| آرزوئے وصل بھی ذوقِ نظر کی بات ہے |
| قطرہ قطرہ غم لئے قلب و جگر کی بات ہے |
| عالمِ ناسوت میں اعمال اچھے کر چلو |
| کہنے کو ہے یہ ادھر پر یہ اُدھر کی بات ہے |
| اشک گر بہتے رہیں یا ہم انہیں پی کر جئیں |
| باتیں دونوں عشق کی اپنے ہی گھر کی بات ہے |
| جاں سے جانا جان کر کھیلے جو بازی عشق کی |
| سچ ہی جانا عشق کی بازی تو سر کی بات ہے |
| منزلوں کی ٹھان کر جانے کدھر کو آ گئے |
| راہ زن تو اک طرف یہ راہ بر کی بات ہے |
| ساری صدیاں ہجر کی ان کے تبسم کے حضور |
| جب بھی چاہیں وہ پلٹ دیں لمحہ بھر کی بات ہے |
| کوزہ گر تقدیر نے جیسا بنایا بن گئے |
| کوئی کوزہ کوئی مینا کوزہ گر کی بات ہے |
| کون غائب کون حاضر ساری گتھی ہی غلط |
| جب یہ سمجھا تو کھلا حدِّ نظر کی بات ہے |
معلومات