معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



402
6259
کیسے کہہ دوں کہ کیا تُو نے فَراموش مُجھے
تیری صورت میں مِلا ہے وہ خَطاپوش مُجھے
شوقِ دیدار مِرا رکھتا ہے باہوش مُجھے
ورنہ رِندوں نے اُٹھا رکھا ہے بَردوش مُجھے
کوئی خوش ہے کہ ملی ہے تِری دَستار اُسے
میری قسمت کہ ملے ہیں تِرے پاپوش مُجھے

0
11
لے کہ مکے میں آئی تھی قسمت ہمیں
چین ملتا رہا ہم کو ہر دم یہاں
وقتِ رُخصت ہُوا، دل پہ طاری ہے غم
اور لبوں پر ہے جاری بس آہ و فغاں
دید کرتا تھا اُن کی یہ بابِ سَلام
جب گزرتے یہاں سے وہ شاہِ اَنام

0
8
میں گیا دنیا سے گر نام رہے گا باقی
مرا لکھا ہوا دیوان رہے گا باقی
میں نہ ہوں گا تو مرے لفظ صدا دیں گے مجھے
میرا احساس سرِ عام رہے گا باقی
وقت مٹنے نہ دے گا یہ مری پہچان کبھی
میرے اشعار کا پیغام رہے گا باقی

0
4
میں گیا دنیا سے گر نام رہے گا باقی
مرا لکھا ہوا دیوان رہے گا باقی
میں نہ ہوں گا تو مرے لفظ صدا دیں گے مجھے
میرا احساس سرِ عام رہے گا باقی
وقت مٹنے نہ دے گا یہ مری پہچان کبھی
میرے اشعار کا پیغام رہے گا باقی

0
6
حرفِ حق کہنے میں سہنے پڑے خنجر کتنے
ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے منظر کتنے
یوں تو دریا میں اترتے ہیں شناور کتنے
باہر آتے ہیں لئے ہاتھ میں گوہر کتنے
جن کے سینوں میں فقط ذکرِ اَحد گونجا تھا
اُن کے سینوں میں اتارے گئے خنجر کتنے

10
یہ جو لفظ ہے تَوَکُّل یہ بڑا ہی کارگر ہے
ہُوا آشنا جو اس سے وہی دل قرار پاۓ
تجھے بے قرار پاؤں یہ مزے کی بات ہوگی
ہو تلاش میں تُو اسکی تو اسے فرار پاۓ
ہے یہ کیسی چارہ سازی نہ دوا ہے نا دعا ہے
تو بھی میری طرح تجھ سا کوئی غم گسار پاۓ

0
8
نگاہوں میں سرابوں کے سوا منظر نہیں آتا
بھٹکتا پھر رہا ہوں میں، کوئی رہبر نہیں آتا
ہماری شانِ استغنا پہ کتنا دنگ ہے وہ بھی
ہماری تمکنت کے روبرو قیصر نہیں آتا
مرے آنگن میں یادیں تو چلی آتی ہیں راتوں کو
مگر ملنے کبھی وہ بے وفا دلبر نہیں آتا

0
11
میرے دل میں نُورِ حق کی روشنی باقی رہے
مصطفیٰ سے عِشق کی یہ تازگی باقی رہے
ذِکر سے آباد ہو جائے مرے دل کا چمن
ہر گھڑی لُطفِ حضوری کی خوشی باقی رہے
اپنے مرشد کی نِگاہِ لُطف کا مرکز رہوں
راہِ حق میں ان کی مجھ پر رہبری باقی رہے

0
9
جنوں کی قید سے نکلے تو کس حصار میں آئے
ہماری آنکھ کھلی اور ہم غبار میں آئے
وہ ایک شخص تھا جس سے نمو تھی پھولوں کی
وہ خوش نصیب تھے جو تیرے اعتبار میں آئے
کہاں تلک کوئی سہے گا رفاقتِ درد
کہاں تلک کوئی ہر روز انتظار میں آئے

0
12
درد دکھ غم کی کوئی دوا ہے کیا
پاس تیرے بھی ایسی وفا ہے کیا
تم بھی شاید کہ بیمارِ الفت ہی ہو
میری ہی طرح تم کو بھی گِلہ ہے کیا
رات بھر کیوں بدلتے ہو کروٹ یوں تم
درد کوئی تمہیں بھی ملا ہے کیا

0
5
غزل
مدحِ جمالِ یار کو مدحِ خدا سمجھ
کفُرانِ لطفِ یار بڑا کُفر، نا سمجھ
لازم نہیں کہ ہونٹوں سے قول و قرار ہوں
ہنستی شریر آنکھوں نے جو کہہ دیا سمجھ
قاتل تمھارے ہاتھ بھی رشکِ عروس ہیں

0
6
پورا جو تیرے بن ہوا ہے
کتنا منحوس دن ہوا ہے
جب وعدہ تیرا یاد آیا
دل کچھ تو مطمئن ہوا ہے

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

402
6259
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7951
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
442