| سوئے مدینہ دل کے سبھی قافلے چلے |
| رستے تمام عشق سے مہکے ہوئے ملے |
| ان کے وجود پاک کی عظمت ہو کیا بیاں |
| خوشبو بتا رہی ہے کہ اس سمت وہ گئے |
| یومِ ازل سے لے کے حدودِ ابد تلک |
| ان کے کمال حسن کے جلوے ملے مجھے |
| ان کے حضور قدسی سلامی کو دم بدم |
| دیکھو اتر رہے ہیں ادب سے جھکے جھکے |
| کونین کے شہنشاہ ہمارے حضور ہیں |
| ہوگا کرم ضرور ادب سے رہو کھڑے |
| عاجز اویس ان کے کرم کا ہے خواستگار |
| صدقے اویس قرنی وہی در مجھے ملے |
معلومات