| اک غزل سی وہ گنگنانے میں |
| سب فسانے ہیں اس فسانے میں |
| کس قدر حوصلہ ضروری ہے |
| بے سبب یونہی مسکرانے میں |
| اور کتنے کرو گے تم احساں |
| جھک گئی ہے کمر اٹھانے میں |
| کیا کوئی دل کو چھوڑ سکتا ہے |
| ایسی بستی نہیں زمانے میں |
| جان جائے گی گر تو جائے گا |
| ضبط باقی نہیں دوانے میں |
| پر شکستہ سے اک پرندہ کو |
| کیوں لگے ہو اسے اڑانے میں |
| زندگی خرچ ہو گئی اپنی |
| دیپ دل کا مگر جلانے میں |
معلومات