معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6424
اشک آنکھوں سے بہانے کی ضرورت کیا ہے
اب مراسم اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
تیرے پہلو میں اگر دل کو ٹھکانا مل جائے
پھر کسی اور ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے
لزَّتِ غم سے نہ محروم کرو یوں مجھ کو
دل کے زخموں کو مٹانے کی ضرورت کیا ہے

0
1
کس کا شہ پارہ ہوں اور کون سنوارے مجھ کو
تیشۂ کن نئی صورت میں اتارے مجھ کو
آج سورج کی طرح ڈوب رہا ہوں تھک کر
کل خدا پھر سے کہیں اور ابھارے مجھ کو
دوستی اپنی جگہ پاسِ وفا ایک طرف
مسندِ مہر سے اب کوئی اتارے مجھ کو

0
2
اذاں نے راہ بنادی مکاں سے مسجد تک
چلو مکان سے جنت کے راستے پہ چلیں

0
3
عَقْل کے اَنْدھے تو یِہ ٹھانے بیٹھے ہیں
اَپنے ہاتھوں آپ کریں گے بَرْبادِی
بَنْگلہ دیش سے تو ہَم لے ہی بیٹھے ہیں
لیں گے اَب کَشْمِیر سے بھی ہَم آزادی
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
یہ نکہت ہے مدینے سے بڑا دل کو قرار آیا
زہے میرے خیالوں میں مدینہ بار بار آیا
مدینے کے سخی داتا سدا یادوں کے مرکز ہیں
رکھے طالع درخشاں وہ نبی کے جو دیار آیا
خیالوں کا جو قبلہ ہیں درِ ہادی کی گلیاں ہیں
بڑا سوچا یہ دل نے تھا جو سپنا خوشگوار آیا

0
1
5
تیرے غم سے اب کنارا کر لیا
کر لیا جتنا خسارا، کر لیا
رات خوابوں کو سہارا کر لیا
دن میں یادوں پر گزارا کر لیا
تیرگی مصرعے میں بیٹھی تھی کہیں
روشنی کو استعارہ کر لیا

0
4
جب بھی یاد آیا ترا ہنس کر بچھڑنا، اے صنم
آنکھ سے خاموش آنسو خود نکلتے ہی رہے
جس طرف دیکھا، وہاں تیرا ہی چہرہ آ گیا
آئنے ہر موڑ پر ہم کو چھلتے ہی رہے
اپنی محرومی کو قسمت کا لکھا کہتے رہے
دل کے اندر کتنے ہی شکوے ابلتے ہی رہے

0
3
اب تَذْکِرَہ وفا پہ ملاقات ختم شد
دل میں جو تھا وہ کہہ دیا اب بات ختم شد
کرنا اگر ہے عشق تو یہ سوچ کر کرو
تم کھو گئے جو عشق میں تو ذات ختم شد
جس شخص کے فراق میں گزری ہے زندگی
مل جاتا وہ تو ہجر کی ہر رات ختم شد

0
2
یوں نہ دیکھو مجھے۔۔۔
جیسے میرے ہاتھوں سے
کوئی بہت قیمتی آبگینہ چھوٹ گیا ہو۔
ہاں،
میں نے برسوں تمہاری سانسوں کی لو سے
اپنے کمرے کا اندھیرا کاٹا ہے

0
5
ایوانِ حکومت کے در و بام ہلا دو
سر اپنے کفن باندھ کے ہنگامہ مچا دو
جس ملک کا دستور نہ دے پائے تحفظ
اُس ملک کے دستور کا ہر صفحہ جلا دو
ہم نے ہی بٹھایا تھا حکومت پہ جنھیں آج
وہ پوچھتے ہیں کون ہو تم یہ تو بتا دو

0
2
رازِ ہستی کی انتہا کیا ہے
ہر قدم پر یہ مرحلہ کیا ہے
ذوقِ دیدار بڑھ گیا اتنا
آئینے میں بھی وہ دِکھا کیا ہے
مٹ گئے سب نشان ہستی کے
نامِ بے نام جا بجا کیا ہے

0
2
رازِ ہستی کی انتہا کیا ہے
ہر قدم پر یہ مرحلہ کیا ہے
ذوقِ دیدار بڑھ گیا اتنا
آئینے میں بھی وہ دِکھا کیا ہے
مٹ گئے سب نشان ہستی کے
نامِ بے نام جا بجا کیا ہے

0
2
یہ رات بھی آخر ڈھلنی ہے
زنجیر بھی اب یہ ٹوٹے گی
یہ اونچے اونچے ایواں سب
مٹی میں گم ہو جائیں گے
نفرت کے ہیں جو سوداگر
پھر خوف سے تھر تھر کانپیں گے

0
3
غمِ الفت کے سانچے میں نہ یوں ڈھلتے تو اچھا تھا
چراغِ دل جلا کر ہم نہ یوں جلتے تو اچھا تھا
بڑی مدت سے آنکھوں نے کوئی سپنا نہیں دیکھا
نئے کچھ خواب آنکھوں میں اگر پلتے تو اچھا تھا
بہاریں جب بھی آئی ہیں اسی غم نے ستایا ہے
دلِ بنجر میں بھی کچھ گل نئے کھلتے تو اچھا تھا

0
6
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
چل گیا کیسے حسیناؤں سے چکر اَپنا
سوچتا پہروں ہوں سر گھُٹنوں پہ رکھ کر اَپنا
نہ ضرورت تھی کسی توپ کی تلوار کی بھی
کئی افواج پہ تھا بھاری یہ دلبر اپنا
نغمہ گر سوچ لے دھُن میری کہانی سُن کر

0
1
مدینے کی جو یاد آئی تو چہرے پر نکھار آیا
رسولِ مجتبیٰ کے ذکر سے دل کو قرار آیا
مرے لب پر درودِ پاک کی جس دم سجی شبنم
کرم میرے خدا کا میری جانب بار بار آیا
تصور میں مدینے کے گلی کوچوں کو جب دیکھا
مری بے چین آنکھوں کو قرارِ جاں نثار آیا

1
12
لَب آزاد تھے گَرچہ ہَم آزاد نَہ تھے
دیسی سے پَرْدیسی چھورے بِہْتَر تھے
اُن میں کُچھ تو شَرْم و حَیا بھی ہوتی تھی
اِن کالوں سے تو وہ گورے بِہْتَر تھے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6424
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

22
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7978