معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6140
صحرائے محبت میں بہت خوار ہوئے ہم
پھر بھی اسی اک گل کے طلبگار ہوئے ہم
آزاد ہوئے دنیا کے سب رنج و الم سے
جب سے تری الفت میں گرفتار ہوئے ہم
تھی تشنہ لبی اور بیابانِ محبت
جامِ مئے الفت سے سرشار ہوئے ہم

0
5
لَہجہ ہے دِلبَرانہ میرے حضورؐ کا
ہر لفظ عارفانہ میرے حضورؐ کا
مُسکانِ سَروری ہے مِشکات نُور کی
دیکھو یہ مُسکرانا میرے حضورؐ کا
فاقہ ہے گھر میں لیکن دستِ عطا ملا
لَنگر ہے بیکرانہ میرے حضورؐ کا

0
5
عجب اک کرب دل پر چھا رہا ہے
سکوتِ شب مجھے ڈستا رہا ہے
زمانے کی ادا ہے تلخ لیکن
لب و لہجہ مرا شُستہ رہا ہے
ہمیشہ ہی نگاہوں میں ہماری
کوئی منظر ادھورا سا رہا ہے

5
پھرتے ہیں دشت دشت ترے غم کے مارے ہم
اب تک نہ اپنے دل سے ہوئے ہیں کنارے ہم
اک درد تھا سو شہرِ تمنا میں بس گیا
کرتے پھرے ہیں عمر بھر اس کے سہارے ہم
دل کی خرابیاں تھیں کہ ویران ہو گئے
ورنہ تھے شہر زیست کے روشن منارے ہم

0
9
دل اُٹھ گیا ہے شہرِ بتاں، جاں ستاں سے اب
بیٹھے ہیں جا کے گوشۂ درد و فغاں سے اب
آتی نہیں ہے بُو بھی کسی آشنائی کی
وحشت سی ہو رہی ہے ہمیں اس مکاں سے اب
ہم اشک تھے سو خاک میں آخر ملا کیے
دریا الگ ہے ورنہ نہیں آسماں سے اب

0
7
دل کہ غم کا کوئی خزینہ تھا
زخموں سے چھلنی اپنا سینہ تھا
دورِ اک بادۂ شبینہ تھا
گو مقدس بڑا مہینہ تھا
گزرے وقتوں کی یہ کہانی ہے
ایک دریا تھا اک سفینہ تھا

0
3
اَنْمول کوکِین کیس کا مَنطِقی اَنْجام!!!
——
کوکِین نَہِیں تھی بِالْکُل بھی
اِس کا تو خالی ڈَر ہی تھا
کُچھ دِن میں خَبَر آ جائے گی
وہ بال صَفا پَوڈَر ہی تھا

0
1
آج اور اِک دن گزر گیا
خود کو چنتے میں پھر بِکھر گیا
جو اُٹھا تھا اِک شعلے کی طرح
راکھ کی وہ تہہ میں اُتر گیا

0
4
جنابِ صدر الجھن ہے عجب دھندلا سا ہے منظر
وہاں پر لوگ بیٹھے ہیں یا رکھے ہیں وہاں پتھر
سمجھ آئے تو دے دینا وگرنہ پاس رہنے دیں
جنابِ من ہے کیسی داد گر لینی ہے کہہ کہہ کر

0
2
مولا یوں زندگی میں پختہ قرار ہو
اُن کے غلاموں میں ہی میرا شمار ہو
عشقِ حبیب میں دے نفحاتِ زندگی
یادِ نبی سے یہ دل باغ و بہار ہو
ذکرِ نبی سے چلتی ساری حیات ہے
جب وقت آئے یہ جاں اُن پر نثار ہو

0
1
5
دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے
قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے
محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے
میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے
تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں
اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے

0
3
دیس میں اب جمہوری فن ہے
آرمی کا تو یہ بچپن ہے
ظلم و ستم ہے جمہوری جو
ناگ کا یہ زہریلا پھن ہے
غربت ہی کو جرم بنایا
یہ شرفا کا چال چلن ہے

0
3
شہر کے جو نگہبان ہیں
بچ کے رہنا یہ شیطان ہے
کیوں محافظ لٹیرے بنے
سوچ کر ہم تو حیران ہیں
دین کی چادریں اوڑھ لیں
نام ہی کے مسلمان ہیں

0
2
کسی نے ایسا اجاڑا ہے رو نہیں پاتے
بھلا کے اس کے ستم ہم تو سو نہیں پاتے
ہماری مان کے اب گھر کو لوٹ جاؤ تم
بہت سے خواب حقیقت میں ہو نہیں پاتے
سنبھالتے تو ہیں آنکھوں میں اپنے اشکوں کو
چھلک پڑیں وہ اگر، روک تو نہیں پاتے

0
1
لب پہ سچ اور اچھا کردار رکھیں گے ہم
تم جو ظلم کرو گے تو صبر کریں گے ہم
پاس تمہارے کہنے کو بس باتیں ہیں
اپنی بات دلیل سے پیش کریں گے ہم
تم کو لگا تھا ظلم کرو گے جتنے بھی
بس خاموش رہیں گے اور سہیں گے ہم

0
2
جاگ پڑے گلشن کے سپاہی
پہرا دیں گے وطن کے سپاہی
کیوں خاموش کرایا ان کو
سچ بولیں گے من کے سپاہی
جرم ہے بس یہ کہ جرم نہیں ہے
امن کے پھول چمن کے سپاہی

0
2
ہماری عمر تھوڑی رہ گئی ہے
تمنا اک ادھوری رہ گئی ہے
رہے ہیں منتظر ہم اس کے برسوں
ابھی لمحوں کی دوری رہ گئی ہے
سنے گا کلمہ ۓ حق شاہ کیسے
یہاں بس جی حضوری رہ گئی ہے

0
2
شہر کی گلیاں اب اتنی سنسان ہیں کیوں
لوگ یہاں کے زیادہ تر بے جان ہیں کیوں
ٹوٹے پھوٹے گھر ہیں مفلس لوگوں کے
شہر کے حاکموں کے پھر گھر دیوان ہیں کیوں
جیبیں بھری ہیں خاص قسم کے لوگوں کی
عام عوام کے ہی پھوٹے ارمان ہیں کیوں

0
2
اس گلشنِ وطن کا بہت مجھ پہ قرض ہے
میں تو کروں گا اس سے وفا مجھ پہ فرض ہے
دشمن ہوا ہے آج زمانہ تو کیا ہوا
زنداں میں آج کل ہے ٹھکانہ تو کیا ہوا
ملت کا رنج خوار ہوں غدار تو نہیں
قیدی ہوں بے گناہ خطا کار تو نہیں

0
2
وقت پرانا یاد ہے تم کو گھر جب کچے ہوتے تھے
لوگ یہاں پر بسنے والے سیدھے سادے ہوتے تھے
ریل جہاز سکوٹر گاڑیاں دیکھنے کو کب ملتی تھیں
سفر کی خاطر عام یہاں پر گھوڑے تانگے ہوتے تھے
ٹوٹے پھوٹے رستوں پر جب تیز سواری چلتی تھی
زور کے جھٹکے لگتے تھے پر تب وہ جھولے ہوتے تھے

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7859
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6140
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26