معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5727
پلک جھپکنے سی دیر میں ہی یہ سب نظارے بدل ہیں جاتے
کہ حسرتیں ساری مر ہیں جاتی سبھی سہارے بدل ہیں جاتے
وہ جن کی خوشبو سے زندگی کی حسین یادیں مہک رہی ہوں
ہو بے بسی کی بس ایک دستک وہ یار سارے بدل ہیں جاتے
کے جن کے ملنے کی تم کو چاہت لبھائے رکھے گماں میں اپنے
ملیں کہیں آسمان پر تو وہیں ستارے بدل ہیں جاتے

0
سال یہ زندگی کے انگلیوں پہ دوڑ چلے
کیا پتہ وقت بھی کب راستے میں چھوڑ چلے
سن اے قسمت کہ رہا مجھ کو ترا خوف نہیں
لے ترے رخ کو دیا حسرتوں کا موڑ چلے
بلاول علی صاحِبؔ

0
ہاتھ زخمی جو ہوئے آج تو معلوم پڑا
عمر لگتی ہے یہ دو چار کمانے کے لئے
کون کہتا ہے کہ جینا تو ہے آسان بڑا؟
عمر لگتی ہے رہ سے خار ہٹانے کے لئے
آنکھ کے سامنے تو منزلیں ہے پاس سبھی
عمر لگتی ہے تو اُس پار کو جانے کے لئے

0
اُترتے ہیں جو خلق سے ظالم کے اُن نِوالوں سے بھی گلہ ہے
یا عقلمندوں کے منہ سے نکلے خموش نالوں سے بھی گلہ ہے
جواوڑھ کر کھال بھیڑیوں کی تمہارے محسن بنے ہوئے ہیں
جو بیچتے ہیں ضمیر اپنے وہ دل کے کالوں سے بھی گلہ ہے
جیوں تو کیسے مصیبتوں کے پہاڑ مجھ کو دبا رہے ہیں
دعائیں مجھ کو ہزار برسوں کی دینے والوں سے بھی گلہ ہے

0
کب تک لگا رہے گا تماشائے زندگی؟
کب تک یہی کہوں گا میں؟ کہ ہائے زندگی؟
ہر موڑ اضطراب میں اٹی پڑی ہے یہ
ہر موڑ میری جستجو کو کھائے زندگی
بد رنگ ذہن تھا مرا قوسِ قزح بنا
جینے کے کتنے رنگ ہے دکھلائے زندگی

0
مرے جو اشک سبھی بس ترے ہی نام گرے
مجھے افسوس ہے سارے ہی وہ ناکام گرے
تو نے سوچا بھی نہ اور راستے میں چھوڑ دیا
میرا سینہ پھٹا مجھ پر کئی کہرام گرے
تجھے تو ذرّہ برابر بھی کوئی دکھ نہ ہوا
میرے تو جسم کے سارے ہی در و بام گرے

0
سنو سنو سنو سنو کلام ہے بلا شبہ
یہ دنیا سازشوں کا ہی مقام ہے بلا شبہ
یہ عہدے دار کھا گئے ترا مرا نصیب بھی
نہ ہی تو نوکری ہے نہ ہی کام ہے بلا شبہ
جکا کرو ڈرا کرو مگر نہ التجا کرو
تو اہل سلطنت تجھے سلام ہے بلا شبہ

0
1
چلو یہ عہد کا ہم احتمام کرتے ہیں
بقائے ذوق کو اپنا پیام کرتے ہیں
بحال کرتے ہیں شعر و سخن کی محفل کو
جنونِ ریختہ کو پھر سےعام کرتے ہیں
نئی نسل کے شگوفوں کو داد دیتے ہیں
ادب کے گلشنوں میں جو قیام کرتے ہیں

0
2
آج تلک ہے یاد تری ہر بات مجھے
یاد ہے عشق کی وہ پہلی برسات مجھے
آج اگرچہ حاصل ہے آغوش تری
یاد مگر ہے ہر اک ہجر کی رات مجھے
گرچہ زمانہ سر پہ بٹھاتا ہے مجھ کو
بھولی نہیں ہے اک پل بھی اوقات مجھے

