کچھ سہارا نہ ملا دل کو سہارے والا
عمر بھر خود سے رہا جھگڑا تمہارے والا
اب بھی ماؤں کے کلیجوں سے دھواں اٹھتا ہے
سونی گلیوں سے نہ گزرے وہ غبارے والا
ان گنت دنیا کے پرچم بھی حسیں ہیں لیکن
دل میں بستا ہے یہی چاند ستارے والا
میں کرامت ہی گنوں گا یہ مسیحاؤں کی
مسئلہ حل نہ ہوا ان سے ہمارے والا
اب نہ وہ کیف نہ مستی نہ سہانا پن ہے
وقت تو ہے یہ مگر وقت گزارے والا

0
23