| اب تو دل کا بھی کچھ گلہ کم ہے |
| بات اتنی سی ہے وفا کم ہے |
| ہم کو پھر بھی خیال ان کا تھا |
| جن کا ہم سے ہی رابطہ کم ہے |
| جس کو دیکھو تو سوچ کر دیکھو |
| آنکھ سے دل کا فاصلہ کم ہے |
| اپنی چادر سمیٹ کر بیٹھو |
| اب زمانے میں حوصلہ کم ہے |
| عہد کرکے بھرم نہیں رکھتے |
| بات یہ ہے کہ اب حیا کم ہے |
| پہلے ہم ہی نظر میں تھے پر اب |
| ربط باہم کا سلسلہ کم ہے |
| کچھ اویس الحسن سناؤ تم |
| کیف محفل کا کچھ ذرا کم ہے |
معلومات