ہم نے سوچا کہ دور ہو جائیں
جن کو اپنی نہیں ضرورت ہے
پھر کبھی بھی پلٹ نہیں پائیں
جن کے دل میں بہت کدورت ہے
جھوٹ رشتے سے کیا توقع اب
کچے رشتے بہت ستاتے ہیں
سچے لوگوں کی ہے کمی لیکن
اپنی کوشش سے ڈھونڈ لاتے ہیں
وقت چادر میں لپٹے جاتے ہیں
اپنے ارماں بھی کب ہمارے ہیں
اشک دریا میں ڈھل گئے اپنے
غم کے دھارے بھی کیسے دھارے ہیں
چند سانسیں جو اب غنیمت ہیں
آؤ ٹھنڈی جگہ پہ بیٹھیں ہم
بے سکونی کا دور دورہ ہے
کیا پتا ہوں ذرا سے غم بھی کم
بے بسی ہے مگر بھلائیں گے
پاس آ کر یہ ہم نے سوچا ہے
گردشِ وقت سے بھی نمٹیں گے
جس نے دامن ہمارا نوچا ہے
جھلملاتی ہوئی نگاہوں سے
کچھ تو کہہ دو ہماری آہوں سے

0
21