| روگ دل کا ہو مسلسل تو بھی عشرت جانو |
| عشق میں جینا ہو میسر تو غنیمت جانو |
| ہر طرف شور ہے پیمانے چھلک جانے کا |
| بات کرنے کا یہ موقع بھی غنیمت جانو |
| خواب پلکوں کے کناروں کو بھگو دیں جس پل |
| بس مری جان اسے دردِ محبت جانو |
| بھوک آنکھوں میں اگر آ کے بسیرا کر لے |
| پھر ٹھکانے کو بھی ترسے گی یہ عزت جانو |
| دل پہ لازم ہے خودی اپنی سنبھالے ہر پل |
| ورنہ کھو دیتی ہے وہ اپنی ہی قیمت جانو |
| مرحلہ خود سے گزرنے کا بھی آ پہنچا ہے |
| کر نہیں پائی اثر دل پہ نصیحت جانو |
| عیش سمجھا تھا جسے آج وہ حسرت ٹھہری |
| عشق پر دل کو نہیں پھر بھی ندامت جانو |
| بے خودی دردِ محبت سے جنم لیتی ہے |
| وہ نہ جانیں گے کبھی درد کی قیمت جانو |
| دشت و دریا کو محبت کی نشانی سمجھا |
| جس نے جھیلی ہے محبت کی اذیت جانو |
معلومات