معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



405
6384
جو کبھی ہوتی تھیں دل میں چاہتیں باقی نہیں
روح میں بھی پیار کی وہ لذتیں باقی نہیں
وہ مرا بچپن مرا کوچا مری سب یاریاں
وقت ان کو لے گیا وہ الفتیں باقی نہیں
دل مرا ناکامیوں کی جاگتی تصویر ہے
جان دے کر جو کمائیں راحتیں باقی نہیں

0
1
غم ہے کوئی یا ہجر طاری ہے
دل میں کیسی یہ بے قراری ہے
مجھ سے پوچھو اذیتیں اس کی
عمر تنہائی میں گزاری ہے
دل تو پہلے سے ہی تمھارا تھا
زیست بھی آج سے تمھاری ہے

0
3
وقارِ بزم دو عالم وہ بن کے آئے ہیں
حضور شمع ہدایت ہی بن کے آئے ہیں
مٹانے دہر سے اب تیرگیِ ظلم و ستم
وہ بن کے نور خدا انجمن کے آئے ہیں
فضائے دہر میں خوشیاں چہار سو بکھریں
وہ لے کے مژدہ بہارِ چمن کے آئے ہیں

0
1
یار دل سے کلام کرتے ہیں
ان کو سن سن کے ہم مچلتے ہیں
دل کو پیغامِ یار ملتے ہیں
سن کے ہم جن کو شعر کہتے ہیں
دل کے گُل سے، پَیَامِ یارِ دل
تتلیوں کی طرح نکلتے ہیں

0
2
یہ اپنے آپ کو اشعار جو سنانا ہے
فقط یہ تم کو سنانے کو گُنگُنانا ہے
ہم اپنے آپ سے اشعار کہتے ہیں اکثر
قَصَد ہے، بات ہر اِک آپ کو بتانا ہے
جو آپ ہم سے مخاطب، ہمیں میں ہوتے ہیں
کلام کرنے کے فن، کیا عجب سِکھانا ہے

0
2
بوجھ کر پشت پناہی میں ہمارا ہونا
آپ بھی سیکھ ہی جائیں گے سہارا ہونا
کامرانی کے لیئے خود میں نہارو ہم کو
کام آ جائے گا ہلکا سا اشارہ ہونا
ہم نفس ہم ہیں تبھی تم کو سکوں ہے ورنہ
سخت مشکل تھا کسی طرح گزارا ہونا

2
حسیں نامِ احمد میں تاثیر ہے
سجی اس سے مومن کی تقدیر ہے
سدا اُن کی توقیر کر میرے دل
یہی تیرے خوابوں کی تعبیر ہے
ملا عشقِ احمد کرم ہو گیا
یہی جاودانی کی تفسیر ہے

0
1
محمدؐ ہیں آقا خَلائق غُلامی
غُلاموں میں شامل ملائک تَمامی
وہ خَتمِ رُسُل ہیں اِمامِ گَرامی
وہ "مَازَاغ" والے وہ سِدرہ قیامی
خُدا نے ہے بخشی وہ شانِ دَوامی
کہ خُود بھیجتا ہے دُرودِ مُدامی

0
5
اشک آنکھوں سے جو بہتے ہیں انھیں بہنے دو
قتل کر کے تو نہ ہمدرد بنو، رہنے دو
روٹی کپڑا یا مکاں ہم کو بھلا کیا دو گے
تم وہ بھوکے ہو جو مُردوں کے کفن نوچو گے
قوم کو پہلے ہی تم مار چکے ہو ظالم
مان لو عہدِ وفا ہار چکے ہو ظالم

0
3
دیکھ کر تم کو تو بدنام مسلماں ہوں گے
اپنے اخلاق کرو سارے جہاں سے اچھے
متحد غیر ہیں امت کے خلاف ایک طرف
اور دشمن ہے ادھر کاٹتا اپنوں کے گلے
کچھ نہ سوچا کہ بدن پر ہے بہت اجلا لباس
بول کس طرح دھلیں گے یہ لہو کے دھبے

0
2
غمِ الفت کے سانچے میں نہ یوں ڈھلتے تو اچھا تھا
چراغِ دل جلا کر ہم نہ یوں جلتے تو اچھا تھا
بڑی مدت سے آنکھوں نے کوئی سپنا نہیں دیکھا
نئے کچھ خواب آنکھوں میں اگر پلتے تو اچھا تھا
بہاریں جب بھی آئی ہیں اسی غم نے ستایا ہے
دلِ بنجر میں بھی کچھ گل نئے کھلتے تو اچھا تھا

0
7
نصیب چمکے عتیقؔ، تیرے لبوں پہ ذکرِ حبیب آیا
میں لکھتے لکھتے نبی کی نعتیں، خدا کے بے حد قریب آیا
قبول ہوں گی دعائیں ساری خدا سے مانگو نبی کا صدقہ
میں ان کا صدقہ ہی دے رہا ہوں پیامِ ربِّ المجیب آیا

2
اس امتحاں سے پہلے، وہم و گماں سے پہلے
میں رونقِ زمیں تھا، اس آسماں سے پہلے
یاں ہر سو تو ہی تو تھا، ارض و سماں سے پہلے
کردار بھی یہیں تھا، اس داستاں سے پہلے
اک شور ہو رہا ہے، اک ناگہاں سے پہلے
یعنی کہ کچھ تو طے ہے، دورِ زماں سے پہلے

146
ان کی چوکھٹ پہ جو تشنہ کام آگیا
اس کی قسمت میں رحمت کا جام آگیا
تیری رحمت نے جب سے نوازا مجھے
میرے لب پر درود و سلام آگیا
تیری نسبت نے بخشی مجھے وہ عطا
میری قسمت میں خیرِ تمام آگیا

0
4
مرے دل میں کوئی الجھن نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب مسکن نہیں ہے
ترے بن زندگی میں رنگ کیا ہو
کوئی خوشبو، کوئی بچپن نہیں ہے
تجھے دیکھا تو دل کو چین آیا
وگرنہ دل میں کوئی فن نہیں ہے

0
2
وہ جو پکنک پہ کڑاہی تھی اڑائی ہم نے
ساتھ یاروں کے وہ مل کر تھی بنائی ہم نے
نہ نمک مرچ، نہ تھا ذائقہ اس میں کوئی
پھر بھی رغبت سے مگر بیٹھ کے کھائی ہم نے
گوشت کچا تھا مگر دوست بڑے پکے تھے
آگ یاروں کی رفاقت سے جلائی ہم نے

0
4
نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو

2
17
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

405
6384
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

21
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7974