| کہوں میں کیسے کہ دل غم سے مضمحل نہیں ہوتا |
| جو گھاؤ روح میں لگتا ہے مندمل نہیں ہوتا |
| چھلک کے پلکوں پہ آنا بھی مستقل نہیں ہوتا |
| یہ کیسا غم ہے جو دل سے منتقل نہیں ہوتا |
| نصابِ عشق کبھی بھی جہانِ گِل نہیں ہوتا |
| فروغِ عقل و خرد پر وہ مشتمل نہیں ہوتا |
| عجیب ذوقِ نشاطِ الم ہے گردش پیہم |
| قرار دل کو کسی پل بھی مستقل نہیں ہوتا |
| بتائیں کیسے تجھے ہم فراقِ یاراں کا غم |
| کبھی تو ہم نہیں ہوتے کبھی یہ دل نہیں ہوتا |
| کسی کو ڈھونڈتی پھرتی ہے خود خوشی بھی لیکن |
| کسی کے غم کا تسلسل بھی مستقل نہیں ہوتا |
معلومات