معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6142
خدا کے پیمبر نبی آخری
نبوت ہے جن کو ازل سے ملی
تھے انسان سارے ابھی آب و گل
مگر تھے یہ پردے میں نورِ جلی
یہی ہیں جو دولہا تھے میثاق میں
سرِ لامکاں تھی جو محفل سجی

0
ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں
شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں
الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں
ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں
اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے
اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں

0
12
جدائی کی کٹھن گھڑیوں کو سینے سے لگایا ہے
تمہیں پانے کی حسرت میں خودی کو بھی مٹایا ہے
دکھائے ہیں زمانے نے ہمیں کیا کیا نہ رنگ اپنے
مگر اس دل نے ہر طوفاں میں تیرا نام گایا ہے
نہ سمجھا کوئی اس دل کی تڑپ کو اس زمانے میں
ترے غم کو ہی ہم نے اپنا سرمایا بنایا ہے

0
6
رنگ جنون کا عقل و خرد پر گہرا ہے
میرے دیس میں اب تک ظلم کا پہرہ ہے
منصف جب انصاف کا خود ہی قاتل ہو
پھر مظلوم کی خاطر جرم کٹہرا ہے
ناچ رہا ہے ظلم یہاں بازاروں میں
اور قانون یہاں پر ان دھا بہرا ہے

0
3
دیپ کی خاطر کیا طوفاں تھم جاتے ہیں؟
بد قسمت ہی اس کی زد میں آتے ہیں
جن کے پاس فراوانی ہے دولت کی
کیوں غربا کو روٹی پر ترساتے ہیں
ایک کے پاس نہیں کچھ جسم چھپانے کو
دوسرے مہنگے کپڑوں پر اتراتے ہیں

0
4
اول سب سے ذات ہے اس کی، ہر اک شے سے قدیم ہے وہ
ہر مخلوق فنا ہو گی بس باقی رہے گا عظیم ہے وہ
کچھ بھی نہیں مقصد سے خالی، اس کی بنائی دنیا میں
ہر تخلیق میں حکمت اس کی، سب سے بڑا حکیم ہے وہ
پالنے والا ہے وہ جہاں کا اس کے پاس خزانے ہیں
نافرمان کو بھی دیتا ہے رب عالم کا کریم ہے وہ

0
5
یہ بیویاں تو فقط حکم ہی چلاتی ہیں
یہ شوہروں پہ ستم روز روز ڈھاتی ہیں
لگا کے منہ پہ یہ میک اپ سجیں پری کی طرح
جو دھو لیں منہ تو بنی بھوتنی ڈراتی ہے
خیال خوب فگر کا رکھیں نکاح تلک
مگر یہ بعد میں کیوں موٹی ہوتی جاتی ہیں

0
4
یہ چاند لگتا ہے تھک گیا ہے سفر سے، دیکھیں
جو چاندنی چھن کے آ رہی ہے شجر سے دیکھیں
وطن ہمارا ہے حکمرانوں نے بیچ کھایا
بچے ہوئے کو بھی لالچی سی نظر سے دیکھیں
حیا کی چادر اتار پھینکی ہے نسلِ نو نے
کہیں بھی جھانکیں ادھر نہیں تو ادھر سے دیکھیں

0
4
گر مسلمان مسلمان کا کاٹے گا سر
لوگ سوچیں گے کہ کفار ہیں ان سے بہتر
بات ہے ٹھیک ضروری ہے وطن کی چاہت
پر مجھے امن تو ہجرت سے ملا ہے آ کر
نفرتوں کا یہ سبق کس نے دیا ہے تم کو
بھائی چارے کا سبق دے کے گئے پیغمبر

0
3
بس کرو اب یہ ستم بس کر دو
ظلم اپنوں پہ صنم بس کر دو
پھول کھلنے دو چمن میں اب تو
گل فروشوں پہ کرم بس کر دو
چاند ہو، دور اندھیروں سے رہو
نام کا رکھ لو بھرم، بس کر دو

0
4
تو جمہوریت کا دوانہ ہوا ہے
مگر امن دیکھے زمانہ ہوا ہے
عیا شی میں ڈوبے ہیں حاکم یہاں کے
تو جلاد مقتل روانہ ہوا ہے
جو "سب ٹھیک ہے" کہہ رہے ہیں وہ سن لیں
یہ شامت کا ان کی بہانہ ہوا ہے

0
4
کرے لپیٹ میں جو ہم کو جوش، عِطر فروش
خرد نہ کام میں آئے نہ ہوش عِطر فروش
ہے تیرے عطر کی مہکار کی لپیٹوں میں
کچھ ایسا کیف، ہؤا سرفروش، عطر فروش
ہمارے گاؤں میں اک شخص شیشیاں لے کر
صدائیں دیتا پھرے (بادہ نوش)، عطر فروش

0
6
اَدھیڑ عُمْر بابوں کی ”شادی“ کا دَعْوَت نامَہ !!!
——
بزرگ چُونْکہ ہیں مَقبُول اَپنے حَلقے میں
جَناز گاہ ہوئی یا کہ ہال، فُل ہوں گے
صَلائے عام ہے شُرَکاء کو دونوں صُورت میں
اگر وَلِیمَہ نَہ ہو پائے گا تو قُل ہوں گے

0
2
ایک زمانہ اپنا بھی انجانا بھی
یاد میں تازہ بھی ہے اور پرانا بھی
وقت گلی کوچوں میں خوب گزرتا تھا
کھیلنا کو دنا ہنسنا اور ہنسانا بھی
سندر یادیں اب بھی ذہن میں تازہ ہیں
سر کی مار سے وہ یاروں کا ڈرانا بھی

0
8
وطن میں اقتدار کی جو جنگ ہے
غریب ان سیاستوں سے تنگ ہے
نما ئشی ہیں اختلاف ان کے بیچ
کمائی ایک دوسرے کے سنگ ہے
کمیشنیں ہیں لوٹ مار ہے یہاں
وطن کے مال کو لگی سرنگ ہے

0
5
ہے ظلم و ستم ہر سمت رواں
امت کا حال ہے سب پہ عیاں
کہیں آگ لگی ہے گلشن میں
چھایا ہے فلک پر ایک دھواں
کیا بھول ہوئی ہے مالی سے
کیوں ٹھہری ہے یہ فصلِ خزاں

0
4
شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
میرے آنسو کبھی نہیں رکتے
میں ہمیشہ وضو سے ہوتا ہوں

0
5
سب چور مرے شہر کے نگران ہوئے ہیں
دشمن ہی مری جاں کے نگہبان ہوئے ہیں
ہر ایک برائی کی شروعات ہے ان سے
جتنے ہیں برے سب ہی وزیران ہوئے ہیں
مذہب کی لیے آڑ مقاصد یہ نکالیں
امت کی مصیبت یہی شیطان ہوئے ہیں

0
5
زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر تو نہ چبھاؤ
نرم دلوں کو قریب بلاؤ
نرمی کی عادت کو اپناؤ

0
7
درپیش ہمیں ہجر کے آزار بہت تھے
الفت کے سبھی راستے دشوار بہت تھے
بخشش نہ ہماری ہوئی دنیا کی نظر میں
ہم سے بھی بڑے صاحبِ کردار بہت تھے
شکوہ نہ شکایت ہے زمانے سے کوئی بھی
دل ٹوٹا ہے ہم خود بھی خطا کار بہت تھے

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7859
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6142
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
28