معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5919
جدھر دیکھئے بسکہ جنگ آزمائیں
تماشائے اہلِ تفنگ آزمائیں
یہ شب کی سیاہی مقدر نہیں ہے
چلو اس بہ کرنوں کا رنگ آزمائیں
اندھیرا کہاں تک طوالت ہے کھینچے
نئی اک سحر کی امنگ آزمائیں

0
1
دشمنی ظلم و ستم سے گو ہے تم کو تو پرانی
پر کبھی بن پائے آفت ظالموں پر ناگہانی؟
ہر طرف ہیں بکھری لاشیں خوں بہے ہے آب مانند
ایسے میں پھر کس کو بھائے چھوٹی موٹی شادمانی
دل کہے ہے، لڑ پڑو اب، عقل بولے، جاں بچاؤ
ہائے امت تجھ پہ آئی جانے کیسی یہ گرانی

0
8
ناز افشین بن گئے ہیں آپ
وجہ تسکین بن گئے ہیں آپ
آپ کی یاد اور کوہ ندا
کتنے سنگین بن گئے ہیں آپ
ایک بے رنگ زندگی کے لئے
عکسِ رنگین بن گئے ہیں آپ

0
6
الطافِ کبریائی چاہت ہے مصطفیٰ کی
نور و جمالِ دل جاں الفت ہے مصطفیٰ کی
دیتے سکونِ جاں ہیں نغمات مصطفیٰ کے
جو رستے ہیں ارم کے سیرت ہے مصطفیٰ کی
آفاق ہیں مزین اوصافِ مصطفیٰ سے
جاری درونِ ہستی مدحت ہے مصطفیٰ کی

0
1
6
حصولِ جاہ و حشم تیری زندگی کا جواز
مری نظر میں برابر سبھی نشیب و فراز
یہاں پہ خلعتیں ساری اتار کر آؤ
فقیر اوڑھتے ہیں جبہ ہائے عجز و نیاز
تمام آمر و جابر بنے نشان اجل
حیات اشکِ رواں ہے حیات سوز و گداز

0
6
ایپسٹین فائلز اور ڈونلڈ ٹرمپ!!!
——
تُو ایسا جانْوَر ہے جو کبھی پہلے نَہِیں دیکھا
غِلاظَت میں جَہاں بَھر میں نَہِیں تیرا کوئی ثانی
تُو اِک ایسا دَرِنْدَہ ہے جسے سَب جانتے ہیں پَر
ہَمارے کَرْتے دَھرْتوں نے تری صُورت نَہ پَہْچانی

0
5
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہاری یاد کے بوجھل، تھکے لمحوں کی دہلیزوں پہ
جو برسوں پڑی ہے گردِ ہجراں کی اداسی سی
اُسے خاموش ہاتھوں سے ذرا ہلکا سا کرتے ہیں
وہی بوسیدہ وعدے جو زمانوں سے بکھر بیٹھے

18
چاہیے عرض و سماں آواز دے؟
مانگ لے ہفت آسماں آواز دے
ضبط میں ضم ہو گئے طوفاں تلک
کیا طلاطم پُرفغاں آواز دے
سوز ہی جب زندگی کی گونج ہو
موت آنے کی کہاں آواز دے؟

0
51
آیَتُ اللہ خامنائی کا بیٹا مُجھے مَنظُور نَہِیں۔ ٹرمپ!!!
——
تیری کَرْتُوتیں بھی ہَم سَب جانَت ہیں
تُو بھی اَب مَسْتُور نَہِیں ہے بے غَیرَت
کوئی بھی گَر تُجھ کو نَہِیں مَنظور تو کیا؟
تُو بھی ہَمیں مَنظُور نَہِیں ہے بے غَیرَت

5
عدل جب مفقود ہو دل میں سکوں رہتا نہیں
ظلم کی آہٹ سے کوئی گوشہ بھی بچتا نہیں
ہم نے دیکھا ہے کہ جب حق دب گیا اہلِ ہوس
پھر کسی بستی میں امن و آشتی آتا نہیں
عدل کی بنیاد پر قائم ہے دنیا کا نظام
ورنہ طاقت کا تلاطم کوئی حد رکھتا نہیں

0
7
انہی کے داغ سب دھوئے ہوئے ہیں
جو اپنی ذات میں کھوئے ہوئے ہیں
قیامت بار ہا آتی رہی ہے
نہیں جاگے ابھی سوئے ہوئے ہیں
ہوا اعلان رقصِ آخری کا
یہ حضرت کیف میں کھوئے ہوئے ہیں

0
12
بھلا کیوں آپ  گھبرائے ہوئے ہیں
یہ قصے جھوٹ بنوائے  ہوئے ہیں
انہی کے ہاتھ سے اٹھیں فصیلیں
عمارت میں جو  چنوائے ہوئے ہیں
صلیبیں اگ رہی ہیں اس زمیں سے
قلندر جس میں دفنائے ہوئے ہیں

0
7
سانحہ اپنی تباہی کا نہیں ایسا عجیب
غیر کو اپنا سمجھنا تھا مرا اپنا نصیب
مجھ سے ملتا بھی ہے گرچہ ہے خفا مجھ سے بہت
دوستوں سے بھی  زیادہ  میرا  ہمدم ہے رقیب
میرے ارماں میری طاقت میری ہمت ہیں وہی
دور ہو کر بھی جو رہتے ہیں سدا دل کے قریب

0
8
خَواتِین کا عالمی دِن!!!
——
تُم ہو تَصْوِیرِ کائِنات میں رَنْگ
تُم سے ہیں جتنے اِسْتِعارے ہیں
سال میں ایک دِن تو کُچھ بھی نَہِیں
سال کے سارے دِن تُمھارے ہیں

0
5
رنگ لائی ہے محنت تمھاری خُرم
بڑھ گئی اس سے عزت ہماری خُرم
دِل میں پھوٹے ہیں لڈو سُنی جب خبر
کھا لو لڈو مِلے گی ہمیں کب خبر
خدمَتِ خلق میں تمغَۂِ امتیاز
تُم کو دو جگ میں مولا کرے سرفراز

0
6
شرحِ انجیل تھی کہ آنکھ وہ تورات تھی
سوچتے ہیں تیرا چہرہ صبح تھی یا رات تھی
بیان ہی تو کر رہا تھا قیس صحرا کا جنوں
تم خفا کیوں ہو گئے اس قدر کیا بات تھی
جا رہا ہے تیری محفل سے یہ دل کہتا ہوا
ستائشِ غیرت رقیبِ اُلفتِ بد ذات تھی

0
10
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7709
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
8
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
782