| چھانا ہے کبھی صحرا ڈھونڈا ہے کبھی ساحل |
| پر تیرا نشیمن تھا اجڑا ہوا میرا دل |
| انوار فروزاں تھے ہر سمت پہاڑوں پر |
| رم جھم تھی فضاؤں میں ذروں میں ادھر جھلمل |
| وہ طور پہ کیا تھا جو موسیٰ نہیں سہہ پائے |
| اے ذوقِ تجلی تو آ کے کبھی مجھ سے مل |
| بھٹکے ہوئے راہی کو معلوم ہی کب ہے یہ |
| اس راہ پہ ملتی ہے خود آ کے گلے منزل |
| مٹی کو شَرَف بخشا نورانی فرشتوں سے |
| قدرت سے تمہاری ہی مسجود ملائک گِل |
معلومات