معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6159
اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
غیروں سے باتیں کرلے تا ہوں
دھوکے میں ترے نا جا نے میں
کتنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
چپ چپ ہوں اس بت کے آگے
اوروں سے باتیں کرلے تا ہو ں

10
تعریف اس زمیں کی ممکن کہاں بریں ہے
دیکھا گیا جہاں میں ہر نقش دل نشیں ہے
پھولوں پہ شبنمی سا ٹھہرا ہوا تبسم
قدرت کے ہاتھ میں بھی کیسا حسیں قریں ہے
دریا بھی گنگناتے، صحرا بھی مسکراتے
جب سے تری نگاہوں کا شہر میں یقیں ہے

0
قُرْبانی، قُرْبانی، قُرْبانی؟؟؟
——
آئیں بائیں شائیں کَروں یا سَچ میں ہی کُچھ کَر گُذروں
خالی خُولی باتوں میں ہی کَب تَک یِہ قِصّہ ڈالوں؟
سالِم بَکرا تو مُشکِل ہے، سالِم گائے مُشکِل تَر
تَکڑا سا مُرْغا کر لُوں یا بَکرے میں حِصَّہ ڈالوں؟

0
ملتی ہے زندگی بھی یہاں زندگی کے بعد
ملتا نہیں ہے چین مگر عاشقی کے بعد
رکتا ہے دل یہیں یہ ہے محبوب کا مقام
آگے قدم بڑھے گا نہیں اس گلی کے بعد
پی لیں جناب من یہ شراب طہور ہے
پاتے ہیں ہوش سب ہی یہاں میکشی کے بعد

0
1
مکافاتِ عمل دستک بلا تاخیر دیتا ہے
سو جیسا خواب ہوتا ہے وہی تعبیر دیتا ہے
کسی کے حق میں جو کانٹے بچھاتا ہے زمانے میں
وہی اک روز اپنے پاؤں میں زنجیر دیتا ہے
وفاؤں کی زمیں پر پیار کے موتی بکھیرے جو
دلوں کو روشنی، آنکھوں کو بھی تنویر دیتا ہے

0
5
آنکھوں میں ایک خوابِ شام و سحر ہے باقی
کتنا سفر ہؤا ہے کتنا سفر ہے باقی
رستے تمام چھانے، منزل بھی دیکھ ڈالی
دل میں مگر کسی کی دھیمی نظر ہے باقی
بکھرے ہیں کتنے موسم اس زندگی کی رہ میں
یادوں کی ایک خوشبو شام و سحر ہے باقی

0
3
اندھیروں میں، اُجالوں میں خدا کا نور ہے ظاہر
ہر اک ذرے گلستاں میں وہی معمور ہے ظاہر
چراغِ دل اگر روشن ہو اُس کے فیضِ رحمت سے
نظر آتا ہمیں پھر ہر طرف دستور ہے ظاہر
خرد حیران رہتی ہے، محبت مسکراتی ہے
ترے ہونے سے ذرہ ذرہ بھی مخمور ہے ظاہر

0
4
چشمِ نم مسکراتی ہے کردار پر
دل ابھی تک دھڑکتا ہے ایثار پر
لفظ مٹی میں ملتے گئے شہر کے
زہر اُگنے لگا ہے ہر اک پیار پر
آئینوں سے بھی اب خوف آنے لگا
گرد سی چھا گئی ذہنی بیمار پر

0
3
اس نے دستار خود گرا دی ہے
ظلم کے حق میں گر منادی ہے
چپ ہے مظلوم پہ عدالت بھی
وقت کی ایک خامی عادی ہے
کیسے اشرافیوں کا دوراں کہ
سرکشی کو یہاں پناہ دی ہے

0
3
چہرہ تو مسکرا رہا، اندر تھکان ہے
محفل میں ہنس رہا ہے مگر نیم جان ہے
دن بھر کی دوڑ دھوپ نے ایسا نچوڑا ہے
ہر آدمی کے ہاتھ میں بس امتحان ہے
لہجے بدل بدل سے ہیں دیکھے جہان میں
موسم کی اونچ نیچ میں اک داستان ہے

0
2
کھوئے ہوئے ہو کیوں یہاں دن میں کہ رات میں
ہوتی ہے جیت اُس کی جو رہتا ثبات میں
پتھر سا بن کے رہ گیا جو مشکلات میں
رکھتا نہیں یقین وہ آسان بات میں
زخموں نے اُس کے دل کو یہ انداز دے دیا
ڈھونڈے نہیں بہار کبھی سانحات میں

0
4
اے سخی کچھ کرم ادھر بھی ہو
کچھ تو لائک صنم ادھر بھی ہو
صنفِ نازک نہیں ہوں میں گرچہ
شیئر اک کم سے کم ادھر بھی ہو
وقت لگتا ہے کچھ بھی اس میں کیا
ایک دو محترم ادھر بھی ہو

0
4
میں بھی بے مہر زمانے کو موافق ہوتا
جو اگر دل مرا اِک اعلی منافق ہوتا
بھُوکے مر جاتے کسی سُنساں گلی میں دونوں
میں ترا یا تُو اگر میرا جو رازق ہوتا

0
6
جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا
تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا
میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو
تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا
اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا
تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا

0
4
بھولیں گے سب کو ہم نے یہی حلفیہ کہا
اور پھر پرانی چاہتوں کا مرثیہ کہا
درکار اس قدر تھا سکوں ہم کو ہجر میں
ہم نے تمہاری یاد کو بھی تخلیہ کہا
پہنچا رہی ہے ہم کو مہک تیری جس طرح
بادِ صبا کو ہم نے ترا ڈاکیا کہا

0
6
سکون مل نہ سکا خود نما سے لڑتے ہوئے
تھکن سے چور ہیں اپنی انا سے لڑتے ہوئے
ہمیں تو خاک میں ملنا ہی ہے کسی اک دن
بدل گئے ہیں مگر خاکِ پا سے لڑتے ہوئے
چراغِ مصلحتِ وقت بجھ گیا آخر
ہمارے عزم کی سرکش ہوا سے لڑتے ہوئے

0
3
شمس و قمر نجوم تھے جس شب چھپے ہوئے
 ارمان ان سے دل کے کہے سب چھپے ہوئے
 چشمِ سیہ کی برق تو سہہ لی تھی قلب پر
 مر ہی گئے جو دیکھے حسیں لب چھپے ہوئے
 کاجل میں جگمگاتے ہیں جذبات پیار کے
 رہتے نہیں ہیں رات میں کوکب چھپے ہوئے 

2
تم مرے پہلو میں آئے دلکشی کو اوڑھ کر
رک گئی ہے رات پل بھر تشنگی کو اوڑھ کر
​گفتگو اب دھڑکنوں کے درمیاں ہونے لگی
سو گیا ہے آج کمرہ خامشی کو اوڑھ کر
​تیرے ماتھے پر لٹیں الجھی ہوئی ہیں اس طرح
چاند جیسے چھپ گیا ہو برہمی کو اوڑھ کر

0
3
گو رگِ جاں میں اتر جاتے ہیں
ہجر کے دن بھی گزر جاتے ہیں
زندہ ہیں یاد سے تیری ورنہ
لوگ تنہائی میں مر جاتے ہیں
دیکھنے کون ہمیں آتا ہے
راہ میں ہم ہی ٹھہر جاتے ہیں

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6159
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30