| رنگ جو غم سے کبھی دل کے اتر جائیں گے |
| عشق نسبت سے مری جان سنور جائیں گے |
| روح ڈوبی ہے ترے پیار میں پوروں پوروں |
| یہ نہ سمجھو کہ محبت میں بکھر جائیں گے |
| ہم نے دیکھا ہی نہیں اپنے ارادوں کی طرف |
| تونے دیکھا ہے جدھر ہم بھی ادھر جائیں گے |
| ہم کہ دنیا کے اندھیروں میں گھرے ہیں پھر بھی |
| خواب نگری کے اجالوں سے سنور جائیں گے |
| گو کہ تاریک بہت راہ کی دنیا ہے مگر |
| صدقِ جذبات سے رستے بھی نکھر جائیں گے |
| اک ذرا صبر کہ ظاہر کی چمک سے روشن |
| تری آنکھوں سے یہ جلوے بھی اتر جائیں گے |
| وہ سمجھتا ہے ستم ڈھا کے مٹا ڈالے گا |
| ہم ہی جیتیں گے اگر جنگ میں مر جائیں گے |
معلومات