رنگ جو غم سے کبھی دل کے اتر جائیں گے
عشق نسبت سے مری جان سنور جائیں گے
روح ڈوبی ہے ترے پیار میں پوروں پوروں
یہ نہ سمجھو کہ محبت میں بکھر جائیں گے
ہم نے دیکھا ہی نہیں اپنے ارادوں کی طرف
تونے دیکھا ہے جدھر ہم بھی ادھر جائیں گے
ہم کہ دنیا کے اندھیروں میں گھرے ہیں پھر بھی
خواب نگری کے اجالوں سے سنور جائیں گے
گو کہ تاریک بہت راہ کی دنیا ہے مگر
صدقِ جذبات سے رستے بھی نکھر جائیں گے
اک ذرا صبر کہ ظاہر کی چمک سے روشن
تری آنکھوں سے یہ جلوے بھی اتر جائیں گے
وہ سمجھتا ہے ستم ڈھا کے مٹا ڈالے گا
ہم ہی جیتیں گے اگر جنگ میں مر جائیں گے

18