معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5809
ہے بظاہر فتور آنکھوں کا
کچھ اثر ہے ضرور آنکھوں کا
یہ جو ہر سو دکھائی دیتا ہے
ہے یہ سارا شعور آنکھوں کا
خواب ہم کو جگا کے دکھلائے
بس یہی ہے قصور آنکھوں کا

0
3
ویسے تو کرنے کو کیا نہیں ہو سکتا
ایک فقط ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا
وہ اکثر ناراض تو ہو جاتا ہے مگر
باپ کبھی بیٹے سے جدا نہیں ہو سکتا
چاہے کوئی کتنے کرشمے دکھاتا پھرے
پھر بھی میرے رب جیسا نہیں ہو سکتا

0
6
نبی سے محبت خزانہ ملا
زہے مصطفیٰ کا ترانہ ملا
سخی دلربا ہے حبیبِ الہ
ہمیں جو خدا سے یگانہ ملا
عجب فیض والی ہے آلِ نبی
جو جواد سب سے گھرانہ ملا

2
14
غم کے صحرا میں کچھ سکوں پاتے
شجر کے سائے ہوتے جہاں ہم بیٹھ جاتے
راہ میں ایسا کوئی مقام آیا ہی نہیں
میں نے تمہیں بھلایا ہی نہیں

0
3
خواب کے جزیروں میں کشتیاں ڈوب رہیں ہیں
ایک مدھم سی چنگاری رہ گئی ہے
آخری موج کے چڑھتے وہ بھی بجھ جائے گی

4
نیٹ مِیٹرِنگ کی بجائے نیٹ بِلِنگ!!!
——
جانے حُکْمَرانوں کو شَرْم کیوں نَہِیں آتی؟
مَہنگے دَاموں کی بِجلی سَسْتے دَاموں لینے میں
جانے حُکْمَرانوں کو مَوت کیوں نَہِیں پَڑْتی؟
سَسْتے دَاموں کی بِجلی مَہنگے دَاموں دینے میں

0
ہے کس کی کیا بساط بتاتی ہے نوکری
انساں کو آئینہ یوں دکھاتی ہے نوکری
تعبیر جسکی ملتی نہیں ہے تمام عمر
کچھ اس طرح کے خواب دکھاتی ہے نوکری
بن تجربے کے ڈگری کسی کام کی نہیں
احساس ہم کو یہ بھی دلاتی ہے نوکری

0
1
پہلے شہ رگ پہ ہاتھ رکھتا ہوں
پھر خدا سے میں بات کرتا ہوں
گو کہ جگنو ہے میری ذات مگر
عارضی روشنی سے ڈرتا ہوں
تاکہ زخموں کو صبر آ جائے
کٹ کے دنیا سے دور چلتا ہوں

0
جس دن سے تمہیں دیکھا ہے کچھ بے چین سا ہوں
جیسے دل تو پاس ہے دھڑکن نہیں ہے
سانس تو ہے ہوا نہیں ہے
بے سدھ ہوں اس طرح چلنے کی سقت نہیں ہے
میرے بدن کے ہر انگ میں ہمت نہیں ہے
روبرو تم کو کبھی دیکھ نہیں سکا

5
جس دن سے تمہیں دیکھا ہے کچھ بے چین سا ہوں
جیسے دل تو پاس ہے دھڑکن نہیں ہے
سانس تو ہے ہوا نہیں ہے
بے سدھ ہوں اس طرح چلنے کی سقت نہیں ہے
میرے بدن کے ہر انگ میں ہمت نہیں ہے
روبرو تم کو کبھی دیکھ نہیں سکا

0
3
شکوہِ ایزد ہے یا گلہ ہے اب حالات سے
جل گیا گلشن بہارِ نو کے ہی صدمات سے
​رند تیرے مے کدے کا راستہ ہی بھول کر
جا گرے ہیں دور ساقی اب تمہارے ہات سے
​یوں سرِ مقتل نہ کھولو زلف کو اپنی صنم
لوگ نکلے ہی نہیں اب تک طلسمِ رات سے

0
5
نبی کا ہے ڈنکا صدا کن فکاں
نہ ہوتے اگر وہ نہ ہوتے جہاں
نبی کے جہاں سارے لولاک سے
رواں امرِ کن سے ملیں پھر زماں
یہ زینت دہر کی نبی کے لئے
مگر نورِ جاں سے ہیں اس کے نشاں

2
15
قَمر جاوید باجوہ صاحب باتھ رُوم میں گِر گئے!!!
——
آپ سا اور کون کھوچَل ہے؟
اِتنے کھوچَل، نِرے ہُوئے ہیں آپ
کیا ضَرُورَت تھی گِرتے پِھرنے کی؟
پہلے کافی گِرے ہُوئے ہیں آپ

0
4
ذرے ذرے میں ہے ظہورِ حیات
چاند تاروں کو ہے شعورِ حیات
کثرتِ نوع تیرا حسنِ کمال
ہر رگ و پے میں تیرا نورِ حیات
سب کو ادراک تیری بندگی کا ہے
روز و شب گردشِ حضورِ حیات

0
6
غزل
رنج کے ساتھ، کچھ خوشی بھی ہے
مشکلوں ہی میں دل کشی بھی ہے
چند جُگنو ابھی فروزاں ہیں
ظُلمتیں ہیں تو روشنی بھی ہے
گو، کٹھن ہیں یہ منزلیں لیکن

0
2
جوں کسی کو کجروی پر ناز ہے
عاشقوں کو عاشقی پر ناز ہے
فخر کرتے ہیں حماقت باز ہی
کیونکہ شیطاں کو شقی پر ناز ہے
عاشقِ صادق چھپا کر عشق کر
عشق کو عشقِ خفی پر ناز ہے

0
4
دل میں پیدا وقار تو کرتے
ذکرِ حق بار بار تو کرتے
غیر سے لو لگائی ہے تم نے
اپنے رب سے بھی پیار تو کرتے
مانگتے ہو صلے عبادت کے
خود کو پہلے نثار تو کرتے

0
5
دشت کو لالہ زار تو کرتے
زلف کو سایہ دار تو کرتے
ہوتے ہم بھی اسیرِ زلفِ ستم
کوئی جال اختیار تو کرتے
تم تو بیٹھے تھے آس میں جاناں
ہم پہ بھی اعتبار تو کرتے

0
4
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774