معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6087
عشق کی ہر شرط پر ہر وقت آمادہ رہے
وہ نجانے کیوں عدو کے پھر بھی دلدادہ رہے
ہم پہ کیوں خود غرضیوں کے حرف برسائے گئے
ہم تو اپنے کم رہے لوگوں کے زیادہ رہے
ہم کسی بھی تین میں تھے ناں کبھی تیرہ میں تھے
ہر طرف پُتلے ہمارے پھر بھی ایستادہ رہے

0
1
وفا کے رستے میں جو ملی ہیں، عداوتیں بھی شمار کرنا
جو ہم نے ہنس کر سہی ہیں اب تک، ملامتیں بھی شمار کرنا
وہ جن کے سائے میں کٹ گئی تھی ہماری عمرِ رواں کی خوشبو
بچھڑتے لمحوں کی وہ رسیلی حکایتیں بھی شمار کرنا
کبھی جو فرصت ملے تو دل کے شکستہ خانوں میں جھانک لینا
جو اس میں مدفون ہو چکی ہیں، وہ حسرتیں بھی شمار کرنا

0
2
اٹھی یوں ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ
چھٹے جوں چاند پر چھایا سحاب آہستہ آہستہ
وہ چہرے سے اٹھائیں یوں نقاب آہستہ آہستہ
افق سے جیسے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
ان آنکھوں سے برستی ہے شراب آہستہ آہستہ
کہیں نیت نہ ہو جاۓ خراب آہستہ آہستہ

0
7
واللہ مرے نبی دی رحمت کمال دی اے
میرے جے عاصیاں نوں دوزخ توں ٹال دی اے
دنیا دی روشنی اے سورج دے نال ساری
سورج دی ساری تابش تیرے جمال دی اے
اے طور چھڈ دے اپنی شوکت تے ناز کرنا
عظمت بڑی نرالی آقا دی نعل دی اے

0
1
کوئی خواب ٹوٹا کوئی ساتھ چھوٹا تو میں چپ رہا
کوئی آہ نکلی کوئی آنسو نکلا تو میں چپ رہا
/
وگرنہ قیامت بپا تھی شبِ ہجر میں جب کبھی
تری یاد آئی ترا دھیان آیا تو میں چپ رہا
/

0
16
وہ زخمِ تمنا کو چھپائے ہوئے لوگ
خاموشی کا طوفان اٹھائے ہوئے لوگ
پھر لوٹ کے آئے نہ کسی حال میں وہ
اک بار جو نظروں سے گرائے ہوئے لوگ
ہر سانس میں اب زہرِ جدائی ہے بھرا
ہم پیار کی شمعوں سے جلائے ہوئے لوگ

0
3
خود بہ خود بدحال بدلے گا نہیں
اور مَنّ و سلویٰ اُترے گا نہیں
مُنجمد ہے جو یہ ظلمت کا پہاڑ
بددعاوں سے یہ پگھلے گا نہیں
کچھ ذرا سی گرمئ حسرت تو ہو
ورنہ دل میں لہو دوڑے گا نہیں

0
4
اِیْران اَمریکہ مُذاکَرات پَر ہماری قَبْل اَزْ وَقْت خُوشیاں!!!
——
ہَم وہ ویہلے مُشْٹَنْڈے ہیں جِن کو کوئی کام نَہِیں
وَقْت سے پہلے خُوشی مَنا لیں اَپنا کام یَہی تو ہے
بِن سوچے بِن سَمجھے ہم عادی ہیں سَب کُچھ کرنے کے
وَقْت سے پہلے خُوشی مَنانے کا اَنجام یَہی تو ہے

0
2
اک راز کی امیں یہ لولاک کی صدا ہے
آواز تھی یہ جس کو سرکار دلربا ہے
یہ نورِ کبریا پھر مبدأ بنا خلق کا
یوں کارواں جہاں کا مختار سے چلا ہے
ادراک سے ورا جو مخفی جہاں ہیں سارے
اُن کا ہے جو تصور وہ آپ سے ملا ہے

