معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6134
مردہ کو زندہ بتا رہے ہو
الٹی گنگا بہا رہے ہو
سننے کے قابل نہیں ہیں
کیوں وہ قصے سنا رہے ہو

0
1
حافظ معاذ عالم کے نام یہ پیاری سی دعا
خدایا میسر ہو چشمِ بصیرت
کہ پائے مری ذات نورِ بصیرت
خودی کو مری کر دے اتنا توانا
کہ ٹھکرا سکے یہ طلسمِ زمانہ
لبوں پر مری ہو صدائے صداقت

8
یہ کیسا دور آیا ہے
کے آوازیں تو گونجی ہیں
مگر الفاظ ہیں خالی
نہ باتوں میں صداقت ہے
نہ رشتوں میں رفاقت ہے
حیا بھی اب نہیں باقی

0
1
وہ لطف ایسا کوئی ایجاد کر دے
مرے ہونے کو اک بنیاد کر دے
یہی اک وہم ہے دنیا کہ جس کو
کوئی لمحہ حقیقت زاد کر دے
اڑی پھرتی ہے دل میں خاکِ ہستی
دعا اس کو بھی پھر آباد کر دے

4
سچا پیار اے سچ دا چانن
رَب دا پیار اے حق دا چانن
سچے پیار نُوں آنچ نہ آوے
رَب دا پیار کوئی جانچ نہ پاوے
پیار نُوں پیار دے نال پہچانو
پیار تے رَب نُوں وَکھ نہ جانو

0
4
پاکستان مَجمُوعی طور پَر 85 کَھرب کا مَقرُوض!!!
——
سَب مال بنانے آتے ہیں
سَب مال بنا کے جاتے ہیں
سَب بَچّے اَچّھے بَچّے ہیں
سَب باری باری کھاتے ہیں

0
2
تلاشِ رزق میں چہرہ یہاں نہیں ملتا
جو مل بھی جائے تو وہ مہرباں نہیں ملتا
عجیب خبط میں بستی کے لوگ رہتے ہیں
کوئی بھی اپنے ہی قد کا جواں نہیں ملتا
کوئی مسیح تو کوئی بتوں کا شیدائی
مگر کسی میں بھی اب انساں جو نہیں ملتا

0
4
جھوٹے لفظوں کو گُھما دیتے ہیں
باتوں میں جھوٹ دَبا دیتے ہیں
چاشنی لہجے سے اکثر چہرے
سادہ روحوں کو دغا دیتے ہیں

0
3
ہیں شانیں نبی کی خلق میں نرالی
گیا جن کے در سے عدو بھی نہ خالی
وہ دیتے ہیں سب کو دلوں کی مرادیں
ہیں شاہِ عجم جو عرب کے ہیں والی
ہے جنت نبی کی وہ فردوس والے
جو جا ہے حقیقت نہیں ہے خیالی

0
1
لبوں پر ہر گھڑی اپنی دعا کی داستاں رکھنا
مصیبت میں یہی کام آئے گی، یہ تم گماں رکھنا
انا کی دھوپ میں رشتے ہمیشہ سوکھ جاتے ہیں
محبت کا مگر تم سر پہ اپنے سائباں رکھنا
اگر رستے میں رک جاؤ، کبھی تھکنے لگو جو تم
مرے کاندھے پہ سر اپنا، مری جاں مہرباں رکھنا

0
5
غزل
فرعون ہیں، نازی ہیں، کہ تاتار یہودی
ابلیس کے پیرو ہیں، یہ بیمار یہودی
مصلوب کیا حضرت ِ عیسی کو جو ناحق
ظلمت کے علم دار یہ مکار یہودی
لبنان و فلسطین کو مقتل سے بدل کر

0
66
بخشے وہ استقامت و صبر و قرار بھی
ہو جائے اب تمام یہ فصلِ غبار بھی
مجھ پر کرم ہو اس کا، رہے اس کا پیار بھی
مل جائے دو جہاں میں مجھے اعتبار بھی
مرشد میں رہروِ شبِ تیرہ ہوں تشنہ لب
مرشد دعا کریں کہ سحر ہو مرا نصیب

0
4
غم کا دریا ہے اتر جائے گا
وقت آخر ہے گزر جائے گا
ہے منادی یہ مرے حاکم کی
گر تو بولے گا تو سر جائے گا
اپنی انگلی نہ اٹھا ظالم پر
بچ کے مقتل سے نہ گھر جائے گا

0
4
مجھ میں پیدا وہ کیسا گماں کر گیا
وہ زمیں کو مری آسماں کر گیا
وہ تعلق کا دے کر گیا آسرہ
آدھی دیواروں کو وہ مکاں کر گیا
وہ دکھا کر گیا مجھ کو ایسی ادا
بس حوالے مرے اک جہاں کر گیا

0
4
یارو جینے کے لئے اک موجِ برہم چایئے
غم کی شدت میں بھی مجھکو تھوڑا دم خم چایئے
یہ متاعِ غم نشانِ زیست دیتا ہے مجھے
تیرا غم تھوڑا ہے مجھکو غم کا عالم چایئے
بےسکونی کا سبب ہے یہ سکونِ زندگی
خواہشوں کا سوگ ہو مجھکو بھی ماتم چائیے

0
4
کبھی وہ رنگ، کبھی وہ صدا پکارتی ہے
ہمیں تو اپنی ہی اک انتہا پکارتی ہے
ملی ہے زیست کی ڈوری بھی اک اشارے پر
نہ جانے کس کے لبوں کی دعا پکارتی ہے
جو اہلَ ظرف ہیں، وہ خامشی کو سنتے ہیں
انہیں تو دشت میں بھی اک نوا پکارتی ہے

0
5
کہیں پہ نور، کہیں پر غبار رہتا ہے
دلوں کے بیچ عجب انتشار رہتا ہے
وہ دیکھتا ہے جسے آنکھ دیکھ پاتی نہیں
وہی تو ہے جو پسِ روزگار رہتا ہے
عجیب شے ہے یہ اپنے ہی عکس سے ملنا
یہاں تو خود پہ بھی کب اختیار رہتا ہے

0
2
درِ مژہ پہ عجب اک قیام رہتا ہے
نگاہِ شوق میں تیرا ہی نام رہتا ہے
کبھی وہ رنگ، کبھی روشنی، کبھی وہ خواب
درونِ ذات عجب ازدحام رہتا ہے
جہاں پہ ختم ہے حدِ گمانِ اہلِ نظر
وہیں سے عشق کا پہلا مقام رہتا ہے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7854
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6134
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26