معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6132
اک خزاں کے جاتے ہی اک خزاں مقرر ہو
تھا ہماری قسمت میں امتحاں مقرر ہو
ریگزارِ ہستی میں خوف کے بگولے ہیں
الحذر مقرر ہو الاماں مقرر ہو
رات کٹتی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے
آس کے بڑھانے کو یہ گماں مقرر ہو

0
1
اے خدا تو مجھے اپنا جلوہ دکھا
اپنے عرفان سے پیاس دل کی بجھا
لن ترانی ہے فرمان تیرا بجا
جاگتے نے سہی خواب میں ہی تو آ

0
وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا

0
3
رنگ و بو میں رہتی ہو، اپنی بُو میں رہتی ہو
تم تو پیار کی اپنی، پیاری خُو میں رہتی ہو
عطرِ جاں چھڑک کر تم، جب بھی پاس آتی ہو
دیر تک مرے دل کی، جستجو میں رہتی ہو
منتظر رہو تم گھر، ہم رہیں کہیں باہر
تم ہمیشہ دنیا کی، ہاؤ ہُو میں رہتی ہو

0
4
بھارت کے آسماں پر شاہینوں کا تھا غلبہ
بھارت کی سرزمیں پر رافیلوں کا تھا ملبہ
اڑتے رہیں گے شاہیں گرتے رہیں گے کوے
کشمیر پر ہے جب تک ہندوستاں کا قبضہ

0
1
کبھی تو بزمِ جہاں سے پرے رہا جائے
کبھی کبھی تو ذرا خود سے بھی ملا جائے
حدودِ خاک سے آگے بھی وسعتیں ہیں بہت
پروں کو کھول کے اب تو کبھی اڑا جائے
یہ کیا کہ روز پرانی وہی کہانی ہو
اب اپنی ذات سے کچھ معتبر کہا جائے

0
2
کبھی تو عکسِ حقیقت عیاں کیا جائے
خود اپنے آپ کو اب رازداں کیا جائے
بہت ہی حبس ہے یادوں کی اس حویلی میں
دریچہ اب کوئی سمتِ گل ستاں کیا جائے
یہ مصلحت کی ردا اب اتار پھینکیں ہم
جو دل میں بات ہے اس کو بیاں کیا جائے

0
2
خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائے
جو دیکھ لے تجھے وہ چور چور ہو جائے
رہِ طلب میں عجب موڑ آ بھی جاتے ہیں
دعا یہی ہے ازالہ ضرور ہو جائے
تپش ہو ایسی مجھے اپنی آگ کی مولا
کہ میرا قلب سراپا ہی نور ہو جائے

0
2
کبھی تو خواب کی تعبیر کا ہنر نکلے
اگر صدف ہوں تو مجھ سے کبھی گہر نکلے
تلاشِ ذات میں نکلا ہوں اپنے اندر سے
دعا کرو کہ یہ میرا سفر ثمر نکلے
ہزاروں آئینے رستوں میں رکھ دیے اس نے
پتا چلے تو سہی رند در بدر نکلے

0
2
درد کی دھوپ میں یادوں کا شجر مل جائے
اب تو رہنے کو کوئی پیارا سا گھر مل جائے
شوقِ آوارگی لے آیا کہاں مقتل میں
ہم تو نکلے تھے کہیں اپنا ہی گھر مل جائے
کتنے طوفان چھپے بیٹھے ہیں خاموشی میں
کون جانے کہ کہاں چشمِ گلِ تر مل جائے

0
2
خاک میں مل گئے الفت کے گلستاں جاناں
اب کہاں وہ ترے وعدے، ترے پیماں جاناں
تیری صورت کو ترستی ہیں مری آنکھیں تو
کاش ہوتے کبھی تم بھی یہاں مہماں جاناں
وقت کی گرد نے دھندلا دیئے یادوں کے نقوش
بجھ گئے پیار کے روشن تھے جو امکاں جاناں

0
7
دلِِ ویراں میں کوئی خواب سجایا جائے
پھر کسی یاد کو چپکے سے بلایا جائے
شہرِ ظلمات میں تنہا کوئی گھومے کب تک
دیپ یادوں کا سرِ عام جلایا جائے
ریت پر لکھے ہوئے نام مٹائے نہ گئے
کاش اس دشت میں اک بار تو آیا جائے

0
5
مقامِ عشق پہ ٹھہری ہے کائنات نئی
ذرا قریب سے سن جو ہوئی ہے بات نئی
وہ شورِ حشر جو برپا تھا گرد و پیش مرے
اسے جو چپ لگی، نکلی ہے ایک بات نئی
میں لفظ لکھتا گیا سب حقیقتوں کی طرح
ہر ایک حرف سے کھلتی ہے کائنات نئی

0
4
یکتا خلق میں اُن کو مولا نے خود بنایا
کوئی سنا نہ اُن سا کوئی کہیں نہ پایا
مخلوقِ کبریا میں سایہ نہیں نبی کا
خلقِ خدا پہ لیکن رکھا نبی نے سایہ
نامِ حبیب سرور پونجی گراں ہے یارو
دولت ہے یادِ جاناں ذکرِ نبی ہے مایہ

0
1
4
کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے
میرے سرکار جیسے بدل سے گئے
ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر
ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے
دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا
دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے

0
4
محبت کی کئی تفسیریں لکھی گئیں،
مگر آخری تفسیر میں
کاتبِ تقدیر نے
حاشیے پر
فقط ایک لفظ لکھا —
“ماں”

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7854
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6132
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
25