معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6116
وِفاقی آئِینی عَدالَت کے مُلازِمِین کی تَنْخواہوں میں %100اِضافَہ!!!
——
میں عام نَظَر سے دیکُھوں تو مُجھ کو تو اَیسے لَگتا ہے
تَنْخواہیں بَڑھائے جانے کی یِہ چال تو عَین کَمِینی ہے
گَر جان کو خَطْرَہ نَہ ہو تو مَیں بھی تو یِہ اِسْتِفْسار کَروں
اَیْوانِ عَدالَت نے جو کِیا، کیا یِہ سَب کُچھ آئِینی ہے؟

0
ادب کی لو جلائے رکھنا، گھبرانا نہیں اچھا
مقامِ بندگی میں ہاتھ پھیلانا نہیں اچھا
اگرچہ تلخ ہے سچ، پھر بھی اس کو پی ہی لیتے ہیں
محبت کے قرینوں میں تو کترانا نہیں اچھا
ترا اپنا ہی عکسِ خود سری ہے سامنے تیرے
بغیر آئینہ دیکھے، ہی تو شرمانا نہیں اچھا

0
2
خِرد کو ہو گیا اُس کی جَذام ہے
ستم گروں کو جو کرتا سلام ہے
ہو دسترس میں تو یارو حلال یہ
وگرنہ مرغی پرائی حرام ہے

0
1
غیروں کو بھی نوازیں فیضان یہ غنی کے
تحفے ہیں کبریا سے الطاف میں سخی کے
دریائے رحمتوں کا کوئی کہاں کنارہ
ہستی کے ادنیٰ پر بھی انعام سروری کے
رب کا ارادہ کن تھا اعیانِ ثابتہ میں
آیا یہ حکم لیکن انوار میں نبی کے

0
1
4
روز فریاد و آہ و زاری ہے
زندگی ہم نے یوں گزاری ہے
پھر وہی ہے سوال آنکھوں کا
پھر انہیں حکم اشکباری ہے
ہاتھ آ پہنچے ہیں گریباں تک
آپ سے کیسی پردہ داری ہے

0
6
یہ ٹوٹ ٹوٹ کے کیوں لوگ اُدھر کو جاتے ہیں
ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں
اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے
مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں
وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں
وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں

0
4
محض لفظوں کی تو سوغات نہیں ہوتی ہے
دل جو دھڑکے نہ تو وہ بات نہیں ہوتی ہے
تیری خاموشی سے ڈرتا ہوں میں اس درجے کہ اب
مجھ سے خود اپنی ملاقات نہیں ہوتی ہے
ایک بستی ہے جو سنسان پڑی ہے مجھ میں
اس جگہ دھوپ ہے، اب رات نہیں ہوتی ہے

0
6
شاہرَہِ دَسْتُور پَر دَسْتُور کی یِہ دَھجِّیاں!!!
اَلْحَفِیظ و اَلْحَفِیظ و اَلْحَفِیظ و اَلاَمان!!!
کھا گئی ہے لُوٹ کے ہَم کو وَہی اَشْرافِیہ
جِس کے ہاتھوں میں سَدا سے اِس وَطَن کی ہے کَمان
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
مرے روبرو وہ نگار آ گیا
تو بے تاب دل کو قرار آ گیا
ہنسا وہ تو کلیوں کو جوبن ملا
گلوں پر پیامِ بہار آ گیا
نگاہوں سے مستی چھلکنے لگی
بنا مے پیے ہی خمار آ گیا

0
3
دھومیں حبیب کی آفاقِ دہر میں ہیں
یہ نعرے ہر گھڑی ہیں شام و سحر میں ہیں
الطافِ مصطفیٰ سے کونین کی ہے جاں
اعمال و حال سب کے اُن کی نظر میں ہیں
انعامِ دلربا ہیں دونوں جہان پر
جنت کریں عطا جو آقا کے گھر میں ہیں

2
11
خصوصی خدا سے خزانہ ملے
زباں کو نبی کا ترانہ ملے
مدینے کے دیکھوں میں لیل و نہار
درِ مصطفیٰ پر ٹھکانہ ملے
فضائے مدینہ جو رنگین ہے
جہاں میں وہ منظر سہانا ملے

1
8
جنہیں یادِ دلبر میں راحت ملی ہے
گراں اُن کو اس سے سعادت ملی ہے
بنا ورد جن کا حسیں نامِ نامی
انہیں بخششوں کی علامت ملی ہے
امیری جہاں میں وہ ہی کر رہے ہیں
جنہیں لطفِ جاں سے اِعانَت ملی ہے

1
8
ملے کبریا سے یہ عزت سدا
ثنائے نبی کی سعادت سدا
ہو نامِ نبی میرے وردِ زباں
رہے یہ حزیں پر عنایت سدا
اسیری مدینے میں منظور ہے
رہے بس مدینے سکونت سدا

1
5
جن کو ارض و سما میں ملی سروری
وہ ہیں دلبر خدا کے نبی آخری
حق حقیقت نبی کی ہے رازِ نہاں
آئی پردے میں پیاری صُوَر ظاہری
ہیں معالج دہر کے حبیبِ خدا
جس نے پامال کی صنعتِ آذری

2
11
بنا م حاکم کلام سارا
عوام دشمن نظام سارا
یہی تو سچ ہے یہاں کے حاکم
حلال سمجھے حرام سارا
معاشرے کو جبر سے اپنے
بنا دیا ہے غلام سارا

1
8
آج پھر سے ہوا غم کے ماروں کا رقص
جیسے راتوں کو ہو چاند تاروں کا رقص
آج پھر سے محبت نے توبہ ہے کی
آج پھر سے ہوا تیری یادوں کا رقص
تیری خاطر یہاں اک تماشہ ہوا
تیری خاطر ہوا دل کے ہاروں کا رقص

6
ہر طرف گرچہ گھپ اندھیرا ہے
رات کی کوکھ میں سویرا ہے
پیڑ پر ناگ کا بسیرا ہے
تاک میں جس کی اک سپیرا ہے
آپ نے جب سے مُنہ کو پھیرا ہے
میری آنکھوں تلے اندھیرا ہے

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7849
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6116
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
24