معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



28
255
میرا نام ماجداسلام ماجدؔ ہے۔ عرصہ 3 ماہ سے بحور پہ مکمل اوزان کے ساتھ مصروفِ سخن ہوں۔ نعتیہ کلام لکھنا پسند ہے مجھے۔ دوسرے موضوعات جیسا کہ عاشقی اور معشوقی پہ لکھنا توہین سے کم نہیں سمجھتا۔ امید ہے کہ آپ سب میرا استقبال کریں گے۔ فقط:ماجداسلام ماجدؔ

1
7
ابھی خاموش ہیں لہریں کنارہ کون کرتا ہے
بھنور میں دیکھنا آخر سہارا کون کرتا ہے
بلا مقصد یہاں اب تو نہیں ملتی محبت بھی
کہ یک طرفہ محبت میں گزارا کون کرتا ہے
بڑے عامل ہیں جو لائیں مرا محبوب قدموں میں
نظر فرقت کہ ماروں کی اتارا کون کرتا ہے

0
1
5
ادھورے خوابوں کا رونا ہے غزل
بحور میں غم کو بونا ہے غزل
غموں کے صابن اور آبِ ہجر سے
جگر کے زخموں کا دھونا ہے غزل
سنے اِسے عاشق تو ملے سکوں
یوں مرضِ الفت کا ٹونا ہے غزل

0
1
6
مسکراہٹ بانٹنے تم آؤ نا
آ کے محفل میں کبھی تم جاؤ نا
یاد کے گہرے سمندر میں کبھی
تم اتر جاؤ تو واپس آؤ نا
اک طلسماتی محل میں بیٹھ کر
گیت مدھم سُر میں کوئی گاؤ نا

0
4
گھروں میں سب کے یاں اب تو سنوارے جائیں گے پتھر
نیا مجنوں بنا ہوں میں سو مارے جائیں گے پتھر
خدا کے نام پر کتنے غریبوں کی امانت سے
تراشے جائیں گے پتھر نکھارے جائیں گے پتھر
بہا کے ہم کو لے جائے اگر دریا روانی میں
روانی دیکھ کر میری کنارے جائیں گے پتھر

0
3
45
درد ہجر تنہائی اور میں
چیخ آہ دو ہائی اور میں
کافی دیر تک تیری مہندی پر
خوب روئے شہنائی اور میں
لڑتے ہیں اکیلے جا کر کبھی
تیری یاد جولائی اور میں

0
زمانہ اب تو دیکھتا رہ جاۓ گا
وہ بھول کے بھی سوچتا رہ جاۓ گا
مزاج دیکھ کے میں نے اسے کہا
مرا وجود ڈھونڈتا رہ جاۓ گا
نہیں ملے گی دنیا میں وفا اسے
زمانہ کو وہ جھانکتا رہ جاۓ گا

0
1
مدینہ میں چرچا ہوا ہے
عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے
تھے سب منتظر، دیر تک جب
یکایک جو غوغا ہوا ہے
نئے دین سے رشتہ جوڑا
عدو تلملایا ہوا ہے

0
12
92
ہو مجھے بھی عطا مدحتِ مصطفٰے
میں کہوں گا خدا عظمتِ مصطفٰے
ہے برائے جہاں رحمتِ مصطفے
مانیے سب کے سب برکتِ مصطفٰے
دو جہانوں کے مالک فدا جان و دل
جانتے ہیں سبھی قدرتِ مصطفٰے

0
اب تو اپنوں سے بھی ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی جیسے کٹھن کوئی سفر لگتا ہے
ہم نے دشواریٔ حالات کو دیکھا ہے مگر
آج انجانا ہمیں اپنا ہی گھر لگتا ہے
ہم کو دشمن نے ہمیشہ ہی غلط سمجھا ہے
اس کو ہر بات میں سازش کا اثر لگتا ہے

0
1
8

9
125
نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی
کسانوں کے اوپر ستم کی گھڑی
کسانوں پہ گر ظلم ڈھائے گا تو
نہ ظالم رہے گی تری رہبری
یہ فرقہ پرستوں کا دیکھو کرم
دلوں میں نہ سب کے محبت رہی

0
1
زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں
دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں
مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر
پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں
چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو
آگیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں

0
فریب ،دھوکا ،دغا سے ہمیں بچا جائے
بہت ہے لازمی عزت سے اب رہا جائے
سخن وروں کی پرکھ کا یہ وقت ہے شاید
جو سچ ہو اس کو قلم سے سدا لکھا جائے
وہی ہے جرم سزا میں نے جس کی کاٹی ہے
سلوک ساتھ تمہارے بھی کیا کیا جائے

0
خوب تعریف کی غزلوں کی پزیرائی کی
شکریہ تم نے سدا میری شناسائی کی
جس کے بارے میں بتایا تھا مجھے لوگوں نے
بات نکلی مرے لب سے اسی ہرجائی کی
انجمن میں میں انہیں دیکھوں مجھے وہ دیکھیں
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

0
فرض اپنا بھی نبھاؤں گا چلا جاؤں گا
پیار دنیا کو سکھاؤں گا چلا جاؤں گا
کوئی بھٹکے گا نہیں راستہ اپنا ہر گز
میں پتہ سب کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
زندگی اپنی میں جیتا ہوں سہارے کے بغیر
بارِ غم اپنا اٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

0