معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6093
ضروری تو نہیں ہر بات ٹال دوں
کسی کے ظلم کو دریا میں ڈال دوں
یہ تو فقیری کا کچھ شوق چڑھا ہے
وگرنہ آنکھوں سے میں دل نکال دوں
نہ پوچھ مجھ سے مرے دہر کی خبر
میں کیوں کسی کو یہ اپنا خیال دوں

0
1
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں

0
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں

0
کراچی میں رَہنا پَیْرِس میں رَہنے جَیسا ہے۔ شَرمِیلا فارُوقی!!!
——
بیچارگی پَہ اَپنی ماتَم کُناں ہیں ہَر دَم
حَیراں ہیں کیسے عَہْدِ بے حِس میں رَہ رَہے ہیں
رَہ تو رَہے ہیں اَب بھی اِس شَہْر کے مَکِیں پَر
صَدیوں پُرانے خَسْتَہ پَیْرِس میں رَہ رَہے ہیں

0
چٹختے جائیں خیالوں کی ٹہنیوں پر شعر
کہ گل رخوں پہ لکھوں اور تتلیوں پر شعر
یہ بیت میرا تجھے ہچکیاں بندھا دے گا
کہے ہیں یوں تو بہت میں نے سسکیوں پر شعر
یہ اور بات کہ ہیں کور چشم اپنے لوگ
نمایاں میں نے رکھے برف چوٹیوں پر شعر

0
رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا
میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا
مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا
وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز
کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا

0
وہ دشتِ جاں میں آج بھی دہائی دے رہا ہے کیوں؟
اسے امید کا نشاں دکھائی دے رہا ہے کیوں
مجھے تو کچھ خبر نہیں حدوں سے ماورا ہے کیا
وہ اپنے قید و بند سے رہائی دے رہا ہے کیوں؟
طلب ہے تخت و تاج کی نہ بستیوں پہ راج کی
گدائی مانگتا ہوں میں خدائی دے رہا ہے کیوں؟

0
2
سرکارِ دو جہاں ہی رب کے حبیب ہیں
جو جان سے زیادہ دل کے قریب ہیں
کرتے ہیں جان قرباں بردے حضور پر
کہتے ہیں لوگ جن کو بندے عجیب ہیں
اس بحرِ عشق میں دل مانے نہ خرد کی
لمحاتِ وصل حب میں لگتے زبیب ہیں

0
1
4
عادت سی ہو گئی ہے ذمہ داری کی
ہر اک سانس نے تیری تابعداری کی
اس نے جان طلب کی تو پھر ہم نے بھی
حد ہی کر گئے ہیں فرما برداری کی

0
3
وہ مزاروں سے بارور آیا
میں حرم سے بھی بے ثمر آیا
زندگی کو تباہ اس نے کیا
پھر بھی الزم میرے سر آیا
عقل نایاب ہی رہی مجھ سے
نہ مری بات میں اثر آیا

0
9
دَورانِ تَقْرِیر یُوسُف رَضا گِیلانی کی شَلْوار گِر گئی!!!
——
نَہ جانے کون وَحْشَت ہے کہ جِس کے یِہ کَرِشْمے ہیں
کَبھی گَھر ٹُوٹ جاتا ہے کَبھی دِیوار گِرتی ہے
عَجَب طُرْفَہ تَماشَہ ہے جو جانے کَب سے جاری ہے
کَبھی سَرْکار گِرتی ہے کَبھی شَلْوار گِرتی ہے

0
2
ظلمتِ شب میں امیدوں کا کوئی دیپ جلا
اپنی آنکھوں میں تمنا کا کوئی سیپ جلا
کیوں پریشاں ہے کہ دنیا نے تجھے چھوڑ دیا
اپنے اندر ہی محبت کا کوئی دیپ جلا
ہجر کی ٹھنڈی ہوا سے تو نہ گھبرا اے دل
یادِ جاناں میں ذرا درد کا لہیب جلا

0
3
مجھے جو چاہو تو بھول جاؤ تمہاری مرضی
ہاں میرے دل سے ختم نہ ہو گی تری محبت
بلا تکلف تمہیں اجازت ہے ہر ستم کی
کوئی کرے کیوں سوا تمہارے ہے کس کی جرات

0
7
بنے ہیں قاتل تمہارے تیور
نظر کے بھالے سخن کے نشتر
سقوط دل ہے ترا تبسم
گرا دے پل میں ہزار لشکر
تمہاری پلکوں کی ایک جنبش
کرے ہزاروں ہی لوگ پاگل

0
4
آ گیا یار کا خیال مجھے
ورنہ اتنا نہیں ملال مجھے
پوچھتا ہے گئے دنوں سے دل
ہجر بہتر ہے یا وصال مجھے
کرب باقی ہے شام میں لیکن
کر رہی ہے تھکن نڈھال مجھے

0
3
ہر تھاں ہی جہالت دے کھوبے نیں
چوہاں پاسے ہی دسدے ٹوبے نیں
گجیاں چوٹاں ادھ مئوا کر دتا
تے پھلاں نے وی کنڈے چوبھے نیں
نفرتاں دے دریاواں وچ ملاں
بندے وٹیاں وانگ ہی ڈوبے نیں

0
5
سوالی ہیں کوچہء و بازار میں
یہ دن بیت جاتا ہے تکرار میں
اجالا چراغوں کا بڑھتا نہیں
سحر کی تجلّی سے مقدار میں
ابھی آشنائی کا آغاز تھا
ہوئے بے تکلف وہ اظہار میں

0
4
وہ ہم کو راہ راست پہ لاتے ہی رہ گئے
اس کام میں وہ مات گو کھاتے ہی رہ گئے
ہم کو کوئی بھی مے نہیں مخمور کر سکی
وہ ہم کو جامِ عشق پلاتے ہی رہ گئے
وہ ان سنی کیے گئے ہر بات سب ہی کی
دکھ درد ان کو ہم بھی سناتے ہی رہ گئے

0
6
سوالوں میں آئے جوابوں میں آئے
خیالوں پہ چھائے وہ خوابوں میں آئے
 تَصور سے نکلے نِگاہوں میں آئے
 سِتاروں سے اُترے گُلابوں میں آئے
مِرے شعر اُن کا سَراپا دِکھائیں
وہ بَن کے رُباعی کِتابوں میں آئے

23
سکوں پانے کی خواہش میں سبھی آرام بیچا ہے
ہمارا کام تھا بکنا سو اپنا کام بیچا ہے
بکا ہے گھر کروڑوں میں فقط افسوس ہے اتنا
وہاں بچپن کی یادیں تھیں جنہیں بے دام بیچا ہے
مقدر کا ستم دیکھو جہاں میں زندہ رہنے کو
کسی نے خون بیچا ہے کسی نے نام بیچا ہے

4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7833
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6093
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
21