معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
دنیا چاند پہ پہنچی ہے بس
ہم نے چاند سے بات بھی کی ہے

0
4
میرے ہر رنگ میں رنگ اپنا دِکھانا مُرشِد
لاج ہر حال میں پھر میری بَچانا مُرشِد
دل میں پاتا ہوں مرے یار تری جلوہ گری
دل مرا آپ کا یونہی ہو ٹِھکانا مُرشِد
آپ کو جان کے آئی ہے یَقینی مجھ میں
آگیا كام یه دیوانه بنانا مُرشِد

3
انھیں کے خواب دیکھوں مشغلہ میرا ہے نِس دِن کا
پتا معلوم ہے مجھ کو نہ ہی نام و نشاں جِن کا
برا کیا نام ہو ہم سے کسی دنیا میں خائن کا
انھیں مطلوب ہے ضامن ہمارے فعلِ ضامِن کا
بنائی جب گئی عورت شریکِ زندگی اس کی
تو ہو کیوں حور سے ناطہ بھلا اک مردِ مومِن کا

0
3
مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے

1
3
لے جا نسیمِ طیبہ میرا سلام ہے
دیتا پیام تم کو یہ اُن کا غلام ہے
مشکل ترین ہجر میں لمحات کا گزر
پورے ادب سے عرض یہ کرنا پیام ہے
دربارِ مصطفیٰ ہے یہ ہوش و حواس رکھ
ہے دیکھنا غلاموں میں آتا جو نام ہے

0
1
نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو

0
1
6
نسیمِ صبح نے چھیڑا گلوں کا سلسلہ پھر سے
کھلا ہر شاخ پر رنگِ وفا کا مرحلہ پھر سے
فضائے دشت میں مہکی ہوئی مٹی نے یہ پوچھا
کہاں سے لوٹ آیا ہے دلوں کا قافلہ پھر سے
ابھی شبنم نے پتّوں پر لکھی تھی صبح کی تحریر
ابھی سورج نے بوسیدہ کیا ہر حوصلہ پھر سے

0
23
ہاتھ جو آتا کبھی، پھر سے مچلنے جاتے
دامنِ یزداں سے یہ خواب لپٹنے جاتے
جامۂ صد چاک ہمیں وجہِ تفاخُر تو نہ تھا
شہر میں تھا ہی مگر کون کہ ملنے جاتے
دشتِ تنہائی میں خود سے بھی جو ملنا چاہا
ہم بھی ایسے تھے کہ رستے سے بدلنے جاتے

0
5
میں تم کو بھی یوں محبت میں ڈھال سکتا ہوں
خیالِ دل میں نیا رنگ اُبھار سکتا ہوں
اگر تمہارا اشارہ ذرا سا مل جائے
میں خشک شاخ پہ موسم اُتار سکتا ہوں
وفا کے حرف مری روح میں اتر جائیں
وفاؤں کو نئے رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں

0
5
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
3
مٹی کی خوشبو میں جنت بستی تھی
ہر دل میں الفت کی دولت بستی تھی
صحنوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہتی
بوڑھوں کی باتوں میں حکمت بستی تھی
رشتوں کی خوشبو ہر اک سو پھیلی تھی
آنکھوں میں چاہت کی رونق بستی تھی

0
10
اس نور کی وادی کے ذروں میں اُجالا ہے
برکھا ہے یہاں نوری ہر جلوہ نرالا ہے
کونین درخشاں ہے انوارِ مدینہ سے
اس شہرِ منور پر اک نور سے ہالہ ہے
سلطان بھی دیکھو گے سائل ہیں مدینے میں
جو دان ملے اس جا ہر حال میں اعلیٰ ہے

0
1
5
گرد اٹھتی جا رہی ہے
آنکھ بھی دھندلا رہی ہے
اس کی بھی تشریح تو کر
ریت دریا کھا رہی ہے
میں نے جس چڑیا کو پالا
مجھ سے کیوں گھبرا رہی ہے

0
7
ملحد ہوا ہے کوئی محبت سے اس طرح
جیسے کبھی وہ اسکا پجاری ہی نہیں تھا

0
7
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7944
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
411