| کیسی یہ کشمکش ہے قسمت کی چال سے |
| بہلا رہا ہوں خود کو میں کس کے خیال سے |
| اپنی ہی ذات سے ہم کرنے لگے گریز |
| کیسی یہ بے خودی ہے دل کے سوال سے |
| سہتا رہا ہے دل جو ان کے ستم ہزار |
| معلوم ہو رہا ہے چہرے کے حال سے |
| پہلے تو حوصلے بھی کتنے جوان تھے |
| گھبرا گیا ہے دل گردش ماہ و سال سے |
| ان کے بدن کی خوبی کیونکر بیان ہو |
| چھپنے لگا قمر بھی ان کے خیال سے |
معلومات