اب تو دل کا بھی کچھ گلہ کم ہے
بات اتنی سی ہے وفا کم ہے
ہم کو پھر بھی خیال ان کا تھا
جن کا ہم سے ہی رابطہ کم ہے
جس کو دیکھو تو سوچ کر دیکھو
آنکھ سے دل کا فاصلہ کم ہے
اپنی چادر سمیٹ کر بیٹھو
اب زمانے میں حوصلہ کم ہے
عہد کرکے بھرم نہیں رکھتے
بات یہ ہے کہ اب حیا کم ہے
پہلے ہم ہی نظر میں تھے پر اب
ربط باہم کا سلسلہ کم ہے
کچھ اویس الحسن سناؤ تم
کیف محفل کا کچھ ذرا کم ہے

26