معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



402
6305
گوشہ نشیں ہوں کب سے گویا نہیں ہوں میں
لیکن یہ معجزہ ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
جب سے ہوئی ہے دولتِ عرفاں مجھے نصیب
دنیا میں رہ کے شاملِ دنیا نہیں ہوں میں
دل میں چراغِ عشق ہے روشن ابھی تلک
حالات سے شکستہ ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں

3
17
نہ پوچھ اے دل کہ دنیا نے مری قیمت نہ جانی ہے
مری خاموشیوں میں بھی صدائے زندگانی ہے
جو حرفِ درد لکھے تھے جو آنسو لفظ کر ڈالے
وہی فردا کے انسانوں کے دل کی ترجمانی ہے
میں خاموشی میں پلتا تھا مگر خاموش کب تھا میں
مرے الفاظ میں پنہاں مرے دل کی کہانی ہے

0
2
راہِ حق میں قدم یہ اٹھاؤ کبھی
دل سے نفرت کے کانٹے ہٹا ؤ کبھی
ذکرِ مولیٰ سے کر روشنی دل میں تو
دیپ سینے میں یہ بھی جلا ؤ کبھی
درد مندوں کے آنسو بھی پونچھا کرو
پیار کے پھول سب کو تھما ؤ کبھی

0
7
مدینے جانے والوں کے مقدر جگمگاتے ہیں
جو آتے ہیں سخی در پر انہیں داتا بلاتے ہیں
درودوں کے حسیں گجرے سجی مالا سلاموں سے
جو زائر ہیں مدینے کے مدینے ساتھ لاتے ہیں
لئے موتی عقیدت کے مدینے میں جو آتا ہے
انہیں سرور نبی میرے گراں رفعت دلاتے ہیں

1
5
محفلِ دِل سجا ئے بیٹھا ہُوں
ظُلمت شب مِٹائے بیٹھا ہُوں
اُن کے آنے کی پھِر خبر آئی
بوریا پھِر سے لا ئے بیٹھا ہوُں
ڈھُونڈ تا ہوں اُسی کو ہر جانب
ہر سوُ ہر سمت جا ئے بیٹھا ہوُں

0
5
محفل میں جائیے گا، ذرا احتیاط سے
نظریں ملائیے گا، ذرا احتیاط سے
چنگاریوں کو یوں نہ ہوا دیجیے، حضور
شعلہ بھڑک اٹھے گا، ذرا احتیاط سے
ایسا نہیں کہ خار سے ہی کیجیے اجتناب
ہاں گُل بھی زخم دے گا ، ذرا احتیاط سے

0
8
یِہ بَنْدُوقیں یِہ سَنْگینیں تُمھیں ہَم لے کے دیتے ہیں!!!
——
ہمارے جیسے ہو تُم بھی مَگر تُم بُھول جاتے ہو
ہمارے مال پَر ہی تُم سَدا مَوجیں مَناتے ہو
یِہ بَنْدُوقیں یِہ سَنْگینیں تُمھیں ہَم لے کے دیتے ہیں
یِہ دُشمَن پَر چَلاؤ نا ہَمِیں پَر کیوں چَلاتے ہو؟

0
2
ہوا میں رقصِ نشیمن ہے اور فضا خاموش
سفر ادھورا ہے اپنا، کوئی ردا خاموش
بکھر رہے ہیں مرے گھر کے سارے نقشِ قدم
یہ کس کے خوف سے ہے آج ہر صدا خاموش
زمینِ پاک پہ کٹتے ہیں اب تو اپنوں کے سر
یہ کیسی آگ لگی ہے کہ ہے خدا خاموش

0
5
کہاں ڈھونڈھنے کو جائیں کوئی چارہ گر نہیں ہے
سرِ بامِ جاں ہمارے کوئی ہم سفر نہیں ہے
وہی زخم ہیں پرانے، وہی بے کسی کا عالم
کوئی درد اب تو دل میں نیا بارِ در نہیں ہے
جو چراغ ہم نے جلائے سرِ رہ گزر فضا میں
وہ ہوا کے رقص میں ہیں، کوئی چشمِ تر نہیں ہے

0
10
جو خود کو اس نگر میں باوفا کہتا رہا ہے
وہ میرے درد پر دل کھول کر ہنستا رہا ہے
زمانے کی نظر میں، میں ہی مجرم ٹھہرا آخر
مگر جو دل سے اترا، وہ کہاں بچتا رہا ہے
بچھڑ کر بھی تری یادوں سے دامن چھوٹتا کب؟
خیالوں کا یہ دریا تو یہیں بہتا رہا ہے

0
3
غزل
لوگ بے حس بہت بولتے رہ گئے
چند حساس دِل سوچتے رہ گئے
زُلف بل کھا کے عارض پہ ڈستی رہی
دُور عشاق سب دیکھتے رہ گئے
مست جھمکوں کو تقدیر پر ناز ہے

0
36
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

402
6305
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7966
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
503