معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6556
ہم اپنے آپ سے کب کے جدا ہوئے ہوں گے
کسی کے ہونے کی خاطر فنا ہوئے ہوں گے
وہ جن کو ہم نے محبت کا فلسفہ سمجھا
وہ چند لفظ تھے، آخر ہوا ہوئے ہوں گے
یہ اور بات کہ ہم نے گلہ کیا ہی نہیں
تمہارے ظلم بھی شاید روا ہوئے ہوں گے

0
3
تمہارا ساتھ تو مجھ کو زمانے بھر سے پیارا ہے
تمہارے واسطے تو چھوڑنا دنیا گوارا ہے
کبھی تم نے مری جانب محبت سے نہ دیکھا ہے
مگر دل نے تمہیں اپنا سمجھ کر ہی پکارا ہے
نہ دنیا سے شکایت ہے نہ قسمت سے گلہ کوئی
تمہاری چاہ نے تنہا مرا جیون سنوارا ہے

0
ظُلْم اَور جَبْر کے اَطْرَاف کَٹَہْرا ہوگا
حُسْنِ ظَن ہے کہ نَیا دَور سُنَہْرا ہوگا
بات خَنْجَر کی طَرَح دِل میں اُتَر جائے گی
بات کا زَخْم سَمُنْدَر سے بھی گَہْرا ہوگا
وہ اَگَر چاہیں گے بَدْلیں یہ نِظامِ ہَسْتی
‏ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا

0
1
سرچ گوگل پر کرو تم، یا پڑھو کوئی کتاب
ہے مری تخلیقِ خالص، یہ نہ ہوگی بازیاب

0
4
چار حرفوں کی محبت، اک بہانہ ہو گیا
دشمن اب تو شادؔ کا سارا زمانہ ہو گیا

0
3
کبھی ہم گم رہے تیری محبت کے خیالوں میں
ہمیں اب اپنی تنہائی سے ہی فرصت نہیں ملتی

0
2
اَب ایک نَہِیں دو قَوْمیں ہیں!!!
—
اَب ایک نَہِیں دو قَوْمیں ہیں
اِک اَوج پَہ، اِک اُترائی میں
اِک تو اَوْقات سے باہَر ہے
دُوجی غُرْبَت کی کھائی میں

0
1
دل میں ایمان کی دولت ہو ضروری ہے بہت
بس محمد سے محبت ہو ضروری ہے بہت
ہر نَفَس رب کی عبادت ہو ضروری ہے بہت
دل میں سرکار کی الفت ہو ضروری ہے بہت
یاد فرماتے ہیں امت کو سدا پیارے نبی
یہی امّت کی بھی عادت ہو ضروری ہے بہت

0
2
ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید
یہ علم و ادب اور دینی شَغَفْ سب چھوڑ چلے مولانا سعید
ہر سَمْت ہی بس ہے آہ و فُغاں، ڈوبا ہے غمِ فُرقت میں جہاں
ہر دل میں ہے اُن کا دردِ نہاں ، اشکوں سے بھری ہر آنکھ یہاں
دامن کو یوں اپنے بزم جہاں، سے موڑ چلے مولانا سعید
ندوہ کی فَضاء سے خُلدِ بریں کی اورْ چلے مولانا سعید

0
4
مِری بیٹی مِرے مالک کی نعمت
رہے اُس پر سدا تیری یہ رحمت
کبھی اُس کے قدم کو غم نہ پائے
مِلے اُس کو زمانے کی مسرت
مِلے اُس کو سدا دانش کی دولت
رہے روشن سدا اُس کی ذہانت

0
8
شب میں ہجر و وصال رہتے ہیں
دل میں الجھے سوال رہتے ہیں
جسم کو گو کہ اک عداوت ہے
روح کو بھی ملال رہتے ہیں
کس کو حاصل عروج ہستی کا
اس کو خوفٍ زوال رہتے ہیں

0
3
دریچے ، کھڑکیاں، در بولتے ہیں
ترے عاشق برابر بولتے ہیں
پیاسے دشت کے خاموش قصے
ہمارے ہی سمندر بولتے ہیں
سماعت کے دریچے کھولتے ہیں
مری آواز کے پر بولتے ہیں

0
3
عاجزی اوڑھ کے جو خود کو جھکایا میں نے
لوگ کم ظرف تھے اتنے کہ خدا بن بیٹھے
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6556
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

52
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8053