معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6240
گھر کے آنگن میں لگا بیٹھا ہوں
پیڑ کانٹوں کا اُگا بیٹھا ہوں
درد ہی درد مرے دل میں ہے
عشق میں دھوکہ جو کھا بیٹھا ہوں
دل کے زخموں کو چھپا بیٹھا ہوں
خود ہی خود کو میں بھلا بیٹھا ہوں

0
کسی رشتے میں بھی ویسی محبت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کے دل میں ہوتی ہے وہ شدت ہی نہیں ہوتی
جہاں میں ماں سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں ہوتی
خدا کی اس عطا جیسی عنایت ہی نہیں ہوتی
دعا کی چھاؤں مل جائے تو ہر آفت بھی ٹل جائے
کسی بھی سائباں میں وہ حفاظت ہی نہیں ہوتی

0
1
جانے والے کو بھولنا بہتر
ورنہ جینا سزا ہو جاتا ہے
یوں کسی کو نہ چاہ، اے ساگر
پل میں انساں خدا ہو جاتا ہے

0
3
تری یاد دل میں چراغِ سحر ہے
مری ہر دعا کا یہی اک ثمر ہے
غمِ ہجر دل پر عجب سا اثر ہے
مری زندگی اب تو دردِ جگر ہے
مرے دل میں اب بھی وہی اک نظر ہے
جو برسوں سے دل کا حسیں ہم سفر ہے

0
2
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
2
دلوں میں روشنی رکھنا یہی ایمان کافی ہے
سفر کتنا ترا دشوار ہو سامان کافی ہے
دعا لب پر رہے ہر دم یہی احسان کافی ہے
اگر نیت ہو سچی تو یہی پیمان کافی ہے
اندھیروں سے نہ گھبرا اک ذرا سی شمع جلنے دے
قدم بڑھتے ہی جائیں گے یہی امکان کافی ہے

5
خزاں کے بعد بھی دیکھو، چمن آباد رہتا ہے
اگر دل میں امیدوں کا کوئی گلزار رہتا ہے

0
3
تیری ہستی مری جینے کا سہارا نکلی
تیری سیرت ہی مری زیست کا دھارا نکلی
جب بھی حالات نے چاہا کہ مجھے وہ توڑیں
تیری آواز مری روح کا نعرہ نکلی
سیکھا تجھ سے یہ کہ طوفان سے ڈرنا کیسا
تیری ہر بات مری راہ کا تارا نکلی

0
5
کون کہتا ہے بگڑ جاتے ہیں چہرے کے نقوش
رنگتیں عشق میں اپنی ہیں نکھاری ہم نے
شکر کرتا ہوں کہ ملتی ہے فقط ایک ہی بار
زندگی ایک بھی مشکل سے گزاری ہم نے
ہمایوں

0
4
وقت کی بے رحم وسعت، رات کی تنہائیاں
کھا گئیں آوازِ آدم، دشت کی پہنائیاں
دفن ہیں کس دشت میں وہ کاروانِ رفتگاں
یاد کے غاروں میں زندہ، موت کی پرچھائیاں
شہر کی اس جگمگاتی، بے مروت بھیڑ میں
کھو گئی ہیں راستوں میں، ذات کی گہرائیاں

0
9
اے مرے رب تیری رحمت سے ہے روشن ہر جہاں
تیری قدرت سے عیاں ہے کائناتِ بے کراں
تو نے مٹی کو عطا کی عقل دل سوز و نظر
تو نے بخشا آدمی کو عزتِ کون و مکاں
پھر یہی انسان کیوں بھٹکا ہوا پھرتا ہے آج
کیوں ہے دل ویران اس کا کیوں بجھا ہے کارواں

0
5
وہ میرے حال پہ ہنسنے والے لوگ جو تھے
خود اپنے حال پہ رونے کے قابل نہ رہے

0
5
وہی زخموں کا بانی تھا وہی مرہم لگاتا تھا
عجب وہ اپنے ہونے کا یقیں دل کو دلاتا تھا
وہی الزام دیتا تھا وہی معصوم بنتا تھا
عجب کردار تھا اس کا عجب پردے لگاتا تھا
وہی ہر درد کا باعث وہی آرامِ جاں ٹھہرا
وہی نزدیک رہ کر بھی مسافت چھوڑ جاتا تھا

7
حسابِ جہاں کیا تو یہ راز افشاں ہوا
خسارہ ہی تھا وہ جس کو ہمیشہ نفع کہا

6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6240
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
360
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7925