0
3
تمہارے پاس ہیں امّاں سنبھالنا ان کو
انھی میں ہے مری بھی جاں سنبھالنا ان کو
ہرا بھرا ہوں ابھی تک دعاؤں سے ان کی
انھی کو ہے مرا ارماں سنبھالنا ان کو
پناہ دی ہے دکھوں سے انھی کے آنچل نے
ہیں میرے درد کا درماں سنبھالنا ان کو

0
3
محبتوں کی ڈھونڈ کر کوئی کُدال لائیے
عداوتوں کی سرزمیں سے دل نکال لائیے
ستم گروں کو بھی جواب میں دعائیں دیجیے
نہ انتقام کا دماغ میں خیال لائیے
جو دستیاب ہے اسی پہ صبر و شکر کیجیے
ملا نہیں جو اس پہ دل میں مت ملال لائیے

0
3
پہلے ہی دل جینے سے بیزار بھی ہے
سامنے اپنی ناؤ کے منجدھار بھی ہے
اس پر چلنا پھر بھی مشکل لگتا ہے
 راہِ وفا تو سیدھی ہے ہموار بھی ہے
اس کی گلی میں کام ملا ہے کرنے کو
اور وہاں پر دلبر کا دیدار بھی ہے

0
5
دل سے نکلی ہوئی اک بات ذرا کہنے دو
دیس سانجھا ہے ہمیں بھی تو یہاں رہنے دو
بحرِ ظلمات سے گزرے ہیں بڑی مشکل سے
اب ہمیں پیار کے دریا میں ذرا بہنے دو
یہ سزا دیس میں حق گوئی کی ہے سب کے لیے
یہ جو غداری کے طعنے ہیں ہمیں سہنے دو

0
3
نہ کوئی حرفِ تسلی، نہ کوئی وعدہِ وصل
وہ آج ہم سے ہوا ہے اِدھر اُدھر خاموش
گئے دنوں کی تھکن چہروں پر لکھی ہوئی تھی
وہ چپ کھڑا تھا تو میں بھی تھا عمر بھر خاموش
ہمیں بھی اب کسی دستک کی آرزو نہ رہی
کہ جیسے سو گئے ہوں سارے نامہ بر خاموش

0
9
وہ میرے پاس سے گزرا تو تھا مگر خاموش
ہر ایک بات کہی اس نے مختصر خاموش
ہمیں بھی اپنی اداسی پہ اب نہیں رونا
سو تم بھی رہنا ذرا دیر دیدہ ور خاموش
میں اس سے کہتا بھی کیا اپنی بے بسی کا حال
وہ خود ہی بیٹھا ہوا تھا سرِ سفر خاموش

0
6
شہنشاہِ ذیشاں شہے دو سریٰ ہیں
انیسِ غریباں شہے دو سریٰ ہیں
طفیلِ نبی ہے مرورِ زمانہ
جہاں جن سے دوراں شہے دو سریٰ ہیں
ہیں لگتے جہاں سب مدینے سے روشن
نبی نورِ رحماں شہے دو سریٰ ہیں

5
یہ جامعہ رشیدیہ ہے علم کا یہ گلستاں
کہ دھرمپور کی زمیں بنی ہے رشک آسماں
جناب قاری عاقل اس چمن کی جان و شان ہیں
وہ مہتمم ہیں بزم کے امیر کاروان ہیں
وہ حق کی داستان ہیں بڑاہی مہربان ہیں
وہ حافظِ قران ہیں وہ پیکرِ امان ہیں

0
8
پَڑا ہے وہ سَرْدی میں گَھمْسان کا رَن
ذرا مُنْہ نِکالا تو مُنْہ کی ہے کھائی
بَہُت دِن ہُوئے آمْنے سامْنے ہیں
خُدا کی رَضا اور ہماری رَضائی
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
جمیلوں سے حسیں آیا
جو ختمِ مرسلیں آیا
امامِ مرسلیں سید
لئے خندہ جبیں آیا
میانِ فاراں میں دیکھیں
نبی صادق امیں آیا

3
14
ملے خُلد جس جا یہاں ہے وہ در
ہیں نعمت کے قاسم بڑے معتبر
ہے ملجا دکھوں کا اسی شہر میں
عطا کا ہے منبع نبی کی نظر
عُلیٰ درجہ اُن کا ہے بعد از خدا
ہیں اُن کے تصرف ورائے دہر

3
11
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

191
7595
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

395
5727
السلام علیکم ، اللہ کرے سب بخیر و عافیت ہوں۔سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ مطلوب ہے۔

0
3
69