کبھی وہ رنگ، کبھی وہ صدا پکارتی ہے
ہمیں تو اپنی ہی اک انتہا پکارتی ہے
ملی ہے زیست کی ڈوری بھی اک اشارے پر
نہ جانے کس کے لبوں کی دعا پکارتی ہے
جو اہلَ ظرف ہیں، وہ خامشی کو سنتے ہیں
انہیں تو دشت میں بھی اک نوا پکارتی ہے
خود اپنی ذات کے زندان سے نکل کے دیکھ
تمہیں یہ وسعتِ ارض و سما پکارتی ہے
عجیب موڑ ہے یہ جستجوئے منزل کا
جہاں پہ اپنی خطا جا بجا پکارتی ہے
اویس! ضبط کی لذت سے باخبر ہو جا
تجھے تو روح کی آب و ہوا پکارتی ہے

0
3