معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6577
اَنمول عُرف پِنکی کو با عِزَّت بَری کر دیا گیا!!!
——
بَری ہو گئی ہے بَری ہو گئی ہے
وہ ڈائِن اَچانَک پَری ہو گئی ہے
نَہ جانے یِہ کِس کا چَمَتْ کار ہے جو
یِہ کھوٹی چَوَنِّی کَھری ہو گئی ہے

0
اے مرے بھائی! کہاں جا کے بسایا ہے مکاں؟
وہ تجلّی نہ رہی جس سے تھا روشن یہ جہاں
سُوئے افلاک تِری رُوح نے پرواز کیا
ہم یہاں رہ گئے لاچار و غریب و بے اماں
قہقہوں کی تِری گونج اب بھی ہے دیواروں میں
تُو جدا ہم سے ہوا، رہ گئے حسرت ،ارماں

0
5
خمارِ شوقِ شہزادہ نہیں ہے
نظر آمادۂ بادہ نہیں ہے
نہ جاؤ وقت کی معصومیت پر
بہت چالاک ہے سادہ نہیں ہے
ریاضی ہے نہیں دو چار کردیں
یہاں دو ایک ہوں آدھا نہیں ہے

0
2
آج ترے خلوص میں رنج رچا بسا ہؤا
اور اگر، عجیب ہے طور ترا تو کیا ہؤا
فیض بھلے لیا نہیں، شوق ترا عروج پر
شعر کمال کا کہا درد میں ہے گھلا ہؤا
پھول کھلے چمن چمن، زخم بھی تھے بدن بدن
دھند عروج پر رہی، قلب کہ تھا بجھا ہؤا

0
بچپن کے وہ لمحے سارے یاد آئے بہت
مل کر جو بھی دن گزارے یاد آئے بہت
سب ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہتے تھے جو
وہ جاں سے پیارے سہارے یاد آئے بہت
مل کر ہمارا بچھڑنا بھی مقدر میں تھا
ہم کو مقدر ہمارے یاد آئے بہت

3
ہے یقیں آخرش وہ بخشے گا
جس نے مجھ پر کیا مسلط ہے
ان گنت چیلوں والا اک ابلیس
اور اتارا ہے جس نے دنیا میں
نسلِ آدم کو آزمانے کو

0
3
ہر اک فَریبِ نفس کا انکار کیجیے
دل کو خدا کی یاد سے سَرشار کیجیے
دنیا کی بھیڑ میں کبھی بھولیں نہ آخرت
عُقبیٰ کا توشہ آج ہی تیار کیجیے
اِن فانی لَذَّتوں کو پَسِ پُشت ڈال کر
سجدوں میں گر کے رب سے ہی بس پیار کیجیے

0
23
میں اچانک کھو گیا تھا گھپ اندھیرے میں کہیں
پھر کسی نے ہاتھ تھاما روشنی سی ہوگئی
(عطا یارعلوی)

0
1
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6577
غزل
آخرش اس کو محبت ہو گئی
شوخ سینے سے لپٹ کر سو گئی
شوخ ہنستی مسکراتی اِک نظر
دِل کے بازیچے میں اُلفت بَو گئی
چشم و لب تک ہوش میں تھا دل مگر

0
8
مُجھے مَرنے کے بَعْد جَلا دیا جائے۔ ادَاکار سَیف علی خان!!!
——
مُسَلْمان ہو کے بھی آپ کی یِہ خواہش ہے؟
اِس لیے ضَرُوری ہے کُچھ تو حَل کیا جائے
بات وہ جو بَندے کی زِندگی میں پُوری ہو
آپ کو تو جیتے جی ہی جَلا دیا جائے

0
5
دل میں ارماں دیے بن کے جلتے رہے
موم تھے وعدے تیرے پگھلتے رہے
دل تو ہر زخم پے تلملاتا رہا
ہم دلاسوں پہ تیرے بہلتے رہے
رات بھر یاد کے سائے ہمراہ تھے
ہم ترے درد میں ہی بھٹکتے رہے

0
5
غم چھپانے کی نشانی اور ہے
راکھ کے نیچے روانی اور ہے
لوگ تو ظاہر پہ کرتے ہیں یقیں
باطنِ بے خانماں ہی اور ہے
موت کہتی ہے مسافر لوٹ جا
زندگی کی ضد کہ آنی اور ہے

0
6
مل کے رہنے کی جو صورت تھی، مٹا دی گئی کیا
پھر محبت کی بھی بنیاد گرا دی گئی کیا
بے نشاں کب کے ہوئے سارے پرانے نقشے
اور کوئی نئی تصویر بنا دی گئی کیا
منہ اٹھائے چلے آتے ہیں اندھیروں کے سفیر
وہ جو اک رسمِ چراغاں تھی، اٹھا دی گئی کیا

0
3
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

54
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8060