| رستے تمہاری خاطر دل نے سجا دیئے ہیں |
| چن چن کے کانٹے اس نے سارے ہٹا دیئے ہیں |
| پلکوں پہ وہ جو اترے موتی سے کم نہیں تھے |
| ہم کو قسم تمہاری موتی لٹا دیئے ہیں |
| صحرا کی خاک چھانی جس نے مسافرت میں |
| اس نے تو راستوں میں دریا بہا دیئے ہیں |
| تقدیر کے لکھے کو کیسے نہ جبر جانیں |
| دھرتی پہ کیسے کیسے نقشے مٹا دیئے ہیں |
| شمعیں جلائیں کس نے ہر بار بارشوں میں |
| پرسوز سب پتنگے کس نے جلا دیئے ہیں |
| جب بھی گزر ہوا ہے چپ چاپ بستیوں سے |
| سب نے خموش رہ کر قصے سنا دیئے ہیں |
| خاموش تھی صراحی پردہ ہٹا کے کس نے |
| رندوں کو اک نظر میں ساغر پلا دیئے ہیں |
معلومات