معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6238
ذکرِ حق کرتا ہوا سوئے جناں تھا قافلہ
ماؤں کی آہ و فغاں کا ترجماں تھا قافلہ
​ظلم کے آگے پہاڑِ بے گراں تھا قافلہ
ہر بلا میں حق کا اک روشن بیاں تھا قافلہ
​باطل و سرکش پہ مثلِ بجلیاں تھا قافلہ
اب قیامت تک رہے گا جاوداں تھا قافلہ

0
2
1۔ [ضبطِ نفس]
اگرچہ وہ تلخ آفریں ہے، تو تلخیِ ایّام سے بچ
وہ سختی اگر کلام میں لائے، تو سخت کلام سے بچ
۲۔ [حذر از عناد]
وہ ضدی ہے، اپنی ضد پہ اڑا ہے، تو اپنی ضد کو چھوڑ دے
وہ خود ہی بکھر جائے گا اک دن، تو اس کے انجام سے بچ

0
رات کے پچھلے پہر چپ چاپ سرکتے لمحے
چاند انگڑائی لئے جانے کی رخصت چاہے
مرغانِ چمن جاگے
تازہ دم روشنی  مشرق میں لگی کھلنے
باغ میں پھولوں کی مہک
پتیوں پہ چمکتی ہوئی شبنم کی دمک

0
1
یہ سوچا تو نہیں لیکن خفا ہونا ضروری تھا
بچھڑنا طے ہوا تو پھر جدا ہونا ضروری تھا
ہماری دسترس میں تھی مگر پھر بھی گنوا بیٹھے
محبت میں کسی کا تو خدا ہونا ضروری تھا
چراغِ انجمن تھا میں مجھے جلنا تھا ساری شب
اندھیری رات میں آخر دیا ہونا ضروری تھا

0
3
وہ جو کل تلک مرے ساتھ تھے انہیں کیا ہوا وہ کدھر گۓ
انہیں یاد کر کے نہ روئیے جو یہاں نہیں وہ گزر گۓ
جو دیا مجھے سو دیا ہے غم کسی آشنا کا ہو پاس کیوں
مجھے اب کسی سے گلہ نہیں مرے واسطے سبھی مر گئے
وہی لوگ ہو گۓ بے وفا جو عزیز تھے دل و جان سے
ہے وفا کا ایسا صلہ ملا کہ وفا کے نام سے ڈر گۓ

0
10
مَنْ کُنْتُ کا "مَنْ" ہی وہ لفظِ جلی ہے
تعبیر کہ جس کی کربل سے ملی ہے
مولا ہیں حسنؑ جسکے، حسینؑ جسکا ولی ہے
اُس کے ہیں محمدؐ، اس کا ہی علیؑ ہے

0
3
مگر یہ تو حقیقت ہے!!!
——
حُسین اِبنِ علیؑ نے وقتِ ہجرت سے ذرا پہلے
بنو ہاشم کے لوگوں کے لیے تحریر چھوڑی تھی
تو اُس تحریر کے اندر فقط دو ہی تو سطریں تھیں
کہ میرے ساتھ آؤ گے تو تُم بھی مارے جاؤ گے

0
1
اگر خود سے ہی نِسبت ہے
کسی کی کیا ضرورت ہے
اِسی خاطر میں تنہا ہوں
کہ آزادی سے الفت ہے
شہ کی بیعت کروں کیسے
مرے خوں میں بغاوت ہے

0
5
محبت کی کہانی میں عجب کچھ موڑ آتے ہیں
پرندے آشیاں اپنا اکیلا چھوڑ آتے ہیں
ملی ہے ہجرتوں سے بس ہمیں یہ عمر بھر کی ٹِیس
مسافر دور پردیسوں میں ناطے توڑ آتے ہیں
جہاں مٹی کی خوشبو اور اپنوں کی محبت ہو
مسافر سب وطن کی سمت ہی پھر دوڑ آتے ہیں

0
4
یہ فلک یہ دھوپ چھاؤں ، یہ زمین یہ زمانہ
مرے رب کی قدرتوں کا، ہے حسین شاخسانہ
کبھی تنہا دل تھا پر اب، کئی لاکھ مہرباں ہیں
ترے عشق میں مبارک، رہ و رسم مُشفِقانہ
یہ پیامِ باد نو ہے مری آبرو اسی سے
جو دلوں کو فتح کر لے وہ نظر ہے فاتحانہ

0
3
مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے

0
1
سکولوں کے بچے جیسے کہانی بھول جاتے ہیں
ہمارے پاسباں بھی پاسبانی بھول جاتے ہیں
جسے چھوٹی عمر سے یاد ہوں یہ فرض سب اپنے
وہی ہیں جو جوانی میں جوانی بھول جاتے ہیں

0
2
غمِ جاناں میں نے مانا
محبت جان لیتی ہے
ساگرحیدرعباسی

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6238
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
354
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7922