کیسی یہ کشمکش ہے قسمت کی چال سے
بہلا رہا ہوں خود کو میں کس کے خیال سے
اپنی ہی ذات سے ہم کرنے لگے گریز
کیسی یہ بے خودی ہے دل کے سوال سے
سہتا رہا ہے دل جو ان کے ستم ہزار
معلوم ہو رہا ہے چہرے کے حال سے
پہلے تو حوصلے بھی کتنے جوان تھے
گھبرا گیا ہے دل گردش ماہ و سال سے
ان کے بدن کی خوبی کیونکر بیان ہو
چھپنے لگا قمر بھی ان کے خیال سے

19