| پھیلی ہوئی ہے عظمت و طاقت خیال کی |
| سب نے ہی مان لی ہے حکومت خیال کی |
| کہنے کو اک خیال تھا جس سے گزر گئے |
| لیکن ہزار صدیوں پہ سطوت خیال کی |
| عزم الامور جانیے ہمت کی بات ہے |
| اپنی کنہ میں یہ بھی ہے عظمت خیال کی |
| ہر اک عمل خیال کے تابع حضور ہے |
| رنگینئی حیات میں برکت خیال کی |
| کونین میں بپا ہے جو ہنگام ہر طرف |
| بنیاد میں ملے گی بلاغت خیال کی |
| محفل میں گرچہ عشق بتاں کی ہی بات ہو |
| دیکھو تو بات یہ بھی ہے چاہت خیال کی |
| اعمال زندگی کے ہیں اچھے کہ ہیں برے |
| دارومدار ان کا ہے نیت خیال کی |
| دنیا کی دوڑ دھوپ میں آگے نکل گیا |
| حاصل ہوئی بشر کو جو سبقت خیال کی |
| انداز شاعری کا جو تجھ کو ملا اویس |
| انداز منفرد ہے جو رنگت خیال کی |
معلومات