سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا
تبھی تو در بدر ہو کر اسی ظالم پہ مرتا ہے
یہ کیفِ عشق ہے لوگو کبھی جو کم نہیں ہوتا
یہ بستی عشق بستی ہے یہاں آنسو ترازو ہیں
نہیں کوئی بھی دل ایسا جسے کچھ غم نہیں ہوتا

0
11