معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6087
میں دوستی کا فرض نبھاتا چلا گیا
میں دشمنوں سے ہاتھ ملاتا چلا گیا
جو ہنس رہا تھا اس سے نہ پوچھا کہ غم ہے کیا
جو رو رہا تھا اس کو ہنساتا چلا گیا
ہر اک قدم پہ مجھ کو یہاں ٹھوکریں لگیں
رستے پہ میں چراغ جلاتا چلا گیا

0
3
آبنائے ہُرمُز کھولنے پَر اِیْران کا شُکْرِیہ۔ ٹَرَمْپ!!!
——
داستاں اِیْران کے اِسکول کی
خُون میں لِپٹی ہیں لاشیں تَر بَتَر
کِس ڈِھٹائی سے کَہا ہے شُکْرِیہ
ایک پاگَل آدمی ہے سَربَسر

0
نہ ملاقات نہ اب شوقِ ملاقات رہا
وہ محبت نہ ہی وہ شعلہِ جذبات رہا
اب چلو ترک کروں خود کو میں آزاد کروں
مرے آنگن میں ترا دکھ کہ جو دن رات رہا
مجھ سے ملنے کو تڑپ جو تُو دکھاتا تھا کبھی
نہ وہ شدت نہ خیالوں میں مرے ساتھ رہا

0
3
روشنی، رنگ، خوشبو کا آمیزہ ہے
اک سراپا سراپا دل آویزہ ہے
لا رہی ہے غضب خوشبو بادِ نسیم
دستِ نازک میں گل کے مگر نیزہ ہے
لوگ کہتے ہیں ساقی کا ہم دوش ہوں
ہاتھ میں ٹوٹے پیمانے کا ریزہ ہے

0
4
اب ترے دل میں اترنے کی نئی کوشش ہے
دیکھیے کتنے دلوں سے میں اتر جاتا ہوں
کس کی سازش نے ہدف چھین لیا ہے مجھ سے
زندہ رہنے کی ہے خواہش تو کیوں مر جاتا ہوں
زندگی نے یا مقدر نے ادھیڑے بخیے
خود کو کرتا بھی ہوں یکجا تو بکھر جاتا ہوں

0
2
سب کو سیدھا لگتا ہوں
لیکن اچھا لگتا ہوں
سچی باتیں کرتا ہوں
پھر بھی جھوٹا لگتا ہوں
کتنی اچھی بات ہے یہ
تم کو اچھا لگتا ہوں

0
3
یہ عشق مجھ پہ کرم آج اتنا سا کر دے
تری نظر سے مرے دل کو آشنا کر دے
غرور دل کو بھی ہے اپنے جذب و کیف کا جب
یہ محوِ ناز کو کیوں کر نہ پھر خفا کر دے

0
مخمور نگاہوں کو نیا جام دے ساقی
گرتے ہوئے رِندوں کو ذرا تھام اے ساقی
رِندوں کے ہے رُخسار پہ آفاق کی سُرخی
کیا بادہ میں اُتری ہے کوئی شام اے ساقی
رُکتی نہیں گردشِ ایّام اے ساقی
گردش میں رہے جام بِلا تام اے ساقی

0
5
اِن دیوانوں مَستانوں پر جب وَحدت طاری ہوتی ہے
رَہتا نہیں کُچھ بھی اِنساں کا، بس ذاتِ باری ہوتی ہے
سَر کٹتا ہے اِس عالَم میں، جاںْ نَذرِ جاناں ہوتی ہے
جَب خاک پہ لاشہ گرتا ہے، تَب رَسمِ یاری ہوتی ہے
تسلیم و رضا کی آتش میں قسمت والے جلتے ہیں
از فیضِ اقدس پروانوں کی خاطرداری ہوتی ہے

1
15
کاش ہر بات اسے دل کی بتا دیتا میں
وقت ملتا اسے دھڑکن تو سنا دیتا میں
اس نے کھائی ہے زمانے کے ستم سے ٹھوکر
مجھ سے وہ ہاتھ ملاتی تو وفا دیتا میں
مجھ سے اک بار تو کہتی کبھی دل کی خواہش
عالمِ دہر میں اک حشر اٹھا دیتا میں

0
5
اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جنت سے بھی نکالا اور پھر نہیں سنبھالا
اس طرح کا نہ کوئی بھی مہربان نکلے
الزام کس کو دیں اب برباد ہونے کاہم
جتنے ثبوت تھے سب تیرے نشان نکلے

0
3
بات کو گُفْتگُو سے ٹَھنْڈا کر
آگ کو اَمْن سے بُجھاتا جا
گَھر میں چاروں طرف اَنْدھیرا ہے
اِک دِیا گَھر میں بھی جَلاتا جا
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
منصور صدرِ بزمِ یاران الوداع
منصور بزمِ یاراں کی پہچان الوداع
منصور خوش مزاج ملن سار وضع دار
کم کم ہیں تجھ سے اب یہاں انسان الوداع
قیدِ دیارِ غیر سے آزادی مل گئی
تو جا رہا ہے توڑ کے زندان الوداع

3
جِن کی کونین پر داوَری ہے
اُن کی مِدحت مِری شاعری ہے
اُن کے باطن کا عالَم فَاَوْحٰی
حُسنِ اُسْوَہ پَھبَن ظاہری ہے
گھِر گیا ہوں فَریبِ فِتن میں
مجُھ کو درکار پھر یَاوری ہے

2
11
اِن پیار کے نغموں سے یادیں کو سجانے دو
فُرقت میں کریمی کی اب آنسو بہانے دو
پامال ہوں سب یادیں اِک یادِ مدینہ سے
اس دل میں جو ہوتا ہے وہ سب سے چھپانے دو
جو من میں رکھا کہہ دیں سرکار کے بردے کو
اس نامِ محمّد کو سینے سے لگانے دو

1
2
داتا ہیں سخی سرور ہر بات نرالی ہے
کب جھولی کبھی جائے اس در سے جو خالی ہے
سرکار سے کھاتے ہیں اور نازاں ہیں قسمت پر
اس بابِ سخا پر ہی کونین سوالی ہے
ہاں اُس کو لگے اچھا دروازہ یہ دلبر کا
کچھ سمجھے نہ وہ جنت جو دل سے بلالی ہے

1
5
حسرتوں کا گماں نہیں ہوتا
دردِ دل اب نہاں نہیں ہوتا
میں سناتا تمہیں مگر مجھ سے
حال دل کا بیاں نہیں ہوتا
داستاں اپنی کیا سنائیں ہم
زخمِ دل داستاں نہیں ہوتا

0
18
عجیب تنہا سا میں مسافر
نجانے کب سے بھٹک رہا ہوں
ہے غائبانہ عجیب رستہ
کہیں پہ بھیتر میں بڑھ رہا ہے
اداس صبحیں اندھیری شامیں
میں ٹوٹے خوابوں کی انگلی تھامے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7817
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6087
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
18