| چاہتے تم ہنسا بھی سکتے تھے |
| دشت میں گل کھلا بھی سکتے تھے |
| درد دل میں دبا رہا برسوں |
| درد دل کا بہا بھی سکتے تھے |
| ساری دنیا بہا کے لے جاتا |
| ایسا طوفاں اٹھا بھی سکتے تھے |
| ہم نے اپنا جلا لیا دامن |
| ورنہ دنیا جلا بھی سکتے تھے |
| صبر آیا ہمارے حصے میں |
| ورنہ سب کچھ بھلا بھی سکتے تھے |
| ہم بھی خود کو جلا وطن کرکے |
| غم کو تیرے بھلا بھی سکتے تھے |
| ہم نے اپنی وفا کی لاج رکھی |
| چہرہ تیرا دکھا بھی سکتے تھے |
معلومات