معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5810
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
2
جِن کے بچے ہو گئے چار، گھر سے ڈھونڈیں راہِ فرار
کیسی محبت کیسا پیار، بھول گئے سب قول قرار
لاتوں کے بھوت نہ مانیں بات، باتوں میں ہم کو دے دیں مات
طیش میں لاتے ہیں جذبات، خون کا کر دیں بُلند فِشار
کھانا اِن کو کِھلانا توبہ، وقت پہ ان کو سُلانا توبہ
صبح میں ان کو جگانا توبہ، ہر دَم طاری اِن پہ خُمار

0
4
دِل میں تَصَوُّرات کی جَنَّت لِیے ہُوئے
آنکھیں ہیں بَند جَلْوَۂ رَحْمَت لِیے ہُوئے
آئے ہیں بزم ناز میں دل ناتواں کے ساتھ
عَنْبَر فِشاں خِیالوں کی نَکْہَت لِیے ہُوئے
حاضِر ہیں آستانۂ رَحْمَت میں جو گِدا
آئے ہیں وہ اُمِیدِ شَفاعَت لِیے ہُوئے

0
3
یاد تیری ساتھ میرے کب نہیں ہے
کون کہتا ہے کہ تو اقرب نہیں ہے
ناز نخرا وہ تمہارا اب نہیں ہے
بانکپن وہ اب نہیں ہے چھب نہیں ہے
کب نہیں سانسوں میں خوشبو ہے تمہاری
کب تمہارا نام زیرِ لب نہیں ہے

0
7
شجر سے ٹوٹ کر پتا گرا ہے
سفر کا وقت آخر آ گیا ہے
​دیے کی لو لرزتی جا رہی ہے
ہوا کا رخ بہت ہی بے وفا ہے
​پرندے لوٹ کر گھر آ گئے ہیں
افق پر شام کا تارا چمکا ہے

0
10
کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو
نہ جانو تصنع مری عاجزی کو
رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا
میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو
تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے
ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو

0
3
پاکستان بھارت (T-20) مَعْرَکَہ!!!
——
بِالْآخِر بَدلہ لے ہی لیا کَمْ بَخْتوں نے
جو جو بھی تھے مَحْوِ پَرْواز، گِرائے ہیں
اِن گَھٹْیا لوگوں نے تو پَلک جَھپَکْتے ہی
اِک آن ہمارے گِیارَہ ”جَہاز“ گِرائے ہیں

0
3
ویسے تو ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا
ایک فقط ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا
وہ اکثر ناراض تو ہو جاتا ہے مگر
باپ کبھی بیٹے سے جدا نہیں ہو سکتا
چاہے کوئی کتنے کرشمے دکھاتا پھرے
پھر بھی میرے رب جیسا نہیں ہو سکتا

0
8
یادوں کے میلے کی رونق اور فراغ ہے اپنا
یادوں کے جھرمٹ سے مہکا باغ ہے اپنا
چلتے چلتے اپنا رستہ بھول گئے ہم
کتنا دلکش جیون کا یہ راغ ہے اپنا
منصف کا اعلان کہ ہم سے جرم ہوا ہے
سورج سے بھی روشن تر یہ داغ ہے اپنا

0
4
پاکستان بمُقابلہ بھارت (T-20)!!!
——
کُچھ بھی ہو چاہے، جیتنے کا
اِحْساس تو ہَم نے جیتا ہے
وہ جِیت گئے ہیں تو پِھر کیا
پَر ٹاس تو ہَم نے جیتا ہے

0
4
تم پہ اب بھی اگر یقیں ہوتا
ایک سنگین جرمِ دیں ہوتا
خوب اچھا ہے وہ مرا نہیں ہے
ہوتا تو اہلِ آستیں ہوتا
شہر ہا شہر گھومتا رہتا
میں اگر حاکمِ زمیں ہوتا

0
4
دل ترے دل سے یوں ناکام نکل آتا ہے
سوچ کا سوچ سے ابہام نکل آتا ہے
ہاتھ میں کوئی عجب چیز چھپاتا ہے وہ
اور پھر درد مرے نام نکل آتا ہے
دل کو منظر سا کوئی دِکھتا ہے، منظر میں نجات!
دو قدم چلنے پہ یہ خام نکل آتا ہے

0
3
زندگی سہل ہوتی جینے میں!
دل سا بہروپیا ہے سینے میں
مثل کیا، آرزوۓ لاحاصل
کہ لہو مل گیا پسینے میں
دل نہ کھنگال میرے چارہ گر
آس کا ڈھیر ہے دفینے میں

0
2
اجنبیت ہے کہ خلوت کا غبار
شہر کی آب و ہوا راس نہیں

0
3
شکستگی کو اگر ہم شمار کرتے ہیں
تری طرف سے ملے زخم کان بھرتے ہیں
یہ دل کا ڈوبنا معمول بن گیا جیسے
مری بساط میں ہر روز غم نکھرتے ہیں
تھکا چلا ہوں میں خود کو شعور کی زِد میں
مگر کہ مجھ میں عموما گماں ابھرتے ہیں

0
4
سوچنے پر بھی مدعا نہ ملے
ہے دلیلِ خدا، خدا نہ ملے!
دشت کے ساتھ آسمان بھی ہے
نہیں ممکن کہ آسرا نہ ملے
تُو ملے اور پھر بچھڑ جاۓ
پھر مجھے کوئی دوسرا نہ ملے!

0
4
دل کہ آخر کہیں لگانا ہے
گو یہ تیرے گماں میں لگ جاۓ

0
3
آرزو کی زبان سے بچنا
نہیں ممکن گمان سے بچنا

0
3
وسعتیں لاکھ چشمِ تر کے لیے
اور دیوار ہے نظر کے لیے
کچھ مکمل نہیں ہے آنکھوں میں
ایک خاکہ سا عمر بھر کے لیے!
گھر کے سامان میں تھے نقص بہت
یاد باندھی گئی سفر کے لیے!

0
3
دشت اور سر پہ آسماں میرے
گرد آلود ہیں گماں میرے
آپ اگر شاملِ سفر ہوں کبھی
خاک میں جائیں نقطہ داں میرے
مجھے چبھتی ہے غیر کی الفت
ایک سے ایک امتحاں میرے

0
3
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774