معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6583
سِتَم تیرے نَہ ہونے کا جو جھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
یِہ کَیسا اِک تَماشا ہَے جو کھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​کَمی مُجھ مَیں ہی اَیسی ہَے کِہ تیرا ہَر کَہا مَانا
تَبھی اِس اِمتِحاں مَیں خُود جو فیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​مُحَبَّت کے زَمانے مَیں جو لِی تھِیں چُوڑِیاں مَیں نے
مُحَبَّت رَہ نَہ پائی، کَر تو سیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں

0
1
مری کوئی عیادت کو نہ آئے
مرا ہوں یار زندہ تو نہیں ہوں

0
3
گزرے ہم پر عذاب لکھیں گے
عشق پر ہم کتاب لکھیں گے
لکھیں گے ہر ستم زمانے کا
اس پہ تیرا شباب لکھیں گے
سر کو چڑھتا ہے اک نشہ جن کا
ہم وہ آنکھیں شراب لکھیں گے

0
اخلاق و عمل کے پیکر ہیں وہ فخرِ چمن مولانا رفیق
اور علم و ہنر کے محور ہیں وہ تاجِ سُخَن مولانا رفیق
الفاظ میں موتی بکھرے ہیں، انوارِ ہُنَر بھی نکھرے ہیں
ہر حرف سے چشمے ابھرے ہیں، وہ علمی گَگَن مولانا رفیق
لہجے میں خوشی کا نغمہ ہے، ہنس ہنس کے پڑھانا شیوہ ہے
نورانی سا روشن چہرہ ہے، وہ مشک خُتَن مولانا رفیق

0
5
زندگی کے راستے پر
چلتے چلتے
رک گیا ہوں
سوچتا ہوں
کیا یہی منزل ہے میری؟
یا مسافت اور بھی ہے؟

0
7
چلو دل کی بستی بسا کر تو دیکھو
کبھی رسمِ الفت نبھا کر تو دیکھو
​گھٹا غم کی چھائی ہوئی ہے دلوں پر
ذرا شمعِ چاہت جلا کر تو دیکھو
​ہوائیں ہیں نفرت کی چلتی ہر اک سو
گھروں کو وفا سے سجا کر تو دیکھو

0
10
بھلا کر یہ جھوٹے زمانے چلیں ہم
چلو اب پرانے ٹھکانے چلیں ہم
​یہاں کوئی اپنا نہیں ہے کسی کا
سمجھ کر یہ سارے بہانے چلیں ہم
​وفا کا طریقہ بدل کر دکھائیں
نئی اک روایت بنانے چلیں ہم

0
5
ہجومِ شہر میں دل کا پتا نہیں ملتا
صدائے ذات کا اندر سرا نہیں ملتا
​بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکون کا کوئی خلا نہیں ملتا
​تعلقات میں ایسی تھکن سی طاری ہے
ہمارے حال پہ کوئی خفا نہیں ملتا

0
7
نعت کہنا زندگی ہے، نعت کہنا بندگی
نامِ احمد ﷺ سے ملے دل کو سکون و تازگی
آپ کی سیرت چراغِ راہِ اہلِ حق بنی
آپ کے کردارِ کامل سے ملی فرزانگی
آپ کی الفت سے روشن ہے دلِ اہلِ وفا
تا ابد قائم رہے مولا یہی دیوانگی

0
4
اے جانِ من نہیں چھوڑا تجھے بدنامی کے ڈر سے
یہ تیرا ظرف ہے تو میرا کب تک ساتھ دیتا ہے

0
4
کوئٹہ: شَہِید پائلٹس کی نَمازِ جَنازَہ کی پُوسٹ پَر 30 ہزار ہَنسنے والے شَرْمْناک اِیموجی!!!
——
کاش کہ وہ تَب بھی یُوں خُوشی مَنا پائیں
کاش کہ جَب اُن کے اَپنے مَحبُوب مَریں
جو جو بھی شُہَدا کی مَوت پَہ ہَنستے ہیں
وہ ذِلَّت کی مَوت مَریں اور خُوب مَریں

0
1
قدم کبھی رکھا نہیں فساد میں
امیر نکلے گے حقوق العباد میں
سوال منتظر رہے جواب کے
جلا نہیں کوئی چراغ یاد میں

2
وقت ناکام رہا زخم کو بھرتے بھرتے
سوزِ دل اور بڑھا عمر کے ڈھلتے ڈھلتے
بے سبب کتنی برستی ہی رہیں گی آنکھیں
تھک گئے اشک مری چشم سے بہتے بہتے
عمر بھر جس کی وفاؤں کے قصیدے لکھے
اجنبی جیسا ملا راہ میں چلتے چلتے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6583
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

54
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8065