معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



154
1999
یہ سوگ ہے حسینؓ کا علی کے دل کے چین کا
رگوں میں بس گیا ہے جو یہ عشق ہے حسین کا
جو روشنی میں ڈھل گیا ستونِ دین بن گیا
یہ ذکر ہے حسینؓ کا علی کی آلِ زین کا
سوار تھا جو بخت پر متینِ دینِ تخت پر
یہ روپ ہے حسینؓ کا علی کے نورِ عین کا

2
14
ابھی تلک بلند ہے عَلَم حسین کا
سبھی غموں سے بڑھ رہا ہے غم حسین کا
اٹھا جوان لاش پھر تجھے پتہ چلے
پتہ چلے کہیں کسے، الم حسین کا
پکار تھی علی علی، علی علی علی
جہاں گیا جدھر اٹھا قدم حسین کا

1
9
کسی کی فہم و فراست میں کیا سمائے حسین (رضی اللہ عنہ)
بس انتہائے عقیدت ہے ابتدائے حسین (رضی اللہ عنہ)
یزیدِ وقت کے ہاتھوں پہ بیعتیں کر کے
تمام شہر بنا پھرتا ہے گدائے حسین (رضی اللہ عنہ)
زمانہ بھر ہے یزیدی مزاج کا حامل
فقط زبان لگاتی رہی صدائے حسین (رضی اللہ عنہ)

1
5
کیا لکھوں تمہارے، میں دیدار سے پہلے
اک اور غزل پھر اپنی ہار سے پہلے
انسان عجب رہتے ہیں شہر میں تیرے
کرتے ہیں دعا حق میں ہر وار سے پہلے
یہ لوگ ہیں بدلے یا ذمانہ ہی الگ ہے
دکھتی ہے رقم انکو کردار سے پہلے

1
11
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

154
1999
تو مجھے زہر لگتی تو اچھا تھا
تُجھے کھا کر ہلاک ہو جاتا
"تجھ پہ مرنے سے بہتر تھا"
آگ میں جل کے خاک ہو جاتا

0
1
15
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا ایصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

24
1884
عکسِ جمالِ حق ہے جلوہ سخی نبی کا
بعد از خدا ہے اعلی درجہ سخی نبی کا
شہکار لاکھ ہوں گے خلقِ خدا میں ہمدم
لیکن رہا ہے یکتا نقشہ سخی نبی کا
رقصاں نظر میں رب کی یکتا جمال ہے جو
روحِ کتاب سے ہے چہرہ سخی نبی کا

1
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

115
4273
آرزو اپنی کہ اس کو جی بھر کے دیکھ لوں
نرگسی آنکھوں میں کچھ تو اتر کے دیکھ لوں
چاہتا ہے دل کہ منظر سحر کے دیکھ لوں
مرنے سے قبل آج اک بار مر کے دیکھ لوں
گھومتے ہی گھومتے آ گیا مقتل میں جب
کچھ ارادے بھی تو قاتل نظر کے دیکھ لوں

2
جہاں میں پھیلی ہوئی جو وفا کی خوشبو ہے
حرا سے آئی تھی جو اس صدا کی خوشبو ہے
دبا رہا ہے زمانہ اسے زمانے سے
نہ دبنے پائیگی رب العلٰی کی خوشبو ہے
تمہارے شہر نے سر سے اتار دی چادر
ہمارے گاؤں میں اب بھی حیا کی خوشبو ہے

4
جہاں جہاں بھی کوئی کربلا ، الم دے گی
نوید ، صبح کی ، ہر ایسی شامِ غم دے گی
سلگ رہا ہے جو ایمان دل کی گلیوں میں
یقیں ہے گرمئِ الفت ، عمل کو دم دے گی
دھنک جو نکلے کبھی بارشوں کے موسم میں
تو رنگ ، روشنی کیا آسماں سے کم دے گی

3
کرتے ہیں سارے بہت اچھی باتیں
کردار کو اچھا کیوں نہیں کرتے
لڑتے ہیں ساری عمر بے مقصد
مقصد کی خاطر کیوں نہیں لڑتے
جہل کے رستوں کے شیدائی
علم کے رستوں پہ کیوں نہیں چلتے

0
6
میں خود اپنی انا سے ڈرتا ہوں
اک دیا ہوں ہوا سے ڈرتا ہوں
زہر پیتا ہوں زندگی کے لیے
بعد میں میں دوا سے ڈرتا ہوں
در کھلا روز چھوڑ دیتا ہوں
رات بھر میں بلا سے ڈرتا ہوں

12
کیا نہیں میرے لیے کوئی وطن کوئی زمیں
میں پہیلی تو نہیں ہوں جو نہ سمجھے ہم نشیں
کس جہاں آباد میں پیدا ہوا ہوں اے خدا
کیوں سمجھتی ہے یہ دنیا "میری ہستؔی" کچھ نہیں
محوِ گردش مہر و انجم ہیں مرے افلاک میں
کہکشاں ہے مجھ پہ شیدا ہے فدائی مہ جبیں

2
پاس اس کے رہ سکے نہ دور اس سے رہ سکے
زہر بھی اپنا وہی تریاق بھی اپنا وہی

0
4
روشنی کی تلاش میں مانؔی
شہر کا شہر گھر سے نِکلا ہے

0
6
تُجھ سے مِل کر یہ پتہ چلتا ہے
عُمر لمحے کی بڑی ہوتی ہے

0
5
اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے
آؤ مِل کر دِیئے جلاتے ہیں

0
5
اسیرِ دام ہے یہ جاں
جی کب آپے میں آتا ہوں

0
5