| دلِِ ویراں میں کوئی خواب سجایا جائے |
| پھر کسی یاد کو چپکے سے بلایا جائے |
| شہرِ ظلمات میں تنہا کوئی گھومے کب تک |
| دیپ یادوں کا سرِ عام جلایا جائے |
| ریت پر لکھے ہوئے نام مٹائے نہ گئے |
| کاش اس دشت میں اک بار تو آیا جائے |
| تشنہ لب کب سے سر دشتِ جنوں بیٹھے ہیں |
| ابرِ رحمت کو ذرا اور بلایا جائے |
| مصلحت چھین نہ لے ہم سے ہماری پہچان |
| آج تو سچ کو سرِ عام سنایا جائے |
| حقِ تسلیم و رضا کیسے ادا ہو، اویسؔ |
| سر جھکانے کے لیے در بھی تو پایا جائے |
معلومات