ہم نے سیکھا ہی نہیں کچھ بھی گزرتے پل سے
ورنہ اتنا بھی بُرا آج نہ ہوتا کل سے
ہم نے زم زم سے نہا کر بھی نہ پائی منزل
ورنہ غیروں نے تو پائی ہیں مرادیں جل سے
اب کے شہروں میں بھی نافذ ہیں قوانیں ایسے
کم تو لگتے ہی نہیں شہر کسی جنگل سے
ایک لمحے میں بدل سکتی ہے دنیا ساری
اپنی تقدیر کو بدلو کسی امرت پل سے
اپنے جیسے کسی بندے سے شکایت کیسی
کھل ہی جائیں گے مقدر کے کبھی گنجل سے
ہم کو اپنوں سے پرایوں سے گلہ کچھ بھی نہیں
آئینہ دل کا ہوا صاف ہمارے حل سے
دل پہ اتری ہے عجب کیف کے عالم میں اویس
اک غزل ایسی ترے نام کے امرت جل سے

28