اک غزل سی وہ گنگنانے میں
سب فسانے ہیں اس فسانے میں
کس قدر حوصلہ ضروری ہے
بے سبب یونہی مسکرانے میں
اور کتنے کرو گے تم احساں
جھک گئی ہے کمر اٹھانے میں
کیا کوئی دل کو چھوڑ سکتا ہے
ایسی بستی نہیں زمانے میں
جان جائے گی گر تو جائے گا
ضبط باقی نہیں دوانے میں
پر شکستہ سے اک پرندہ کو
کیوں لگے ہو اسے اڑانے میں
زندگی خرچ ہو گئی اپنی
دیپ دل کا مگر جلانے میں

0
10