معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6496
خدا نبی کا دیا سہارا، تو ہر جگہ یہ سہارا بس ہے
سعادتوں کی یہ انتہا ہے، خدا یہ تیرا بشارا بس ہے
خدا کے محبوب نوری پیکر، خدا کا بندہ، میں بندہ احقر
کرم کا ان کے کہاں میں قابل، کرم کا مجھ کو اُتارا بس ہے
نہ ان کے جیسا حبیب کوئی، خدا سے اتنا قریب کوئی
تَوَجَّہ اُن کی میں چاہوں کیسے، مجھے تو ادنیٰ اشارا بس ہے

3
​صورتوں کے چاہنے والے بدلتے ہیں سدا
شادؔ قیدی روح کے آزاد ہوتے ہی نہیں

0
4
​مر جاتے ہیں صدمے سے فقط اہلِ فسانہ
ہم درد کی ہر حد سے گزر کر بھی جیے ہیں

0
5
کیا تماشا بنائے رکھا ہے
آئنہ منہ چھپائے رکھا ہے
وہ جو شعلے تھے بجھ گئے آخر
اک دھواں ہے دبائے رکھا ہے
شوخ یادوں کا شب نشین چراغ
کس تھکن نے بجھائے رکھا ہے

0
6
حزیں دل ہے مولا اسے شاد کر دے
مجھے فکرِ فردا سے آزاد کر دے
غلامی میں چاہوں نبی مصطفیٰ کی
یہ دل عشقِ احمد سے آباد کر دے
ہوں عترت نبی پر فدا جان و دل سے
محبت نبی اس کی بنیاد کر دے

0
3
جسمِ صندلیں کی چاہ
اک بتِ حسیں کی چاہ
دل نہال رکھتی ہے
حسنِ آفریں کی چاہ
مجھ کو باند کر رکھے
زلفِ عنبریں کی چاہ

0
13
فکرِ بے یقیں تھم جا
ہے جہاں وہیں تھم جا
دیکھتی ہے تو کیا کیا
چشمِ پیش بیں تھم جا
داستانِ غم مت پوچھ
دیکھ ہم نشیں تھم جا

0
20
ایک وَرْدی میں ایک بِن وَرْدی
کون ہو گا جو لوٹ پوٹ نَہِیں
فیصلے وہ کریں گے جِن کے پاس
کُل مِلا کے بھی ایک ووٹ نَہِیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
تم نے دیکھا ہے کوئی درد کا پیکر بنتے
شادؔ رگ رگ میں اسے ہم نے اترتے دیکھا

0
7
مُیسر مجھے خُوش جمالی ہوئی ہے
مِری آنکھ اُنؐ کی سوالی ہوئی ہے
وہ روضے کا گُنبد، وہ روضے کی جالی
یہ تصویر دل نے سنبھالی ہوئی ہے
یہ احساسِ قُربت، یہ اندازِ اُلفت
مِری حاضری بے مثالی ہوئی ہے

2
34
جلوہ کوہ طور یاد آیا
پھر ملے تھے دو نور یاد آیا
فاصلہ تھا نہ درمیاں کوئی
یوں ملے تھے حضور یاد آیا
رب سے راز و نیاز کرتے ہوئے
رب ھب لی ضرور یاد آیا

0
3
​اک تماشا ہے سرِ بزمِ جہاں، اور کیا
ہم کھلونے ہیں فقط گردشِ دوراں کے لیے

0
8
اپنے ہی خوں سے کیا ہے شادؔ اپنا سر بلند
کس لیے مانگیں بھلا ہم سایۂ دیوارِ دوست

0
14
خواب تو ٹوٹ کے بکھرے ہیں سرِ راہ مگر
شادؔ آنکھوں کی چمک ہم نے نہیں کھونے دی

0
6
کھا گیا ہے وقت جانے کن حسینوں کا جمال
آئینے حیران طاقوں پر کھڑے ہیں آج تک

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6496
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8018