معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
کہیں لب پر دعاؤں کا اجارہ ہو نہ جائے
حقیقت بھی فقط اک استعارہ ہو نہ جائے
فضاؤں میں دھواں اک خطرہ بنتا جا رہا ہے
اسی بازی میں گم ماحول سارا ہو نہ جائے
وگرنہ جنگ کا یہ لطف بھی جاتا رہے گا
اِکائی دشمنوں کی پارہ پارہ ہو نہ جائے

3
ہم ہیں شاعر شعور رکھتے ہیں
دل غزل کے حضور رکھتے ہیں
ہم جواہر سے قیمتی ہیں مگر
چند ساتھی ضرور رکھتے ہیں
ہم بھلا تیرگی سے ڈر جائیں
روشنی کا شعور رکھتے ہیں

0
1
تم سے رہائی پائیں بھی تو کیسے
جسم و جاں میں سمائے ہوئے ہو تم

0
انا بھی تو جدائی کا سبب بن جاتی ہے ساگر
انا کی لاج جو رکھتے ہیں داغ سہہ نہیں سکتے

0
1
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی تمہیں کس بات کا ڈر ہے
جدائی ہے محبت میں تو ملنا بھی مقدر ہے
محبت میں جدائی کی روایت توڑ دوں گی میں
تری خاطر یہ دنیا کی حقیقت چھوڑ دوں گی میں
محبت میں ترا ملنا مقدر میں لکھاؤں گی
میں نے چاہا ہے تمہیں اور ہمیشہ تمہیں چاہوں گی

0
7
گلستاں میں پھولوں نے رنگِ نمو پا لیا
کرم ہے کہ قسمت نے رخ اب بدل سا لیا
قدم نیک اٹھاؤ تو منزل ملے گی تمہیں
کہ جس نے بھی چاہا اسے دل میں بسا لیا
اجالا ہے دل میں تمہارے ہی کرم سے میاں
محبت کی راہوں کو ہم نے سجا لیا

0
5
ڈِی آئی جی (آپریشنز) کی پَریس کانْفَرِنْس!!!
——
اِتنا مال کہاں سے آیا، کیسے کمایا تھا یِہ سَب؟
کِس نے کھیلا، کیسے کھیلا ہے یِہ کھیل بَتا دیتے
اُلْٹی سِیدھی ہانْکتے رَہنے سے تو کافی بِہْتَر تھا
ڈِپٹی صاحِب مال و زَر کی کُچھ تو ٹریل بَتا دیتے

0
3
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
درد کا مارا ہوا وہ شخص ہوں میں
جس کو تم نے عشق میں دھوکا دیا تھا
میرے حصے میں فقط تنہائیاں تھیں
تیرے حصے میں تھیں ساری ہی دعائیں

0
6
جسے ہُوا ہے اشارا مدینے سے
کبھی کرے نہ کنارا مدینے سے
زمانے بھر کو سہارا وہ دیتا ہے
ملا ہے جس کو سہارا مدینے سے

13
غزل (رباعی کے وزن میں )
دشتِ ہجر و وصال سے آ گے ہے
رکنا مرا ماہ و سال سے آگے ہے
قیدِ نظارہ ، آ نکھ اور یہ مشکل
راز الفت جمال سے آ گے ہے
وہ بھی گم ہے جو میرا ماضی تھا کبھی

0
4
حیدرآباد شہر میرا
پائِنْدَہ باد شہر میرا
قائم دائم رہے یہ رونق
تابندہ باد شہر میرا
پیارے ہیں سب یہاں کے شہری
رَخْشَنْدَہ باد شہر میرا

5
دکھ سے نسبت کثیر جہتی کی
ربط ہر سمت سے نکلتے ہیں

0
6
میں چپ رہوں تو مرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
جہاں میں بول پڑوں راستے بدلتے ہیں
میں ننگے پاؤں چلا ہوں یہاں پہ بچپن سے
وہ کیسے ساتھ دیں اب ان کے پاؤں جلتے ہیں
جو مر گئے ہیں وہ آزاد ہو گئے کب سے
جو جی رہے ہیں یونہی عمر بھر وہ گلتے ہیں

0
8
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
11
راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں
درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں
گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں
پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں
میں تجھے بھولنے کی کوشش میں
اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں

0
8
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7941
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
394