0
2
میں اپنی کہانی کا خود ہوں مصنف
مری اس کہانی کے کردار دو ہیں
کئی باب اس کے میں لکھ بھی چکا ہوں
کئی اس کے اوراق پھاڑے ہیں میں نے
کئی بار اس میں قلم بھی ہے توڑا
کئی اس کے منظر سنوارے ہیں میں نے

0
اُترا نہیں ہے کوئی تنہا اس دھرتی پر
یعنی اک دن تیری اور میری جوڑی ہو گی

0
4
اوپر جو دیکھتا ہوں بکھرے ہوئے ہیں تارے
اک چاند تھا جو میرا, مجھ کو نظر نا آیا
قاصد کو میں نے بھیجا احوال لائے تیرے
اب شام ڈھل رہی ہے، وہ بھی خبر نا لایا
چِلّا رہا ہوں کب سے سنتا نہیں ہے کوئی
کیوں سر کے بل گیا ہے، اُس نے جسے بلایا

0
2
جب سے لٹا ہے میرا گھر بار دوستو
کوئی بچا نہیں ہے غمخوار دوستو
قاضی جو ناچ دیکھے وہ پارسا ہوا
!ناچے جو گر طوائف بدکار دوستو
مجھ کو ہے مارنا تو الفاظ ہیں بہت
یوں ڈھونڈتے پھرو گے تلوار دوستو

0
4
دُنیا مُجھے عَظِیم سَمجھتی ہے لیکن میں عَظِیم تَرِین ہُوں۔ ٹَرَمْپ!!!
——
جِس ذَلالَت کو میاں عَظْمَت سَمجھ بیٹھا ہے تُو
وہ تو عُرْفِ عام میں ہیں بے پَہَن کی گالیاں
تُجھ سے بے غَیرَت کو کوئی فَرْق تو پَڑتا نَہِیں
پَڑ رَہی ہیں گو تُجھے اَب ماں بَہَن کی گالیاں

0
1
تم اپنی محبت سے جب چاہو مکر جانا
دل چاہے تو رک جانا نہ چاہے گزر جانا
اک عمر گزاری ہے تم دے نہ سکے کچھ بھی
جاتے ہوئے سر پر تم الزام ہی دھر جانا
اب دل سے اترنے میں کچھ دیر نہیں لگتی
احسان یہ کر جانا چپکے سے اتر جانا

0
3
آتے ہیں اس مقام پہ مشکل سے چند لوگ
آئے جسے ہو دیکھنا یہ ہیں بلند لوگ
دنیا فقط بناتے ہیں دنیا میں بے وقوف
عقبی سنوارتے ہیں یہاں عقلمند لوگ
یوں تو ہمارے شہر میں لوگوں کی بھیڑ ہے
اہل نظر ہیں شہر میں معدودے چند لوگ

0
7
جسم اردو ہے جان ہے اردو
میری دنیا جہان ہے اردو
حسن و خوبی بلا کی ہے اس میں
کتنی پیاری زبان ہے اردو
ہندو مسلم اسی میں بات کریں
یعنی ہندوستان ہے اردو

0
3
کرو معاف یا رب خطائیں ہماری
سنوں بحر احمد صدائیں ہماری
مٹادے مرے سارے غم یا الہی
رہیں دور ہم سے بلائیں ہماری
مرے والد و والدہ پر کرم کر
الہی تو سن کے دعائیں ہماری

0
4
میں دوستی کا فرض نبھاتا چلا گیا
میں دشمنوں سے ہاتھ ملاتا چلا گیا
جو ہنس رہا تھا اس سے نہ پوچھا کہ غم ہے کیا
جو رو رہا تھا اس کو ہنساتا چلا گیا
ہر اک قدم پہ مجھ کو یہاں ٹھوکریں لگیں
رستے پہ میں چراغ جلاتا چلا گیا

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7824
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6087
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
19