معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



404
6358
مِرے ہونے کا ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے
تِرے ہونے کا ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے
مِرا ہونا بھی کیا ہونا، تِرا ہونا ہی ہونا ہے
کِسی ہونے کا ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے

0
2
تَمنّا خُود کو کھونے کی بَسا أوقات ہوتی ہے
مِری ہستی اگر گُم ہو تو عرشِ ذات ہوتی ہے
تجلّی اُس کے جلووں کی بَراہِ راست ہوتی ہے
کبھی بجلی، کبھی شبنم، کبھی مِشکات ہوتی ہے
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو آتا ہے نِگاہوں میں
میں جب خاموش ہوتا ہوں تو اُس سے بات ہوتی ہے

0
19
یاد میں تری جینا
یاد میں تری مرنا
کام بس یہی کرنا
نام بس ترا جَپْنا
ہے کلا تری ادبھد
اس کا میں ہوں دیوانا

5
یہ سسٹم بدل کی کہانی پرانی، نئی رُت میں اب کے کہانی بدل دو
جو خود مانتے ہیں کہ سسٹم ہے بیٹھا، وہ خود ساختہ حکمرانی بدل دو
ہوئی چاہتوں کی تجارت پرانی، گریباں کی حالت ہے ویسی ہی اب تک
جو دعوے تھے کل تک بقا کے جہاں میں، وہ فرسودہ نعرہ زبانی بدل دو
جو آقا تھے کل تک اسیروں کے خود ہی، وہی اب پکاریں کہ صدمہ بڑا ہے
بگڑتی ہے جب خود ہی گھر کی فضا تو، مکاں کے یہ سارے مکانی بدل دو

0
11
داخِلَہ اور خارِجَہ دونوں میں تُم؟؟؟
——
داخِلَہ اور خارِجَہ دونوں میں تُم؟
چُونْکہ تُم صاحِب کے رِشْتَہ دار ہو؟
کیسے چَل سَکتا ہے پِھر کوئی نِظام؟
جَب کہ اُس میں اِس قَدَر لُٹ مار ہو!!!

0
4
رستے میں الوداع کہا، رہ بدل گئے
کچھ خاص لوگ چھوڑ کے دنیا، نکل گئے
آوارہ گھومتے تھے وہ اس دل کے دشت میں
جب داعیِ اجل نے بجایا بِگل، گئے
یوں آسماں پہ ڈھونڈتا رہتا ہوں ان کو میں
گویا یہاں سے جا کے ستاروں میں ڈھل گئے

0
29
یہاں دہشت ہے، اداسی ہے، پریشانی ہے
یہ ہے کشمیر، یہاں غم کی فراوانی ہے
میرے دریاؤں کو جب بند کیا جانے لگا
بس اسی دن سے مرے خون میں طغیانی ہے
یہ مرے پانی جو دنیا کے لیے سونا بنے
یہ مرے خون کی ارزانی جو ارزانی ہے

0
5
اس یاد میں دلبر کی مسرور ہے دل میرا
اور زائرِ بطحا میں مشہور ہے دل میرا
اس شہرِ منور میں یہ روضہ ہے دلبر کا
دیکھیں گے درِ جاں کو مشکور ہے دل میرا
انوار کے باراں ہیں اس وادیِ اقدس میں
مستی ہے جو منظر میں مخمور ہے دل میرا

0
3
گلہ آج دنیا کے محور سے ہو گا
زمانے کا شکوہ بھی داور سے ہو گا
نہ اب کوئی ناطہ ستم گر سے ہوگا
مداوا مرے دیدۂِ تر سے ہوگا
وفا کا صلہ کیوں جفا کی روش ہے
یہ کیسا صلہ دستِ رہبر سے ہوگا

0
5
درِ خدا پر علیؑ ہی ہونگے
رخِ پیمبرؑ علیؑ ہی ہونگے
رجب کی تیرہ سِوائے منکر
‏‎سبھی کے لب پر علیؑ ہی ہونگے
دلیل اس کی حدیثِ قدسی
وہ نورِ پیکر علیؑ ہی ہونگے

0
4
خدا کہتا ہے جبریلِؑ امیں سے
نبیؐ جا کر ملیں میرے مکیں سے
یہ بیتِ کبریا نے کھل کھلا کر
کہا آئے علیؑ عرشِ بریں سے
ملک اس درجہ آئے دید کو پھر
فلک ملنے لگا جھک کر زمیں سے

0
7
خدا کے دین کی تنویر زینبؑ
دیارِ کن کی ہیں تقدیر زینبؑ
نظامِ کبریا جس نے بچایا
وہ شاہِ دیںؑ کی ہیں ہمشیر زینبؑ
ہے برگ و گل کے لب پر یہی نغمہ
علی کی بولتی تصویر زینبؑ

0
5
نسیمِ حق نے یہ نغمہ پڑھا ہے
غدیرِ خم کا میخانہ سجا ہے
ولا کا جام تھامے بولے سلماں
الگ سب سے الگ اسکا نشہ ہے
مقصر پی کے گرتا ہے زمیں پے
یہ کم پینے کی بھی دیکھو وجہ ہے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

404
6358
فوجِ صفین سے بھاگو کی صدا آئی ہے
تیغِ عباسؑ جو ان سب کی قضا لائی ہے
ہلکی سی غازیؑ نے گھوڑے پہ جو انگڑائی لی
اور زِرہ ٹوٹ کے پھر خاک پہ اس دم تھی گِری
تیغ بھی جوش میں لینے لگی انگڑائی ہے
منھ کو ڈھانپے ہوئے چلتے رہے دشمن کی طرف

0
5
لفظِ کُن کے راز سے جو کوئی منکر ہو گیا
اس عمل سے لازمی وہ دیکھو کافر ہوگیا
لوریوں میں جسنے ماں سے نام حیدرؑ کا سنا
بچپنے سے باطنی وہ شخص طاہر ہوگیا
جعفرِ صادقؑ کے مکتب سے ہُوا جو فیضیاب
دو جہاں کے علم میں وہ بندہ ماہر ہوگیا

0
4
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

19
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7973