چاہتے تم ہنسا بھی سکتے تھے
دشت میں گل کھلا بھی سکتے تھے
درد دل میں دبا رہا برسوں
درد دل کا بہا بھی سکتے تھے
ساری دنیا بہا کے لے جاتا
ایسا طوفاں اٹھا بھی سکتے تھے
ہم نے اپنا جلا لیا دامن
ورنہ دنیا جلا بھی سکتے تھے
صبر آیا ہمارے حصے میں
ورنہ سب کچھ بھلا بھی سکتے تھے
ہم بھی خود کو جلا وطن کرکے
غم کو تیرے بھلا بھی سکتے تھے
ہم نے اپنی وفا کی لاج رکھی
چہرہ تیرا دکھا بھی سکتے تھے

0
11