معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6240
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہم کو مقصود ترے عشق میں اک درجہ تھا
بازیِ عشق تو ایسے نہیں ہاری ہم نے

0
3
ہو اگر حرف میں تاثیر تو جاں بخش بھی ہو
ورنہ بے سود ہے ہر نغمۂ بے جان، سخن
ہو اگر ذوقِ نظر خاک میں افلاک دکھیں
ورنہ بینا کو بھی ملتا نہیں عرفانِ سخن
بے ادب اہل کی محفل سے کنارا ہی بھلا
خامشی بہتر از آں، حرفِ پریشاں، اے سخن

0
6
اُستاد کا فیضِ نظر دل میں مرے الہام کر
ہر ذہن کو روشن بنا ہر فکر کو پیغام کر
نادان نسلِ عصر کو آئینۂ کردار دے
اخلاق کو دستور کر اخلاص کو اکرام کر
سوئی ہوئی تقدیر کو آواز دے بیدار کر
ہر مرد مومن انساں کو تو صاحبِ اقدام کر

0
5
آپس میں ہنستے ہنستے ہنسی زخم دے گئی
پل کی خوشی خوشی نہ رہی زخم دے گئی
روکے کہاں رکی ہے کبھی وقت کی گھڑی
جاتی ہوئی ہر ایک گھڑی زخم دے گئی

0
4
اک واری شہر مدینے جاناں
تے میں رج رج تکناں روضہ
ہووے چوکھٹ کملی والے دی
سوہنے رب نوں کرناں سجدہ

0
4
مَیں تو تَب مانوں جَب ڈار کے دوہْتے کے!!!
——
آج تَلَک تو یُونہی کھیلتے آئے ہو
ہَر اَیرے غَیرے کے خُون سے ہی ہولی
مَیں تو تَب مانو جَب ڈار کے دوہْتے کے
کُھل کے چلاؤ نا نیفے میں بھی گولی

0
4
فن کی معراج پا گیا نصرت
ہر زمانے پہ چھا گیا نصرت
اس کے آبا عظیم گائک تھے
اپنا سکہ جما گیا نصرت
وہ بنائی ہے اس نے موسیقی
دل میں سب کے سما گیا نصرت

0
1
13
نہ ہوتے اشک آنکھوں میں تو افسانے کہاں جاتے
اگر دِل ہی نہ دُکھتا تو یہ دیوانے کہاں جاتے
وفا کی راہ میں اس نے بدل کر راستہ اپنا
بڑا احسان کیا، ورنہ وہ پہچانے کہاں جاتے
محبت کی حقیقت کو چھپانا تو بہت چاہا
مگر یہ چاکِ دامن اور یہ مستانے کہاں جاتے

0
6
ہے جس کا حکم کہ رہزن کو رہنما کہیے
تو پھر اُسی کو زمانے کا ناخدا کہیے
وہ شخص خود سے بھی جس کی نظر نہیں ملتی
عجیب ضد ہے کہ اُس کو بھی باحیا کہیے
میں جانتا ہوں مگر جاننے سے کیا حاصل
سو اپنے آپ کو ہی صرف بےخطا کہیے

0
7
اِک صنوبر کے سرد جنگل میں
دھندلی رات، کھو گئے ہیں ہم
اپنے ہی دل کے دشتِ امکاں میں
ڈھونڈتے ذات، کھو گئے ہیں ہم
خزاں کے پیلے پیلے پتوں سے
کرتے اک بات، کھو گئے ہیں ہم

0
6
غم کی دھوپ میں روزنِ دیوار بہت
وقت اچھا ہو تو ہوتے ہیں پھر یار بہت
تیری آنکھیں ہیں یا کہ سمندر ہے کوئی
تیری آنکھوں میں ڈوبے ہیں مے خوار بہت
غم کرتے ہیں نمایاں مرے شعر یہاں
ورنہ تو سبھی کہتے ہیں اشعار بہت

0
7
چشمِ حیراں میں سلگتے سب شرارے راکھ ہیں
تیرہ شب کی وسعتوں میں اب ستارے راکھ ہیں
دھوپ کے صحرا میں کھو کر رہ گئی ہے آب جو
پیاس کی شدت سے دریا کے کنارے راکھ ہیں
خامشی کی برف میں کھو کر مٹی ہے ہر صدا
منزلوں کی سمت جاتے سب اشارے راکھ ہیں

0
6
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7936
شکر تیرا اے مرے رب، رحمتِ کامل ملی
زندگی کو آج میری، اک حسیں منزل ملی
شکر تیرا یا الٰہی! کیا حسیں نعمت ملی
بیٹی کے اس روپ میں ، اک پیکرِ رحمت ملی
بچپنے کی آرزو جو، دل میں تھی زندہ کہیں
اس کی صورت میں مجھے ، وہ مل گئی ہے اب یہیں

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6240
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
386