معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



416
6614
سرچ گوگل پر کرو تم، یا پڑھو کوئی کتاب
ہے مری تخلیقِ خالص، یہ نہ ہوگی دستیاب

0
2
باپ کس عمر تک کمائے گا
بچوں کا فیصلہ بتائے گا
صرف یادیں ہی رہ گئیں باقی
اپنا بچپن نہ لوٹ پائے گا
جب بہار آئے گی مرے آنگن
دل کا ہر زخم لہلہائے گا

0
3
جدائی کی کٹھن شب اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے
یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے
پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے ساقیا اب تو
یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے

0
3
خدا کے فضل سے دیکھو حسیں لمحے یہ آ ئے ہیں
کہ جیسے مدرسے میں چاند تارے جگمگائے ہیں
سبھی چہروں پہ چھائی ہے خوشی مہماں کی آمد سے
فضائیں مہکی مہکی ہیں عجب سے نور چھائے ہیں
ہمارے حضرتِ فاروق ہیں عالم، بڑے صالح
خلوص و مہر کی خوشبو وہ اپنے ساتھ لائے ہیں

0
2
رضا تیری مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے

0
3
تم ہنس دو تو دن کا بوجھ بھی ہلکا لگتا ہے
تم چپ ہو تو روشن کمرہ تنہا لگتا ہے
دن بھر کی سب باتیں تم سے کہہ لیتا ہوں میں
تم سے چپ رہنا بھی مجھ کو پیارا لگتا ہے
دن بھر کی سب الجھن لے کر گھر جب آتا ہوں
تم کو در پر دیکھ کے گھر بھی گھر سا لگتا ہے

0
3
میں گردشِ دوراں کی سیاہ چال میں ہوں
یوں لگ رہا ہے کسی خطہ ءِ زوال میں ہوں
ہر ایک تیر پہ ہے نام میرے یاروں کا
مرا خیال ہے میں دشمنوں کی ڈھال میں ہوں
دکھوں سے ایسی رفاقت ہے اب کیا کہیے
لہو ٹپک کے بتاتا ہے میں ملال میں ہوں

0
2
سنگ جوڑا تو نے میرا نام بھی
ہے چھپایا دل میں تیرا نام بھی
عشق کی اس بے خودی کے شہر میں
آ گیا ہے یاد چہرہ، نام بھی
زندگی کی دھوپ میں ہر موڑ پر
بن گیا ہے ایک سایہ، نام بھی

0
4
دل میں اک خواب ہے، تعبیر کا دعویٰ بھی نہیں
اور اس خواب سے اب دل کو کنارا بھی نہیں
اس سے برسوں سے ملاقات نہیں ہو پائی
دل نے چاہا ہو اسے بھولنا، ایسا بھی نہیں
ہم نے ہنس ہنس کے چھپائے ہیں کئی زخم مگر
کوئی پوچھے تو سنانے کو فسانہ بھی نہیں

0
6
ہجومِ دنیا میں میرا پتا نہیں ملتا
صدائے دل کا کہیں بھی سرا نہیں ملتا
بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکوں کا بھی کوئی خلا نہیں ملتا
تعلقوں میں یہ کیسی تھکن سی طاری ہے
مری خطا پہ بھی کوئی خفا نہیں ملتا

0
2
ہاتھ بیگم کا بٹانے چل پڑے
آج کچھ جوہر دکھانے چل پڑے
گول پیڑا بھی نہ ہم سے بن سکا
ہم نئی روٹی بنانے چل پڑے
سوپ میں مرچیں بہت سی ڈال کر
لذتیں اس کی بڑھانے چل پڑے

0
3
مجھ سے یہ پوچھتے ہیں، سخنور ہو کیوں
دل کے اندر یہ بہتا سمندر ہو کیوں
جب نگاہوں میں آباد ہو تم ہی تم
روبرو دوسرا اور منظر ہو کیوں
پیار کی راہ میں دشمنی کیوں بھلا
اک ذرا سی خطا پر یہ محشر ہو کیوں

0
3
مسکرا کر اشک ہم نے آج سارے پی لیے
شادؔ دیکھو حوصلے سے زخم دل کے سی لیے

0
3
ہو گئی ہے خامشی ہی اب ہماری گفتگو
شادؔ ہم کو اب نہیں ہے راستوں کی جستجو

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

416
6614
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

58
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8075