| کچھ سہارا نہ ملا دل کو سہارے والا |
| عمر بھر خود سے رہا جھگڑا تمہارے والا |
| اب بھی ماؤں کے کلیجوں سے دھواں اٹھتا ہے |
| سونی گلیوں سے نہ گزرے وہ غبارے والا |
| ان گنت دنیا کے پرچم بھی حسیں ہیں لیکن |
| دل میں بستا ہے یہی چاند ستارے والا |
| میں کرامت ہی گنوں گا یہ مسیحاؤں کی |
| مسئلہ حل نہ ہوا ان سے ہمارے والا |
| اب نہ وہ کیف نہ مستی نہ سہانا پن ہے |
| وقت تو ہے یہ مگر وقت گزارے والا |
معلومات