معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6172
مذاہب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عداوت کے حوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
اگر سچ بولنا بالکل گوارا ہی نہیں تم کو
تو پھر جھوٹے سوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بپا فتنہ کیا جمہوریت کے نام پر سب نے
سو جذباتی جیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے

0
1
ہے یادِ نبی میں عجب ہی نظارہ
وہ ہادی وہ رہبر جہاں کا سہارا
بلاؤں کو ٹالیں وہ مشکل کشا ہیں
ملے جن کے در سے ہمیں ہر کنارہ
ہے تریاق ہر درد کا ذکر اُن کا
وہ محبوبِ داور ہے داتا ہمارا

0
تم مرے پہلو میں آئے دلکشی کو اوڑھ کر
رک گئی ہے رات پل بھر تشنگی کو اوڑھ کر
گفتگو اب دھڑکنوں کے درمیاں ہونے لگی
سو گیا ہے آج کمرہ خامشی کو اوڑھ کر
تیرے ماتھے پر لٹیں الجھی ہوئی ہیں اس طرح
چاند جیسے چھپ گیا ہو برہمی کو اوڑھ کر

0
1
سجی مسلکوں کی دکاں دیکھتا ہوں
کہیں اور کب ہیں جو یاں دیکھتا ہوں
رگوں میں لہو کی بجائے یہاں تو
ہے فرقہ پرستی رواں دیکھتا ہوں
کرپشن حکومت کا ہے لازمی جز
افیسر ہیں سب بد زباں، دیکھتا ہوں

0
1
ہیں وطن کے نصیب پتھر کے
اور اس کے طبیب پتھر کے
اپنے جیسا ہمیں بھی کر لیں گے
یہ بکاؤ ادیب پتھر کے
شہر یاروں کے دیکھ کر کرتوت
ہو گئے ہیں غریب پتھر کے

0
مٹی کی طرح چاک پہ میں گھومتا گیا
مجھ کو بنا بنا کے کوئی توڑتا گیا
شاید کسی کے خون سے سینچا گیا مجھے
شاخوں کے ساتھ پھل جو لگا سوکھتا گیا
سب اختیار اس کا تھا اس داستان پر
جس سمت اس نے موڑا قلم دوڑتا گیا

0
وطن کی یاد میں دن رات جلتے ہیں
سو مثلِ شمعِ فرقت ہم پگھلتے ہیں
ہمیں کہتے ہیں وہ زندیق اور کافر
لہو کے اشک آنکھوں میں مچلتے ہیں
بہت آسان ہے غدار کہنا، پر
جو سنتے ہیں وہ مشکل سے سنبھلتے ہیں

0
2
میری رگ رگ میں بسا ہے اور میری جان ہے
جان سے بھی بڑھ کے پیارا مجھ کو پاکستان ہے
داغِ فرقت کا مجھے احساس ہے ہر ہر گھڑی
پاک دھرتی زندگی ہے اور مری پہچان ہے
یوں تو یہ پردیس بھی اب دیس لگتا ہے مجھے
اس وطن نے ہے سنبھالا اس کا بھی احسان ہے

0
1
بَشِیر بَدْر صاحِب کے جَنازے میں کُل 20 اَفْراد شَرِیک تھے!!!
——
بَعْد اَز مَرْگ شامِلِ غَم ہوں
اِتْنی فُرْصَت کہاں ہے لوگوں کو؟
لوگ مَصْرُوفِ کار ہوتے ہیں
اَب فَراغَت کہاں ہے لوگوں کو؟

2
14
زندگی کی الجھن میں جانے کیا گواں بیٹھے
جستجو میں ہم ان کی خود کو ہی بھلا بیٹھے
بادلوں کے حصے میں تشنگی سمندر کی
درد سب زمانے کے دل میں میرے آ بیٹھے
آسماں کی چاہت میں خاک بس اٹھا لائے
چاند پر پہنچنا تھا پنکھ ہی جلا بیٹھے

0
2
ماضی ایک خواب ہے
کل کا دن سراب ہے
رہتا ہے جو حال میں
ہوتا کامیاب ہے

0
3
سجدوں میں پڑا در پہ پشیمان ہوں مولا
حالت ہوئی اپنی پہ پریشان ہوں مولا
آنکھوں میں جلن سینے میں خاموش ہے طوفاں
بے حس ہوں پڑا فکر میں بے جان ہوں مولا
رحمت کا ہوں طالب میں جو دشوار ہے منزل
کر دے اسے آساں ترا احسان ہے مولا

0
3
عدل کی جیت ہار اپنی جگہ
اور وکیلی پکار اپنی جگہ
لاکھ تفصیل سامنے لائیں
باتیں ہیں بے شمار اپنی جگہ
جرم ثابت بِنا ثبوت کے ہے
عدل کا اعتبار اپنی جگہ

0
7
دیس پھر ایک نظر دیکھ لیا
باپ دادا کا نگر دیکھ لیا
ان سے اب مل تو نہیں سکتا میں
ان کی قبروں کو مگر دیکھ لیا
یاد ماں باپ کی آتی تھی مجھے
جا کے ماں باپ کا در دیکھ لیا

0
3
یہ آنکھ نم حُسَین کے لیے ہی ہے
ہمارا غم حسین کے لیے ہی ہے
درود اور سلام پڑھ رہا ہوں میں
یہ محترم حسین کے لیے ہی ہے
کہا عدو نے کربلا کی خاک پر
کہ ہر ستم حسین کے لیے ہی ہے

0
4
اک فسانہ بنا لیا خود کو
غم ٹھکانہ بنا لیا خود کو
اب کوئی چاکِ دل سلے کیوں کر
جب نشانہ بنا لیا خود کو
عمر بھر خود سے روٹھنے والے!
کیوں دوانہ بنا لیا خود کو

0
3
وہ کیسا حسیں دور تھا
جوانی کا جب زور تھا
شِگُوفوں کے باغیچے میں
اُمنگوں کا ہی شور تھا

0
5
Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
98
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7889
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6172