معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6138
اَنْمول کوکِین کیس کا مَنطِقی اَنْجام!!!
——
کوکِین نَہِیں تھی بِالْکُل بھی
اِس کا تو خالی ڈَر ہی تھا
کُچھ دِن میں خَبَر آ جائے گی
وہ بال صَفا پَوڈَر ہی تھا

0
آج اور اِک دن گزر گیا
خود کو چنتے میں پھر بِکھر گیا
جو اُٹھا تھا اِک شعلے کی طرح
راکھ کی وہ تہہ میں اُتر گیا

0
2
جنابِ صدر الجھن ہے عجب دھندلا سا ہے منظر
وہاں پر لوگ بیٹھے ہیں یا رکھے ہیں وہاں پتھر
سمجھ آئے تو دے دینا وگرنہ پاس رہنے دیں
جنابِ من ہے کیسی داد گر لینی ہے کہہ کہہ کر

0
مولا یوں زندگی میں پختہ قرار ہو
اُن کے غلاموں میں ہی میرا شمار ہو
عشقِ حبیب میں دے نفحاتِ زندگی
یادِ نبی سے یہ دل باغ و بہار ہو
ذکرِ نبی سے چلتی ساری حیات ہے
جب وقت آئے یہ جاں اُن پر نثار ہو

0
1
5
دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے
قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے
محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے
میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے
تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں
اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے

0
3
دیس میں اب جمہوری فن ہے
آرمی کا تو یہ بچپن ہے
ظلم و ستم ہے جمہوری جو
ناگ کا یہ زہریلا پھن ہے
غربت ہی کو جرم بنایا
یہ شرفا کا چال چلن ہے

0
3
شہر کے جو نگہبان ہیں
بچ کے رہنا یہ شیطان ہے
کیوں محافظ لٹیرے بنے
سوچ کر ہم تو حیران ہیں
دین کی چادریں اوڑھ لیں
نام ہی کے مسلمان ہیں

0
2
کسی نے ایسا اجاڑا ہے رو نہیں پاتے
بھلا کے اس کے ستم ہم تو سو نہیں پاتے
ہماری مان کے اب گھر کو لوٹ جاؤ تم
بہت سے خواب حقیقت میں ہو نہیں پاتے
سنبھالتے تو ہیں آنکھوں میں اپنے اشکوں کو
چھلک پڑیں وہ اگر، روک تو نہیں پاتے

0
1
لب پہ سچ اور اچھا کردار رکھیں گے ہم
تم جو ظلم کرو گے تو صبر کریں گے ہم
پاس تمہارے کہنے کو بس باتیں ہیں
اپنی بات دلیل سے پیش کریں گے ہم
تم کو لگا تھا ظلم کرو گے جتنے بھی
بس خاموش رہیں گے اور سہیں گے ہم

0
2
جاگ پڑے گلشن کے سپاہی
پہرا دیں گے وطن کے سپاہی
کیوں خاموش کرایا ان کو
سچ بولیں گے من کے سپاہی
جرم ہے بس یہ کہ جرم نہیں ہے
امن کے پھول چمن کے سپاہی

0
2
ہماری عمر تھوڑی رہ گئی ہے
تمنا اک ادھوری رہ گئی ہے
رہے ہیں منتظر ہم اس کے برسوں
ابھی لمحوں کی دوری رہ گئی ہے
سنے گا کلمہ ۓ حق شاہ کیسے
یہاں بس جی حضوری رہ گئی ہے

0
1
شہر کی گلیاں اب اتنی سنسان ہیں کیوں
لوگ یہاں کے زیادہ تر بے جان ہیں کیوں
ٹوٹے پھوٹے گھر ہیں مفلس لوگوں کے
شہر کے حاکموں کے پھر گھر دیوان ہیں کیوں
جیبیں بھری ہیں خاص قسم کے لوگوں کی
عام عوام کے ہی پھوٹے ارمان ہیں کیوں

0
2
اس گلشنِ وطن کا بہت مجھ پہ قرض ہے
میں تو کروں گا اس سے وفا مجھ پہ فرض ہے
دشمن ہوا ہے آج زمانہ تو کیا ہوا
زنداں میں آج کل ہے ٹھکانہ تو کیا ہوا
ملت کا رنج خوار ہوں غدار تو نہیں
قیدی ہوں بے گناہ خطا کار تو نہیں

0
2
وقت پرانا یاد ہے تم کو گھر جب کچے ہوتے تھے
لوگ یہاں پر بسنے والے سیدھے سادے ہوتے تھے
ریل جہاز سکوٹر گاڑیاں دیکھنے کو کب ملتی تھیں
سفر کی خاطر عام یہاں پر گھوڑے تانگے ہوتے تھے
ٹوٹے پھوٹے رستوں پر جب تیز سواری چلتی تھی
زور کے جھٹکے لگتے تھے پر تب وہ جھولے ہوتے تھے

0
3
گڑیا پٹولے کھیلتے بچے کتنی جلدی جوان ہوئے
دیکھتے دیکھتے امی ابو اس گھر کے مہمان ہوئے
کون رہا ہے دنیا میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں
ہنستے بستے کتنے گھر تھے جو پل میں ویران ہوئے
بیتنے والا ہر اک لمحہ ماضی میں کھو جاتا ہے
شہر یہاں آباد تھے کتنے، اور کتنے سنسان ہوئے

0
1
جو زندگی نکھار کر حسین سا کنول بنے
کمال تک پہنچ گئے تو لقمۓ اجل بنے
وہ شاعری میں ڈھل گئے رباعیوں میں آ گئے
خیال میں سما کے وہ کمال کی غزل بنے
وہ جن کا درس امن تھا امان سب کو دے گئے
جفا فنا کے دور میں وفاؤں کا بدل بنے

0
2
نہیں مجال کہ تجھ سے کبھی گلہ میں کروں
تری عطاؤں پہ بس شکر ہی ادا میں کروں
تری نگاہِ کرم بس مرا بھرم رکھ لے
ترے حضور اے مولا یہی دعا میں کروں
مرے گناہ پہ پردہ ہے تیری رحمت کا
تو کس طرح تری رحمت کا شکریہ میں کروں

0
3
پاک وطن بھی ہوتا تھا خوش حال کبھی
رب جانے اب اس کو لگی ہے نظر کس کی
اللہ کی رحمت ہوتی تھی شام و سحر
ہم سب پیار سے رہتے تھے مل جل کے ادھر
یاد ہیں اب تک وہ رنگین چو بارے بھی
اور پرانے سارے سنگی پیارے بھی

0
7
مزاجِ یار میں جو بے رخی بہت ہے اب
سو بزمِ دوستاں میں خامشی بہت ہے اب
کسی کی آس نہ رکھنا سنبھل کے چلنا خود
کہ اہل شہر میں تو بے حسی بہت ہے اب
لہو لہان ہیں غمگین ہیں سب اہل چمن
کوئی وسیلہ نہیں بے بسی بہت ہے اب

0
3
دشت میں آج بھی ہر سو گونج تمہاری ہے
نام کمانا بھی تو اک فنکاری ہے
ڈھونڈ رہا ہوں امن، دیارِ ہستی میں
ہر لمحہ حساس دلوں پر بھاری ہے
کام برا ہو، ہوتا ہے انجام برا
زور و شور سے مجھ میں ورد یہ جاری ہے

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7858
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6138
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26