کوئی ہم سفر نہیں ہے کوئی رہنما نہیں ہے
میں اکیلا رہ گیا ہوں کوئی با خدا نہیں ہے
یہ ادھوری زندگی جو سرِ شام رہ گئی ہے
کوئی چاند ہے نہ تارہ کوئی آسرا نہیں ہے
مرا دل بھی ہے تمہارا مری آنکھیں بھی تمہاری
مرے جسم و جاں میں ہرگز کوئی بے وفا نہیں ہے
میں ازل سے جانے کتنے ہی جہاں گزار آیا
کہیں میری قسمتوں کا کوئی گل کھلا نہیں ہے
یہ خدا کو ہی پتا ہے کہ تلاش کے سفر میں
وہ مقام کب ملے گا جہاں رتجگا نہیں ہے
یہ مقامِ دل ہے یارو یہاں اشک ہی جلیں گے
کسی کہکشاں کا کوئی یہاں سلسلہ نہیں ہے
میں اویس تم سے کیسے کہوں دل کی بات ساری
کوئی ایک زخم دل کا جو ابھی بھرا نہیں ہے

0
5