معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6134
یارو جینے کے لئے اک موجِ برہم چایئے
غم کی شدت میں بھی مجھکو تھوڑا دم خم چایئے
یہ متاعِ غم نشانِ زیست دیتا ہے مجھے
تیرا غم تھوڑا ہے مجھکو غم کا عالم چایئے
بےسکونی کا سبب ہے یہ سکونِ زندگی
خواہشوں کا سوگ ہو مجھکو بھی ماتم چائیے

0
3
کبھی وہ رنگ، کبھی وہ صدا پکارتی ہے
ہمیں تو اپنی ہی اک انتہا پکارتی ہے
ملی ہے زیست کی ڈوری بھی اک اشارے پر
نہ جانے کس کے لبوں کی دعا پکارتی ہے
جو اہلَ ظرف ہیں، وہ خامشی کو سنتے ہیں
انہیں تو دشت میں بھی اک نوا پکارتی ہے

0
3
کہیں پہ نور، کہیں پر غبار رہتا ہے
دلوں کے بیچ عجب انتشار رہتا ہے
وہ دیکھتا ہے جسے آنکھ دیکھ پاتی نہیں
وہی تو ہے جو پسِ روزگار رہتا ہے
عجیب شے ہے یہ اپنے ہی عکس سے ملنا
یہاں تو خود پہ بھی کب اختیار رہتا ہے

0
2
درِ مژہ پہ عجب اک قیام رہتا ہے
نگاہِ شوق میں تیرا ہی نام رہتا ہے
کبھی وہ رنگ، کبھی روشنی، کبھی وہ خواب
درونِ ذات عجب ازدحام رہتا ہے
جہاں پہ ختم ہے حدِ گمانِ اہلِ نظر
وہیں سے عشق کا پہلا مقام رہتا ہے

0
2
وہ لوگ جن پہ کھلا رازِ گفتگو، نہ ملے
کہاں کہاں نہیں پہنچی تھی جستجو، نہ ملے
یہ کائنات کی وسعت بھی ایک پردہ ہے
وہ ہر جگہ تھے مگر پھر بھی کو بہ کو نہ ملے
عجب مقام ہے یہ بھی کہ تھک گئے ہیں قدم
مگر وہ منزلِ جاں جس کی آرزو، نہ ملے

0
3
کہیں پہ پاؤں، کہیں سر دکھائی دیتا ہے
یہ کیسا راہ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
میں اپنی ذات کے صحرا میں گم ہوا جب سے
ہر ایک سمت سمندر دکھائی دیتا ہے
جو آنکھ کھول کے دیکھا، سراب دیکھا تھا
کسی کو اب بھی مگر گھر دکھائی دیتا ہے

0
2
سکوتِ شب میں جو اک بازگشت آتی ہے
وہ مجھ کو مجھ سے بہت دور لے کے جاتی ہے
فضا میں بکھرے ہوئے رنگ بولتے ہیں سبھی
مگر یہ آنکھ کہاں سب کو دیکھ پاتی ہے
اسی کے نور کی کرنیں ہیں ذرے ذرے میں
وہی ہے ذات جو منظر کو جگمگاتی ہے

0
4
کہیں پہ ختم یہ صحرا نہیں ہوا ہے ابھی
مرا سفر تو تماشا نہیں ہوا ہے ابھی
بہت سے رنگ ہیں بکھرے ہوئے سرِ مژگاں
مگر یہ منظر دھندلا نہیں ہوا ہے ابھی
وہ ایک بات جو سینے میں دفن ہے میرے
اسے کسی نے بھی سوچا نہیں ہوا ہے ابھی

0
1
خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائیں
چلو کہ اب کے ذرا لاشعور ہو جائیں
ہمارے ظرف کا سورج چمکنے والا ہے
شکست کھائیں تو ہم بھی غیور ہو جائیں
مقامِ دید سے آگے بھی ایک منزل ہے
جو ہو سکے تو سراپا حضور ہو جائیں

