معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6072
بَیرُونی قَرْضہ اُتارنے کے لیے پِٹْرول کی قِیمَتوں میں ہوشرُبا اِضافَہ!!!
——
اَپنا تَن مَن دَھن اور سَب کُچھ واریں ہَم؟
تُم کر دو بَرباد اور مُلک سَنوارْیں ہَم؟
تھوڑی سی بھی غَیرَت ہے تو ڈُوب مَرو
قَرْض تو تُم کھا جاؤ اور اُتاریں ہَم؟

0
بَیرُونی قَرْضہ اُتارنے کے لیے پِٹْرول کی قِیمَتوں میں ہوشرُبا اِضافَہ!!!
——
اَپنا تَن مَن دَھن اور سَب کُچھ واریں ہَم؟
تُم کر دو بَرباد اور مُلک سَنوارْیں ہَم؟
تھوڑی سی بھی غَیرَت ہے تو ڈُوب مَرو
قَرْض تو تُم کھا جاؤ اور اُتاریں ہَم؟

0
کوئی کسی سے اتنا کہاں جلتا ہے
جتنا تو مجھ سے مری جاں جلتا ہے
آگ برابر کی لگی ہے دونوں جانب
میں یہاں جلتا ہوں تو وہاں جلتا ہے
یا خدا یہ کیا ماجرا ہے کہ محبت میں
پہلے زمیں جلتی ہے پھر آسماں جلتا ہے

0
7
ان کی میں آغوش میں سر رکھ کے محوِ خواب تھا
اور دل سینے میں دھڑکا جا رہا بیتاب تھا
دوڑتا پھر خوں رگوں میں صورتِ سیماب تھا
شدتِ سوزِ الم سے زہرۂ دل آب تھا
درد کی شہنائیوں پر ہر نفس تھا نغمہ زا
چھیڑتا دل تارِ غم پر ہجر کی مضراب تھا

0
3
خدا سے حزیں کو خزانہ ملا
زباں کو نبی کا ترانہ ملا
مدینے میں ہم نے جو دیکھی بہار
لگا خلد میں ہے ٹھکانہ ملا
ملا سبز گنبد سے دل کو سرور
بڑا خوب منظر زمانہ ملا

0
1
3
حافِظ جی! اَب اور کِسی کو لے آئیں!!!
——
جَنگ تو لَگتا ہے اَب جاری رَہنی ہے
لَمْبی ہے دو چار بَرس کی بات نَہِیں
حافِظ جی! اَب اور کِسی کو لے آئیں
اِن بیچاروں کے تو بَس کی بات نَہِیں

0
2
اُڑتی خاکِ دل میں ہیں محشر کے سائے جا بجا
چشمِ حیراں کو دکھیں، گمراہ رستے جا بجا
بوجھ بن کر رہ گیا دل، منزلوں کی راہ میں
دشتِ تنہائی میں رکھے، غم کے خیمے جا بجا
طنز کے تیروں سے چھلنی ہو گیا سینہ مرا
اہلِ دل پر کس رہے، کم ظرف طعنے جا بجا

0
15
ہمارے دور کے فرعون سارے رہنما بن کر
ہمارےہی خدا سے لڑ رہے ہیں پارسا بن کر
مکاری بسی رہتی ہے ساری سوچ میں ان کی
ہمیں تو لوٹ لیتے ہیں سبھی مشکل کشا بن کر
خدا سے پوچھ لیں گے کیوں ہدایت بھی نہیں بخشی
ترے جو پاس رہتے تھے ترے ہی آشنا بن کر

0
2
جوشِ جنوں میں کیسے عجب مشغلے رہے
در پیش ہر چٹان سے سر پھوڑتے رہے
ہستی کے کار زار میں بچنا محال تھا
وہ بچ گئے جو اپنی انا توڑتے رہے
یہ جان کر کہ کھیل تماشہ ہے زندگی
یہ رو دیئے، وہ ہنس پڑے، ہم کھیلتے رہے

0
5
بوجھ جو بڑھ گئے زندگی کے
دن بھلا ہی دیئے عاشقی کے
رفتہ رفتہ بچھڑ ہی گئے سب
وہ تعلق جو تھے دلبری کے
عشق آسان ہے کر لو ہمت
دیکھ عالم تو بھی بے کسی کے

