معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6433
اے دلِ بے تاب اب ترکِ غمِ ایّام کر
جامِ الفت لے، شبِ ہجراں کو اب گلفام کر
عمر گزری فکرِ دنیا میں، ملا ہے کیا تجھے
اب ذرا ذکرِ خدا سے زندگی کا کام کر
راہِ الفت میں اگر رسوائی آئے، آنے دے
ڈوب کر دریائے الفت میں خودی کو خام کر

0
2
اس بار جب تم آؤ۔۔
تو اس ٹھٹھرتی رات میں
اپنے جوتوں کے تسمے ڈھیلے مت کرنا
کمرے کی انگیٹھی اب سرد ہو چکی ہے
اور ہمیں بس اتنی ہی دیر رکنا ہے
جتنی دیر میں

0
1
مرا دل دے رہا ہے یہ دعا تجھ کو
کبھی بھی غم نہ دے میرا خدا تجھ کو
تری راہوں میں ہو روشن دیا کوئی
نہ چھو پائے کبھی غم کی ہوا تجھ کو
ملے موسم تجھے ہر پل بہاروں کا
ملے ہر اک طرف سے بس وفا تجھ کو

0
3
کوئی دیوانہ بن کر بھی نہیں پیمانہ پیتا ہے
کوئی مخمور ہوتا ہے تو بھی دامن کو سیتا ہے
عجب انجامِ الفت ہے نچھاور جان کروا دے
کسی کی جان جو لے لے وہی انجان جیتا ہے
یہ جیون دوڑ ایسی ہے لپکنا سب کو پڑتا ہے
لپک کر جو جھپٹتا ہے تو سمجھو وہ ہی چیتا ہے

0
4
تیری صورت تری تصویر بہت یاد آئی
مجھ کو اک لوہے کی زنجیر بہت یاد آئی
جب سنائی گئی دنیا کی زبانی مجھ کو
تیرے ہونٹوں کی وہ تفسیر بہت یاد آئی
بے قراری کی حدیں توڑنے والا تھا میں
پھر ترے ہجر کی تدبیر بہت یاد آئی

0
1
ذائقے کب زباں کو ڈستے ہیں
لوگ بدلیں تو زخم لگتے ہیں
یہ سمندر ہے ایک مدت کا
تم کو آنکھوں میں اشک لگتے ہیں
اب تو آتے نہیں مرے دل میں
آپ کیا گھر سے کم نکلتے ہیں

0
5
ہم جو ذکرِ شراب کرتے ہیں
درد کا احتساب کرتے ہیں
باغبانی کی کس کو خواہش ہے
ہم تو گل کو سراب کرتے ہیں
سولیاں دے کے جانثاروں کو
جرم کو بے نقاب کرتے ہیں

0
4
چہروں کی رونق اُڑ گئی، تابندگی باقی نہیں
اس قوم کے افکار میں بالیدگی باقی نہیں
لالچ کی اندھی دوڑ میں، سب بیچ ڈالا ملک بھی
ان رہزنوں کے ذہن میں شرمندگی باقی نہیں
انصاف کا میزان بھی، بکنے لگا دربار میں
قاضی ترے احکام میں، سنجیدگی باقی نہیں

0
3
اِن کے اَپنے لائے بھی نَہِیں ٹِک پاتے
مَرغُولوں پَر یُوں مَرغُولے دیتے ہیں
بَگّھی کا مَقْصَد بَس یِہ بَتلانا تھا
جِس کو چاہیں اُس کو جُھولے دیتے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
1
دنیا میں کہیں اور کہاں ویسا فسوں ہے
اے پاک زمیں تجھ میں ملے ایسا سکوں ہے
پردیس میں احساسِ وطن مجھ کو ستائے
جو اس کے بنا حال مرا حالِ زبوں ہے
اب رہنا اگر ہے تو ہے مل جل کے ہی رہنا
اک قوم اگر ہیں تو لازم یہ ستوں ہے

0
2
آنکھوں میں ایک عکس ہے اب تک بسا ہوا
پلکیں جھکیں تو کتنے ہی منظر بکھر گئے
خاموشیوں میں درد کی شدت عجیب تھی
لب کھل گئے تو آنکھوں سے آنسو گزر گئے
دل پر کسی کے ہجر کا ایسا ہوا اثر
جو زخم بھرنے والے تھے، وہ بھی ابھر گئے

0
4
جَہاں میں آپ ﷺ آئے تو زَمانہ مُعْتَبَر ٹھہرا
دِلوں پر آپ ﷺ کی سِیرَت کا گَہرا اَک اَثَر ٹھہرا
یَتِیموں، بے سَہاروں کا سہارا آپ ہیں بے شک
تُمھارا آسْتَاں وَاللّٰہ، آغوشِ پِدَر ٹھہرا
غُلاموں کو بھی دی عِزَّت، غَرِیبوں کو مِلی رَاحَت
مِرے مَحْبُوب ﷺ کا کِرْدار تَعْمِیرِ بَشَر ٹھہرا

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6433
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

23
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7982