رستے تمہاری خاطر دل نے سجا دیئے ہیں
چن چن کے کانٹے اس نے سارے ہٹا دیئے ہیں
پلکوں پہ وہ جو اترے موتی سے کم نہیں تھے
ہم کو قسم تمہاری موتی لٹا دیئے ہیں
صحرا کی خاک چھانی جس نے مسافرت میں
اس نے تو راستوں میں دریا بہا دیئے ہیں
تقدیر کے لکھے کو کیسے نہ جبر جانیں
دھرتی پہ کیسے کیسے نقشے مٹا دیئے ہیں
شمعیں جلائیں کس نے ہر بار بارشوں میں
پرسوز سب پتنگے کس نے جلا دیئے ہیں
جب بھی گزر ہوا ہے چپ چاپ بستیوں سے
سب نے خموش رہ کر قصے سنا دیئے ہیں
خاموش تھی صراحی پردہ ہٹا کے کس نے
رندوں کو اک نظر میں ساغر پلا دیئے ہیں

57