معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6174
وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں
نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں
اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں
جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر
دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں

0
3
کہیں مندر دیکھ جلایا ہے
کہیں مسجد میں خوں بہایا ہے
خود حرکتیں دیکھ بتا، ایسا
اسلام کہاں سے لایا ہے
کس مذہب سے ہو، سوچتا ہوں
پر کچھ نہ سمجھ میں آیا ہے

0
4
گر گیا اک سہارا تو میں رو دیا
مجھ کو غم نے پکارا تو میں رو دیا
"میں نے بے کار سمجھا ہوا تھا تجھے"
اس نے طعنہ یہ مارا تو میں رو دیا
خواہشیں جو ادھوری تھیں پوری ہوئیں
دل سے پایا اشارہ تو میں رو دیا

0
5
ہے شامِ غریباں تو دن کربلا ہے
شہادت کا پیاروں کو رتبہ ملا ہے
نہیں مارتا اپنے محسن کو حیواں
مگر یاں مسیحا کی سولی سزا ہے
بتایا ہے انساں نے وحشت دکھا کر
یہ ہمدردِ انسانیت کی سزا ہے

0
4
ساڈا جینا ہور وی مُشکِل کَر دئی او
اپنے خرچے گَھٹ ناں کَریو بے شَرمو
سَاہنوں مُڑ مُڑ ماری جائیو مُرْدارو
ساڈے رِسدے پَھٹ ناں بَھریو بے شَرمو
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
پھر خواب کی قبا میں سجائیں یہ زندگی
مل کر چلو کہ پھر سے بھلائیں یہ زندگی
وہ دن کہ جب نگاہ میں کوئی گلہ نہ تھا
پھر سے اسی مقام پہ لائیں یہ زندگی
رنگوں کی آرزو میں جو بکھرے تھے راستے
اب اشک بن کے ہم کو رلائیں یہ زندگی

0
10
یہ منظر سہانے یہ دلکش نظارہ
شہنشاہِ فاراں خدائی میں پیارا
سخی ہیں وہ دلبر وہ خیر الوریٰ ہیں
ملا بے کسوں کو نبی سے سہارا
معطر ہے اُن کے پسینے سے خوشبو
فلک کے ستارے لیں اُن سے اشارہ

1
5
چار سو خفیہ شعاعوں نے بچھا رکھے ہیں جال
جراتِ فکر و عمل بن گئی نا گفتہ سوال
تم کو فرصت ہے کہاں حال مرا جان سکو
میں بھی مصروف ہوں ایسا کہ نہیں اپنا خیال
بر ملا سب سے ملاقات ہوا کرتی تھی
اب دعا گوئیِ بر خط بھی ہے اک کارِ محال

0
10
تھی جن سے امید و آس ہم کو
کیا سبھی نے اداس ہم کو
جو غیر بھولے تو غم نہیں ہے
نہ جانے اپنا شناس ہم کو
یہ اہل ایماں کا معرکہ تھا
جہاں کا دوجا یہ کربلا تھا

0
5
لب ہلے تھے کہ عشق کا پوچھوں
دل نے ہر سو ہی کربلا دیکھا

0
9
جَہاں کی سَعادت مِرے مصطفٰی ہیں
خُدا کی قَرابت مِرے مصطفٰی ہیں
جو نُورِ احد کا ہیں اوّل کرشمہ
وہ نُورِ محبت مِرے مصطفٰی ہیں
عَدم چیز کیا ہے، یہ کیا ہیں حوادث
دَوامِ ہُویّت مِرے مصطفٰی ہیں

0
14
وہ کیسا حسیں دور تھا
جوانی کا جب زور تھا
شَگُوفوں کے باغیچے میں
اُمنگوں کا ہی شور تھا
محبت کی نَم وادی کا
میں اِک ناچتا مور تھا

0
4
جِس اِعْتِرافِ جُرْم کی ہِمَّت ہُوئی تُمھیں
اِس اِعْتِرافِ جُرْم سے تو کُھل گئی ہے بات
اِس اِعْتِرافِ جُرْم کی پاداش میں تُمھیں
لاکھوں کَروڑوں گالِیاں، دِیگَر مُغَلَّظات
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
تنہائیوں کے کرب میں مارا گیا ہوں میں
اپنے اکیلے پن میں اتارا گیا ہوں میں
یہ سلطنت ہے میرے عروج و زوال کی
اپنے حواریوں سے بھی ہارا گیا ہوں میں
شطرنج کے پیادے سے گھوڑے کی مات تک
کتنی بغاوتوں پہ ابھارا گیا ہوں میں

0
6
مذاہب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عداوت کے حوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
اگر سچ بولنا بالکل گوارا ہی نہیں تم کو
تو پھر جھوٹے سوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بپا فتنہ کیا جمہوریت کے نام پر سب نے
سو جذباتی جیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے

0
6
Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
119
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7893
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6174