معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6560
عہدِ وفا بھی ختم ہوا وہ بدل گیا
مجھ میں بسا وہ شخص بھی مجھ سے نکل گیا
دونوں گرا سکے نہ جو مل کر انا کے بت
آخر تعلقات کو سارے نگل گیا
حیران ہوں کہ فرقتوں کا کیا اثر ہوا
وہ بھی سنبھل گیا ہے تو میں بھی سنبھل گیا

0
3
کسی کو کسی کی خبر ہی نہیں تھی
کسی کو کسی کی فکر ہی نہیں تھی
وہاں ایک مدت سے اک شور برپا
مگر کوئی آواز سنتا نہیں تھا
وہاں قتل ہوتے رہے روز لیکن
کسی شخص نے کچھ بھی دیکھا نہیں تھا

0
1
نانا پاٹیکر کی یاد میں!!!
——
اپنے ہَر کردار پَر تھی تُجھ کو اِک اَیسی گِرِفْت
جو عُمُوماً تو اداکاروں میں ہوتی ہی نَہِیں
ہِیرو نَہ ہو کے بھی تُجھ میں اِس قدر تھیں خُوبیاں
جو عُمُوماً عام فَنکاروں میں ہوتی ہی نَہِیں

0
1
یہاں کسی کو کسی پر بھی اعتبار نہیں
عجیب شہر ہے، لوگوں کو خود سے پیار نہیں
تمام شہر کو معلوم ہے کہ قاتل کون
مگر کسی کو گواہی کا اختیار نہیں
کسی نے پوچھ لیا شہر میں ہے کون شریف
کسی بھی جرم میں اب تک جو گرفتار نہیں

0
2
یہ کیسا شہر ہے، سب لوگ مسکراتے ہیں
کسی کے زخم پہ بھی قہقہے لگاتے ہیں
عجیب لوگ ہیں، سچ بولنے سے ڈرتے ہیں
مگر جو جھوٹ ہو، اس کو یقیں بناتے ہیں
یہاں شریف وہی ہے جو چپ رہے صاحب
جو سچ کہے، اسے آداب بھی سکھاتے ہیں

0
6
لمحہ لمحہ مانگتا ہوں، میں عطائے مصطفٰیؐ
ایک دن مل جائے گی، مُجھ کو رضائے مصطفٰیؐ
مُجھ کو مولا کر عطا، ایسی ثنائے مصطفٰیؐ
جس کے صدقے ہو عطا، مُجھ کو رِدائے مصطفٰیؐ
اس تمنا کے علاوہ کوئی حسرت اب نہیں
نقش میری خاک پر ہو جائے پائے مصطفٰیؐ

1
39
ہم اپنے آپ سے ملتے تو کیا نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ اپنا پتا نہیں ہوتا
یہ جستجو رہی اپنا سراغ پا لیتے
خود اپنی ذات سے بڑھ کر خلا نہیں ہوتا
عجیب شخص ہوں، ہر بار ہار جاتا ہوں
مگر شکست کا مجھ کو گلہ نہیں ہوتا

0
3
ہمیں تو اپنی تباہی کا بھی ملال نہ تھا
عجیب شخص تھے، جینے کا کچھ خیال نہ تھا
ہمیں تو عشق سے پہلے بھی ایک وحشت تھی
سو اپنی ذات کا یہ پہلا اختلال نہ تھا
ہم اپنی ذات سے بیزار تھے شروع سے ہی
تمہارا عشق تو ہم پر کوئی وبال نہ تھا

0
4
ہم اپنے آپ سے بچ کر کہاں نکلتے ہیں
جہاں بھی جائیں، وہیں خود سے آ کے ملتے ہیں
عجیب عمر ہے، اک دن بھی جی نہیں پاتے
مگر یہ سال ہیں، چپ چاپ جو نکلتے ہیں
وہ جس کے بعد ہمیں زندگی بدلنی تھی
اسی کی یاد میں ہر بار خود میں ڈھلتے ہیں

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6560
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

53
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8054