معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6150
ہو سکے تو کبھی کبھی کرنا
گرچہ مشکل ہے زندگی کرنا
کارِ عصیاں ہے عیب لگتا ہے
اِس زمانے میں عاشقی کرنا
بزمِ جاناں سے اُٹھ کے جانے کا
صاف مطلب ہے خودکشی کرنا

0
3
ہم چھوڑ کر انا کو سرِ دار آ گئے
سمجھے تھے وہ کہ بن کے طلب گار آ گئے
دیکھا جو ہم نے رنگ بدلتے ہوئے یہاں
یاد اپنے وضع دار گنہگار آ گئے
جن کیلئے لٹائی تھی ہم نے متاعِ دل
پہلے صفِ عدو میں وہی یار آ گئے

0
5
بدلا ہے نہ بدلے گا، یہ رشتہ بھی نہیں بدلا
ہم لاکھ جدا تھے، وہ جذبہ بھی نہیں بدلا
اک عمر ہوئی لیکن اس دل کی اداسی کا
مفہوم نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا
برباد تو ہونا تھا، برباد ہوئے لیکن
دیوانوں کی بستی کا، نقشہ بھی نہیں بدلا

0
3
بَچّوں کو کبھی حَرام کا ایک لُقْمَہ بھی نَہِیں کِھلایا۔ زَرداری!!!
——
حَرام ہے جو ذَرا بھی مَلال ہو اِن کو
وہ اور ہوتے ہیں جِن کو مَلال ہوتا ہے
اِنہیں تو خَیر کوئی فَرْق ہی نَہِیں پَڑتا
کہ اِن کے ہاں تو سَبھی کُچھ حَلال ہوتا ہے

0
2
حال ایسا ہوا ہے کہ خوشی یاد نہ غم یاد
بس اس دلِ بے تاب کو ہے روۓ صنم یاد
ممکن ہے ہوا جاتا ہو دل میرا منافق
آئے کبھی مسجد تو کبھی دیر و حرم یاد
آج آکے بہت روئے وہ تربت پہ ہماری
آۓ ہیں مگر دیر سے یارو اُنھیں ہم یاد

6
44
ہم انتظار کی لذت سے ماورا تھے حسیب
پھر ایک روز کوئی لوٹ کر نہیں آیا

0
1
9
پھیلا ہے اسی شام کا منظر مرے آگے
جب نرم اندھیرے ہوۓ پتھر مرے آگے
حالات وہی تو وہی امید بھی تجھ سے
دشمن مرے پیچھے ہے سمندر مرے آگے
اک عمر سے پھر جاگتی آنکھوں کے مرے خواب
پیچھے مرے رہتے ہیں یا اکثر مرے آگے

63
2653
دو بار پتھروں سے ہے واسطہ پڑا
ٹھوکر لگی تھی تب اور اب جانتے ہیں آپ

0
2
ہمارا ایک بھی خط اس تلک نہیں پہنچا
ہمارے سارے کبوتر شکار ہوگئے ہیں

0
3
بابِ نبی پہ ملتی ہر درد کی دوا ہے
تریاق زہر کا بھی امراض سے شفا ہے
خیر الوریٰ حبیبی کونین کے ہیں سرور
اُن کی عطا سے حاصل دارین کو بھلا ہے
باراں ہیں رحمتوں کے سرکار کے نگر پر
شہرِ نبی پہ چھائی رحمت بھری گھٹا ہے

0
4
مِرے دِل میں جو ایک زُہْرَہ جَبِیں ہے
کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے
نگاہیں اُٹھائے یا پلکیں جھکائے !
ہر اک ناز اُس کا خدا آفریں ہے
کبھی نرم لہجے میں باتیں کرے جب
لگے جیسے نغموں بھری اِک زمیں ہے

5
وہ اور اِس کا اِسٹیل کا گِلاس!!!
——
دِل میں ہے چور اور تَوَہُّم پَرَسْت ہے
پِھرتی ہے لے کے ہاتھ میں اِسٹیل کا گِلاس
اَب اُس کے ساتھ اور کوئی جائے یا نَہ جائے
جاتا ہے اُس کے ساتھ میں اِسٹیل کا گِلاس

0
3
کوئی بھی غم کبھی تیرے قریب آ نہ سکے
تری نظر میں کوئی اشک مسکرا نہ سکے
الٰہی! دشتِ تمنا میں ایسی بارش ہو
کہ تیرے لب پہ کبھی پیاس سر اٹھا نہ سکے
ملے وہ تجھ کو محبت کہ تیرے آنگن سے
جدائیوں کا کوئی خوف سر اٹھا نہ سکے

0
10
پَڑھ کر دُرُود مانگو خَیرات خیر کی
اُنؐ کی طرف سے ہوگی بَرسات خیر کی
خَیْرُ الْاُذُنْ وہی ہیں، خَیْرُ الْوَریٰ بھی ہیں
خَیْرُ الْبَشَر پہ ہر دَم صَلْوات خیر کی
قائد ہیں خیر کے وہؐ، قاسم ہیں خیر کے
اُنؐ پر ہیں ختم ساری غایات خیر کی

1
31
بدلے موسم کا وہ احساسِ پرانا لا دے
اے مری عمرِ رواں! بچپنا میرا لا دے
چھین لی شہر کی رونق نے جو آنکھوں کی چمک
میری بستی، مرا دَرْپَن، مرا صحرا لا دے
اب نئے خواب مری جان کو آتے نہیں راس
وہی بھولا ہوا، معصوم سا سپنا لا دے

0
4
بن دیے کچھ ، دعا نہیں ملتی
بھیک میں بھی وفا نہیں ملتی
بے سبب حادثے نہیں ہوتے
پھر بھی لیکن وجہ نہیں ملتی
ہے مرض لا علاج الفت کا
دیکھ اس کی دوا نہیں ملتی

2
18
کونین میں نرالا دربارِ مصطفیٰ ہے
ہستی میں سب سے اعلیٰ دربارِ مصطفیٰ ہے
روشن جہاں ہیں سارے ماہِ مبین سے یوں
دارین کا اُجالا دربارِ مصطفٰی ہے
تاروں میں کس نے بانٹی خیرات روشنی کی
چندہ نے کہہ یہ ڈالا دربارِ مصطفٰی ہے

0
1
6
آنکھ برسوں سے رو رہی ہے تجھے
زندگی اب بھی ڈھونڈتی ہے تجھے
ایک آہٹ سجا کے پلکوں پر
بوند پانی کی سوچتی ہے تجھے
دشت کا نا تمام کیوں ہے سفر
شب ستاروں کی پوچھتی ہے تجھے

0
5
یُوں لَگتا ہے جیسے پِھر سے اِک بار بَدَلْنے والے ہیں
ہے کھیل پُرانا ہی لیکن کِردار بَدَلْنے والے ہیں
اللہ جانے یا وہ جانیں جو جو اِس کھیل کے ماہِرْ ہیں
سَرکار بَدلنی ہے یا پِھر سَرکار بَدَلْنے والے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7880
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6150
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
29