متاع فکر و نظر کب کسی کو ملتی ہے
کھلے جو غم کا سبب تب کسی کو ملتی ہے
عجیب تر ہے تماشا فریب ہستی کا
گزر گئی جو گھڑی کب کسی کو ملتی ہے
ہزار غم کی فضا میں دھنک کی پروائی
یہ عکس غم کی جھڑی کب کسی کو ملتی ہے
بجھی بجھی سی تمنا تڑپ تڑپ جائے
نوید صبح کی جس شب کسی کو ملتی ہے
تمام عمر میسر رہے تمہارے ستم
کہانی اپنی غضب کب کسی کو ملتی ہے
او ویس تم پہ نظر ان کی پڑ گئی ہوگی
حیات بار دگر کب کسی کو ملتی ہے

0
19