معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6408
مولوی ہے وطن کے پاؤں کا چھالا
مولوی ہے وطن کی آنکھ کا جالا
بیچ کر دین یہ زر کا ہے رکھوالا
نام حق کا لیا پیٹ اپنا ہی پالا
لب پہ تقویٰ پہ دل کوزہ ہوس کا ہے
واعظِ شہر کا ہے اب یہی حوالہ

0
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6408
بِجلی، گیس، نَہ پانی ہے!!!
——
بِجلی، گیس، نَہ پانی ہے
ہَر شے آنی جانی ہے
بِل ہی اِتنے آتے ہیں
نانی یاد تو آنی ہے

0
3
لمحات گُزریں قُرب میں; دِن کے یا رات کے
اَسرار کھُلنے لگتے ہیں سب کائنات کے
شارح دُکاں پہ تیری ہیں جو آتے سب کے سب
بِکتا نہیں ہے مال بنا اِلتفات کے
تو حید بھی ہے اور ہے بُتوں سے بھی دِل لگی
ڈھونڈھوں میں ہر طرف سے حوالے نجات کے

0
2
اتنی محرومی ! درِ ادراک سے باہر ہے ابھی
مال و دولت مری املاک سے باہر ہے ابھی
کہنا چاہا تھا کہ رک جاؤ مگر کہہ نہ سکا
یہ گزارش مری اوقات سے باہر ہے ابھی
اک ردا اس کا تقاضہ ہے مگر سمجھے تو
جسم میرا مری پوشاک سے باہر ہے ابھی

0
7
دل بدن پر جمی نمی پائے
آج بھی تیری وہ کمی پائے
فرصتیں گر ملیں تو لکھیں گے
پل محبت کے جو نہ جی پائے
کر سکے جن رفو نہ زخموں کو
وہ قبا اپنی جو نہ سی پائے

0
1
مولوی ہے وطن کے پاؤں کا چھالا
مولوی ہے وطن کی آنکھ کا جالا
دوڑے گا یہ وطن چھالے کے پھٹنے سے
دیکھے گا صاف جب نکلے گا یہ جالا

0
3
وہ شخص پہلے خواب میں ہم سے جدا ہوا
اور پھر حقیقتاً بھی یہی حادثہ ہوا
برداشت تو کسی نہ کسی طرح کر گئے
بارِ دگر بھی یار وہی سانحہ ہوا

0
3
واقف کوئی نہیں ہے عیسیٰ کی اُڑان سے
وہ اُترے گا کبھی نہ کبھی آسمان سے
مُلّا کی لن ترانیوں سے اللہ ہی بچائے
وہ تو نہ لوٹے ہے جو گیا اس جہان سے
جو بات عقل مانے وہ اے دل قبول کر
کیا فائدہ ہے ورنہ فقط اک گمان سے

0
3
ایک شہکارِ خدا کا نظر آیا ہے مجھے
اور میں لکھنے لگا ایک غزل کاغذ پر
زندگی بیت گئی اُس کی معیت میں مری
ثبت کر پایا ہوں دو چار ہی پل کاغذ پر
آج کے لفظ وثیقہ ہیں نئے کل کے لیے
جذبِ بے ربط! تو اتنا نہ اچھل کاغذ پر

0
4
جاں کی بازی لگ گئی ہے، جاں ہی ہم نے ہاری ہے
سر کی بازی ہے یہاں تو، جاں ہی سب کو پیاری ہے
اب عبث تکرار کرنا اس بدلتے روپ پر
کھیل یہ بالکل نیا ہے، گردشِ دوراں جاری ہے
سالِ نو لایا ہے گلشن میں وہی دیرینہ غم
اس نے محفل میں مگر چھب پھر سے وہ اتاری ہے

0
1
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

22
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7978