معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6174
تھی جن سے امید و آس ہم کو
کیا سبھی نے اداس ہم کو
جو غیر بھولے تو غم نہیں ہے
نہ جانے اپنا شناس ہم کو
یہ اہل ایماں کا معرکہ تھا
جہاں کا دوجا یہ کربلا تھا

0
2
لب ہلے تھے کہ عشق کا پوچھوں
دل نے ہر سو ہی کربلا دیکھا

0
5
جَہاں کی سَعادت مِرے مصطفٰی ہیں
خُدا کی قَرابت مِرے مصطفٰی ہیں
جو نُورِ احد کا ہیں اوّل کرشمہ
وہ نُورِ محبت مِرے مصطفٰی ہیں
عَدم چیز کیا ہے، یہ کیا ہیں حوادث
دَوامِ ہُویّت مِرے مصطفٰی ہیں

0
11
وہ کیسا حسیں دور تھا
جوانی کا جب زور تھا
شَگُوفوں کے باغیچے میں
اُمنگوں کا ہی شور تھا
محبت کی نَم وادی کا
میں اِک ناچتا مور تھا

0
4
جِس اِعْتِرافِ جُرْم کی ہِمَّت ہُوئی تُمھیں
اِس اِعْتِرافِ جُرْم سے تو کُھل گئی ہے بات
اِس اِعْتِرافِ جُرْم کی پاداش میں تُمھیں
لاکھوں کَروڑوں گالِیاں، دِیگَر مُغَلَّظات
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
تنہائیوں کے کرب میں مارا گیا ہوں میں
اپنے اکیلے پن میں اتارا گیا ہوں میں
یہ سلطنت ہے میرے عروج و زوال کی
اپنے حواریوں سے بھی ہارا گیا ہوں میں
شطرنج کے پیادے سے گھوڑے کی مات تک
کتنی بغاوتوں پہ ابھارا گیا ہوں میں

0
6
مذاہب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عداوت کے حوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
اگر سچ بولنا بالکل گوارا ہی نہیں تم کو
تو پھر جھوٹے سوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بپا فتنہ کیا جمہوریت کے نام پر سب نے
سو جذباتی جیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے

0
5
ہے یادِ نبی میں عجب ہی نظارہ
وہ ہادی وہ رہبر جہاں کا سہارا
بلاؤں کو ٹالیں وہ مشکل کشا ہیں
ملے جن کے در سے ہمیں ہر کنارہ
ہے تریاق ہر درد کا ذکر اُن کا
وہ محبوبِ داور ہے داتا ہمارا

0
3
تم مرے پہلو میں آئے دلکشی کو اوڑھ کر
رک گئی ہے رات پل بھر تشنگی کو اوڑھ کر
گفتگو اب دھڑکنوں کے درمیاں ہونے لگی
سو گیا ہے آج کمرہ خامشی کو اوڑھ کر
تیرے ماتھے پر لٹیں الجھی ہوئی ہیں اس طرح
چاند جیسے چھپ گیا ہو برہمی کو اوڑھ کر

0
3
سجی مسلکوں کی دکاں دیکھتا ہوں
کہیں اور کب ہیں جو یاں دیکھتا ہوں
رگوں میں لہو کی بجائے یہاں تو
ہے فرقہ پرستی رواں دیکھتا ہوں
کرپشن حکومت کا ہے لازمی جز
افیسر ہیں سب بد زباں، دیکھتا ہوں

0
3
ہیں وطن کے نصیب پتھر کے
اور اس کے طبیب پتھر کے
اپنے جیسا ہمیں بھی کر لیں گے
یہ بکاؤ ادیب پتھر کے
شہر یاروں کے دیکھ کر کرتوت
ہو گئے ہیں غریب پتھر کے

0
3
مٹی کی طرح چاک پہ میں گھومتا گیا
مجھ کو بنا بنا کے کوئی توڑتا گیا
شاید کسی کے خون سے سینچا گیا مجھے
شاخوں کے ساتھ پھل جو لگا سوکھتا گیا
سب اختیار اس کا تھا اس داستان پر
جس سمت اس نے موڑا قلم دوڑتا گیا

0
3
وطن کی یاد میں دن رات جلتے ہیں
سو مثلِ شمعِ فرقت ہم پگھلتے ہیں
ہمیں کہتے ہیں وہ زندیق اور کافر
لہو کے اشک آنکھوں میں مچلتے ہیں
بہت آسان ہے غدار کہنا، پر
جو سنتے ہیں وہ مشکل سے سنبھلتے ہیں

0
4
میری رگ رگ میں بسا ہے اور میری جان ہے
جان سے بھی بڑھ کے پیارا مجھ کو پاکستان ہے
داغِ فرقت کا مجھے احساس ہے ہر ہر گھڑی
پاک دھرتی زندگی ہے اور مری پہچان ہے
یوں تو یہ پردیس بھی اب دیس لگتا ہے مجھے
اس وطن نے ہے سنبھالا اس کا بھی احسان ہے

0
5
بَشِیر بَدْر صاحِب کے جَنازے میں کُل 20 اَفْراد شَرِیک تھے!!!
——
بَعْد اَز مَرْگ شامِلِ غَم ہوں
اِتْنی فُرْصَت کہاں ہے لوگوں کو؟
لوگ مَصْرُوفِ کار ہوتے ہیں
اَب فَراغَت کہاں ہے لوگوں کو؟

2
14
زندگی کی الجھن میں جانے کیا گواں بیٹھے
جستجو میں ہم ان کی خود کو ہی بھلا بیٹھے
بادلوں کے حصے میں تشنگی سمندر کی
درد سب زمانے کے دل میں میرے آ بیٹھے
آسماں کی چاہت میں خاک بس اٹھا لائے
چاند پر پہنچنا تھا پنکھ ہی جلا بیٹھے

0
3
Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
102
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7889
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6174