معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6591
من کی بستی کو بسانے میں بہت دیر لگی
اپنی ہی ذات میں آنے میں بہت دیر لگی
میری آنکھوں پہ جو پٹی تھی لگائی اس نے
اسی پٹی کو ہٹانے میں بہت دیر لگی
میری نظروں میں سمائے تھے جو منظر سارے
ان نظاروں کو بھلانے میں بہت دیر لگی

0
1
بہت سے لوگ ملے، کوئی ہم سبو نہ ملا
ہجومِ شہر میں اک شخص بھی نکو نہ ملا
ہزار چہرے ملے زندگی کی راہوں میں
مگر کسی میں ترا عکس ہو بہو نہ ملا
وہ عمر بھر مرے نزدیک بیٹھتا بھی رہا
مگر وہ شخص کبھی مجھ سے روبرو نہ ملا

0
6
کسی کی یاد میں خود سے بکھر گئے ہیں لوگ
عجیب بات ہے، پھر بھی سنور گئے ہیں لوگ
جو اپنے ساتھ بھی کچھ دیر رہ نہیں پائے
وہ دوسروں کی نظر سے اتر گئے ہیں لوگ
تمام عمر جنہیں راستوں سے رغبت تھی
ذرا سی دھوپ پڑی تو ٹھہر گئے ہیں لوگ

0
5
چار چیزیں وضو میں سنو فرض ہے
بیٹھ جائے ذہن میں یہی غرض ہے
چہرہ اور ہاتھ دھونا ہے پھر مسحِ سر
دھونا پاؤں کو پھر بس یہی عرض ہے

0
4
ہم نے سچ کی اس قدر قیمت چکائی ہے کہ بس
پھر اسی سچ سے نظر ایسی چرائی ہے کہ بس
علم کی محفل میں سب دانائی کے دعوے کیے
اک سوال آیا تو سب نے چپ لگائی ہے کہ بس
حق کی خاطر بولنے کا حوصلہ رکھتے تھے ہم
وقت آیا تو زباں یوں لڑکھڑائی ہے کہ بس

0
9
گھٹن کے دور میں تازہ سحر لایا
خبر میرے لیے جب خوش خبر لایا
بہت مدت کے بعد اک خوبصورت شخص
دلِ ویران میں زیر و زبر لایا
خزاں رت میں بھی اپنے لمس کے صدقے
وہ شاخِ آرزو پر پھر ثمر لایا

0
1
جل رہا تھا طاق میں، وہ دیا کہاں گیا؟
خواب تھا گلوں بھرا، اے خدا کہاں گیا؟
روشنی کی منتظر رات جاگتی رہی
قافلہ تو ساتھ ہے، راستہ کہاں گیا؟
آنکھ میں رہا تھا جو، عکس ہم سے کھو گیا
ڈھونڈھتے رہے سدا آئینہ کہاں گیا؟؟

0
4
خوابِ غفلت سے جگا دے ساقی
دل کو جینے کی ادا دے ساقی
دل پہ برسوں سے اندھیرا چھایا
کوئی روزن تو بنا دے ساقی
سچ جو ہونٹوں پہ ٹھہر جاتا ہے
اس کو آواز بنا دے ساقی

0
3
دل کا غبار ہنس کے اڑاؤ، نشے میں آؤ
اک شام زندگی کو مناؤ، نشے میں آؤ
دن بھر سنبھال رکھا ہے دنیا نے ہوش کو
اب ہوش کو بھی نیند سلاؤ، نشے میں آؤ
ہم سے خفا ہو، خیر، مگر اتنا تو کرو
نظریں اٹھا کے آنکھ ملاؤ، نشے میں آؤ

0
4
سوچی تھی کس نے خواب کی تعبیر اس طرح
سہنی پڑے گی ہر جگہ تحقیر اس طرح
مسمار کرکے کچے گھروندے عوام کے
اہرام ہوتے آئے ہیں تعمیر اس طرح
زخموں سے رستہ خون بھی محسوس ہو سکے
جنگوں کے باب کیجئے تحریر اس طرح

0
5
چہرے فریب کاروں کے پہچانتے نہیں
ہم جانتے ہیں آپ جنہیں جانتے نہیں
جن کو خدا بنا کہ پرستش کئے ہیں سب
ہم ریگِ زیرِ پا سا بھی گردانتے نہیں
رستے کھلے ہیں کتنے ہماری شکست سے
بے سود ہم بھی ہار کہیں مانتے نہیں

0
5
مجھے اپنی ذات کے دشت میں کسی ہم سفر کی تلاش ہے
جو مجھے مجھی سے ملا سکے، اسی رہ گزر کی تلاش ہے
نہ وہ علم جو مرے ذہن میں فقط اپنے سچ کا اسیر ہو
جو مرے یقیں کو پرکھ سکے، مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے اس رفیق کی آرزو جو مرے سکوت کو سن سکے
جو مری نگاہ میں غم پڑھے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے

0
9
نبی جی آپ کا ہے ایک آسرا ہم کو
ملا نہ آپ سا کوئی بھی رہنما ہم کو
نبی رسول ہیں ہادی ہیں آپ پیغمبر
نبی نے سیدھ دکھایا ہے راستہ ہم کو
نماز روزا سکھایا زکات اور حج بھی
نبی نے دین سکھایا ہے برملا ہم کو

0
جیسی کرنی وَیسی بَھرنی پَڑتی ہے
گالی کے بدلے گالی دی جاتی ہے
تَھپَّڑ کا بَدلہ تو تَھپَّڑ ہوتا ہے
آنکھ کے بَدلے آنکھ نِکالی جاتی ہے
(مرزا رضی اُلرِّحمان)

0
6
دلوں کے درمیاں حائل فقط دیوار ہی تو ہے
جو لب پر آ نہیں پایا، وہ اک اقرار ہی تو ہے
ہم اپنی ذات کی پہچان دنیا سے طلب کرتے
مگر دنیا کی نظروں کا بھی اک معیار ہی تو ہے
جسے ہم زندگی بھر اپنی خوشیوں کا سبب سمجھے
وہی رشتہ ہماری روح کا آزار ہی تو ہے

0
11
یہ ظلم کرکے نہ بھول جانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
پکڑ میں رب کی کبھی ہے آنا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
بڑے بڑے تاجدار گزرے، یہیں پڑے ہیں مزار بن کے
ذرا اُنہی سے سبق یہ پانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
یہ عیش و عِشرت یہ مال و دولت،یہ شان و شوکت یہ جاہ و حَشمت
سبھی فریب نظر فسانہ، خدا کو بھی ہے حساب دینا

0
6
اپنی تنہائی کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
بھولی بسری اک ہنسی کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب کبھی سچ بولنے سے ڈرنے لگتے ہیں تو ہم
پھر سے اپنے خوف کو فولاد کر لیتے ہیں ہم
جن سے ملنے کی کوئی صورت نہیں باقی رہی
بند آنکھوں میں انہیں آباد کر لیتے ہیں ہم

0
12
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6591
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

56
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8073