معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



380
5453
مرے عیبوں سے مجھ کو با خبر کر
میں خود کو خود بدلنا چاہتا ہوں
عتیق الرحمن عتیق

0
راکبِ دوشِ شہا مولی حسن
ہیں امام التقی مولی حسن
۔
سید ابنِ فاطمہ مولی حسن
سبطِ شاہِ دوسری مولی حسن
۔

0
9
ایک اُن کا سلام ہو جائے
دل کی حسرت تمام ہو جائے
گر میسر ہو جائے وہ مجھ کو
میرا اعلیٰ مقام ہو جائے
ساقی تیرے مے خانے کی ہو خیر
تو سبھی رندوں کا امام ہو جائے

0
2
تجھ سے بچھڑنے کا اس دل کو ملال ہے بس
غم ہے الم ہے میں ہوں آشفتہ حال ہے بس
اک وجد طاری ہے ہم پر ہجر کا کہ اب تو
دل محوِ رقص ہے اور غم کا دھمال ہے بس
فرقت کی اک گھڑی میں ہم ساتھ یوں کھڑے ہیں
اک میں ہوں تو ہے اور اک تیرا خیال ہے بس

0
2
اتنی نہ پلا کہ پارسا ہو جائے
نا آشنا دل بس آشنا ہو جائے
چھا جانے دے مستی دل پہ مدھم مدھم
یوں ابتدا ہی نہ انتہا ہو جائے

0
3
ہزاروں اصوات نوحہ خواں ہیں کہ اک زباں پر ہے نزع طاری
حروف و الفاظ سر بہ زانو
خموش ہے اِک جہانِ معنی
کہ اُس کے باسی
تلاشِ گندم میں اپنے شہروں کی فاقہ کش عافیت کو تج کر
نئے جہانوں کے اجنبی راستوں پہ آنکھوں میں پیاس لے کر

0
3
مقدر دہر کے، نبی نے سجائے
حسیں گیت جن کے، یہ کونین گائے
سجی گودِ ہستی سخی دلربا سے
خدا نے یہ افلاک یوں کب بنائے
ہے آمد جہاں میں حسیں دلربا کی
سخی کی جو امت ہے، قربان جائے

0
3
چھت پہ چاند اور چمن میں وہ گلِ رو نکلے
کیسے کیسے ترے دیدار کے پہلو نکلے
مری بینائی کو وہ دستِ ہنر دے مولیٰ
کھولوں مٹھی تو مرے ہاتھ سے جگنو نکلے
نہیں آتا فنِ اظہارِ محبت لیکن
جب ترا نام لکھوں لفظوں سے خوشبو نکلے

2
22
وفورِ عشق رسوائی میں ڈھل جانے سے کیا ہوگا
بھلا یہ بات اب گاؤں میں پھیلانے سے کیا ہوگا
یہ اعجاز طلب ہے رائگانی فصل ہجراں تک
محبت بھوک ہے تھوڑی تو غم کھانے سے کیا ہوگا
بہت ہی مختصر ہے داستان صحرا نوردوں کی
محبت ہار جاتی ہے یہ دھرانے سے کیا ہوگا

0
6
غلطی سے اک کمرازن سے اک دن آنکھیں چار ہوئی
غلطی سے بھی یہ مت سمجھو غلطی پہلی بار ہوئی
ہم نے اپنے دل کی چاہت خاموشی سے پہنچا دی
نازک سی اک چشمِ بلا سے ٹکرا کے لاچار ہوئی
آنکھیں تھوڑی بھر آئی تھیں کاجل تھوڑا پھیلا تھا
لوگوں نے افواہ اڑائی شہزادی بیمار ہوئی

0
5
مشترکہ اک بات جو اپنی ہم نے کل پر رکھی ہے
پل بھر کی ہے لیکن پھیلا کر پل پل پر رکھی ہے
درد کا سارا منظر لے کر گھوم رہی ہو گاؤں میں
آنکھوں کی ہر بوند سُکھا کر کیوں آنچل پر رکھی ہے
ٹوٹ کے برسے گا یہ ساون دشت ہرا ہوجائے گا
اب کے میری آہ بھی موسم نے بادل پر رکھی ہے