0
3
تو دیکھ کہ اب سارا جہاں سنتا ہے
ورنہ تم بن کوئی کہاں سنتا ہے
میں کیسے اسے یقیں دلاؤں اپنا
وہ اب کہاں میری بد گماں سنتا ہے
وہ تیری باتیں سن تو لے گا مگر
وہ شخص محبت کی زباں سنتا ہے

0
6
دکھ اتنے ہیں سنبھالے نہیں جاتے
اور گھر سے بھی نکالے نہیں جاتے
اس رزق کی تلاش میں اے خالق
پاؤں سے میرے چھالے نہیں جاتے
اک بار عشق آپ کو ہو جائے
ساری عمر حوالے نہیں جاتے

0
3
ایک رنجش ہی ملی اور اُٹھائی میں نے
یعنی جھیلی مرے اپنوں کی جدائی میں نے
اجنبی لوگ تھے ہر سمت کوئی دوست نہ تھا
لگ کے پیڑوں سے گلے عید منائی میں نے
خواہشِ وصل کے پانی سے بھر آئی آنکھیں
حسرتِ دید لیے کال ملائی میں نے

0
5
ساری تاویلیں غلط اور مسترد ہیں سب بیاں
عشق پر اہلِ خرد کے یعنی رد ہیں سب بیاں
ساقیِ کوثر اگر کہہ دیں نہیں تو رد شدہ
ساقیِ کوثر کہیں ہاں مستند ہیں سب بیاں
سنتیں ، چال و چلن ، سب گفتگو سرکار کی
نقش سینے میں ازل سے تا ابد ہیں سب بیاں

0
2
تم نے احسان کیا ہے؟ سو جتائیں ؟ جائیں
مجھ کو ادابِ محبت نہ سکھائیں جائیں
ہم نے احسان کیا تم پہ بھلایا تم کو
آپ بھی کرم کریں ہم کو بھلائیں جائیں
وہ جسے لوٹ کے آنا تھا نہیں آئے گا
زندگی کس کے تعاقب میں گنوائیں جائیں

0
1
ہمارا جرم پہلا یہ محبت ایک طرفہ کی
اور اُُس پر دوسرا گویا کہ حاصل کی تمنا کی
عجب افسردگی پالے ہوئے سینے میں اک لڑکا
لکیریں کھینچتا ہے کینوس پر فکرِ فردا کی
ہمارے عہد میں سب سے بڑا مذہب غریبی ہے
نہیں دکھتی مگر کوئی عبادت گاہ غربا کی

0
3
زمیں پر ایڑیاں رگڑی کوئی بھی جل نہیں نکلا
ہماری اس اداسی کا کوئی بھی حل نہیں نکلا
یہ رسی فطرتاً بل دار ہے سو کیا کرے کوئی
کہ میں نے لاکھ کوشش کی پر اس کا بل نہیں نکلا
ہمارے ضبط پر شاہد ہیں صحراوں کے ذرے تک
ہمارے صبر کے بوٹے پہ میٹھا پھل نہیں نکلا

0
5
ستمگر حکمرانوں کی حمایت کے علاوہ بھی
تمہیں کچھ کام کرنے تھے روایت کے علاوہ بھی
خدائے لم یزل ہم تنگ دستوں کے لیے آخر
کوئی تو راستہ ہونا تھا ہجرت کے علاوہ بھی
خدا سے اور بھی باتیں کروں گا روز محشر میں
اے میرے بے وفا تیری شکایت کے علاوہ بھی

0
4
شَہْباز شَریف بِہتَرِین اِنسان نَہِیں۔ٹَرَمْپ!!!
——
اِس نے اِک دِن تو اَوْقات پَہ آنا تھا
اور پِھرو اِس چَوَل کے آگے پِیچھے تُم
یہ بے غَیرَت صَرْف سَگا ہے اَپنا ہی
چاہے جِتنا ہو لو اُوپَر نِیچے تُم

0
3
شراب نے شباب نے خراب کر دیا مجھے
کہ عادتِ خراب نے خراب کر دیا مجھے
خرد نے یہ کہا تو تھا ہیں عادتیں بری تری
مرے ہی انتخاب نے خراب کر دیا مجھے
ترا اکڑ کے بولنا بلا سبب ہی ڈانٹنا
کہ لہجۂ خراب نے خراب کر دیا مجھے

1
13
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7802
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6072
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
14