معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5811
تری رحمتوں کا طلب گار ہوں میں
کرم کر دے مولا، گنہگار ہوں میں
ترے در پہ دامن پھیلائے کھڑا ہوں
خطا بخش دے، بس خطاکار ہوں میں
نہ دولت نہ شہرت نہ دنیا کی چاہت
فقط نعت لکھنے سے سرشار ہوں میں

0
3
ہر طرف ہے خزاں کی ویرانی
اور دل میں گماں کی سنگینی
پھر اسی طرح عمر جاتی رہی
پھر وہی آشیاں کی سنگینی
ہر بشر کے گلے سڑے پیمان
گر ہیں کچھ تو زباں کی سنگینی

1
حریفِ دار بھی ظالم پہ وار دینا تھا
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا

1
ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں

0
مُلْک سُدھارنے سے پہلے مَرنے والا نَہِیں۔ زرداری!!!
——
تُم اور کوئی کام؟ ہے بَڑ دیوانے کی
یہ بھی کوئی کَرنے والی باتیں ہیں؟
مَوت سے پہلے سب کُچھ ٹِھیک کرو گے تُم؟
خاک کرو گے؟ یہ سَب خالی باتیں ہیں

0
2
تھم جاؤ رک جاؤ مجھے تھوڑا سنبھلنے دو
گر درد کی آگ میں جل رہا ہوں تو جلنے دو
یہ تڑپنا اور یہ آہیں بھرنا فضول ہے اب
سنو اے میرے پاگل میرے دیوانے دل
جو تمہاری تمنا تھی جو تمہاری آرزو تھی
وہ نہیں ہوا تو اے دیوانے دل کیا کروں میں

0
6
خدا جن پہ نازاں مدینے میں ہیں
زمانے کے سلطاں مدینے میں ہیں
جو سدرہ سے آگے گئے عرش پر
مکمل یہ انساں مدینے میں ہیں
عُلیٰ نوریوں سے دنیٰ کے مقیم
ازل کے یہ تاباں مدینے میں ہیں

2
8
ایک غم ہو تو ذرا رونے سے فرصت پاؤں
ایک دکھ ہو تو اسے صبر کے داماں میں چھپاؤں
رنج اتنے ہیں مری جان سنبھالوں کیسے
ایک ہی دل میں جگہ اتنی کہاں سے لاؤں
چاک دامن پہ کہاں فخر کیا ہے میں نے
شہر میں ہے ہی مگر کون کہ ملنے جاؤں

0
3
ذکر ان کا ہو رہا ہے کو بہ کو
خوشبوؤں سے پُر فضا ہے کو بہ کو
اسم احمد سے منور کائنات
نور یہ پھیلا ہوا ہے کو بہ کو
تیرے آنے سے بہاریں آگئیں
قریہ قریہ سج گیا ہے کو بہ کو

0
4
صد شکر ہوا ہم کو ہے رمضان میسر
آیا ہے یہ اللہ کا مہمان میسر
لے کر تو نوید آتا ہے رحمت کی کرم کی
ہوتا ہے سیہ کار کو غفران میسر
اک شب ہے تری کتنے مہینوں سے بھی افضل
ہے اور کہاں ایسا شبستان میسر

0
4
وقت کی ریت میں جو نقش بنا تھا
مرے دل اس نے تو مٹ کے ہی رہنا تھا

0
3
نا اَہلوں میں جب اِحْساس نہ ہو تو وہ
ہَر اِک شے کے دَام بَڑھانے لَگتے ہیں
ہم نے سُنا ہے سانپوں کو جب بُھوک لگے
اَپنے ہی بَچّوں کو کھانے لَگتے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
3
جِن کے بچے ہو گئے چار، گھر سے ڈھونڈیں راہِ فرار
کیسی محبت کیسا پیار، بھول گئے سب قول قرار
لاتوں کے بھوت نہ مانیں بات، باتوں میں ہم کو دے دیں مات
طیش میں لاتے ہیں جذبات، خون کا کر دیں بُلند فِشار
کھانا اِن کو کِھلانا توبہ، وقت پہ ان کو سُلانا توبہ
صبح میں ان کو جگانا توبہ، ہر دَم طاری اِن پہ خُمار

0
4
دِل میں تَصَوُّرات کی جَنَّت لِیے ہُوئے
آنکھیں ہیں بَند جَلْوَۂ رَحْمَت لِیے ہُوئے
آئے ہیں بزم ناز میں دل ناتواں کے ساتھ
عَنْبَر فِشاں خِیالوں کی نَکْہَت لِیے ہُوئے
حاضِر ہیں آستانۂ رَحْمَت میں جو گِدا
آئے ہیں وہ اُمِیدِ شَفاعَت لِیے ہُوئے

0
3
یاد تیری ساتھ میرے کب نہیں ہے
کون کہتا ہے کہ تو اقرب نہیں ہے
ناز نخرا وہ تمہارا اب نہیں ہے
بانکپن وہ اب نہیں ہے چھب نہیں ہے
کب نہیں سانسوں میں خوشبو ہے تمہاری
کب تمہارا نام زیرِ لب نہیں ہے

0
7
شجر سے ٹوٹ کر پتا گرا ہے
سفر کا وقت آخر آ گیا ہے
​دیے کی لو لرزتی جا رہی ہے
ہوا کا رخ بہت ہی بے وفا ہے
​پرندے لوٹ کر گھر آ گئے ہیں
افق پر شام کا تارا چمکا ہے

0
10
کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو
نہ جانو تصنع مری عاجزی کو
رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا
میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو
تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے
ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو

0
3
پاکستان بھارت (T-20) مَعْرَکَہ!!!
——
بِالْآخِر بَدلہ لے ہی لیا کَمْ بَخْتوں نے
جو جو بھی تھے مَحْوِ پَرْواز، گِرائے ہیں
اِن گَھٹْیا لوگوں نے تو پَلک جَھپَکْتے ہی
اِک آن ہمارے گِیارَہ ”جَہاز“ گِرائے ہیں

0
3
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774