دیکھنا جب غزل چھڑی ہوگی
بیچ دریا کے جل پری ہوگی
بے سبب دل اداس کیا ہوگا
کچھ تو آخر وجہ رہی ہوگی
جانے مجنوں کا کیا بنا ہوگا
ریت آنکھوں میں جب پڑی ہوگی
جس جگہ تم نے ہم کو چھوڑا تھا
اپنی قسمت وہیں دھری ہوگی
چھالے پاؤں میں پڑ گئے اپنے
آنکھ اس کی بھی نم رہی ہوگی

0
17