| یہ دل اور جاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| کہ سود و زیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| خیالوں میں خوابوں میں ہر دم تمہی ہو |
| کہ وہم و گماں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| یقیں اپنے ہونے پہ اب تو نہیں ہے |
| کہ لفظ و بیاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| جدھر دیکھتا ہوں ادھر تم ہی تم ہو |
| کہ عکسِ بتاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| لپکتی ہیں خرمن جلانے کو ہر دم |
| یہ برق و تپاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| نہیں سنتی میری لبوں پر یہ آہیں |
| کہ شور و فغاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
| اویس اپنی نظموں پہ نازاں تھے لیکن |
| غزل کے جہاں بھی تمہارے ہوئے ہیں |
معلومات