کہوں میں کیسے کہ دل غم سے مضمحل نہیں ہوتا
جو گھاؤ روح میں لگتا ہے مندمل نہیں ہوتا
چھلک کے پلکوں پہ آنا بھی مستقل نہیں ہوتا
یہ کیسا غم ہے جو دل سے منتقل نہیں ہوتا
نصابِ عشق کبھی بھی جہانِ گِل نہیں ہوتا
فروغِ عقل و خرد پر وہ مشتمل نہیں ہوتا
عجیب ذوقِ نشاطِ الم ہے گردش پیہم
قرار دل کو کسی پل بھی مستقل نہیں ہوتا
بتائیں کیسے تجھے ہم فراقِ یاراں کا غم
کبھی تو ہم نہیں ہوتے کبھی یہ دل نہیں ہوتا
کسی کو ڈھونڈتی پھرتی ہے خود خوشی بھی لیکن
کسی کے غم کا تسلسل بھی مستقل نہیں ہوتا

0
27