معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5739
اے سرابِ زندگی، ہم نہیں ہوں گے خجل
فیصلہ ہے آخری، فیصلہ ہے یہ اٹل
سوچ کر چلیں گے ہم، چال آخری ابھی
اے بساطِ زندگی، ایک پل بس ایک پل
سجدہ میں کروں تو کیوں، آدمی کے سامنے؟
میں فرشتہ تو نہیں ، اے خدائے لم یزل

0
4
آرائشِ مکاں میں مکیں کو بھی دیکھنا
کعبے کو دیکھتے ہو جبیں کو بھی دیکھنا
رو بہ زوال ہیں سبھی یہ عظمتیں یہ شان
جو آسماں کو دیکھو زمیں کو بھی دیکھنا
گرچہ مسرتوں کے ہیں سامان ہر طرف
اطراف میں تو قلبِ حزیں کو بھی دیکھنا

0
1
بانٹ کربادۂ عرفاں روزوشب اورماہ وسال
لا کے سیلِ سوزِ عشق صدیقِ اکبر کی مثال
کر کے پروانوں کو بسمل ، کُشتۂِ دردِ دروں
"پاگئ تپشِ سحر یہ قربِ حمدِ لازوال"

0
2
جانتا ہے کہ تجھے کوئی نہیں جانتا تھا
میری تخلیق سے تیرے یہ خدوخال کھلے
تو نہ ظاہر تھا زمانے میں نہ اوجھل تھا کہیں
اک نظر مجھ پہ پڑی اور پھر احوال کھلے
میں امانت تھا ضمانت سے ہی بچ آیا یہاں
تب کہیں جا کے مری ذات پہ اشکال کھلے

0
1
تم سامنے ہو تو دل میں روشنی رہتی ہے
تم دور نظر سے ہو تو بے کلی رہتی ہے
تیری چاہت نے مجھے جینے کا ہنر بخشا
ترے بن دھڑکن میں سست روی سی رہتی ہے
تیری باتوں سے ہوا کو بھی سکوں ملتا ہے
ورنہ موسم میں تو اکثر بے رخی رہتی ہے

0
3
تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے
اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے
دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار
توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے
گمشدہ کوئی کہانی کا سفر تھا اپنا
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
8
کافور کر دے غم جو سرکار کی نظر ہے
طالع ہیں بنتے جس جا سرکار کا وہ در ہے
ہیں پالنے میں لیٹے دیکھیں کھلونے اُن کے
ایما پہ مصطفیٰ کے آکاش کا قمر ہے
آمد سے مصطفیٰ کی یسرب بنا مدینہ
کتنا حسین یارو سرکار کا نگر ہے

1
9
——
اِس کَل کے چھوکْرے سے اور اِس قَدَر اُمِّیدیں
ہے بے سُرا یہ گانا اور بِن اَلاپ کے بھی
بے وَقْت راگنِی کی عُجْلَت بَتا رہی ہے
یِہ تِیر آخری تھا تَرْکَش میں آپ کے بھی
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
قلم کو ہاتھ سے رکھنا پڑا کہ اب کے بار
سیاہی پھیل گئی تھی تمام کاغذ پر
​بجا ہے شکوہِ تقدیر، پر یہ دکھ بھی ہے
کہ داغ بن کے رہا تھا قیام کاغذ پر
​لکھا تھا جو بھی، وہ اب تیرگی کا حصہ ہے
ہوا ہے دفن مرا ہر کلام کاغذ پر

0
7
خط تمہارے مدتوں سے پڑھ رہا ہوں
زندگی کی سیڑھیاں یوں چڑھ رہا ہوں
آج بھی راہیں تمہاری دیکھتا ہوں
آج بھی جانب تمہاری بڑھ رہا ہوں

0
4
آج پھر ایسے ملے جیسے کہ ہم انجان ہیں
بچپنا باقی ہے اب بھی اب بھی ہم نادان ہیں
مختصر ہے زندگی ضایع نہ اسکو کیجۓ
پل دو پل کی زندگی ہے ہم یہاں مہمان ہیں
ہوں کٹھن سب راستے تاریکیاں ہوں زور پہ
ہم سفر ہو ساتھ تو رستے سبھی آسان ہیں

0
3
ممکن نہیں ہے نے نہ رَہے نے ستاں رہے
ممکن نہیں تو راہ رَوِ عاشقاں رہے
جب تک کٹے نہ شاخ سے ناپائیدار ہے
کٹ کر گرے تو مرکزِ ہر دوستاں رہے
رومی نے راز مجھ پہ عیاں اس طرح کِیا
جو صورتِ مکاں سے کٹے لامکاں رہے

0
4
ممکن نہیں ہے نے نہ رَہے نے ستاں رہے
ممکن نہیں تو راہ رَوِ عاشقاں رہے
جب تک کٹے نہ شاخ سے ناپائیدار ہے
کٹ کر گرے تو مرکزِ ہر دوستاں رہے
رومی نے راز مجھ پہ عیاں اس طرح کِیا
جو صورتِ مکاں سے کٹے لامکاں رہے

0
3
جاں قدم بڑھانے کو جی ڈرے وہاں رقص کرمکِ بام کر
اَگر ایک بار نصیب ہو تو یہ جاں فدا سرِ عام کر
یہ سکوت عشق میں عیب ہے نہیں رسم عشق میں خامشی
جہاں بات کرنا محال ہو واں اٹھا کے سر کو کلام کر
جہاں شوق صحوِ سُکَر میں ہو جہاں علم وجد فنا میں ہو
جہاں نغمے طُرب وصال ہوں وہاں حجتوں کو تمام کر

0
3
میری نگاہ کو اک بار لے چلو اے دل
طواف کو چہِ دلدار لے چلو اے دل
ہر ایک صاحبِ دل جا رہا ہے کعبے کو
مجھے تو اب کے درِ یار لے چلو اے دل
مکان خالی سے مشکل ہے دل کو بہلانا
یا جلوہ گاہ سرِ دار لے چلو اے دل

0
3
میری نگاہ کو اک بار لے چلو اے دل
طواف کو چہِ دلدار لے چلو اے دل
ہر ایک صاحبِ دل جا رہا ہے کعبے کو
مجھے تو اب کے درِ یار لے چلو اے دل
مکان خالی سے مشکل ہے دل کو بہلانا
یا جلوہ گاہ سرِ دار لے چلو اے دل

0
3
جو اپنے رب سے ڈرتا ہے
گناہوں سے وہ بچتا ہے
جزا کی ہو جسے امید
وہ اچھے کام کرتا ہے

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

191
7621
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

395
5739
السلام علیکم ، اللہ کرے سب بخیر و عافیت ہوں۔سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ مطلوب ہے۔

0
3
70