معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6166
چشمِ ویراں میں ابر و بار آیا
بے قراری کو کچھ قرار آیا
درد اٹھا تو بے پناہ اٹھا
رنج آیا تو بے شمار آیا
اس جہانِ خراب میں اب تک
دورِ ظلمت ہی بار بار آیا

0
9
لبوں سے کوئی جب بھی کم بولتا ہے
تو پھر چشمِ پر نم سے غم بولتا ہے
ہے اس واسطے میری آواز میں درد
ترے ہجر کا اس میں غم بولتا ہے
کبھی باتیں کرتے جو تھکتا نہیں تھا
ترے بعد وہ شخص کم بولتا ہے

3
153
جانِ دو عالم سید و سرور
پیارے نبی کونین کے دلبر
ہستی اُن سے ساری ہے جھل مل
روشن اُن سے اوجِ پہ اختر
گنج سخا ہیں نور و ضیا ہیں
بانٹیں سدا جو فیض کے دفتر

0
1
6
صادق امین مخبر سرور کی ہو ثنا
ایسے لطیف یزداں دلبر کی ہو ثنا
ہیں فیضِ اولیں جو دارین میں حسیں
اوجِ کمال کے اُس اختر کی ہو ثنا
وہ گنج جس سے نکلے انوارِ دو سریٰ
اس کنزِ فیض والے انور کی ہو ثنا

0
1
6
کونین میں نرالا اُن کا دیار ہے
دیتی جہاں کو زینت جس کی بہار ہے
رگ رگ کو حاصل اس جا گوناں سکون ہے
انعامِ مصطفیٰ کی جاری پھوار ہے
ہیں فیض عام اُن کے الطاف بیکراں
پُر کیف لمحے جس سے دائم قرار ہے

0
3
دل چوٹ کھا چکا ہے لیکن گلہ نہیں ہے
ہر شخص کو جہاں میں یہ دکھ عطا نہیں ہے
محروم رہ نہ جاؤں میں الفتوں سے تیری
ان قسمتوں کو میری ، تجھ سا ملا نہیں ہے
سائے سے چونک جائے یا پار جا کے اترے
تنہا یہ دل ، مسافر رہ آشنا نہیں ہے

0
4
اے آدم تو خُود کو کَہاں جانتا ہے
تِرا رَب تو تیرے گُماں جانتا ہے
نہ جانا خُدا کو، نہ خُود کو ہی جانا
تُو کہنے کو سارا جَہاں جانتا ہے
نَظر کوئی کیسے اُٹھے اُس کے آگے
وہ سَب کا ہی کارِ نِہاں جانتا ہے

8
مَیں وہ غَلِیظ ہُوں، پَاپِی ہُوں اور پَراگَنْدَہ
کبھی نَہ پاس سے گُذرے ہیں میرے نیکُو کار
مقامِ شُکر ہے مولا کہ میرے جیسے بھی
اُسی مَزے میں ہیں جِس میں ہیں تیرے نیکُو کار
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
خود اپنے ہی وجود کا ملبہ ہوا ہوں میں
جس سے نکل سکا نہ وہ قضیہ ہوا ہوں میں
ہر شخص اپنے غم کی تلافی میں مست ہے
کس نے یہ کہہ دیا کہ مسیحا ہوا ہوں میں
اک عمر کٹ گئی ہے اسی دشتِ زار میں
اب جا کے اپنے سے بھی شناسا ہوا ہوں میں

0
6
دل کے احوال صاف کرتا ہوں
رو کے خود کو معاف کرتا ہوں
تیرے رستے کی خاک چنتا ہوں
شوق کا اعتکاف کرتا ہوں
مجھ کو دنیا غریب کہتی ہے
میں خدا سے طواف کرتا ہوں

0
6
کوئی موسم ہو، اترتا ہے نظر میں وہ شخص
جیسے سورج کی کرن کھیلے سحر میں وہ شخص
جس کو سوچا بھی تو کانٹے سے چبھے یاد اس کی
کتنا پیارا ہے، مگر ڈوبا ہے ڈر میں وہ شخص
میں نے سوچا تھا کہ اب ترکِ تعلق کر لوں
پھر پکارے گا مجھے راہِ گزر میں وہ شخص

0
6
جب تلک زخم نہ گہرا ہو، غزل کہیے گا
دل کا احوال نہ بدلا ہو، غزل کہیے گا
صرف لفظوں سے کہاں حقِ وفا ہوتا ہے
خونِ دل ساز پہ بکھرا ہو، غزل کہیے گا
بات جب حد سے گزر جائے تو ملتا ہے سکوں
شور جب روح میں برپا ہو، غزل کہیے گا

0
5
اے دیس کیا کروں ترے نصیب جل گئے
وہ جو وفا شعار تھے قریب جل گئے
پلے تھے وحشتوں میں وہ محبتوں سے دور
محبتوں سے دل کے سب غریب جل گئے
جواب دے چکے تھے میرا روگ دیکھ کر
سو تندرست دیکھ کر طبیب جل گئے

0
2
مومِنَہ اِقبال، ثاقِب چَدھَڑ اور وہ!!!
——
حُسْن کے نَخْرے اُٹھائے تُم نے گُردے بیچ کَر
تُم کہ ٹَھَہرے اَجْنَبی کِتْنی مُدا”راتوں“ کے بَعْد
لے اُڑا ہے مومِنَہ کو اور ہی کافِِر کوئی
راندَۂِ دَرگاہ تُم اِتْنی مُناجاتوں کے بَعْد

0
3
ہر ستم کر کے ، نبھانے والی
عادتیں سب ہیں زمانے والی
ہر طرف دیکھو ہے مقتل برپا
اور دعا شہر بسانے والی
ڈوب جانے کا ہے خطرہ لاحق
رت نہیں اشک بہانے والی

0
3
کہا جن کو رَب نے خَلیل و حَلیم
کیا پیش جس نے ذِبْحِ عَظیم
وُہی ہیں کَریم و جَدِّ کَریمؐ
سَلَامٌ علٰی اِبْرَاھِیْم

0
9
مزدور ڈے پر ایک پرانی تحریر
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تو سوچ پلٹ آئے وہ غربت کا زمانہ
محسوس تجھے ہو گا کوئی خوف پرانا
غربت سے کئی جا چکے ہیں موت کے منہ میں
بچے بھی بلکتے ہیں کہ ملتا نہیں دانہ

0
6
غزل
فرعون ہیں، نازی ہیں، کہ تاتار صہیونی
ابلیس کے پیرو ہیں، یہ بیمار صہیونی
مصلوب کیا حضرتِ عیسی کو جو ناحق
ظلمت کے علم دار یہ مکار صہیونی
لبنان و فلسطین کو مقتل سے بدل کر

1
10
دنیا کی ظلمتوں میں منوّر ہیں بدر چشت
عالم کی خشکیوں پہ سمُندر ہیں بدر چشت
جس پر نظر پڑی اسے خوش حال کر دیا
مہر و وفا خلوص کا پیکر ہیں بدر چشت
ہر ایک تشنہ لب کو ملے گا یہیں سے جام
عرفان و آگہی کا وہ ساغر ہیں بدر چشت

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7883
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6166
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
31