| کوئی زمانے کو جا کے کہہ دے کمالِ صدقِ خلیل یہ ہیں |
| خدا بھی نازاں ہے مصطفےٰ پر کہ اس کی روشن دلیل یہ ہیں |
| سمجھ سے بالا مقام اِن کا کہ شان اِن کی خدا ہی جانے |
| کہ سارا قرآں ہے نعت اِن کی کمالِ حسنِ جمیل یہ ہیں |
| یہیں پہ مرکز عطا کا دائم اِنہیں سے بابِ سخا کو نسبت |
| انہی کے در سے جو چاہو مانگو مرادِ دل کی سبیل یہ ہیں |
| شفاعتوں کا ہے تاج سر پر وہ جن کے کاندھے ہے کملی کالی |
| زمانہ اِن کے حضور حاضر وہ سب کے واحد کفیل یہ ہیں |
| ہے قریہ قریہ جہاں کا روشن یہ نور کیسا ازل سے اترا |
| جلال ان کا جمال ان کا عطائے ربِ جلیل یہ ہیں |
| انہیں کے دامن کو تھامے رہنا بصد محبت درود پڑھ کر |
| گناہ گاروں کو بخشوانے حضور محشر وکیل یہ ہیں |
| اویس ان کی جناب میں بھی قرن کی نسبت سے حاضری ہے |
| انہی کے عشاق محترم ہیں انہی کے صدقے دلیل یہ ہیں |
معلومات