معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6447
کبھی تو اُسے بھی یہ ارمان ہوتا
وہ لمس و تخیل کا وجدان ہوتا
وہ ملتا تو شاید بدلتی کہانی
ہماری محبت ہی عنوان ہوتا
محبت تو رنگیں سفر ڈھونڈتی تھی
مگر عشق کب اتنا آسان ہوتا

0
2
کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
نئی فکر میں بھی روانی رہے
کتابوں سے رشتہ بھی باقی رہے
قلم کی صدا جاودانی رہے
نیا عہد ہے، علم کی راہ پر
مگر فکر میں بھی جوانی رہے

0
3
مبارک ہو گھڑی آئی نبی آخر زماں آئے
بنائے کن فکاں دلبر ہیں دانائے جہاں آئے
عُلیٰ ڈنکے بجیں جن کے کریمی جانِ ہستی ہیں
امامِ انبیا ہادی شہِ کون و مکاں آئے
زہے داتا سہارا ہیں غریبوں بے کسوں کا بھی
جنابِ مصطفیٰ آقا شہِ کون و مکاں آئے

0
ہوئی ہے شامِ غریباں ترے وصال کے بعد
عجیب رات کٹی ہے مرے ملال کے بعد
وہ ایک شخص کہ دنیا سمجھتی تھی جسے سب
وہ بھی بدل گیا ہے اب مرے زوال کے بعد
تجلیاں سی بکھرتی ہیں تیرے چہرے سے
یہ روشنی ہے بھلا کس نئے کمال کے بعد؟

0
2
کِس میں ہِمَّت ہے جو پُوچھے اَیسی بھی کیا جَلدی تھی؟
کون سوال کرے آخِر؟ کیا کر کے ہیں سَرکار گئے؟
خان کے آنے جانے کا ہَم سَب کو جھانسہ دے کر وہ
آپ نے دیکھا؟ تَرْمِیموں کا کیسا شَب خُوں مار گئے!!!
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
ایک غزل: 22 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
مر ض پکڑا گیا آخِر کِسی سودائی کا
اِس کو ہے یاد تماشا کِسی اَنگڑائی کا
قید میں کیوُں ہوُں، خطا کیا ہے، بتاؤ میری؟
لے کے پھِرتا ہے توُ جھنڈا کِسی سچائی کا

0
2
یہ بندگی نہیں، محرومِ التجا ہونا
خودی کو پا کے بھی حق سے جدا جدا ہونا
بڑا عذاب ہے بے سوزِ مدعا ہونا
تو پھر محال ہے بزمِ جنوں میں وا ہونا
سزا ہے یہ کہ نہ لب پر صداۓ حق آئے
سکوتِ شب میں بھی دشوارِ مدعا ہونا

0
5
تن سے جاں نکلنے میں ، دیر کتنی لگتی ہے
ہڈیوں کے گلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
کام جب نکل آئے، مطلبی رفیقوں کا
ان کا من بدلنے میں، دیر کتنی لگتی ہے
نیک رہ پہ چلنا تو، رب کا ہے کرم ورنہ
پاؤں کے پھسلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

0
8
ایک غزل: 17 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
تھا ڈھنڈھورا جو پارسائی کا
نکلا سامان جگ ہنسائی کا
دعویٰ یہ تھا کہ ہم فرشتے ہیں
کھُل گیا بھید آشنائی کا

0
2
بتاؤں کس لیے وہ بد حواس بیٹھے ہیں؟
کسی کا ڈر نہیں، بیوی کے پاس بیٹھے ہیں
پسند آتے ہیں اشعار میرے سب کو مگر
وہ داد دیتے نہیں، بن کے خاص بیٹھے ہیں
ہمارے فین تو، لٹکے ہیں چھت کے ساتھ سبھی
تبھی تو اوڑھ کے سارے کپاس بیٹھے ہیں

0
5
چراغِ عشق اپنے دل میں ہر دم جاوداں رکھئے
جہانِ دل میں الفت کی حسیں اک داستاں رکھئے
جو نسبت مل گئی آقا ﷺ کےدر سےاس کو مت چھوڑیں
اسی نسبت کو اپنی زندگی کا پاسباں رکھئے
زمانے کے طلاطم لاکھ آئیں راہِ الفت میں
محمد ﷺ کی محبت کو دلوں کا آسماں رکھئے

0
5
دَرْخواسْت بَرائے نَظَرِ ثانی!!!
——
بَندَہ پُوچھے چَمْچا گِیری کی بھی کوئی حَد ہو گی
ہونا وونا خاک نَہِیں گَرچہ کالَک بھی مَل لی ہے
صَید کے اور صیّاد کے بیچ میں آپ کَہاں سے آ ٹَپکے
آپ نے مُفْت میں اَپنے مُنہ پَر یِہ کالَک بھی مَل لی ہے

0
4
اے خدائے دو جہاں اے مالکِ روزِ جزا
ذات تیری ہے بڑی اور نام ہے سب سے جدا
زخم ہیں روح و بدن پر، دیکھ میرے حال کو
کچھ نہیں، بس اس وطن سے پیار کی ہے یہ سزا
خون مٹی ہو گیا ہے مَیَّتیں پامال ہیں
پھر بھی جانے ہم پہ کیوں یہ ٹیگ ہے غدار کا

0
7
زمین و زماں کو سجایا گیا ہے
مقدر جہاں کا بنایا گیا ہے
تھے آراستہ جب چمن اس دہر کے
یہاں پھر حسیں کو بلایا گیا ہے
ہے پھیلی خلق میں گراں دھوم ہر جا
درودِ نبیؐ یہ سنایا گیا ہے

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6447
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

27
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7987