معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6153
باکُو، تَنُّوری روٹیاں اور اَعْلیٰ اَفْسَر کی تالْیاں!!!
——
کارِ چاپْلُوسی میں لے رَہے ہیں سَب سَبْقَت
ایک دُوسرے سے یُوں آگے بَڑھتے جاتے ہیں
حَدْ تو یِہ ہے صُوبے کے سَب سے اَعْلیٰ اَفْسَر بھی
روٹیاں لَگانے پَر تالْیاں بَجاتے ہیں

0
تختِ شاہی پلید رکھا ہو
حق کا رتبہ شدید رکھا ہو
بستیاں بھوک سے بلکتی ہوں
اور محل میں کلید رکھا ہو
جس کے ہاتھوں میں طوقِ شاہی ہو
اس نے خود کو یزید رکھا ہو

0
3
دور تک جب بھی تَکا، کوئی نہیں ساتھ مرے
صاف معلوم ہوا، کوئی نہیں ساتھ مرے
دل کا احوال تو ایسا ہے کہ کیا کہیے حضور
جیسے جیسے میں بڑھا، کوئی نہیں ساتھ مرے
نہ کوئی درد کا درماں، نہ کوئی چارہ گر
دل کو تو یہ بھی لگا، کوئی نہیں ساتھ مرے

0
7
مرا زخمِ دل بھی تو برملا نہیں ہو سکا
وہ جو رنج تھا وہ کبھی ہوا نہیں ہو سکا
میں تلاشِ حق میں بھٹک رہا ہوں گلی گلی
جو فریب تھا، وہ مرا خدا نہیں ہو سکا
اسے زعم تھا کہ وہ چھین لے گا مری انا
مرا سر مگر کبھی زیر پا نہیں ہو سکا

0
9
عشقِ حبیبِ رب کی دولت ملے مجھے
ذکرِ کریم میں ہی راحت ملے مجھے
آنے کو چاہے یہ دل دارِ رسول پر
سرکار کے کرم سے ہمت ملے مجھے
نغماتِ دلربا سے سینہ سجا رہے
ہر کارِ خیر کی بھی طاقت ملے مجھے

0
2
دکھائی دینے لگا ہے غبار لوگوں میں
بچھڑ گیا ہے کوئی اپنا یار لوگوں میں
بچا نہیں ہے ابِ اعتبار لوگوں میں
بدل گئے ہیں سبھی وضع دار لوگوں میں
کسی کے لمس کی خوشبو اڑا کے لائی ہے
بدل گیا ہوا کا رخ عیار لوگوں میں

0
19
ہو سکے تو کبھی کبھی کرنا
گرچہ مشکل ہے زندگی کرنا
کارِ عصیاں ہے عیب لگتا ہے
اِس زمانے میں عاشقی کرنا
بزمِ جاناں سے اُٹھ کے جانے کا
صاف مطلب ہے خودکشی کرنا

7
ہم چھوڑ کر انا کو سرِ دار آ گئے
سمجھے تھے وہ کہ بن کے طلب گار آ گئے
دیکھا جو ہم نے رنگ بدلتے ہوئے یہاں
یاد اپنے وضع دار گنہگار آ گئے
جن کیلئے لٹائی تھی ہم نے متاعِ دل
پہلے صفِ عدو میں وہی یار آ گئے

0
5
بدلا ہے نہ بدلے گا، یہ رشتہ بھی نہیں بدلا
ہم لاکھ جدا تھے، وہ جذبہ بھی نہیں بدلا
اک عمر ہوئی لیکن اس دل کی اداسی کا
مفہوم نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا
برباد تو ہونا تھا، برباد ہوئے لیکن
دیوانوں کی بستی کا، نقشہ بھی نہیں بدلا

0
3
بَچّوں کو کبھی حَرام کا ایک لُقْمَہ بھی نَہِیں کِھلایا۔ زَرداری!!!
——
حَرام ہے جو ذَرا بھی مَلال ہو اِن کو
وہ اور ہوتے ہیں جِن کو مَلال ہوتا ہے
اِنہیں تو خَیر کوئی فَرْق ہی نَہِیں پَڑتا
کہ اِن کے ہاں تو سَبھی کُچھ حَلال ہوتا ہے

2
حال ایسا ہوا ہے کہ خوشی یاد نہ غم یاد
بس اس دلِ بے تاب کو ہے روۓ صنم یاد
ممکن ہے ہوا جاتا ہو دل میرا منافق
آئے کبھی مسجد تو کبھی دیر و حرم یاد
آج آکے بہت روئے وہ تربت پہ ہماری
آۓ ہیں مگر دیر سے یارو اُنھیں ہم یاد

6
48
ہم انتظار کی لذت سے ماورا تھے حسیب
پھر ایک روز کوئی لوٹ کر نہیں آیا

1
10
پھیلا ہے اسی شام کا منظر مرے آگے
جب نرم اندھیرے ہوۓ پتھر مرے آگے
حالات وہی تو وہی امید بھی تجھ سے
دشمن مرے پیچھے ہے سمندر مرے آگے
اک عمر سے پھر جاگتی آنکھوں کے مرے خواب
پیچھے مرے رہتے ہیں یا اکثر مرے آگے

63
2657
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6153
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30