وقت کا لمحہ گزرتا ہے گزر جائے گا
دوست دشمن کا پتا دے کے بکھر جائے گا
ان گنت پہرے مرے شہر کے باشندوں پر
اب خدا جانے مرا شہر کدھر جائے گا
عشق مجنوں کا طرف دار مسلسل ہی سہی
کوئے جاناں میں مگر خاک بسر جائے گا
رات خود شمع نے بجھنے کی دعائیں مانگیں
ورنہ جل جل کے یہ پروانہ تو مر جائے گا
بات اتنی سی اگر کوئی سمجھ پائے تو
خاک ہوگا تو یہ کچھ اور سنور جائے گا

13