معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



396
5925
مناسب نہیں ہر قدم غم کی بات
کریں آج خوش بخت عالم کی بات
بہت گریہ زاری سے جی بھر گیا
تو کرتے ہیں شیریں تبسم کی بات
گلوں پہ  چمکتی ہے شبنم ابھی
ابھی روک لو آنکھ کے نم کی بات

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

396
5925
سمایا جوہر خاکی میں آسماں کا  مزاج
زمیں سے  جانچ رہا ہے جو لامکاں کا  مزاج
ابھی معمہ ہیں تصویرِ کائنات کے رنگ
کھلا کہاں ہے  ابھی رازِ کن فکان کا  مزاج
بنائے کون و مکاں تو نے اپنی خواہش سے
ہمارے بس میں کہاں ہے ترے جہاں کا مزاج

0
6
وہ رونقیں کہاں گئی ہیں محفلوں سے پوچھئیے
دلوں میں فاصلے ہیں کیوں یہ دوستوں سے پوچھئیے
کہیں نہ کھو گئے ہوں آپ زندگی کی دوڑ میں
کہاں ہیں منزلیں، ٹھہر کے راستوں سے پوچھئیے
غمی تو میری زندگی کے ساتھ ساتھ ہے مگر
مرے نصیب کی خوشی کا قسمتوں سے پوچھئیے

0
3
اُن کو محبوب رب نے کہا ہے
شان جن کی خلق میں سوا ہے
ہر جہاں پر وہ رحمت کے باراں
اُن کو کوثر خدائی عطا ہے
قال حق ہے حبیبِ الہ سے
قول اُن کا رضائے خدا ہے

0
1
5
عجیب تھا وہ کہ جس نے اپنے نحیف ہاتھوں
دہکتا سورج پکڑ کے میری زمین میں بہتے
پانیوں میں بصد عنایت نچوڑ ڈالا۔۔۔۔
۔
اسے یقین تھا
پگھلتے سورج کا نور ندیوں میں بہتے بہتے

0
12
خامشی کا شور ہے اب بستیوں کے درمیاں
اڑ گئے پیڑوں کی شاخوں سے سبھی وہ نغمہ خواں
​پھول کی خوشبو ہوا کے ساتھ رخصت ہو گئی
باغ سے روٹھی بہاریں، زرد ہے اب بوستاں
​دھوپ کے نیزے بدن کو چھیدتے ہیں آج کل
کاٹ ڈالے ہم نے خود ہی ابر کے سب سائباں

0
3
قسمتوں میں ہمارے جیل میاں
راحتیں آپ کی رکھیل میاں
طوق فولاد کا ہے گردن میں
ناک میں چھبتی سی نکیل میاں
ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے
سوچ لینے گئی جو تیل میاں

0
4
نظمِ معرّیٰ
وہ کہتا ہے
میں ہر انسان کے دل میں چھپے رازوں سے واقف ہوں
دعائیں اس کے ہونٹوں پر جو رہ رہ کر مچلتی ہیں
انہیں میں تب سے سنتا ہوں
کہ جب اس کو ابھی الفاظ کے معنی نہ آتے تھے

0
4
دکھاوے کی عبادت اور ہوگی
کرو دل سے محبت اور ہوگی
کوئی درویش کہتا جا رہا تھا
جڑا رہنے سے چاہت اور ہوگی
امیرِ شہر کے کاغذ قلم سے
امانت میں خیانت اور ہوگی

2
ہر موڑ پر ہیں زیست کے منظر نئے نئے
ملتے ہیں راہ گیر یہاں پر نئے نئے
۔
آنسو کبھی خوشی کے کبھی غم کی داستاں
یہ زندگی کے پردے پہ منظر نئے نئے
۔

0
6
جو تیرے لہجے میں اتنی مِٹھاس ہے
غرض کی آتی مجھے اِس سے باس ہے

0
6
اب تو ستاروں کا ملنا ممکن ہی نہیں
بچھڑے یاروں کا ملنا ممکن ہی نہیں
/
یہ جگ ہے اور میرے من کے مور یہاں
سبز بہاروں کا ملنا ممکن ہی نہیں
/

0
20
کرتی ہے سینہ روشن مدحت حبیب کی
آراستہ کرے دل الفت حبیب کی
خلقِ خدا میں جگمگ جانِ بہار سے
جانانِ دو جہاں ہے چاہت حبیب کی
مفقود اس دہر میں اُن کی مثال ہے
رکھی خدا نے یکتا خِلقت حبیب کی

0
1
5
ٹَرَمْپ کی اِیْران کو مُذاکَرات کی پیشْکَش!!!
——
کُچھ ہی دِنوں میں کیسی دُرْگَت بَنا کے رَکھ دی
اِیْران چَھا گیا ہے، اِیْران چَھا گیا ہے
ٹُوٹا ہے اِس طرح سے اِس کا غُرُور اَب کے
کُچھ دِن میں ہی ٹَرَمْپُو تَرلوں پہ آ گیا ہے

0
3
چاند تھا ہی نہ بسکہ ہالہ تھا
یوں کہ پہنا لباس کالا تھا
ڈھل گیا کج روی میں ہی اپنی
کوئی خاکہ جسے سنبھالا تھا
نقطۂ انجماد تک آیا
ایک سورج جو دل نے پالا تھا

0
4
شاہِ خیبر شیرِ یزداں میرے مولا ہیں علیؑ
شان جنکی رب بتائے ایسے اعلیٰ ہیں علیؑ
میرے آقاﷺ کی محبت ہے علیؑ سے اس قدر
خود جسے بھائی بُلائیں ایسے بالا ہیں علیؑ
میاؔں حمزہ

0
5
عشق میں حد سے گزرنا چاہے
وہ مرے دل میں ٹھہرنا چاہے
ترکِ الفت کا ارادہ بھی کرے
پھر ان آنکھوں میں سنورنا چاہے
خوفِ رسوائی ستاتا ہے اسے
عہدِ الفت سے مکرنا چاہے

0
3
جب لوگ بھلانے لگتے ہیں
پھر خواب ستانے لگتے ہیں
کیوں ترکِ محبت کرتے ہو
کب اس پہ خزانے لگتے ہیں
تو آ جا تیرے آنے سے
کچھ درد ٹھکانے لگتے ہیں

0
3
کیسے رو رہے ہیں دیوار و در دیکھ
اے منہ پھیر کے جانے والے ادھر دیکھ
/
ایک اشارے پر کہاں سے آیا ہوں
مجھ کو زمانے کا نہیں کوئی ڈر دیکھ
/

0
8
اس حسیں وادئ گل کے تم نظارے دیکھنا
نیم شب میں چاند کی جانب اشارے دیکھنا
سرد شبنم کے وہ قطرے جو گلابِ سرخ پر
آبشاروں نے پہاڑوں پر اتارے دیکھنا
اپنی زلفیں کھول کر تم بیٹھ جانا گھاس پر
ساتھ میرے بہتے پانی کے کنارے دیکھنا

0
12
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7713
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
9