معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6449
دید تیری کے طلب گار بنے بیٹھے ہیں
اِک تماشا سرِ بازار بنے بیٹھے ہیں
دیکھتے لوگ تِرے شہر کے یوں ہیں جیسے
ہم کسی راہ کی دیوار بنے بیٹھے ہیں
سمجھیں گے کیا یہ محبت کو ہوس کے مارے
نظروں میں جن کی گنہگار بنے بیٹھے ہیں

0
نام کے بڑے پر کردار کے تھے چھوٹے لوگ
ہم کو زندگی بھر ملتے رہے کچھ ایسے لوگ
ایک دوجے سے مخلص تھے بنا کسی مطلب
سادہ لوح تھے کتنے ہائے وہ پرانے لوگ
اِک فریب میں ساری عمر کاٹ دی اپنی
کھوئے ہم نے کانٹوں کی کھوج میں نگینے لوگ

0
میلاد کے مُنکر یہ تو بتا میلاد سے مسئلہ تُجھ کو کیا؟
ہر آن ہے ایک ہی رَٹ تیری ہر آن ہی بدعت کا فتوی
عینک یہ تعصّب کی تُو اُتار دِل سے بھی نفرت کو تُو نِکال
اب غور سے سُن تُو بات مِری اور اِس پر اپنا دِماغ لڑا
ہوتا ہے تلاوت سے آغاز مِلتا ہے قلب کو سوز و گُداز
قرآن میں حکم تلاوت کا تُو اُلٹی منطق میں اُلجھا

0
4
جذبات کی سب طغیانی ختم، کہانی ختم!
دریا ہوئے بنجر، پانی ختم، روانی ختم!
عفریت نگل لے گا یہ وقت کا، تیرا حُسن
کچھ دن ہیں فقط، پھر اُس کے بعد جوانی ختم!
یوں کون سہے گا میرے بعد ستم تیرے؟
جب میں نہ رہا، تب جانی! بات پرانی ختم!

0
4
دید سے جس کی مِری دنیا تھی آباد
گھر کا اُس کے فالتو سامان تھا میں!
وہ زیادہ ردّی سے سمجھا نہ مجھ کو
مجھ کو لگتا تھا کہ اُس کا مان تھا میں!

0
2
شعلہ کوئی جل بجھا! کچھ تو ہُوا ہے
حشر سا ہے اِک بپا! کچھ تو ہُوا ہے
اُڑ رہی ہے راکھ یہ کس کی چتا سے؟
کیوں دھواں سی ہے فضا! کچھ تو ہُوا ہے
مانگ تاروں سے منور رات کی تھی
بجھ چکی ہے اب ضیا! کچھ تو ہُوا ہے

0
4
حبس زدہ شاموں کے زنداں میں
غمِ روزگار کے اسیروں نے
اپنی مٹّی کی مہک سے رچے
کتنے ہی موسم کھو دئیے
برستے ہوئے ساون کھو دئیے!

0
1
نزع کا آخری اِک سچ سنو گے؟
مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی!

0
4
قیس جب کسی لیلیٰ کا نشانے پر دیکھا
ہر تماش بیں کو پتھر لیے اُدھر دیکھا
دیکھا تھا جنہیں شامل رسمِ سنگ باری میں
اُنہی پارساؤں کا اپنا شیشہ گھر دیکھا
کھینچ لینے کا رہبر کو زمیں تھا فن اپنے
ہم نے پا کے منزل بھی خود کو دربدر دیکھا

0
2
رُخ پر جمال، زُلفوں میں خم نہیں رہے گا
تجھ پر بہار کا یہ موسم نہیں رہے گا
اِک وقت آئے گا، یہ بھی بھول جائے گا سب
اِس دل کو بے وفا تیرا غم نہیں رہے گا
جذبات سارے پتھر ہو جائیں گے کسی روز
آخر شکستہ سینے میں دم نہیں رہے گا

0
3
کیوں سانس اِس ہوا میں دشوار لگتا ہے؟
اِک بوڑھے پیڑ پر کاری وار لگتا ہے
وہ اور زمانے تھے جب آنکھوں میں تھی حیا
اب تو تماشوں کا اِک بازار لگتا ہے
ڈرتا نہیں ہے اب ویرانوں سے آدمی
انساں درندوں سے اب خوں خوار لگتا ہے

0
3
رستہ گزر چلا، وہی منظر ٹھہر گیا
تُو جس مقام پر مِرے رہبر ٹھہر گیا
تم اور ہم وہی، جدا راہوں کا غم وہی
اِک سانحہ عجب تھا، گزر کر ٹھہر گیا
باقی ہے یوں تِری ہنسی میرے چہار سُو
آسیب کوئی جیسے مِرے گھر ٹھہر گیا

0
5
ہے اُس کے خُون میں شامِل بَغاوَت
وہ مانے گی نَہِیں، آشُفْتہَ سَر ہے
مرے مَولا! ترے جالِب کی دُخْتَر
دو روٹی کے لیے بھی دَر بَہ دَر ہے!!!
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
روز روز نت نویاں فکراں دا گھیرا
ساڈے دوالے انیاں فکراں دا گھیرا
۔
سب دے خیرخواہ اساں، ساڈے گلے دا طوق
بنیا ساڈی جھلیاں فکراں دا گھیرا
۔

0
8
آمد سے مصطفیٰ کی کونین معتبر ہے
مولا کی رحمتوں کا ہر جا گراں اثر ہے
آقا بنے سہارا دنیا میں بے کسوں کا
بردے کو خلد ہمدم دلدار کا ہی در ہے
عزت ہے کبریا کی بعد از خدا نبی ہیں
دیتی جہاں کو رونق سرکار کی نظر ہے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6449
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

31
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7987