| دل کو چرا کے تو نے خدا جانے کیا کیا |
| تیری ادا نے ہم کو دوانہ بنا دیا |
| بے خود ہوئے تھے ہم جو محبت میں ڈوب کر |
| وارفتگی سے دل کا خزانہ لٹا دیا |
| برباد ہیں تو کیا ہے تماشا بنیں تو کیا |
| تیری بلا سے خود کو دوانہ بنا لیا |
| کیسی مسافرت ہے جہانِ خراب کی |
| پاؤں کے آبلوں نے تماشا بنا دیا |
| منزل تو خیر دور کی اک بات ہے ابھی |
| منزل کی آرزو نے فسانہ بنا دیا |
| ارمان زندگی کے ادھورے پڑے رہے |
| خوابوں کو چھوڑ کر بھی مسافر چلا گیا |
معلومات