سوئے مدینہ دل کے سبھی قافلے چلے
رستے تمام عشق سے مہکے ہوئے ملے
ان کے وجود پاک کی عظمت ہو کیا بیاں
خوشبو بتا رہی ہے کہ اس سمت وہ گئے
یومِ ازل سے لے کے حدودِ ابد تلک
ان کے کمال حسن کے جلوے ملے مجھے
ان کے حضور قدسی سلامی کو دم بدم
دیکھو اتر رہے ہیں ادب سے جھکے جھکے
کونین کے شہنشاہ ہمارے حضور ہیں
ہوگا کرم ضرور ادب سے رہو کھڑے
عاجز اویس ان کے کرم کا ہے خواستگار
صدقے اویس قرنی وہی در مجھے ملے

20