0
3
کبھی جو حد سے گزرنا ٹھہر گیا ہوگا
وہی تو ہے جو سنورنا ٹھہر گیا ہوگا
عجیب کرب ہے دریا کی خامشی میں بھی
کہ جیسے اس کا اترنا ٹھہر گیا ہوگا
جو بجھ رہا ہے وہ سورج نہیں ہے یاد تری
چراغِ جاں کا ابھرنا ٹھہر گیا ہوگا

0
1
کہیں پہ کوئی نشاں نہ مل جائے
جو کھو گیا ہے جہاں نہ مل جائے
میں ڈھونڈتا ہوں وہ حرفِ سادہ
کہ جس میں کوئی گماں نہ مل جائے
سفر میں ایسے بھی موڑ آئے
کہ اپنا ہی کچھ بیاں نہ مل جائے

0
2
نہ جانے کون سا منظر بدلنے والا ہے
پتنگا جاں سے گزر کر بدلنے والا ہے
وہ ایک ہجرت جو ختم ہی نہیں ہوتی
سنا ہے پھر کوئی گھر بدلنے والا ہے
ہوا کے ہاتھ میں ہے اب کے فیصلہ شاید
شجر کی شاخ کا تیور بدلنے والا ہے

0
4
عجب اک کیف کی صورت مری جاں میں سمائی ہے
بصارت کے دریچوں پر حقیقت مسکرائی ہے
تقاضا دل کا سنتے ہیں شبِ غم کی زبانی بھی
تڑپ کر بھی وہ اب برسے جو گیتوں میں رچائی ہے
سنا ہے دور سے میں نے دھڑکتے دل کے نالوں کو
سماعت نے عجب پر اسرار اک دنیا سجائی ہے

0
2
بِجْلی کی قِیمَت میں ایک پَیسَہ فی یُونٹ کی ہوش رُبا کَمی!!!
——
کیا حال بتائیں ہَم لوگوں کِس حال میں زِنْدَہ ہیں کَب سے
اِس ”حاتِم پائی“ کے ہاتھوں مُحتاج ہیں پائی پائی کے
وہ کَہتے ہیں نا اَپنی عِزَّت اَپنے ہاتھ میں ہوتی ہے
جو سَچ پُوچھیں تو مِیاں صاحِب حَق دار ہیں ہرزہ سرائی کے

0
1
سکوتِ شب میں عجب نغمگی ابھرتی ہے
سماعتوں پہ نئی روشنی اترتی ہے
میں حرفِ حق کو سجا دوں گا اب لکیروں میں
قلم کی نوک سے جب کائنات ڈھلتی ہے
تلاشِ ذات کے صحرا میں جل بجھے ہم بھی
یہ پیاس روح کے اندر کہیں پنپتی ہے

0
2
رہے نہ اپنی جگہ ہم جگہ بناتے ہوئے
کسی کو ہم نہ دکھے آئنہ دکھاتے ہوئے
عجیب کھیلا ہے قدرت نے عمر بھر ہم سے
شکستہ ہوتے گئے خود کو ہم بناتے ہوئے
وہ ایک خواب جو دیکھا نہیں گیا اب تک
اسی کے نقش ہیں دیوار پر بناتے ہوئے

0
1
اک خزاں کے جاتے ہی اک خزاں مقرر ہو
تھا ہماری قسمت میں امتحاں مقرر ہو
ریگزارِ ہستی میں خوف کے بگولے ہیں
الحذر مقرر ہو الاماں مقرر ہو
رات کٹتی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے
آس کے بڑھانے کو یہ گماں مقرر ہو

0
2
اے خدا تو مجھے اپنا جلوہ دکھا
اپنے عرفان سے پیاس دل کی بجھا
لن ترانی ہے فرمان تیرا بجا
جاگتے نے سہی خواب میں ہی تو آ

0
1
وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7854
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6134
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26