سفر میں ساتھ ہو کر بھی شریکِ غم نہیں ہوتا
یہی اک غم ہے جیون میں کہ صدمہ کم نہیں ہوتا
ہمیں کیا غم تھا ہنس ہنس کر پیالہ ہم بھی پی لیتے
ترے ہاتھوں سے گر ملتا تو اتنا غم نہیں ہوتا
ابھی وہ عشق کیا جانے ابھی وہ لطف کیا پائے
میسر جس کے دل کو بھی نشاطِ غم نہیں ہوتا
تبھی تو در بدر ہو کر اسی ظالم پہ مرتے ہیں
یہ کیفِ عشق ہے لوگو کبھی جو کم نہیں ہوتا
یہ دنیا کیسی بستی ہے جہاں آنسو ہی آنسو ہیں
نہیں دیکھا کوئی ایسا جسے کچھ غم نہیں ہوتا
اویس اپنی ریاضت سے بنا لیں گے انہیں اپنا
وہ کیا جانیں جو یہ جانیں کہ پتھر نم نہیں ہوتا

0
40