معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



404
6364
عاشقوں کی ہے سدا، عشق ہے قربِ خدا
سچ کہا جس نے کہا، عشق ہے قربِ خدا
انبیا کی جان ہے، اولیا کی شان ہے
عشق ہے نورِ خدا، عشق ہے قربِ خدا
عشق ہے خود میں مگن، عشق میں حق سے ملن
غیر ہوئے ماسوا، عشق ہے قربِ خدا

0
رَسُولُ اللہ کا ذِکرِ خَیر ہے، نُورِ مُبیں وَاللہ
جو گُزرے یاد میں اُن کی، وَہ ہے لمحہ حَسِیں وَاللہ
دُرُود اُن پر، سَلام اُن پر، ہَمیشہ بھیجتے رہنا
خُدا کا ہے پَسندیدہ عَمَل، یہ بِالیقیں وَاللہ
غُلامی اُن کی بخشی ہے خُدا نے اپنے بندوں کو
یہی دَولت ہے دُنیا میں، یہی حِصنِ حَصِیں وَاللہ

0
1
رَہے ہَر دَم مِرے لَب پَر لَب و رُخسار کا نَغمہ
کبھی کِردار کا نَغمہ، کبھی گُفتار کا نَغمہ
وُہ جِس نے آنکھ سے دیکھا ہے اُن کا بے مِثل چہرہ
سُنایا اُس نے پِھر ہَر سُو تِرے دیدار کا نَغمہ
مدینے کی ہَوا چُھو لے تو دِل بے خُود سا رہتا ہے
سُناتی ہے صَبا جِس دَم تِرے دَربار کا نَغمہ

0
6
بے غم تو یہاں ہم نے کسی کو بھی نہ دیکھا ہے
ہر شخص پریشاں ہے، ہر چہرہ بجھا سا ہے
تنہائی کی راتوں میں جب یاد تیری آئی
آنکھوں میں مری گویا طوفان سا اٹھا ہے
اپنوں نے دیا ہے جو یہ دردِ جگر ہم کو
کیا شرحِ الم کیجے، خاموشی ہی زیبا ہے

0
1
دیکھو! دیکھو! دیکھو تو کَشْمِیر کو بھی!!!
——
کَہتے تھے کَشْمِیر بنے گا پاکستان
بے سَر و سامان بَنا کے چھوڑا ہے
دیکھو! دیکھو! دیکھو تو کَشْمِیر کو بھی
ہَم نے پاکستان بَنا کے چھوڑا ہے

0
3
یاد تیری کے خزانے کو چُھپاؤں کیسے
چور بیٹھا ہے مِرے مَن میں بھگاؤں کیسے
تِرے معیار پہ آؤں تو مَیں آؤں کیسے
بے وفا دل میں تِرا پیار بَساؤں کیسے
تُو مِرے ساتھ ہے لیکن مَیں تِرے ساتھ نہیں
ساتھ تیرا مِرے ساتھی مَیں نِبھاؤں کیسے

0
47
اے ساقیِ میخانہ، ہوں برباد، ذرا سن
ہوں خاک نشیں آج، یہ روداد ذرا سن
کل زینتِ محفل تھا، مگر آج فراموش
اک ٹوٹے ہوئے جام کی فریاد، ذرا سن

22
زِنْدَہ اور شَہِید؟ یِہ کیسے مُمکِن ہے؟؟؟
——
تَوصِیف و تَنْقِید؟ یِہ کیسے مُمکِن ہے؟
کُہْنَہ اور جَدِید؟ یِہ کیسے مُمکِن ہے؟
یا تو ذِمَّہ دار بَنو یا چھوڑ دو سَب
زِنْدَہ اور شَہِید؟ یِہ کیسے مُمکِن ہے؟

0
4
دُکھ کی گٹھڑی پڑی ہے ڈھونے کو
عمر اک لگ گئی سمونے کو
میں بھنور سے نکل کے آیا ہوں
آ گئے ہو مجھے ڈبونے کو
پھول کھلتے نہیں بہار میں بھی
خار اب رہ گئے بچھونے کو

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

404
6364
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

19
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7973