خیال و خواب کی دنیا سے دور ہو جائیں
چلو کہ اب کے ذرا لاشعور ہو جائیں
ہمارے ظرف کا سورج چمکنے والا ہے
شکست کھائیں تو ہم بھی غیور ہو جائیں
مقامِ دید سے آگے بھی ایک منزل ہے
جو ہو سکے تو سراپا حضور ہو جائیں
وہ جن کے دم سے اندھیروں میں روشنی پھیلے
دعا کرو کہ وہی ہم بھی نور ہو جائیں
گرا دو اپنی اناؤں کی آخری دیوار
کہ ٹوٹ جائے تو ہم بھی صبور ہو جائیں
لکھا ہے بخت میں ہجرت کا مرحلہ اویسؔ
بلا سے تیری بکھر کر جو چور ہو جائیں

0
3