| ہم نے سوچا کہ دور ہو جائیں |
| جن کو اپنی نہیں ضرورت ہے |
| پھر کبھی بھی پلٹ نہیں پائیں |
| جن کے دل میں بہت کدورت ہے |
| جھوٹ رشتے سے کیا توقع اب |
| کچے رشتے بہت ستاتے ہیں |
| سچے لوگوں کی ہے کمی لیکن |
| اپنی کوشش سے ڈھونڈ لاتے ہیں |
| وقت چادر میں لپٹے جاتے ہیں |
| اپنے ارماں بھی کب ہمارے ہیں |
| اشک دریا میں ڈھل گئے اپنے |
| غم کے دھارے بھی کیسے دھارے ہیں |
| چند سانسیں جو اب غنیمت ہیں |
| آؤ ٹھنڈی جگہ پہ بیٹھیں ہم |
| بے سکونی کا دور دورہ ہے |
| کیا پتا ہوں ذرا سے غم بھی کم |
| بے بسی ہے مگر بھلائیں گے |
| پاس آ کر یہ ہم نے سوچا ہے |
| گردشِ وقت سے بھی نمٹیں گے |
| جس نے دامن ہمارا نوچا ہے |
| جھلملاتی ہوئی نگاہوں سے |
| کچھ تو کہہ دو ہماری آہوں سے |
معلومات