معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6167
ملو تم اب وفاؤں سے، صدائیں کام آئیں گی
جدائی کے اندھیروں میں ضیائیں کام آئیں گی
نہ کر اب فخر اتنا ان بدلتے وقت کے سُر پر
بگڑ جائے گی جب تالیں، صدائیں کام آئیں گی
جہاں میں کشتیاں اپنی ڈبو دیتے ہیں خود راہی
نہ ساحل کام آئے گا نہ لہریں کام آئیں گی

0
4
ترے خیال نے پھر دل کو بے حساب کیا
وہ میری ہجر بھری راتوں کو گلاب کیا
ہر ایک سانس میں خوشبو تری بکھرنے لگی
تری نگاہ نے موسم کو کامیاب کیا
میں اپنے زخم لیے پھر رہا تھا شہروں میں
تری صدا نے مجھے صاحبِ کتاب کیا

0
3
خیالِ یار کو تصویرِ جاں بنانے لگے
ہم اپنے لفظ سے اک دنیا اب سجانے لگے
میں "وصل" لکھوں تو وہ بے قرار ہو جائے
میں "قرب" لکھوں تو وہ قریب آنے لگے
وہ میرے سامنے بیٹھا رہے تصور میں
میں "دیکھنا" لکھوں، وہ نظریں تک ملانے لگے

0
3
صرف حیوانوں کا کٹنا ہی تو قربانی نہیں
دل اگر بدلا نہیں تو یہ مسلمانی نہیں
اللہ کو پہنچے گا بس تیرے ہی دل کا تقویٰ ہی
خون پہنچے گا نہ کوئی ایسی نادانی نہیں
اپنے اندر کے غرور و کبر کو تو ذبح کر
نفس کی فرمانبرداری، مسلمانی نہیں

0
3
وہ خوابِ وصل کی بنیاد پر جو سجتے ہیں
وہ دل کبھی تو تماشائے ہجر بنتے ہیں
ہزار بار جنہیں راستوں نے لوٹا ہو
وہی مسافر اب اُمیدِ نو سے ڈرتے ہیں
پلٹ کے دیکھنے والی وہ آنکھ کیا جانے؟
کہ پیچھے موڑ پہ کتنے چراغ بجھتے ہیں

0
2
پِٹْرَولْیَم مَصْنُوعات کی قِیمَتوں میں مَعْمُولی کَمی!!!
——
ہمارا مُخْلِصانَہ مَشْوَرَہ ہے
ڈرامے بازیوں کو بُھول جاؤ
ہے نِیَّت ٹِھیک تو پِٹْرَولْیَم کو
پُرانی قِیمَتوں پَر لے کے آؤ

0
1
چشمِ ویراں میں ابر و بار آیا
بے قراری کو کچھ قرار آیا
درد اٹھا تو بے پناہ اٹھا
رنج آیا تو بے شمار آیا
اس جہانِ خراب میں اب تک
دورِ ظلمت ہی بار بار آیا

0
11
لبوں سے کوئی جب بھی کم بولتا ہے
تو پھر چشمِ پر نم سے غم بولتا ہے
ہے اس واسطے میری آواز میں درد
ترے ہجر کا اس میں غم بولتا ہے
کبھی باتیں کرتے جو تھکتا نہیں تھا
ترے بعد وہ شخص کم بولتا ہے

3
153
جانِ دو عالم سید و سرور
پیارے نبی کونین کے دلبر
ہستی اُن سے ساری ہے جھل مل
روشن اُن سے اوجِ پہ اختر
گنج سخا ہیں نور و ضیا ہیں
بانٹیں سدا جو فیض کے دفتر

0
1
6
صادق امین مخبر سرور کی ہو ثنا
ایسے لطیف یزداں دلبر کی ہو ثنا
ہیں فیضِ اولیں جو دارین میں حسیں
اوجِ کمال کے اُس اختر کی ہو ثنا
وہ گنج جس سے نکلے انوارِ دو سریٰ
اس کنزِ فیض والے انور کی ہو ثنا

0
1
6
کونین میں نرالا اُن کا دیار ہے
دیتی جہاں کو زینت جس کی بہار ہے
رگ رگ کو حاصل اس جا گوناں سکون ہے
انعامِ مصطفیٰ کی جاری پھوار ہے
ہیں فیض عام اُن کے الطاف بیکراں
پُر کیف لمحے جس سے دائم قرار ہے

0
3
دل چوٹ کھا چکا ہے لیکن گلہ نہیں ہے
ہر شخص کو جہاں میں یہ دکھ عطا نہیں ہے
محروم رہ نہ جاؤں میں الفتوں سے تیری
ان قسمتوں کو میری ، تجھ سا ملا نہیں ہے
سائے سے چونک جائے یا پار جا کے اترے
تنہا یہ دل ، مسافر رہ آشنا نہیں ہے

0
4
اے آدم تو خُود کو کَہاں جانتا ہے
تِرا رَب تو تیرے گُماں جانتا ہے
نہ جانا خُدا کو، نہ خُود کو ہی جانا
تُو کہنے کو سارا جَہاں جانتا ہے
نَظر کوئی کیسے اُٹھے اُس کے آگے
وہ سَب کا ہی کارِ نِہاں جانتا ہے

9
مَیں وہ غَلِیظ ہُوں، پَاپِی ہُوں اور پَراگَنْدَہ
کبھی نَہ پاس سے گُذرے ہیں میرے نیکُو کار
مقامِ شُکر ہے مولا کہ میرے جیسے بھی
اُسی مَزے میں ہیں جِس میں ہیں تیرے نیکُو کار
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
خود اپنے ہی وجود کا ملبہ ہوا ہوں میں
جس سے نکل سکا نہ وہ قضیہ ہوا ہوں میں
ہر شخص اپنے غم کی تلافی میں مست ہے
کس نے یہ کہہ دیا کہ مسیحا ہوا ہوں میں
اک عمر کٹ گئی ہے اسی دشتِ زار میں
اب جا کے اپنے سے بھی شناسا ہوا ہوں میں

0
6
دل کے احوال صاف کرتا ہوں
رو کے خود کو معاف کرتا ہوں
تیرے رستے کی خاک چنتا ہوں
شوق کا اعتکاف کرتا ہوں
مجھ کو دنیا غریب کہتی ہے
میں خدا سے طواف کرتا ہوں

0
6
کوئی موسم ہو، اترتا ہے نظر میں وہ شخص
جیسے سورج کی کرن کھیلے سحر میں وہ شخص
جس کو سوچا بھی تو کانٹے سے چبھے یاد اس کی
کتنا پیارا ہے، مگر ڈوبا ہے ڈر میں وہ شخص
میں نے سوچا تھا کہ اب ترکِ تعلق کر لوں
پھر پکارے گا مجھے راہِ گزر میں وہ شخص

0
6
جب تلک زخم نہ گہرا ہو، غزل کہیے گا
دل کا احوال نہ بدلا ہو، غزل کہیے گا
صرف لفظوں سے کہاں حقِ وفا ہوتا ہے
خونِ دل ساز پہ بکھرا ہو، غزل کہیے گا
بات جب حد سے گزر جائے تو ملتا ہے سکوں
شور جب روح میں برپا ہو، غزل کہیے گا

0
5
اے دیس کیا کروں ترے نصیب جل گئے
وہ جو وفا شعار تھے قریب جل گئے
پلے تھے وحشتوں میں وہ محبتوں سے دور
محبتوں سے دل کے سب غریب جل گئے
جواب دے چکے تھے میرا روگ دیکھ کر
سو تندرست دیکھ کر طبیب جل گئے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7884
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6167
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
31