معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6545
ہمارے حالِ زبوں سے غافل، نہ پھیرو آنکھیں، بنا کے باتیں
فراق کی اب سہی نہ جائیں، ستم شعار و اداس راتیں
کبھی تو آؤ کہ چین پائے، رکے یہ طوفانِ درد و فرقت
الٹ گئی ہیں فراقِ فرقت میں دل کے ارمان کی بساطیں
طویل اتنی شبِ جدائی، کہ جیسے صدیاں سمٹ گئی ہوں
خوشی کی حسرت میں ڈھل رہی ہیں، کٹھن، اذیت بھری حیاتیں

0
3
ہو نگاہِ لطف و کرم سدا ترا آدمی ہے لٹا ہوا
رہے آبرو مرے رہنما یہ ابھی ہے راہ بھلا ہوا
مرے دل میں آ کے سما زرا اسے مثلِ عرش بنا زرا
ترا جلوہ جلوہِ حق ہوا ترا نور نورِ خدا ہوا
وہ حرم ہو یا کہ صنم کدہ نظر آئے کیوں نہ وہ جا بجا
مجھے ذوقِ دیدہ وری شہا ترے آستاں سے عطا ہوا

0
16
ابلیس
ابتدا سے آج تک ہر سمت پھیلا ہے یہ دام

نسلِ آدم کو بنایا ہے ہوس کا اک غلام
میں نے ہی فرعون کو بخشا خدائی کا غرور

میں نے ہی قاروں کو سکھلایا خزانوں کا نظام
ہر زمانے میں نئے آذر، نئے بت خانے ہیں

0
6
جانوروں کے اِس جَنگل میں اَب کیا ہونا باقی ہے؟؟؟
——
کوئی بھی تَذْلِیل نَہِیں جو آئے روز نَہ ہوتی ہو
جانوروں کے اِس جَنگل میں اَب کیا ہونا باقی ہے؟
ذِلَّت کے دِن کاٹتے کاٹتے جان لَبوں تک آ پَہُنچی
جو رونا تھا رو بیٹھے ہیں یا کُچھ رونا باقی ہے؟

0
3
یقیں تحفہ ہے رحمانی، یقیں ہے روحِ ایمانی
یقیں سلمانِ فارسؓ سا، دِکھائے رُوئے نورانیؐ
مُرادیں بِالیقیں حاصل، یقیں ہے رازِ عرفانی
یقیں کامل ہو مُرشد پر، مِلے پرواز لاثانی

0
8
کوئی غمخوارِ سفر ساتھ اگر ہو ساگر
زندگی راہ کے کانٹوں کو بھلا دیتی ہے                             
 © ساگر حیدر عباسی

0
10
شہے دو سرؐیٰ کا میں در مانگتا ہوں
مدینے کے شام و سحر مانگتا ہوں
یہ آنکھیں بھی دیکھیں بہارِ ارم کو
مدینے کے باغ و ثمر مانگتا ہوں
طلب میں مدینہ منور ہے مولا
ملے اُنؐ کے کوچے میں گھر مانگتا ہوں

0
1
4
عطا مصطفیٰ کی رکھے شاد مولا
سدا دل رہے اس سے آباد مولا
نہ جانوں میں کب سے ہے ویران یہ من
بنے حجرہ اُن کا ہو آباد مولا
ہوں مسنون اعمال میرے کروں جو
کرے فکرِ دنیا نہ برباد مولا

0
4
زندگی کی ضرورت ہے ایمان بھی
آدمی جس سے بنتا ہے انسان بھی
بندگی میں ہے انسان کی زندگی
زندہ رہتا ہے ویسے تو خیوان بھی

0
4
کبھی سوچا ہے، اگر وقت پلٹ بھی جائے
وہی موسم، وہی رستے، وہی چہرے آئیں
کیا وہ حیرت بھی پلٹ آئے گی آنکھوں میں کبھی
جس سے معمولی سی دنیا بھی نئی لگتی تھی
وہ یقیں، جن پہ سوالات نہیں ہوتے تھے
وہ تعلق، جو فقط دل سے نبھایا ہم نے

0
1
خلوص، پیار، محبت، اصول کی باتیں
انہیں بھلا دو، یہ اب ہیں فضول کی باتیں
بناوٹی ہے سجاوٹ چمن میں چاروں طرف
نہیں ہیں خار کہیں، صرف پھول کی باتیں
ہے کیا جسے نہ خریدا نہ بیچ ڈالا جائے
یہاں تو منصب و عصمت حصول کی باتیں

1
خبر بہت ہے مگر آگہی کہیں نہیں ہے
سوال زندہ ان میں زندگی کہیں نہیں ہے
بہت اصول تھے جن پر زمانہ قائم تھا
وہ اختلاف کی شائستگی کہیں نہیں ہے
ہزار علم کے دریا بہے ہیں دنیا میں
مگر سوال کی وہ تشنگی کہیں نہیں ہے

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6545
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

47
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8042