معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6236
یہ فلک یہ دھوپ چھاؤں ، یہ زمین یہ زمانہ
مرے رب کی قدرتوں کا، ہے حسین شاخسانہ
کبھی تنہا دل تھا پر اب، کئی لاکھ مہرباں ہیں
ترے عشق میں مبارک، رہ و رسم مُشفِقانہ
یہ پیامِ باد نو ہے مری آبرو اسی سے
جو دلوں کو فتح کر لے وہ نظر ہے فاتحانہ

0
1
مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے

0
سکولوں کے بچے جیسے کہانی بھول جاتے ہیں
ہمارے پاسباں بھی پاسبانی بھول جاتے ہیں
جسے چھوٹی عمر سے یاد ہوں یہ فرض سب اپنے
وہی ہیں جو جوانی میں جوانی بھول جاتے ہیں

0
1
غمِ جاناں میں نے مانا
محبت جان لیتی ہے
ساگرحیدرعباسی

0
2
سوال یوں تو بہت ہیں جواب کوئی نہیں ہے
تباہ بچوں کو کر کے خراب کوئی نہیں ہے
لگام ہاتھ میں تھامے کوئی سوار ہو کیسے
فرس ہے زین ہے لیکن رکاب کوئی نہیں ہے

0
4
پاکستان سے بے حَیائی کا خاتِمَہ چاہتی ہُوں- حَرِیم شاہ!!!
——
جو بھی ہے وہ آپ کے زِیر و بَم سے ہے
جو بھی ہے وہ آپ کے بیش و کَم سے ہے
آپ سے تو عُرْیانی بھی شَرْماتی ہے
جو بھی ہے وہ آپ کے لُطْف و کَرَم سے ہے

0
4
یاد جب تِری آئے، دل میں ایک جُو آئے
تب کہیں زمانے میں زندگی کی خُو آئے
غم کے سب اندھیرے اب دور ہوں گے دنیا سے
سامنے ہمارے جب وہ ہی ماہِ رُو آئے
کیوں نہ مٹ سکیں دل سے رنج و غم زمانے کے
ہر طرف اجالا ہو، نُور ہی کی سُو آئے

0
کوئی افلاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
مٹی، پوشاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
بند ہے اپنی ضرورت کے قفس میں ہر شخص
قیدی اس باک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
ایک ہی دھن ہے کہ بھر جائے تہی دست کا پیٹ
بھوکا اب ساک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے

0
تھا نشیبِ راہ میں ایسا بھی اک منظر کھلا
دھندلا سایہ کوئی رستے میں ہی آ کر رک گیا
ایک پل کو حرکتِ پیہم تھی اور اگلے ہی پل
سامنے شیشے کے بس اک خوف کا عالم رہا
تھا ہمارے بچپنوں کا وہ کوئی موسم کہ جب
آسماں نیلا تھا یا پھر ہر طرف ماتم رہا

0
1
فضائے دہر میں پھر چھا گیا غم کا دھواں دیکھو
محرم کا ہلالِ نو ہوا ہے رونما دیکھو
زمانہ پوچھتا ہے کیا ہے پیغامِ شہِ والا؟
قلم خاموش ہے، بولے گی اب خاکِ شفا دیکھو
نہ جھکنا جابروں کے سامنے، یہ درسِ اول ہے
یہی عباس کا، اکبر کا تھا عزم و وفا دیکھو

0
1
تیری خاطر رواں ہے جہاں میں زماں
ہر جہاں میں ملے تیری ہی داستاں
امرِ لولاک سے ہو گیا سب عیاں
ہے رواں نبضِ ہستی تجھی سے اے جاں
تیرے انوار سے رونقِ دو سرا
تجھ سے دونوں جہاں ہو گئے ضوفشاں

0
6
گرمیوں میں یاد آتی ہیں سردیاں
سردیوں میں یاد آتی ہیں گرمیاں
یا الہی چاہتے ہیں ہم سال بھر
معتدل موسم جو ہے ان کے درمیاں

0
6
خواہشیں تجھ سے ہیں جوڑی جو یہ ساری ہم نے
سلسلے ربط کے رکھنے تو ہیں جاری ہم نے
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے

0
11
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6236
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
338
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7920