| ہجر کی رات بھی آئے گی بھُلا بیٹھے تھے |
| دیپ پلکوں پہ محبت کا جَلا بیٹھے تھے |
| پھر نیا درد زمانے کی عنایت سے ملا |
| داغ دل کا ابھی دھو کے بخدا بیٹھے تھے |
| بات کچھ اور تھی وہ ان کے بچھڑ جانے کی |
| ورنہ ہم ان کے لیے خود کو بھلا بیٹھے تھے |
| پیاس بھڑکی تھی مگر جام تھا خالی اپنا |
| اپنے حصے کی بھی ہم ان کو پِلا بیٹھے تھے |
| نیند ٹوٹی تو یہ محسوس ہوا تھا ہم کو |
| خواب پلکوں پہ کہیں خود کو گنوا بیٹھے تھے |
| ہائے کس رنگ میں گزری تھیں سُلگتی شامیں |
| داستاں دل کے بچھڑنے کی سنا بیٹھے تھے |
| یہ الگ بات کہ خود اپنی فنا سے غافل |
| اس جگہ کتنے ہی اَن دیکھے خدا بیٹھے تھے |
معلومات