معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5914
جس شمعِ ہدایت سے دارین درخشاں ہیں
نازاں ہے خدا اُن پر دلدارِ غریباں ہیں
کیا خوب جہاں دیکھے اُس رُوپ سے تابانی
جس حُسن سے سب چمکے گلزار و گلستاں ہیں
یہ فیض ہیں سرور سے آفاق جو روشن ہیں
ذیشان سخی دلبر دل اُن سے فروزاں ہیں

0
1
4
اگر ارواح کے عالم کے وعدے یاد ہوتے
کبھی رسوا نہ ہوتے اور نہ ہی برباد ہوتے
نجانے کیوں ترے ابلیس کی باتوں میں آئے
تری جنت میں رہتے اور کہاں آباد ہوتے

0
2
وائے قِسمَت یِہ ہَمارے رَہنُما
سَب کے سَب ہی ماہِرِْ تَقْرِیر ہیں
عافیہ کو تو چُھڑا سَکتے نَہِیں
وَیسے ہَم نا قابِلِ تَسخِیر ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
کُشتہِ بیمار کی ، گرمیِ رفتار دیکھ
اے عدو ے چارہ گر ، ہیبتِ جر ّار دیکھ
تیرو تفنگ آزما ،بار دگر آزما
خاک سے بیزار کی، شوخیِ گفتار دیکھ
تیغِ جفا وار کر، بسملِ غمخوار پر
ملّتِ احرار کا ،جَذبَہِ ایثار دیکھ

10
عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
جل اٹھا ہے دل ہوائے شب میں پروانے کی طرح
زندگی کی کشمکش سے ہم کو کیا ملنا تھا اور
بس بھلا بیٹھے ہیں خود کو ایک افسانے کی طرح
آرزو کے خون سے روشن کیا تھا جو چراغ
گر گیا ہاتھوں سے ٹوٹے ایک پیمانے کی طرح

0
8
وہ جس کا نام زمانے میں یار غیرت ہے
دکھائی دیتی نہیں ہے کہیں بھی حیرت ہے
ہمارے خون سے چلتی ہے راج دھانی بھی
ہمارے خون کی پوچھو نہ کتنی قیمت ہے
مرے عزیز مرے ہم نوا مرے محسن
یقین کر مجھے تجھ سے بڑی محبت ہے

0
4
ہے خاص کرم رب کا، عطار مِلے ہم کو
اس دور کے ولیوں کے، سردار مِلے ہم کو
جب اُن کی نگاہوں کی، تاثیر مِلی دِل کو
تاریک جو دِل تھے وہ، ضوبار مِلے ہم کو
دُنیا کے تھے شیدائی، دُنیا پہ ہی مرتے تھے
وہ غم میں مدینے کے، سرشار مِلے ہم کو

0
3
یِہ جَنگ نَہِیں اَب رُکنے کی
یِہ جَنگ تو بَس اَب جاری ہے
اِیْران کے حال پَہ چُپ نَہ رَہو
آئِنْدَہ ہَماری باری ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
ڈرتے ہی رہو گے تم؟
کب تک یوں ڈرو گے تم؟
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟
بجلی نے جو گرنا تھا
وہ گر بھی چکی تم پر
جلنا تھا نشیمن نے

0
7
کھڑی جن کے پیچھے صفِ انبیا ہے
امامِ امم وہ نبی مصطفیٰ ہے
کرے گا خدا شاد اُن کو ہے وعدہ
ربِ امتی رب سے جن کی دعا ہے
سعادت ہے اُن کی شجاعت ہے اُن کی
رسولِ خدا یہ شہے دو سریٰ ہے

1
5
آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی صاحِب کے نام!!!
——
جو باقی ساری قَوْم کے ہیں تیوَر تھے وَہی سالار کے بھی
تُم ہار گئے ہو جِیت کے بھی وہ جِیت گیا ہے ہار کے بھی
اِک رَستہ ہے جُھکْ جانے کا اِک رَستہ ہے بِک جانے کا
اِیْمان ہو گَر مَضْبُوط تو پِھر سَو رَستے ہیں اِنْکار کے بھی

0
2
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے

0
15
تیری قامت سے عیاں ہے زندگی کا بانکپن
تیری قامت کے تلے ہی ختم ہے رنج و محن
​کِس طرح روکیں بھلا اب موجِ خوں کے سلسلے
جب تری یادوں سے مہکا ہے خیالوں کا چمن
​تیری پازیبوں کی جھنکارِ سحر کے سامنے
لرزہ بر اندام ہے اب مصلحت کا ہر چلن

0
5
تیری صورت دیکھ کر ہر عکسِ جاں لرزے گا اب
آئینہ خود کو سنبھالے، وہ یہاں لرزے گا اب
​گر چُھپا لے رخ تو ہوگا ماہِ نو پیوندِ خاک
کھول دے گیسو تو سارا گلستاں لرزے گا اب
​یہ چمکتی بجلیاں تیری جبیں کے سامنے؟
گر اڑی زلفِ سیہ، سارا سماں لرزے گا اب

0
5
قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے
عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے
​رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں
اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے
​رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب
دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے

0
12
نہ ڈھونڈیں کمالِ نبی کی مثال
ملے گا نہ تجھ کو کہیں یوں جمال
ہیں الطاف اُن کے سدا خلق پر
ہیں فیاض بی بی حلیمہ کے لال
سدا ہے سخی سے کرم کی ہوا
اسی نے زمانے کے بدلے ہیں حال

1
8
آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی شَہِید اور دِیگَر مُسْلِم قِیادَت!!!
——
سامْراجی قُوَّتوں کے چاپلُوسی رَہْنُما
اَونے پَونے سے کِھلونے لَگ رَہے ہیں سَب کے سَب
ایک سَچّے رَہْنُما کے جان سے جانے کے بَعْد
کیا بتائیں بَوْنے بَوْنے لَگ رَہے ہیں سَب کے سَب

0
4
زرد پتوں کا قصہ تمام ہوا
خزاں نے چپ چاپ رخصت لی ہے
بنجر شاخوں کے لبوں پر
ہری کونپل مسکرا رہی ہے
زندگی
پھر سے اپنا نام لکھ رہی ہے

0
6
پھر بساط بچھتی ہے
اور مہرے سجتے ہیں
طبلِ جنگ کے بجتے ہی
صف آرا پیادوں کے
خون کھول اٹھتے ہیں
بے دھڑک جھپٹتے ہیں

0
9
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
780