0
7
جب سے اس نے منہ موڑا ہے
دل کو میرے یوں توڑا ہے
مجھ کو اب احساس ہوا ہے
محسن رنگ بدلتے ہیں تو
جینا مشکل ہو جاتا ہے
ٹوٹے پھوٹے دل کے ریشے

0
6
آدم میں ترے عشق کا وہ جلوہ نما ہے
معلوم ہوا بندہ تری شاں سے جڑا ہے
عالم تری صورت کا ہے آئینہ دکھاتا
کیا حسن ہے جس میں تری رحمت کی ضیا ہے
تیرے ہی سبب چمکے ہیں خورشید و قمر بھی
تجھ بن تو کوئی شمع نہ محفل میں جلا ہے

0
2
میرا نام محمد اویس قرنی ہے۔ سخن فہمی کی دنیا میں ابھی نووارد ہوں، مگر دل میں ایک تڑپ ہے کہ کچھ ایسا کہہ سکوں جو دلوں کو چھو جائے۔ میں نہ خود کو شاعر کہنے کا دعویٰ رکھتا ہوں، نہ اپنے کلام کو کمال سمجھتا ہوں۔ بس جذبوں کی شدت کبھی کبھی لفظوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور میں اُسے صفحے پر اُتار دیتا ہوں۔میرے اشعار میں شاید کوئی عظمت نہ ہو، مگر سچائی ضرور ہے۔ میں نے جو دیکھا، جو جھیلا، جو محسوس کیا، اُسے بغیر کسی دعوے کے، نرمی سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ عروض و بحور سیکھنے کا عمل جاری ہے، اور اہلِ علم کی رہنمائی کو سعادت سمجھتا ہوں۔اگر میرے الفاظ کسی کے دل کو چھو جائیں، یا کسی کی کیفیت کو بیان کر سکیں، تو یہی میرے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔ میں خود کو سیکھنے والا سمجھتا ہوں، اور سیکھنے کا یہ سفر میرے لیے باعثِ شکر ہے۔

0
1
24

0
1
31
غزہ کی  رات خاموش تھی، مگر پُر سکون نہیں۔ ستارے چمک رہے تھے، جیسے  وہ ہمیشہ چمکتے تھے  گویا انہیں نیچے ہونے والے حادثوں کا علم نہ تھا۔عمارہ صرف 9 سال کی تھی۔ اسے پھولوں اور پرندوں کی ڈرائنگ کرنا بہت پسند تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی سمیع ، 6 سال کا تھا، جو اپنے والد کے بنائے ہوئے پرانے کپڑے اور دھاگے کی پتنگ کو دوڑاتے ہوئے خوش رہتا تھا۔ جب آسمان میں طیاروں کی گونج سنائی دیتی، تب بھی وہ بے خوف دوسرے بچوں کی طرح جینا چاہتے تھے ، جب بھی ممکن ہوتا، کھیل کود  کرتے، اور جب ضرورت پڑتی، چھپ جاتے۔ یہ انکھ مچولی کا کھیل برسوں سے جاری تھا۔ ان کا گھر چھوٹا تھا، دراڑوں سے بھرا ہوا ، مگر محبت سے بھرا ہوا ۔ کھانا کم تھا مگر اللہ کا کرم تھا زیادہ تر دن روزے سے گزر جاتے تھے۔ ان کی ماں، ہاجرہ ، انہیں موم بتی کی روشنی میں پڑھاتی بھی تھی اور رات میں کہانیاں بھی  سناتی تھی، کیونکہ زیادہ تر راتوں میں بجلی نہیں آتی تھی۔ ان کے والد ان کی روح کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرتے، کیونکہ گھر اور سڑکیں اب محفوظ نہ تھیں۔اچانک ایک صبح،  زور دار آواز نے زمین کو ہلا دیا۔ گرج سے بھی بلند آواز ، بہت قریب۔ان کے گھر کے پاس

17