معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6473
کچھ خواب ہم نے ٍایسے سجائے ہیں آج تک
سکھ چین زندگی کے لٹائے ہیں آج تک
رشتوں کے سارے مان نبھائے ہیں آج تک
ہر موڑ پر فریب ہی کھائے ہیں آج تک
پوچھے نہ کوئی ہم سے ہماری اداسیاں
کچھ زخم دل میں ہم نے چھپائے ہیں آج تک

0
چڑھائی ہے بہت جور و جفا کی
"دہائی ہے شہِ مشکل کشا کی"
مظالم ہیں فزوں ظالم کے ہر سو
"دہائی ہے شہِ مشکل کشا کی"
خداوندا کرم کی اک نظر کر
"دہائی ہے شہِ مشکل کشا کی"

1
133
تضمین:- قافلے نے سوئے طَیْبہ کَمَر آرائی کی
کلام:- امام احمد رضا خان بریلوی
ــــــــــــــ-------------------------------
ہائے کیسے بے بَسی نے سِتَم آرَائی کی
رَو دیا سُن کے صَدا عَازِمِ بَطْحَائی کی
چَل دیا قافلہ ، مُجھ سے نہ شَناسائی کی

0
10
پھر یہ کس طور سے محبت ہے؟
اب کسی اور سے محبت ہے؟
تجھ سے منسوب سب مناظر کو
دیکھنا غور سے محبت ہے
فخر! یہ دور جو تمہارا ہے
تب ہی اس دور سے محبت ہے

0
4
عاجِز اور فَقِیر ہیں لیکن رُوٹھ گئے تو رُوٹھ گئے
اور ہیں وہ جو سَب کو ہی ہَر حال مُوَافِق ہوتے ہیں
ہَم نے جِس کو چھوڑ دیا تو سَمجھو اُس کو چھوڑ دیا
پِیچھے مُڑ کے دیکھنے والے لوگ مُنافِق ہوتے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
5
اجالا ہے نورِ صوفیا کا، چراغ احمد کے جل رہے ہیں
اندھیرا ہر گز نا ہو سکے گا، چراغ احمد کے جل رہے ہیں
لہو جگر کا پِلا کے احمد دِیَا ہیں دل کا جلا کے احمد
جلا کے رکّھے تھے جن کو آقا چراغ احمد کے جل رہے ہیں
ادھر یہ بیٹے سے چل رہا ہے ادھر مریدوں کا سلسلہ ہے
یہاں جو آیا وہ نور پایا چراغ احمد کے جل رہے ہیں

0
4
خفا یہ وقت نہ مجھ سے کبھی ہوا ہوتا
یقیں ہے کوئی مجھ سا کہاں ہوا ہوتا
نمک چھڑکتا رہا زخم پر مر ا ناصح
وہ کاش مجھ پہ کبھی مائلِ عطا ہوتا
نہ ہوتیں سازشیں تیری اے منصفِ دوراں
قدم قدم پہ نہ مسکن کوئی جلا ہوتا

0
6
آؤ دیکھیں پیار کے، رنگ کوئے یار میں
اڑ گئے اغیار کے، رنگ کوئے یار میں
خوب لمحے تھے وہی، ساتھ اس کے جو کٹے
بکھرے تھے دیدار کے، رنگ کوئے یار میں
حسن کے انداز بھی، عشق کے اطوار بھی
ہیں وہی ہر بار کے، رنگ کوئے یار میں

0
8
مجھ کو اک عمر تھی میری ہی جستجو، کیا کہوں کس طرح خود کو پایا تھا مَیں
مَیں جب آیا یہاں، جانے میں تھا کہاں، ہاں مگر، یاد کر، لوٹ آیا تھا مَیں
نام بس کاغذوں پر لکھا رہ گیا، کچھ لبوں پر مِرا تذکرہ رہ گیا
مَیں کہاں سے چلا اور کیا رہ گیا، جانے امکان تھا یا کِنایا تھا مَیں
ایک مدت ہوئی، ظُلمتوں نے کبھی میری راہوں میں آنے کی ہمت نہ کی
بس کسی دن یونہی، بر سرِ تیرگی، روشنی کا علَم تھام لایا تھا مَیں

0
5
سَب کے سَب اِخْتِیار و اِسْتِثْنا
ایک کارِ نَجات رہتا ہے
اَب تو صاحِب کے اَمَر ہونے میں
صِرف آبِ حَیات رہتا ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
5
بڑی نامِ احمد میں تاثیر ہے
سجی اس سے مومن کی تقدیر ہے
سدا اُن کی توقیر کر میرے دل
یہی تیرے خوابوں کی تعبیر ہے
سجے عشقِ جاناں سے یہ زندگی
یہی زندگانی کی تفسیر ہے

0
8
سَب کے سَب اِخْتِیار و اِسْتِثْنا
ایک کارِ نَجات رہتا ہے
اَب تو صاحِب کے اَمَر ہونے میں
صِرف آبِ حَیات رہتا ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
1
کتابِ دل صَحیفہ ہے مُحبت کے اُصولوں کا
علاجِ دل اِسی میں ہے، یہ نُسخہ ہے رَسولوں کا
2
ہزاروں راز مَخفی ہیں کتابِ دل کے طاقوں میں
خُدا کا نقش ہے پِنہاں، اِسی کے ہی اوراقوں میں

0
17
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6473
علم و ادب کا ہر فن ،سیراب آپ سے ہے
پیارے ادیب صاحب، ہر باب آپ سے ہے
گلشن کے باغباں ہیں، ہر فن کے آسماں ہیں
اسلاف کے نشاں ہیں، رفعت کے اک جہاں ہیں
فکر و ہنر کا گلشن، شاداب آپ سے ہے
علم و ادب کا ہر فن، سیراب آپ سے ہے

0
11
دلِ ذاکر کو بشارت کہ بشیر ؐ آئے
دلِ غافل کی طہارت کو نذیر ؐ آئے
کسی نُوری نے خوشی سے یہ پکارا ہے
دلِ بے نُور، مبارک کہ منیر ؐ آئے

0
14
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

36
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7997