معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6089
مجھے جو چاہو تو بھول جاؤ تمہاری مرضی
ہاں میرے دل سے ختم نہ ہو گی تری محبت
بلا تکلف تمہیں اجازت ہے ہر ستم کی
کوئی کرے کیوں سوا تمہارے ہے کس کی جرات

0
6
بنے ہیں قاتل تمہارے تیور
نظر کے بھالے سخن کے نشتر
سقوط دل ہے ترا تبسم
گرا دے پل میں ہزار لشکر
تمہاری پلکوں کی ایک جنبش
کرے ہزاروں ہی لوگ پاگل

0
2
آ گیا یار کا خیال مجھے
ورنہ اتنا نہیں ملال مجھے
پوچھتا ہے گئے دنوں سے دل
ہجر بہتر ہے یا وصال مجھے
کرب باقی ہے شام میں لیکن
کر رہی ہے تھکن نڈھال مجھے

0
3
ہر تھاں ہی جہالت دے کھوبے نیں
چوہاں پاسے ہی دسدے ٹوبے نیں
گجیاں چوٹاں ادھ مئوا کر دتا
تے پھلاں نے وی کنڈے چوبھے نیں
نفرتاں دے دریاواں وچ ملاں
بندے وٹیاں وانگ ہی ڈوبے نیں

0
3
سوالی ہیں کوچہء و بازار میں
یہ دن بیت جاتا ہے تکرار میں
اجالا چراغوں کا بڑھتا نہیں
سحر کی تجلّی سے مقدار میں
ابھی آشنائی کا آغاز تھا
ہوئے بے تکلف وہ اظہار میں

0
3
وہ ہم کو راہ راست پہ لاتے ہی رہ گئے
اس کام میں وہ مات گو کھاتے ہی رہ گئے
ہم کو کوئی بھی مے نہیں مخمور کر سکی
وہ ہم کو جامِ عشق پلاتے ہی رہ گئے
وہ ان سنی کیے گئے ہر بات سب ہی کی
دکھ درد ان کو ہم بھی سناتے ہی رہ گئے

0
5
سوالوں میں آئے جوابوں میں آئے
خیالوں پہ چھائے وہ خوابوں میں آئے
 تَصور سے نکلے نِگاہوں میں آئے
 سِتاروں سے اُترے گُلابوں میں آئے
مِرے شعر اُن کا سَراپا دِکھائیں
وہ بَن کے رُباعی کِتابوں میں آئے

18
سکوں پانے کی خواہش میں سبھی آرام بیچا ہے
ہمارا کام تھا بکنا سو اپنا کام بیچا ہے
بکا ہے گھر کروڑوں میں فقط افسوس ہے اتنا
وہاں بچپن کی یادیں تھیں جنہیں بے دام بیچا ہے
مقدر کا ستم دیکھو جہاں میں زندہ رہنے کو
کسی نے خون بیچا ہے کسی نے نام بیچا ہے

4
مجھے اے زندگی برباد کر دے
تمام اپنا یا استبداد کر دے
بھلا یا میں برا ہوں شاد کر دے
جو دل میں ہے وہ یا ارشاد کر دے
بقا کا ہم نے یہ دیکھا کرشمہ
کبوتر کا جگر فولاد کر دے

0
3
خوشی آئی تھی لیکن جا چکی ہے
ہماری بزم اب بھی ماتمی ہے
عجب اک حبس ہے میرے نگر میں
ہوا ٹھہری ہے، بستی بولتی ہے
جہاں میں وحشتوں کے درمیاں ہوں
میری ہر سمت رقصاں خامشی ہے

0
1
کم ہی ہیں جو یہاں وفا کریں گے
کریں گے جو بے موت وہ مریں گے
بیٹھے ہیں پنچھی جو شجر پر نم
خُشک موسم میں وہ نِکل پڑیں گے

