معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6140
کرے لپیٹ میں جو ہم کو جوش، عِطر فروش
خرد نہ کام میں آئے نہ ہوش عِطر فروش
ہے تیرے عطر کی مہکار کی لپیٹوں میں
کچھ ایسا کیف، ہؤا سرفروش، عطر فروش
ہمارے گاؤں میں اک شخص شیشیاں لے کر
صدائیں دیتا پھرے (بادہ نوش)، عطر فروش

0
اَدھیڑ عُمْر بابوں کی ”شادی“ کا دَعْوَت نامَہ !!!
——
بزرگ چُونْکہ ہیں مَقبُول اَپنے حَلقے میں
جَناز گاہ ہوئی یا کہ ہال، فُل ہوں گے
صَلائے عام ہے شُرَکاء کو دونوں صُورت میں
اگر وَلِیمَہ نَہ ہو پائے گا تو قُل ہوں گے

0
1
ایک زمانہ اپنا بھی انجانا بھی
یاد میں تازہ بھی ہے اور پرانا بھی
وقت گلی کوچوں میں خوب گزرتا تھا
کھیلنا کو دنا ہنسنا اور ہنسانا بھی
سندر یادیں اب بھی ذہن میں تازہ ہیں
سر کی مار سے وہ یاروں کا ڈرانا بھی

0
2
وطن میں اقتدار کی جو جنگ ہے
غریب ان سیاستوں سے تنگ ہے
نما ئشی ہیں اختلاف ان کے بیچ
کمائی ایک دوسرے کے سنگ ہے
کمیشنیں ہیں لوٹ مار ہے یہاں
وطن کے مال کو لگی سرنگ ہے

0
1
ہے ظلم و ستم ہر سمت رواں
امت کا حال ہے سب پہ عیاں
کہیں آگ لگی ہے گلشن میں
چھایا ہے فلک پر ایک دھواں
کیا بھول ہوئی ہے مالی سے
کیوں ٹھہری ہے یہ فصلِ خزاں

0
2
شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
میرے آنسو کبھی نہیں رکتے
میں ہمیشہ وضو سے ہوتا ہوں

0
2
سب چور مرے شہر کے نگران ہوئے ہیں
دشمن ہی مری جاں کے نگہبان ہوئے ہیں
ہر ایک برائی کی شروعات ہے ان سے
جتنے ہیں برے سب ہی وزیران ہوئے ہیں
مذہب کی لیے آڑ مقاصد یہ نکالیں
امت کی مصیبت یہی شیطان ہوئے ہیں

0
2
زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر تو نہ چبھاؤ
نرم دلوں کو قریب بلاؤ
نرمی کی عادت کو اپناؤ

0
3
درپیش ہمیں ہجر کے آزار بہت تھے
الفت کے سبھی راستے دشوار بہت تھے
بخشش نہ ہماری ہوئی دنیا کی نظر میں
ہم سے بھی بڑے صاحبِ کردار بہت تھے
شکوہ نہ شکایت ہے زمانے سے کوئی بھی
دل ٹوٹا ہے ہم خود بھی خطا کار بہت تھے

0
1
افسوس ہے کہ اس کی محبت بکھر گئی
بن اس کے زندگی مری کیسے گزر گئی
پل بھر میں اس نے کیسے ہے مجھ کو بھلا دیا
ہلکی سی اک کسک تھی جو دل میں اتر گئی
صورت فقط نہیں تری سیرت بھی خوب ہے
نظروں سے پار ہو کے اثر دل پہ کر گئی

0
2
جو ہر بات پہ امن کا بھاشن دیتے ہیں
پوچھ انھی سے پھول یہاں کیوں مرتے ہیں
جو لوگوں سے نفرت کا ہی سکھاتے ہیں
مذہب کو بدنام وہی تو کرتے ہیں
سوئے ہوئے ہیں دیس کے حاکم دیکھو تو
جال عدو سازش کا کھل کر بُنتے ہیں

0
2
مری بیوی ہمیشہ مجھ پہ پابندی لگاتی ہے
اسے مرضی چلانی ہے وہ بس اپنی چلاتی ہے
نہیں ٹی وی کے آگے بیٹھنے دیتی مجھے کچھ پل
نہ مانوں میں اگر اس کی مجھے آنکھیں دکھاتی ہے
مرا کچھ وقت موبائل پہ اچھا بیت جاتا تھا
نہ جانے کیوں وہ موبائل سے بھی اب خار کھاتی ہے

0
3
یہ سر پر ہاتھ رکھ تیرے قسم جو میں نے کھائی ہے
نہ چھوڑے گا کبھی تنہا محافظ تیرا بھائی ہے

0
صحرائے محبت میں بہت خوار ہوئے ہم
پھر بھی اسی اک گل کے طلبگار ہوئے ہم
آزاد ہوئے دنیا کے سب رنج و الم سے
جب سے تری الفت میں گرفتار ہوئے ہم
تھی تشنہ لبی اور بیابانِ محبت
جامِ مئے الفت سے سرشار ہوئے ہم

0
5
لَہجہ ہے دِلبَرانہ میرے حضورؐ کا
ہر لفظ عارفانہ میرے حضورؐ کا
مُسکانِ سَروری ہے مِشکات نُور کی
دیکھو یہ مُسکرانا میرے حضورؐ کا
فاقہ ہے گھر میں لیکن دستِ عطا ملا
لَنگر ہے بیکرانہ میرے حضورؐ کا

0
6
عجب اک کرب دل پر چھا رہا ہے
سکوتِ شب مجھے ڈستا رہا ہے
زمانے کی ادا ہے تلخ لیکن
لب و لہجہ مرا شُستہ رہا ہے
ہمیشہ ہی نگاہوں میں ہماری
کوئی منظر ادھورا سا رہا ہے

5
پھرتے ہیں دشت دشت ترے غم کے مارے ہم
اب تک نہ اپنے دل سے ہوئے ہیں کنارے ہم
اک درد تھا سو شہرِ تمنا میں بس گیا
کرتے پھرے ہیں عمر بھر اس کے سہارے ہم
دل کی خرابیاں تھیں کہ ویران ہو گئے
ورنہ تھے شہر زیست کے روشن منارے ہم

0
11
دل اُٹھ گیا ہے شہرِ بتاں، جاں ستاں سے اب
بیٹھے ہیں جا کے گوشۂ درد و فغاں سے اب
آتی نہیں ہے بُو بھی کسی آشنائی کی
وحشت سی ہو رہی ہے ہمیں اس مکاں سے اب
ہم اشک تھے سو خاک میں آخر ملا کیے
دریا الگ ہے ورنہ نہیں آسماں سے اب

0
7
دل کہ غم کا کوئی خزینہ تھا
زخموں سے چھلنی اپنا سینہ تھا
دورِ اک بادۂ شبینہ تھا
گو مقدس بڑا مہینہ تھا
گزرے وقتوں کی یہ کہانی ہے
ایک دریا تھا اک سفینہ تھا

0
3
اَنْمول کوکِین کیس کا مَنطِقی اَنْجام!!!
——
کوکِین نَہِیں تھی بِالْکُل بھی
اِس کا تو خالی ڈَر ہی تھا
کُچھ دِن میں خَبَر آ جائے گی
وہ بال صَفا پَوڈَر ہی تھا

0
1
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7859
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6140
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26