سہی رہنے کو دشت بھر سہی
درد ملا ہے بارہا درد ہی بیشتر سہی
پاس رہے تھے کون لوگ اپنا وجود تھا کہاں
یاد اگر کچھ آۓ زیبؔ یاد کی رہ گزر سہی
چھوڑ دیا ہے وہ مکاں اور پرندے اڑ گئے
رنج! کہ چارہ گر ہوا، خاک! کہ معتبر سہی

0
اس سمت بھاگتا ہے دلِ آشنا ابھی!
کچھ خواب راستوں کی مشقت میں رہ گئے
کچھ آرزوؤں جو دہر کی لَو میں
بے طرح خاک ہوئی
کچھ دوست
جو یاد بھی نہیں ہیں!

0
2
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774