معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6581
چلو دل کی بستی بسا کر تو دیکھو
کبھی رسمِ الفت نبھا کر تو دیکھو
​گھٹا غم کی چھائی ہوئی ہے دلوں پر
ذرا شمعِ چاہت جلا کر تو دیکھو
​ہوائیں ہیں نفرت کی چلتی ہر اک سو
گھروں کو وفا سے سجا کر تو دیکھو

0
1
بھلا کر یہ جھوٹے زمانے چلیں ہم
چلو اب پرانے ٹھکانے چلیں ہم
​یہاں کوئی اپنا نہیں ہے کسی کا
سمجھ کر یہ سارے بہانے چلیں ہم
​وفا کا طریقہ بدل کر دکھائیں
نئی اک روایت بنانے چلیں ہم

0
1
ہجومِ شہر میں دل کا پتا نہیں ملتا
صدائے ذات کا اندر سرا نہیں ملتا
​بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکون کا کوئی خلا نہیں ملتا
​تعلقات میں ایسی تھکن سی طاری ہے
ہمارے حال پہ کوئی خفا نہیں ملتا

0
1
نعت کہنا زندگی ہے، نعت کہنا بندگی
نامِ احمد ﷺ سے ملے دل کو سکون و تازگی
آپ کی سیرت چراغِ راہِ اہلِ حق بنی
آپ کے کردارِ کامل سے ملی فرزانگی
آپ کی الفت سے روشن ہے دلِ اہلِ وفا
تا ابد قائم رہے مولا یہی دیوانگی

0
1
اے جانِ من نہیں چھوڑا تجھے بدنامی کے ڈر سے
یہ تیرا ظرف ہے تو میرا کب تک ساتھ دیتا ہے

0
2
کوئٹہ: شَہِید پائلٹس کی نَمازِ جَنازَہ کی پُوسٹ پَر 30 ہزار ہَنسنے والے شَرْمْناک اِیموجی!!!
——
کاش کہ وہ تَب بھی یُوں خُوشی مَنا پائیں
کاش کہ جَب اُن کے اَپنے مَحبُوب مَریں
جو جو بھی شُہَدا کی مَوت پَہ ہَنستے ہیں
وہ ذِلَّت کی مَوت مَریں اور خُوب مَریں

0
1
قدم کبھی رکھا نہیں فساد میں
امیر نکلے گے حقوق العباد میں
سوال منتظر رہے جواب کے
جلا نہیں کوئی چراغ یاد میں

2
وقت ناکام رہا زخم کو بھرتے بھرتے
سوزِ دل اور بڑھا عمر کے ڈھلتے ڈھلتے
بے سبب کتنی برستی ہی رہیں گی آنکھیں
تھک گئے اشک مری چشم سے بہتے بہتے
عمر بھر جس کی وفاؤں کے قصیدے لکھے
اجنبی جیسا ملا راہ میں چلتے چلتے

0
3
کون سنتا ہے اس غریب کی بات
بات اور وہ بھی بد نصیب کی بات
مجھ کو اونچا سنائی دیتا ہے
پر سمجھ لیتا ہوں قریب کی بات
ہم نے ہر بات سادگی سے رکھی
اسنے کی جب بھی کی عجیب کی بات

0
2
وفا اگر فضول ہے، قبول ہے
یہی ترا اصول ہے، قبول ہے
ہزار زخم دل پہ تو لگائے جا
تِرا دیا یہ پھول ہے، قبول ہے
کبھی اگر گلہ لبوں پہ آ گیا
ہماری ہی یہ بھول ہے، قبول ہے

0
4
پاکستان مَقرُوض مَمالِک کے عالَمی فورَم کا چَیَرْمین مُنتَخَب!!!
——
غَیرَت ہے بڑی چِیز جَہانِ تَگ و دَو میں
پَہناتی ہے دَرْویش کو تاجِ سرِ دارا
یِہ تاج ہے وہ تاج جو پُرکھوں نے دیا تھا
یِہ تاج ہے وہ تاج جو خُود ہَم نے اُتارا

0
حال مت پوچھیے کیا ہو گیا کہتے کہتے
اشک رکتے نہ تھے رخسار پہ بہتے بہتے
ہائے وہ وقتِ جدائی کا لپٹ کر رونا
یاد آتا ہے وہ منظر مجھے رہتے رہتے
ہم نے الفت کے سفر میں نہیں پائی منزل
پاؤں شل ہو گئے اس راہ میں چلتے چلتے

0
3
دل کے سودے میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے
کوئی ناداں کو سہارا بھی تو ہو سکتا ہے
ہر مسافر پہ بھروسہ نہ کرو منزل تک
راہزن رہبرِ پیارا بھی تو ہو سکتا ہے
ڈوبنے والے کو گرداب سے ڈر ہے کیسا
ڈوب جانا ہی کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے

0
2
دیارِ غیر کی خاطر قرار کھو بیٹھے
بنا کے نقشِ تمنا، غبار کھو بیٹھے
وطن کی خاک سے وابستہ زندگی تھی مری
انہیں بھلا کے سحر کا نکھار کھو بیٹھے
وہ دوستوں کی رفاقت، وہ بے نیازی کے دن
ملی جو دولتِ دنیا، بہار کھو بیٹھے

0
5
قفس ہے باغ میں، خالی نہیں ہے
اور اک صیاد ہے ، مالی نہیں ہے
ہمیں اب سوچنا کچھ اور ہوگا
کہانی اس قدر خالی نہیں ہے
سمجھتا ہوں میں لفظوں کا تقدس
گھٹا ہے ، زلف سی کالی نہیں ہے

0
3
زخمی دلوں کا واقف و پرساں رہا ہوں میں
کب اپنے دل کے درد کا درماں رہا ہوں میں
ہے اعترافِ جرم سرِِ عام برملا
اپنے گماں کی قید کا نگراں رہا ہوں میں
قسمت میں کب تھا حال کے احوال دیکھتا
کل کی مہیب سوچ سے ترساں رہا ہوں میں

0
5
اَنمول عُرف پِنکی کو با عِزَّت بَری کر دیا گیا!!!
——
بَری ہو گئی ہے بَری ہو گئی ہے
وہ ڈائِن اَچانَک پَری ہو گئی ہے
نَہ جانے یِہ کِس کا چَمَتْ کار ہے جو
یِہ کھوٹی چَوَنِّی کَھری ہو گئی ہے

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6581
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

54
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8065