معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5811
ذکر ان کا ہو رہا ہے کو بہ کو
خوشبوؤں سے پُر فضا ہے کو بہ کو
اسم احمد سے منور کائنات
نور یہ پھیلا ہوا ہے کو بہ کو
تیرے آنے سے بہاریں آگئیں
قریہ قریہ سج گیا ہے کو بہ کو

0
1
خدا جن پہ نازاں مدینے میں ہیں
زمانے کے سلطاں مدینے میں ہیں
جو سدرہ سے آگے گئے عرش پر
مکمل یہ انساں مدینے میں ہیں
عُلیٰ نوریوں سے دنیٰ کے مقیم
ازل کے یہ تاباں مدینے میں ہیں

1
2
صد شکر ہوا ہم کو ہے رمضان میسر
آیا ہے یہ اللہ کا مہمان میسر
لے کر تو نوید آتا ہے رحمت کی کرم کی
ہوتا ہے سیہ کار کو غفران میسر
اک شب ہے تری کتنے مہینوں سے بھی افضل
ہے اور کہاں ایسا شبستان میسر

0
وقت کی ریت میں جو نقش بنا تھا
مرے دل اس نے تو مٹ کے ہی رہنا تھا

0
نا اَہلوں میں جب اِحْساس نہ ہو تو وہ
ہَر اِک شے کے دَام بَڑھانے لَگتے ہیں
ہم نے سُنا ہے سانپوں کو جب بُھوک لگے
اَپنے ہی بَچّوں کو کھانے لَگتے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
2
جِن کے بچے ہو گئے چار، گھر سے ڈھونڈیں راہِ فرار
کیسی محبت کیسا پیار، بھول گئے سب قول قرار
لاتوں کے بھوت نہ مانیں بات، باتوں میں ہم کو دے دیں مات
طیش میں لاتے ہیں جذبات، خون کا کر دیں بُلند فِشار
کھانا اِن کو کِھلانا توبہ، وقت پہ ان کو سُلانا توبہ
صبح میں ان کو جگانا توبہ، ہر دَم طاری اِن پہ خُمار

0
4
دِل میں تَصَوُّرات کی جَنَّت لِیے ہُوئے
آنکھیں ہیں بَند جَلْوَۂ رَحْمَت لِیے ہُوئے
آئے ہیں بزم ناز میں دل ناتواں کے ساتھ
عَنْبَر فِشاں خِیالوں کی نَکْہَت لِیے ہُوئے
حاضِر ہیں آستانۂ رَحْمَت میں جو گِدا
آئے ہیں وہ اُمِیدِ شَفاعَت لِیے ہُوئے

0
3
یاد تیری ساتھ میرے کب نہیں ہے
کون کہتا ہے کہ تو اقرب نہیں ہے
ناز نخرا وہ تمہارا اب نہیں ہے
بانکپن وہ اب نہیں ہے چھب نہیں ہے
کب نہیں سانسوں میں خوشبو ہے تمہاری
کب تمہارا نام زیرِ لب نہیں ہے

0
7
شجر سے ٹوٹ کر پتا گرا ہے
سفر کا وقت آخر آ گیا ہے
​دیے کی لو لرزتی جا رہی ہے
ہوا کا رخ بہت ہی بے وفا ہے
​پرندے لوٹ کر گھر آ گئے ہیں
افق پر شام کا تارا چمکا ہے

0
10
کبھی آ کے دیکھو مری بے بسی کو
نہ جانو تصنع مری عاجزی کو
رقیبوں سے تم نے مرا حال پوچھا
میں کیا نام دوں اس نئی دلبری کو
تمنا رہائی کی بڑھتی ہی جائے
ترستی ہیں آنکھیں کھلی زندگی کو

0
3
پاکستان بھارت (T-20) مَعْرَکَہ!!!
——
بِالْآخِر بَدلہ لے ہی لیا کَمْ بَخْتوں نے
جو جو بھی تھے مَحْوِ پَرْواز، گِرائے ہیں
اِن گَھٹْیا لوگوں نے تو پَلک جَھپَکْتے ہی
اِک آن ہمارے گِیارَہ ”جَہاز“ گِرائے ہیں

0
3
ویسے تو ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا
ایک فقط ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا
وہ اکثر ناراض تو ہو جاتا ہے مگر
باپ کبھی بیٹے سے جدا نہیں ہو سکتا
چاہے کوئی کتنے کرشمے دکھاتا پھرے
پھر بھی میرے رب جیسا نہیں ہو سکتا

0
9
یادوں کے میلے کی رونق اور فراغ ہے اپنا
یادوں کے جھرمٹ سے مہکا باغ ہے اپنا
چلتے چلتے اپنا رستہ بھول گئے ہم
کتنا دلکش جیون کا یہ راغ ہے اپنا
منصف کا اعلان کہ ہم سے جرم ہوا ہے
سورج سے بھی روشن تر یہ داغ ہے اپنا

0
4
پاکستان بمُقابلہ بھارت (T-20)!!!
——
کُچھ بھی ہو چاہے، جیتنے کا
اِحْساس تو ہَم نے جیتا ہے
وہ جِیت گئے ہیں تو پِھر کیا
پَر ٹاس تو ہَم نے جیتا ہے

0
4
تم پہ اب بھی اگر یقیں ہوتا
ایک سنگین جرمِ دیں ہوتا
خوب اچھا ہے وہ مرا نہیں ہے
ہوتا تو اہلِ آستیں ہوتا
شہر ہا شہر گھومتا رہتا
میں اگر حاکمِ زمیں ہوتا

0
4
دل ترے دل سے یوں ناکام نکل آتا ہے
سوچ کا سوچ سے ابہام نکل آتا ہے
ہاتھ میں کوئی عجب چیز چھپاتا ہے وہ
اور پھر درد مرے نام نکل آتا ہے
دل کو منظر سا کوئی دِکھتا ہے، منظر میں نجات!
دو قدم چلنے پہ یہ خام نکل آتا ہے

0
3
زندگی سہل ہوتی جینے میں!
دل سا بہروپیا ہے سینے میں
مثل کیا، آرزوۓ لاحاصل
کہ لہو مل گیا پسینے میں
دل نہ کھنگال میرے چارہ گر
آس کا ڈھیر ہے دفینے میں

0
2
اجنبیت ہے کہ خلوت کا غبار
شہر کی آب و ہوا راس نہیں

0
3
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774