گنگ منظر ہیں سب اور سماں قید ہے
اے نظر ڈھونڈ اس کو جہاں قید ہے
لاکھ اس کو کیا قید خانے میں بند
جیتا پھر بھی وہی تو کہاں قید ہے
پاس جس کے نہیں پاس احساس کا
دل تو قیدی ہوا اس کی جاں قید ہے
اس کے غم پر اچھل پر مری بات سن
تو یہاں قید ہے وہ وہاں قید ہے
ہر طرف باغ میں پھول مرجھا گئے
کوئی چارہ کرو باغباں قید ہے

23