0
3
ہر خیر کے قاسم صلے علیٰ کیا فیض سخی سرکار کے ہیں
کونین میں جتنی زینت ہے یہ جلوے حُسنِ یار کے ہیں
فیاض نگر ہے در اُن کا اور سب سے سخی یہ گھر اُن کا
نورانی جس سے خُلد ہوا یہ روپ نبی مختار کے ہیں
سرکار کے بردے جو بنتے وہ راہِ نبی پر ہیں چلتے
دلدار کے در پر چلتے ہیں بٹیں دان جہاں انوار کے ہیں

0
1
4
کیا شان تُساڈی حافظ جیؒ، تُساں پیار بازار سَجائی بیٹھے ہو
"نَحْنُ اَقْرَب" سِہرا پا کے، تُساں یار مُرادؒ رِجھائی بیٹھے ہو
لوکی تَرسن یار جھلک تائیں، تُساں گُھٹ گُھٹ جَپھیاں پائی بیٹھے ہو
آپے ای آپنا رُوپ وَٹا کے، خواجہ اللہ بخشؒ بَنائی بیٹھے ہو

0
4
تم کیا گئے کہ رنگِ خیالوں سے دور ہیں
ہم روشنی کے سب ہی حوالوں سے دور ہیں
اس کے بغیر کٹ تو رہی ہے مری حیات
پر ہم حیات کے سبھی حالوں سے دور ہیں
وہ اک جواب کیا ملا، خاموش ہو گئے
اب ہم زمانے بھر کے سوالوں سے دور ہیں

0
10
وہی بنے ہیں اب کے مستقل سبب جدائی کا
تھا فخر جتنے لوگوں کو ہماری ہم نوائی کا
عبث ہے شکوہ تیرا ایسے بد مزاج لوگوں سے
یہاں تو بھائی بھی نہیں ہے خیر خواہ بھائی کا
مفاد زیرِ دست لاتا ہے کئی کمینوں کو
اٹھاتے ہیں یہاں پہ فائدہ سب آشنائی کا

0
14
کیسی نحوست دیکھ چمن پر طاری ہے
پھولوں پر برسات کی رُت بھی بھاری ہے
دنیا میں بھی گندم ہی کے پھندے ہیں
بھوک مٹانے میں کتنی دشواری ہے
غربت اپنے ساتھ مصایب لاتی ہے
کچھ تو ریاست کی بھی ذمہ داری ہے

0
5
چرچے ہیں اب عام تمہارے
دیکھ رہا ہوں کام تمہارے
پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں
ہم تو ہوئے بے دام تمہارے
ہجرت میری مجبوری تھی
پر جیون ہے نام تمہارے

0
3
جس کے پاؤں میں غم کا چھالا ہے
اُس نے کانٹوں کو بھی سنبھالا ہے
ظلم کی شب بھی ہم نے اے ہمدم
خون سے اپنے دِیپ پالا ہے
بات سچ ہے کہ دشتِ ہجرت میں
تیری یادوں کا ایک ہالا ہے

0
6
اِرشاد بَھٹی کی اداکارہ مِیرا پَر ذاتِیات پَر مَبْنی غَلِیظ تَرِین سوالات کی بَوچھاڑ!!!
——
ایک سے اِک گَھٹْیا باتیں تھیں جو تُم اُس سے کرتے رَہے
اِک لَمحے کے لیے بھی تُم میں خُوئے نَرْم نَہِیں آئی
مِیرا نے تو آخِر دَم تک سَب کُچھ ہی بَرْداشْت کیا
لیکن تُم وہ بے غَیرَت ہو جِس کو شَرْم نَہِیں آئی

0
4
عشق کی ہر شرط پر ہر وقت آمادہ رہے
وہ نجانے کیوں عدو کے پھر بھی دلدادہ رہے
ہم پہ کیوں خود غرضیوں کے حرف برسائے گئے
ہم تو اپنے کم رہے لوگوں کے زیادہ رہے
ہم کسی بھی تین میں تھے ناں کبھی تیرہ میں تھے
ہر طرف پُتلے ہمارے پھر بھی ایستادہ رہے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7828
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6089
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
19