معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
ڈِی آئی جی (آپریشنز) کی پَریس کانْفَرِنْس!!!
——
اِتنا مال کہاں سے آیا، کیسے کمایا تھا یِہ سَب؟
کِس نے کھیلا، کیسے کھیلا ہے یِہ کھیل بَتا دیتے
اُلْٹی سِیدھی ہانْکتے رَہنے سے تو کافی بِہْتَر تھا
ڈِپٹی صاحِب مال و زَر کی کُچھ تو ٹریل بَتا دیتے

0
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
درد کا مارا ہوا وہ شخص ہوں میں
جس کو تم نے عشق میں دھوکا دیا تھا
میرے حصے میں فقط تنہائیاں تھیں
تیرے حصے میں تھیں ساری ہی دعائیں

0
1
جسے ہُوا ہے اشارا مدینے سے
کبھی کرے نہ کنارا مدینے سے
زمانے بھر کو سہارا وہ دیتا ہے
ملا ہے جس کو سہارا مدینے سے

12
غزل (رباعی کے وزن میں )
دشتِ ہجر و وصال سے آ گے ہے
رکنا مرا ماہ و سال سے آگے ہے
قیدِ نظارہ ، آ نکھ اور یہ مشکل
راز الفت جمال سے آ گے ہے
وہ بھی گم ہے جو میرا ماضی تھا کبھی

0
4
حیدرآباد شہر میرا
پائِنْدَہ باد شہر میرا
قائم دائم رہے یہ رونق
تابندہ باد شہر میرا
پیارے ہیں سب یہاں کے شہری
رَخْشَنْدَہ باد شہر میرا

3
دکھ سے نسبت کثیر جہتی کی
ربط ہر سمت سے نکلتے ہیں

0
6
میں چپ رہوں تو مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
جہاں میں بول پڑوں راستے بدلتے ہیں
میں ننگے پاؤں چلا ہوں یہاں پہ بچپن سے
وہ کیسے ساتھ دیں اب ان کے پاؤں جلتے ہیں
جو مر گئے ہیں وہ آزاد ہو گئے کب سے
جو جی رہے ہیں یونہی عمر بھر وہ گلتے ہیں

0
8
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
10
راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں
درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں
گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں
پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں
میں تجھے بھولنے کی کوشش میں
اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں

0
7
عمر بھر تم پہ ناز تھا پر
ایک لمحے میں پھر گئے تم
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
4
مرا سکون چھین کر
رہا جو میری ذات میں
نہ وہ کبھی جدا ہوا
نہ آ سکا حیات میں
دعا بھی اس کے نام کی
گلہ بھی اس کے نام کا

0
9
دو غَیر مُلکی خَواتِین کے مُبَیَّنہ اِغْوا اور زِیادْتی کا واقِعَہ!!!
——
وہ لوگ جو سَدا سے اِس مُلْک کے ہیں دُشمن
اُن سارے دُشمنوں کو ہی شاد کر گیا ہے
جو کَچھ بَچا ہُوا تھا عِزَّت کے باب میں وہ
یِہ ایک واقِعَہ ہی بَرباد کر گیا ہے

0
3
ورطئہ ذات سے نکل تو گئے
ہم ترے ہات سے نکل تو گئے
خون میں لتھڑے نیم جاں ہی سہی
حسن کی گھات سے نکل تو گئے

0
16
تیرا ساگر اس جہاں میں یہ بسیرا
ریت کے بے نام ذرے کی طرح ہے
عمر بھر بھٹکے سکوں کی جستجو میں
ہر سفر صحرا کے رستے کی طرح ہے
اپنی ہستی پر نہ اتنا ناز کرنا
سانس اک مہمان لمحے کی طرح ہے

0
1
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہم کو مقصود ترے عشق میں اک درجہ تھا
بازیِ عشق تو ایسے نہیں ہاری ہم نے

0
10
ہو اگر حرف میں تاثیر تو جاں بخش بھی ہو
ورنہ بے سود ہے ہر نغمۂ بے جان، سخن
ہو اگر ذوقِ نظر خاک میں افلاک دکھیں
ورنہ بینا کو بھی ملتا نہیں عرفانِ سخن
بے ادب اہل کی محفل سے کنارا ہی بھلا
خامشی بہتر از آں، حرفِ پریشاں، اے سخن

0
8
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7939
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
392