نظم: ہائے۔ (کلام: اویس الحسن)
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
ذکر تھا تجھ سے ملاقات کی حسرت کا اویس
جس کا ہر شعر دھواں بن کے اٹھا تھا دل سے
تذکرہ جبکہ چھڑا درد کی شدت کا اویس
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
جس کے ہر لفظ سے برسات برس پڑتی تھی
بحر ایسی تھی غزل کی کہ قیامت ڈھا دے
پیاس مصرعوں کی کسی دشت کا ٹکڑا لگتی
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
آتش حزن میں سب شعر جلے جاتے تھے
زخم پتھر کی طرح دل پہ برستے لیکن
لفظ شعروں کے جو اشکوں میں ڈھلے جاتے تھے
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
استعارے تھے غضب آگ کا شعلہ جاناں
ہجر کے ہاتھ رنگے خون جگر سے اکثر
نوک خنجر پہ کبھی دل کو بھی تولا جاناں
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
آگ پانی میں لگی اور بجھائی نہ گئی
چاند جب جھیل میں اترا تو کنارے پہ وہیں
دل نے چاہا تھا سنائے پہ سنائی نہ گئی
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
جس کے چھڑنے سے صراحی بھی چھلک پڑتی تھی
لمحہ لمحہ شب فرقت کا ٹھہر جاتا تھا
جام در جام تمنا کی جھلک پڑتی تھی
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
ذکر غم سے کلیجہ بھی پھٹا پڑتا تھا
چاندنی چھن کے درختوں پہ بکھر جاتی تھی
چاند افلاک پہ پژ مردہ ہوا جاتا تھا
تم جو چاہو تو غزل تم کو سناؤں اپنی
تان دیپک کی وہی پھر سے اٹھاؤں اپنی

11