دل کو چرا کے تو نے خدا جانے کیا کیا
تیری ادا نے ہم کو دوانہ بنا دیا
بے خود ہوئے تھے ہم جو محبت میں ڈوب کر
وارفتگی سے دل کا خزانہ لٹا دیا
برباد ہیں تو کیا ہے تماشا بنیں تو کیا
تیری بلا سے خود کو دوانہ بنا لیا
کیسی مسافرت ہے جہانِ خراب کی
پاؤں کے آبلوں نے تماشا بنا دیا
منزل تو خیر دور کی اک بات ہے ابھی
منزل کی آرزو نے فسانہ بنا دیا
ارمان زندگی کے ادھورے پڑے رہے
خوابوں کو چھوڑ کر بھی مسافر چلا گیا

0
12