معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6539
ہم نے چاہا اسے ہم بھی چاہے گئے
دل یہ پھر کیوں ہمارے دکھائے گئے
جان بے تاب تھی، دل بھی بے چین تھا
اس قدر عشق میں ہم ستائے گئے
آسمانوں پہ تھے ہم محبت میں کل
خاک پر آج کیسے گرائے گئے

0
4
یہیں رہنا
ابھی کچھ دیر مرے ساتھ یہیں رہنا
جب یہ شہر
اپنے دروازے بند کر کے
اپنی آہٹ سے بھی ڈرنے لگے
جب گلی گلی

0
3
ان کے نام
جو رات کی آخری بس میں
کھڑکی کے شیشے پر
اپنا تھکا ہوا شہر دیکھتے ہیں
ان کے نام
جن کی جیب میں تنخواہ سے پہلے

2
11
فیصلہ دل کے مطابق ہو، ضروری تو نہیں
ہر کوئی اپنے موافق ہو، ضروری تو نہیں
مانا اخلاص کے پیکر ہیں یہاں سب، لیکن
کوئی ان میں نہ منافق ہو، ضروری تو نہیں
صاف لفظوں میں بیاں کیجیے اپنا قصہ
ہر کوئی واقفِ منطق ہو، ضروری تو نہیں

5
اگر میرے یہ لفظ
تمہارے کمرے کی دیوار سے
ایک سایہ بھی کم کر سکتے
اگر میرے ہاتھ کی حرارت
تمہاری رات سے
ایک ساعت کی سردی چرا سکتی

0
4
بس یہ رات اور سہی، میرے رفیق
صبح کا ذکر ابھی رہنے دو
شہر کے بند دریچوں کے تلے
کتنی آوازیں دبی رہتی ہیں
کتنے چہرے ہیں جو دن بھر ہنس کر
رات بھر آئینوں سے بچتے ہیں

0
3
جاؤ، جا کے کہیں گُم ہو جاؤ
یادِ رفتہ! مجھے یوں مت تڑپاؤ
وقت کا پنچھی جو اُڑ چکا ہے
مجھ کو اب یاد نہ اُس کی دلاؤ
ہو گئے دفن جو سپنے سارے
اُن کی قبروں پہ دیے مت جلاؤ

0
5
ترا عشق جوہرِ بندگی تری یاد میری صلوۃ ہے
تری نام باعثِ چین ہے ترا ذکر وجہِ نجات ہے
مجھے ہر گھڑی تری جستجو مری بات میں تری گفتگو
تجھے دیکھنا مری آرزو یہ حیات اصلِ حیات ہے

0
5
مرے دلربا مری ذات میں نہ جلال ہے نہ جمال ہے
میں کہیں نہیں میں کہیں نہیں مرے حال میں ترا حال ہے
مجھے دو جہاں سے نہیں غرض مجھے بس ترا ہی خیال ہے
یہ تری نظر کا کمال ہے نہ وبال ہے نہ زوال ہے
ترے عشق نے مرے نازنیں مجھے بخش دی ہے وہ بے خودی
نہ جنوں رہا نہ سکوں رہا نہ فراق ہے نہ وصال ہے

0
17
ہم نے دروازے آہستہ کھولے مگر
پھر بھی گلیوں نے آہٹ ہماری سنی
ایک خاموش چہرے نے دیکھا ہمیں
اور آنکھوں نے چپ چاپ کچھ کہہ دیا
ہم نے چاہا فقط اتنا، پردہ ہٹے
جو نظر سے چھپا تھا، نظر آ سکے

0
11
دل میں جو گرد ہے، اس کو اڑنے بھی دو
بند دریچوں کو اک دن تو کھلنے بھی دو
ایک موسم ہے جو گھر میں ٹھہرا ہوا
اس کو گلیوں کی آواز چھونے بھی دو
شہر دیوار پر کان رکھے ہوئے
اپنی آہٹ سے خود ڈر رہا ہے ابھی

0
6
بہت سے چہروں میں اپنا گماں نہیں ملتا
کبھی کبھی تو خود اپنا نشاں نہیں ملتا
وہ بچپنا جو گلی میں کہیں پہ چُھوٹا تھا
پھر عمر بھر بھی ہمیں وہ وہاں نہیں ملتا
عجیب شہر ہے، آواز سب کی سنتا ہے
مگر کسی کو یہاں رازداں نہیں ملتا

0
8
تم پوچھتے ہو کیسا ہے اور کیا ہے محمد
سن غور سے میں کہتا ہوں کیسا ہے محمد
ایمان ہے میرا یہ عقیدہ ہے یقیں ہے
دنیا میں محمد سا نہیں کوئی حسیں ہے
ثانی کوئی دنیا میں محمد کا نہیں ہے
اک میں ہی نہیں اس پہ فدا ساری زمیں ہے

0
11
آنکھ جب انتظار کھوتی ہے
زندگی اعتبار کھوتی ہے
ایک تصویر جو نظر میں رہے
رفتہ رفتہ نکھار کھوتی ہے
نیند آنکھوں سے روٹھ جائے تو
رات اپنا وقار کھوتی ہے

0
8
مقدر ہیں سوئے جگا لیجئے
حسیں نامِ احمد سدا لیجئے
ہے مجلس سجی آج میلاد کی
لگی پاک محفل جگہ لیجئے
خدا بھیجے اُن پر درود و سلام
یہ اپنا وظیفہ بنا لیجئے

0
5
سرِ اوجِ فلک پر ہیں حبیبِ کبریا آئے
حضورِ حق میں جانِ جاں نبی بدرِ دجیٰ آئے
مَلک جبریل امبر میں مقامِ سدرہ پر ٹھہرے
حرم نوری میں یزداں کے حبیبی مصطفیٰ آئے
خدا نے خاص بندے کو دیے تحفے گراں نادر
لئے چابی ارم کی بھی کریمِ دو سریٰ آئے

1
5
گونج رہی ہے ایک صدا، تُم کو مُبارک لاکھوں بار
خوب ہی جھنڈا گاڑ دِیا، تُم کو مُبارک لاکھوں بار
اعلی سے اعلی ایک نِظام، تھی تدبیر تُمھاری تام
دیکھ کہ سینہ ٹھنڈا ہُوا، تُم کو مُبارک لاکھوں بار
کُچھ کے خدشے دُور ہوئے، کُچھ کے دل مسرُور ہوئے
دِل شیطان کا خُوب جَلا، تُم کو مُبارک لاکھوں بار

0
8
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6539
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8032