معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6244
تم مجھے گر نبھا لیتے تو اچھا تھا
درد وغم سے بچا لیتے تو اچھا تھا
ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں جدا ہو کہ میں
تم جو اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
آنسو جو ضبط کے دل پہ گرتے رہے
آنکھ سے ہی بہا لیتے تو اچھا تھا

0
2
سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم
سبھی قسمیں سبھی رسمیں محبت کی نبھانا تم
تمہارے بن یہ دنیا تو مجھے بے نور لگتی ہے
تمہارے بن خوشی بھی یہ خودی سے دور لگتی ہے
تمہارے بن مری سانسیں مرے سینے میں گھٹتی ہیں
تمہارے بن یہ میری دھڑکنیں دل کی مچلتی ہیں

0
6
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنوں سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا ترے دن ہم گزاریں گے
تری ہر سرد آہٹ پر کسی کی یاد جاگے گی
مگر ٹوٹے ہوئے دل کو محبت سے سنبھالیں گے
بہت روکے گی یہ دنیا ہمیں ماضی کی گلیوں سے
مگر ہم تیرے دامن میں وہ لمحے ڈھونڈ لائیں گے

0
5
بچھڑ کے رہ نہیں پائیں گے یہ پتا ہے تمہیں
کہ سارسوں کی طرح کا ہمارا رشتہ ہے

0
2
عکسِ خیال ہی سے سلگنے لگی ہے شام
تجھ کو نہ دیکھ کر بھی مچلنے لگی ہے شام
پھر سے کسی صدا نے ستایا ہے اس قدر
آنگن میں دل کے پھر سے برسنے لگی ہے شام
سوئے ہوئے خیال بھی جاگے ہیں دشت میں
تاروں کی اوٹ سے بھی دہکنے لگی ہے شام

0
4
02 حاضِر سَروِس میجرز اور 16 اَیس اَیس جی اَہْل کاروں کی اِسلام آباد پولِیس میں ”عارضی“ تَعِیناتی!!!
——
حافِظ صاحِب! آپ بَڑے خُوش قِسْمَت ہیں
سَچ پُوچھیں تو یِہ دو بار نَہِیں مَلْنا
جَب تَک زِندہ ہے یِہ شَخْص غَنِیمَت ہے
چَاچُو جیسا تابِعْدار نَہِیں مَلْنا

0
4
ہم درد کا اک دیپ جلانے میں لگے ہیں
اور کچھ یہاں طوفان اٹھانے میں لگے ہیں
برباد کیا، راکھ اڑی، شہر جلے سب
اب آگ کے شعلوں کو چھپانے میں لگے ہیں
انصاف کی مٹی کو تو خود روند دیا ہے
اور عدل کا اک سوانگ رچانے میں لگے ہیں

0
8
ہم سے کیوں تم کو بد گمانی ہے
بس ذرا تم سے چھیڑ خانی ہے
ہاتھ میں جام ارغوانی ہے
اور طبیعت میں بھی روانی ہے
دل میں جو سوز اک نہانی ہے
اس کی اپنی ہی اک کہانی ہے

0
9
سورجوں میں شعاعیں باقی ہیں
حشر تک کی سزائیں باقی ہیں
زندگی بھی ستا رہی ہے مجھے
دے دو جو بد دعائیں باقی ہیں
ظلم سہنے کی خو پرانی ہے
کر لو جتنی جفائیں باقی ہیں

0
7
اک خبر منٹوں میں بے پردہ ہوئی
کتنی چھوٹی آج کی دنیا ہوئی
تیرگیٔ شب سے یوں نا گھبرایے
تیرگی سے روشنی پیدا ہوئی
عشقِ ابراہیم سے ہر دور میں
آتشِ نمرود شرمندہ ہوئی

5
اس جہاں کے سب گلوں میں تو مثالِ رنگ و بو ہے
تیرے دم سے ہی تو قائم اس چمن کی آبرو ہے
تو نہیں ہو جس میں شامل وہ بھی کوئی زندگی ہے
میرا مجھ میں کیا ہے باقی اب جو ہے بس تو ہی تو ہے
ہاتھوں کے یہ تیری کنگن پاؤں کی یہ تیری پایل
صنفِ نازک تیرا چہرہ میرے ہر دم روبرو ہے

0
17
پہلے رہتا تھا سارے شہر میں جو
میں کہیں خاص اب نہیں رہتا

0
6
دنیا چاند پہ پہنچی ہے بس
ہم نے چاند سے بات بھی کی ہے

0
7
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7948
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6244
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
427