یہ دل اور جاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
کہ سود و زیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
خیالوں میں خوابوں میں ہر دم تمہی ہو
کہ وہم و گماں بھی تمہارے ہوئے ہیں
یقیں اپنے ہونے پہ اب تو نہیں ہے
کہ لفظ و بیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تم ہی تم ہو
کہ عکسِ بتاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
لپکتی ہیں خرمن جلانے کو ہر دم
یہ برق و تپاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
نہیں سنتی میری لبوں پر یہ آہیں
کہ شور و فغاں بھی تمہارے ہوئے ہیں
اویس اپنی نظموں پہ نازاں تھے لیکن
غزل کے جہاں بھی تمہارے ہوئے ہیں

39