معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6524
فقیرانہ سا آج لگتا ہے دل
میاں یہ محبت کا بھوکا ہے دل
نہ دنیا کی چاہت نہ دولت مگر
اسی کے ہی در کا یہ منگتا ہے دل
کبھی درد دیتا، کبھی چین بھی
محبت میں دیکھا مسیحا ہے دل

0
2
وہ پاس تھا کہ مرا جب تلک شباب رہا
بتاؤں کیا وہ مجھے کتنا دستیاب رہا
وہ ایک شخص جو ہر درد میں حجاب رہا
مرے لیے تو ہمیشہ وہ انتخاب رہا
وہ دور جا کے بھی دل سے جدا وہ ہو نہ سکا
مرے خیال میں ہر دم وہ بے حساب رہا

0
1
مُرشِد سِکھا رہے ہیں، مُرشِد چَلا رہے ہیں
گو لاکھ ہیں نِکمے، مُرشِد نِبھا رہے ہیں
اِن کے ہی دم سے اپنی، بِگڑی بنی ہوئی ہے
بھٹکے ہُوؤں کو سیدھا، رَستہ دِکھا رہے ہیں
اِن کے ہی دم سے ہم کو، عِزّت مِلی ہوئی ہے
اَدنیٰ سے اَدنیٰ کو بھی، سینے لگا رہے ہیں

0
1
بدلا جو رنگ آپ نے موسم بدل گیا
بن آگ کے ہی دیکھئے لوہا پگھل گیا
میری اڑان قید پرندوں نے دیکھ کر
طعنہ کسا کہ ہاتھ سے لڑکا نکل گیا
صاحب کے نام کی تو غضب دھوم ہے یہاں
کھوٹا بھی ہے تو کیا ہوا سکہ تو چل گیا

0
تضمین نمبر 17
تضمین:-زَمین و زَماں تُمہارے لئے مَکِین و مَکَاں تُمہارے لئے
ــــــــــ----------------------------------------
کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
------------------------------------------
ہیں نَہْریں رَوَاں تُمہارے لئے ، ہے بَاغِ جِناں تُمہارے لئے

0
5
پہنچے دیارِ شیخ تو تھا وقتِ ظہر کا
اک نور کا نزول تھا، رحمت کا پہر تھا
تھے مہتمم بھی ساتھ، ہے ممتاز جن کا نام
مفتی جسیرِ بھی تھے، ہے جن کا بڑا مقام
عبدالعزیز و مولانا ظاہر تھے ذی وقار
تھا عبد باری اور تھا اشرف بھی میرا یار

0
4
ہے کس کی کیا بساط بتاتی ہے نوکری
انساں کو آئینہ یوں دکھاتی ہے نوکری
تعبیر جسکی ملتی نہیں ہے تمام عمر
کچھ اس طرح کے خواب دکھاتی ہے نوکری
بن تجربے کے ڈگری کسی کام کی نہیں
احساس ہم کو یہ بھی دلاتی ہے نوکری

0
1
خدا کی حد میں ہوتا ہے عمل ہر اک مسلماں کا
تقاضے پورے فطرت کے ہے کرتا فعل حیواں کا
ضرورت نفس کی بھی ہے تقاضا ایک فطرت کا
نہ ہو گر نفس حد میں تو عمل فاسد ہے انساں کا

0
4
مجھے قتل پیار سے یوں کیا
مرا خون میرے ہی سر گیا

0
5
دَورَہ ذاتی ہو یا جَعْلی سَرکاری
کیسے اَپنے ناز اُٹھائے جاتے ہیں
ہَم سے تو بے پَر کی بھی نَہِیں اُڑ پاتی
اُن کے ہاں تو جَہاز اُڑائے جاتے ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
میں غلط ہوں تو غلط ہی مجھ کو رہنے دیجیے
آپ کو ہی متقی اور اچھے کہنے دیجیے
کیوں دلاسہ دے رہے ہیں ڈھاکے یہ ظلم و ستم
آنسوؤں کو میری آنکھوں سے ہی بہنے دیجیے
آئینہ میں نے دکھایا تو برا کیوں لگ گیا؟
آپ اپنا اصلی چہرہ سب کو پڑھنے دیجیے

25
اسکی نظر کا بس اک اشارہ بہت ہے
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہے
حال بھی اب پوچھتا نہیں کبھی میرا
ہاۓ وہ اک شخص جو ہمارا بہت ہے
نام تو ہوتا ہے عشق عاشقی میں خوب
ہاں مگر اس کام میں خسارہ بہت ہے

0
9
حزیں دل ہے مولا اسے شاد کر دے
مجھے فکرِ فردا سے آزاد کر دے
غلامی میں چاہوں نبی مصطفیٰ کی
یہ دل عشقِ احمد سے آباد کر دے
ہوں عترت نبی پر فدا جان و دل سے
محبت نبی اس کی بنیاد کر دے

1
5
جس شانِ لطافت کا یہ داریں پہ سایہ ہے
یہ اُن کی عطا نے ہی کونین سجایا ہے
یہ پہلے سجی ہستی احسان سے سرور کے
اس دہر میں پھر رب نے دلدار بلایا ہے
سب چاند حسیں تارے سرکار کی سنتے ہیں
یہ فیضِ نبی ہے جو اجرام کو آیا ہے

1
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6524
حریصِ گل ہے نہ مرہونِ رنگِ منظر ہے
خود اپنے زخم کی خوشبو سے دل معطر ہے
اب اعتماد وفا لےکے ہم کہاں جائیں
جس آستین کو دیکھو اسی میں خنجر ہے
شکار ہوں میں غفلت شعار لوگوں کا
یہ دکھ تو میرے گزشتہ دکھوں سے بڑھ کر ہے

7
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پاؤں کے چھالے نہ گن

0
5
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پاؤں کے چھالے نہ گن

0
6
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8021