معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6560
یہ سلسلہ ہے بہتریں، سِکھائے ہم کوعلمِ دِیں
یہ ذہنی آزمائش ہے، فِدا ہیں جِس پہ ناظریں
سوال ہیں جواب ہیں، کیا خوب پیچ و تاب ہیں
مُقابلے کی ہے فَضا، فَضا بڑی ہی دِل نشیں
کیا شان کا نصاب ہے، سجا ہر اک ہی باب ہے
اُنھی کے سب ہیں تذکرے، منائیں جن کی بارہویں

0
3
میں اپنی عمر کو برباد بھی نہیں کہتا
کہ میرے ہاتھ سے کتنے چراغ روشن ہیں
مگر یہ روشنی میری گواہ ہو کیسے
کہ میرے اپنے ہی کچھ خواب آج مدفن ہیں
میں لوٹ جاؤں تو کس موڑ سے سفر بدلوں؟
کہ ہر قدم پہ کسی کی حیات رکھی ہے

0
کسی نے مجھ سے کبھی اپنے دکھ چھپائے نہیں
میں ان کی آنکھ سے ہر اضطراب پڑھتا رہا
وہ اپنے زخم دکھاتے رہے مجھے، اور میں
خود اپنے زخم چھپاتا رہا، سنبھلتا رہا
مرے سکوت کو سب نے مری رضا سمجھا
مری ہنسی کو مرے حال کی خبر جانا

0
3
وہ ایک بچہ ستاروں کو دیکھ کر خوش تھا
کہ جیسے دور سے کوئی اسے بلاتا ہو
ہر ایک نور میں پوشیدہ کوئی راز اسے
کسی نہ دیکھی زباں میں سنائی دیتا ہو
میں آج جانتا ہوں، روشنی صدا تو نہیں
نہ کوئی خط ہے، نہ پیغام، نہ کوئی مکتوب

0
3
کبھی یہ سوچ رکھا تھا، کبھی فرصت ملے گی تو
کسی دن زندگی اپنی بھی کچھ فرصت سے دیکھیں گے
ابھی تو قرض ہیں، رشتے ہیں، وعدے ہیں، تقاضے ہیں
کبھی ان سب سے فرصت ہو تو اپنی سمت دیکھیں گے
پرانے کاغذوں میں آج اک سوکھا ہوا گل تھا
وہی جو میں نے برسوں قبل اک موسم سے مانگا تھا

0
5
مجھے حیات نے رستے ہزار بخشے تھے
ہر ایک راہ پہ اوروں کا بھی تقاضا تھا
میں اپنے خواب کی جانب قدم بڑھاتا بھی
تو میرے سامنے اپنوں کا کوئی چہرہ تھا
مرے خلاف نہ کوئی تھا، پھر بھی جانے کیوں
تمام عمر مرے فیصلے خلاف رہے

0
5
مرے بزرگوں نے مجھ کو یقین سونپا تھا
میں اس یقین کی بنیاد کھوجنے نکلا
وہ روشنی جو کئی نسلوں کی امانت تھی
میں اس چراغ کی ماہیت پوچھنے نکلا
ہر ایک کشف نے اک اور شک کو جنم دیا
ہر ایک جواب نے اک اور باب کھول دیا

0
1
عجب ہے علم کا سودا، عجب خسارہ ہے
کہ جس نے راز کو پایا، وہ بے سہارا ہے
وہ جس کی آنکھ پہ روشن ہوئے ہزاروں جہاں
اسی کی زیست پہ اک مستقل اندھیرا ہے
میں کائنات کے اسرار کھوجتا ہی رہا
مگر خود اپنی مسرت کا راز پا نہ سکا

0
1
یہ درندے ہیں ہوس کے، ہیں شیاطیں کی سپاہ
ہر طرف کرتے پھریں جو، بے گناہوں کو تباہ
آبگینوں کو یہ توڑیں، توڑ ڈالیں پتیاں
خوف سے ویران کر دیں، شہر کی سب بستیاں
کر رہے ہیں یہ تقدس والے رشتوں کو ہلاک
ان کی فطرت میں رذالت، ان کے چہرے شرمناک

0
1
تیری ہستی گر کسی کے واسطے بھی بار ہے
سجدہ تیرا، بندگی تیری سبھی بیکار ہے
دوسروں کو جو اذیت دے رہا ہے رات دن
رحمتِ رب کا بھلا کب آدمی حقدار ہے؟
کس لیے ہے پھر تجھے اپنی عبادت پر غرور
جب ترا ہم جنس ہی تجھ سے سدا بیزار ہے

0
1
نکلے جو اک بھنور سے تو لاچار ہو گئے
ہم پھر نئے بھنور میں گرفتار ہو گئے
اپنا سمجھ رہے تھے جسے، غیر تھا وہی
چہرے سبھی کے ہم پہ نمودار ہو گئے
تعمیر کر ہی لیتے، یقیں کا محل مگر
دشمن ہی ان فصیلوں کے معمار ہو گئے

0
2
عہدِ وفا بھی ختم ہوا وہ بدل گیا
مجھ میں بسا وہ شخص بھی مجھ سے نکل گیا
دونوں گرا سکے نہ جو مل کر انا کے بت
آخر تعلقات کو سارے نگل گیا
حیران ہوں کہ فرقتوں کا کیا اثر ہوا
وہ بھی سنبھل گیا ہے تو میں بھی سنبھل گیا

0
8
اس رحمتِ عالم کی ہر بات نرالی ہے
محبوب ہیں قادر کے جو ذات جلالی ہے
قاسم ہیں وہ نعمت کے ہر فیض ملے اُن سے
فیضان سے سرور کے پُر دہر کی تھالی ہے
سلطانِ جہاں شامل سرکار کے بردں میں
کونین میں یہ ہستی ہر عیب سے خالی ہے

0
1
3
کچھ اختیار ملتا تو اختیار کرتے
اپنی خوشی سے پھولوں کا کاروبار کرتے
اب ذکر کیا کریں اس مفلوج زندگی کا
ضد تھی کسی کو یہ جان اس پر نثار کرتے

1
نام غوثِ پاک کا لیتے ہی ہمّت آگئی
میں بہت کمزور تھا بازو میں طاقت آگئی
اک نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتا ہے سب
آپ نے جس پر نظر ڈالی لیاقت آگئی
آپ کو جب دیکھنے کی آرزو ہو مجھ کو بھی
میری آنکھوں میں شہِ جیلاں کی صورت آگئی

0
1
اَشْک آنکھوں کے سنبھالے میں نہیں آئیں گے
یہ شرارے ہیں پیالے میں نہیں آئیں گے
دل کی وُسْعَت کا تقاضا ہے سمندر جیسا
ہم ندی کے تو کنارے میں نہیں آئیں گے
ہم فقیروں کی طبیعت میں خودی اتنی ہے
ہم ترے رزق کے کاسے میں نہیں آئیں گے

0
8
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6560
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

53
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8054