معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5914
یِہ جَنگ نَہِیں اَب رُکنے کی
یِہ جَنگ تو بَس اَب جاری ہے
اِیْران کے حال پَہ چُپ نَہ رَہو
آئِنْدَہ ہَماری باری ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
ڈرتے ہی رہو گے تم؟
کب تک یوں ڈرو گے تم؟
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟
بجلی نے جو گرنا تھا
وہ گر بھی چکی تم پر
جلنا تھا نشیمن نے

0
6
کھڑی جن کے پیچھے صفِ انبیا ہے
امامِ امم وہ نبی مصطفیٰ ہے
کرے گا خدا شاد اُن کو ہے وعدہ
ربِ امتی رب سے جن کی دعا ہے
سعادت ہے اُن کی شجاعت ہے اُن کی
رسولِ خدا یہ شہے دو سریٰ ہے

0
1
4
آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی صاحِب کے نام!!!
——
جو باقی ساری قَوْم کے ہیں تیوَر تھے وَہی سالار کے بھی
تُم ہار گئے ہو جِیت کے بھی وہ جِیت گیا ہے ہار کے بھی
اِک رَستہ ہے جُھکْ جانے کا اِک رَستہ ہے بِک جانے کا
اِیْمان ہو گَر مَضْبُوط تو پِھر سَو رَستے ہیں اِنْکار کے بھی

0
2
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے

0
4
تیری قامت سے عیاں ہے زندگی کا بانکپن
تیری قامت کے تلے ہی ختم ہے رنج و محن
​کِس طرح روکیں بھلا اب موجِ خوں کے سلسلے
جب تری یادوں سے مہکا ہے خیالوں کا چمن
​تیری پازیبوں کی جھنکارِ سحر کے سامنے
لرزہ بر اندام ہے اب مصلحت کا ہر چلن

0
5
تیری صورت دیکھ کر ہر عکسِ جاں لرزے گا اب
آئینہ خود کو سنبھالے، وہ یہاں لرزے گا اب
​گر چُھپا لے رخ تو ہوگا ماہِ نو پیوندِ خاک
کھول دے گیسو تو سارا گلستاں لرزے گا اب
​یہ چمکتی بجلیاں تیری جبیں کے سامنے؟
گر اڑی زلفِ سیہ، سارا سماں لرزے گا اب

0
5
قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے
عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے
​رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں
اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے
​رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب
دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے

0
12
نہ ڈھونڈیں کمالِ نبی کی مثال
ملے گا نہ تجھ کو کہیں یوں جمال
ہیں الطاف اُن کے سدا خلق پر
ہیں فیاض بی بی حلیمہ کے لال
سدا ہے سخی سے کرم کی ہوا
اسی نے زمانے کے بدلے ہیں حال

1
7
آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی شَہِید اور دِیگَر مُسْلِم قِیادَت!!!
——
سامْراجی قُوَّتوں کے چاپلُوسی رَہْنُما
اَونے پَونے سے کِھلونے لَگ رَہے ہیں سَب کے سَب
ایک سَچّے رَہْنُما کے جان سے جانے کے بَعْد
کیا بتائیں بَوْنے بَوْنے لَگ رَہے ہیں سَب کے سَب

0
4
زرد پتوں کا قصہ تمام ہوا
خزاں نے چپ چاپ رخصت لی ہے
بنجر شاخوں کے لبوں پر
ہری کونپل مسکرا رہی ہے
زندگی
پھر سے اپنا نام لکھ رہی ہے

0
5
پھر بساط بچھتی ہے
اور مہرے سجتے ہیں
طبلِ جنگ کے بجتے ہی
صف آرا پیادوں کے
خون کھول اٹھتے ہیں
بے دھڑک جھپٹتے ہیں

0
9
کوئی کاہے سمجھے ضرورت کسی کی
کسی کو رہی کب ہے عادت کسی کی
غرور و حرص نے عجب ڈول ڈالا
کہاں اب رہی سچی الفت کسی کی
زمانہ بھی دھوکا دھڑی کا ہے عادی
ڈرامہ لگے اب مروت کسی کی

0
4
ہم تو تم پر مر چکے تھے
زندہ تم نے کر دیا ہے
زندگی بے کیف سی تھی
رنگ اس میں بھر دیا ہے

0
2
جناب آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی شَہِید!!!
——
وَہی تو تھا ڈٹا تو پِھر ڈٹا رَہا
بَلَنْد تَر ہوں دَرْجے اُس شَہِید کے
جو مَر گیا پَہ ٹَسْ سے مَسْ نَہِیں ہُوا
جُھکا نَہِیں جو سَامنے یَزید کے

0
3
چھوڑ دے اے نوحہ گر اب مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری جان محفل اٹھ گیا

0
20
شکستِ شب کا نوید نامہ، طلوعِ امکاں لہو کے قطرے
مٹا رہے ہیں فریبِ سلطاں، غرورِ ایواں لہو کے قطرے
نشانِ سوزِ نہاں، دلیلِ شکستِ ایواں لہو کے قطرے
نوائے محشر، صدائے بیدادِ اہلِ عصراں لہو کے قطرے
شکستہ تیغوں کی آبرو ہیں، جلالِ میداں لہو کے قطرے
سپہرِ ظلمت پہ بن کے اُبھرے شہابِ تاباں لہو کے قطرے

0
11
​دل کی بستی میں بچھڑنے کا ہنر رہ جائے گا
تُو چلا جائے گا لیکن اک اثر رہ جائے گا
​شہرِ الفت کی فضا میں ڈھونڈ پاؤ گے ہمیں
تیری آنکھوں میں کوئی خوابِ سحر رہ جائے گا
​کون پہنچا ہے کبھی منزل پہ اے جانِ وفا
تھک کے رہ جائیں گے ہم اور یہ سفر رہ جائے گا

0
6
بے حسی کے اس عہدِ یخ بستہ میں
وہ قامتِ استقامت تھا
اسے معلوم تھا
قرضِ حسین
محض لفظوں سے ادا نہیں ہو گا
تو

9
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
779