تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے
اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے
دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار
توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے
گمشدہ کوئی کہانی کا سفر تھا اپنا
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے
تونے روکا تو سنائی نہ کبھی خود کو بھی
دل پہ سہہ کر وہ کہانی ہی بھلا دی ہم نے
صبر اتنا تھا وفاؤں کی طلب اتنی تھی
وہ جو اُٹھی تھی صدا دل سے دبا دی ہم نے

0
7