| کبھی تو بزمِ جہاں سے پرے رہا جائے |
| کبھی کبھی تو ذرا خود سے بھی ملا جائے |
| حدودِ خاک سے آگے بھی وسعتیں ہیں بہت |
| پروں کو کھول کے اب تو کبھی اڑا جائے |
| یہ کیا کہ روز پرانی وہی کہانی ہو |
| اب اپنی ذات سے کچھ معتبر کہا جائے |
| خموشی بولتی ہے جب کوئی نہیں ہوتا |
| سراپا گوش کبھی ہو کے گر سنا جائے |
| ستارے ہاتھ میں آئیں کہ خاک ہو جائیں |
| یہ راہِ عشق کی شرطیں ہیں بس چلا جائے |
| جنونِ شوق ہے ایسا کہ اب اویسؔ سنو |
| نگاہ نم بھی اگر ہو تو بس ہنسا جائے |
معلومات