آرزوئے وصل بھی ذوقِ نظر کی بات ہے
قطرہ قطرہ غم لئے قلب و جگر کی بات ہے
عالمِ ناسوت میں اعمال اچھے کر چلو
کہنے کو ہے یہ ادھر پر یہ اُدھر کی بات ہے
اشک گر بہتے رہیں یا ہم انہیں پی کر جئیں
غم ہے ان کے عشق کا اپنے ہی گھر کی بات ہے
جاں سے جانا جان کر کھیلے جو بازی عشق کی
سچ ہی جانا عشق کی بازی تو سر کی بات ہے
منزلوں کی ٹھان کر جانے کدھر کو آ گئے
راہ زن تو اک طرف یہ راہ بر کی بات ہے
ساری صدیاں ہجر کی ان کے تبسم کے حضور
جب بھی چاہیں وہ پلٹ دیں لمحہ بھر کی بات ہے
کوزہ گر تقدیر نے جیسا بنایا بن گئے
کوئی مینا کوئی ساغر کوزہ گر کی بات ہے
کون غائب کون حاضر ساری گتھی ہی غلط
جب یہ سمجھا تو کھلا حدِّ نظر کی بات ہے
ذوقِ عشقِ ذات کو جنت بھی جیسے کچھ نہیں
چمکے تجلا جس گھڑی یہ اس سحر کی بات ہے
جس نے دیکھا سنگِ در اس نے تو دیکھا کچھ نہیں
سنگ دیکھے در نہ دیکھے بے بصر کی بات ہے
داغ دل کا گر نہ چمکے اشک پلکوں پر بجھے
خانماں برباد سے شام و سحر کی بات ہے
جو صدائے اشک بھی سنتا نہیں تیری کبھی
پھر سمجھ ہم دم نہیں بس ہمسفر کی بات ہے

17